• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکڑی

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
مکڑی ۔ایک معجزہ


پیش لفظ
ہو سکتا ہے کہ بعض قارئین یہ خیال کریں گے کہ اس کتاب کا موضوع ان کے نزدیک دلچسپ نہیں۔وہ یہ سوچیں گے کہ ایک ننھے سے کیڑے پر مبنی کتاب میں ان کے لئے کچھ نہیں رکھا اور مصروف رفتارِ زندگی میں ان کے پاس ایسی کتاب کے مطالعے کا وقت بھی نہیں بچتا۔
ہو سکتا ہے یہی لوگ پھر یہ محسوس کریں کہ معاشی اور سیاسی تحقیق پر کتب یا ایک ناول ، نسبتاً زیادہ دلکش اور ’’کارآمد‘‘ ہو ں گے۔ یا پھر وہ خیال کریں گے کہ دیگر مضا مین پرکتابیں ان کے لئے زیادہ دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب جو اس وقت قاری کے ہاتھ میں ہے ان بیشمار کتابوں سے زیادہ ’مفید‘ ثابت ہوگی جن کا وہ اب تک مطالعہ کر چکا ہے اور اُن سے کہیں زیادہ معلومات پیش کرے گی۔ کیونکہ یہ کتاب، حیاتیات (Biology) کی درسی کتاب نہیں جو ایک ننھے سے جانور ’ مکڑی ‘ پر مفصل معلومات فراہم کرنے کے لئے تحریر کی گئی ہو۔ کتاب کا موضوع ’مکڑی‘ ضرور ہے مگر اس کی اصل اہمیت زندگی کی اس اصلیت سے وابستہ ہے کہ جسے یہ بے نقاب کرتی ہے، اور اس پیغام میں پوشیدہ ہے جو یہ پیش کرتی ہے۔
بالکل ایک چابی کی طرح ۔۔۔ چابی ایک ایسا آلہ ہے جو بذاتِ خود بہت غیر اہم ہے۔ اگر آپ یہ کسی ایسے شخص کو تھما دیں جس نے یہ پہلے کبھی نہ دیکھی ہو اور اسی لاعلمی کی بناء پر چابی اور تالے کے باہمی تعلق سے بھی ناواقف ہو تو اسے اپنے ہاتھ میں تھمائی گئی یہ چیز (چابی) بے معنی اور لوہے کا ایک بے کار ٹکڑا معلوم ہوگی۔ حالانکہ اگر دروازے کے پیچھے کوئی بہت ہی قیمتی چیز، تالے میں بند کرکے رکھی گئی ہو تو اس موقع پر(اس تالے کی) چابی ہی دنیا کی سب سے قیمتی شے ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ کتاب لکھنے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ مکڑی کو کتاب کا موضوع بنادیا جائے، بلکہ یہاں اسے بطور ’چابی‘ استعمال میں لانا ہے اور اس چابی سے کھلنے والے دروازے کے پیچھے واقع حقیقت(reality) وہ عظیم ترین سچائی ہے جسے کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں کسی بھی وقت دریافت کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس حقیقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نظریۂ ارتقاء جو حق کو جھٹلانے والوں نے پیش کیا ہے ، کسقدر بے بنیاد ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں چند سوالات کے جوابات بھی فراہم کئے ہیں۔ایسے جوابات جن کا بنی نوانسان ازل سے متلاشی ہے۔’میں کون ہوں؟‘، ’مجھے اور کائنات کو کیسے تخلیق کیا گیا؟‘اور ’زندگی کا مقصد ومطلب کیا ہے؟‘ ان بنیادی سوالوں کے جواب ہی دروازے کے پیچھے واقع حقیقت ہیں۔
ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ بنی نو انسان اور کائنات، جس کے وہ (انسان) مکین ہیں،آخری (یعنی معمولی اور مختصر ترین) جزو تک صرف اور صرف ایک ہی خالق، اللہ تعالیٰ نے تخلیق کئے ہیں۔ان کا اپنا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے، اور انہیں اسی خالق کا اقرار کرنے اور اسی کی حمد و ثنا کے لئے یہ وجود بخشا گیا ہے۔وہ خالق جو عیب اور خامیوں سے بالاتر ہے اور لامحدود طور پر طاقتور ہے ،اللہ تعالیٰ ہی ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی بھی انسان کے وجود کی واحد وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی اور کائنات کی تخلیق پر غوروفکر کرے اور اﷲتعالیٰ کی عبادت کرے جو ہر شے کا مالک ہے۔
یہ سمجھ اور فہم حاصل کرنے کے لئے ذرا سی سعی و کوشش درکار ہوتی ہے۔اسی کوشش کا ایک حصہ ہر چیز کا مشاہدہ کرنا،اس پر غوروفکر کرنا اور اس میں موجود پیغام کو سمجھنا ہے۔کیونکہ وجود رکھنے والی ہر چیز بالعموم اور کائنات کی ہر ذی روح شے بالخصوص، اللہ تعالیٰ کے وجود کی نشانی ہے اور اس کی ذات کی گواہی دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید کی مندرجہ زیل آیت کی جانب ہمیں متوجہ کرتا ہے جو اس نے اپنے تخلیق کردہ انسانوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے نازل کی۔

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِ‌ي فِي الْبَحْرِ‌ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْ‌ضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِ‌يفِ الرِّ‌يَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ‌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْ‌ضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿١٦٤﴾
’’جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ،رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں،ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں،بیشمار نشانیاں ہیں‘‘۔(سورۃ البقرہ:۱۶۴)

اگر جائزہ لیا جائے تودرج بالا آیت میں قرآنِ مجیدنے جن امور کا اظہار کیا ہے وہ بہت سے لوگوں کی نظر میں بالکل عام اور معمولی واقعات ہوں گے۔ رات اور دن کا یکے بعد دیگرے آنا، کشتیوں کا ڈوبنے کے بجائے تیرنا، بارش کا مٹی کو زندگی بخشنا، ہواؤں اور بادلوں کی جنبش۔۔۔ دورِ جدید کے انسان کا خیال ہے کہ ان تمام امور کی سائنس اور میکانیکی استدلال کے ذریعے وضاحت کی جاسکتی ہے اور اسی وجہ سے اس کے نزدیک ان تمام امور میں حیرت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔تاہم سائنس محض ظاہری مادی سچائیوں پر غور کرتی ہے اور کبھی بھی سوال ’کیوں‘ کا جواب فراہم نہیں کر سکی۔ بے خبری اور لاعلمی کی یہ کیفیت ، جو دنیا میں چھائے بے دین معاشرتی طبقے کی پیداوار ہے، لوگوں کو ان آیات پر غور کرنے اور ان کے پیچھے واقع مختلف معنوں کو سمجھنے سے روکتی ہے۔فی الحقیقت قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ صرف ’غوروتدبر کرنے والے‘ ہی ان آیات کی نوعیت کا ادراک کر سکتے ہیں۔
’غوروتدبر کرنے والوں‘ کے لئے بنیادی طور پر کائنات کا ہر حصہ ایک نشانی کی حیثیت رکھتا ہے یا دوسرے الفاظ میں سچائی کے دروازے کی کنجی ہے۔چونکہ کائنات قریباً لاتعداد حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے اسی لئے چابیوں اور دروازوں کی تعداد بھی تقریباً لامحدود ہے۔تاہم کبھی کبھار کسی شخص کوسچا راستہ دکھانے کے لئے صرف ایک ہی دروازہ کھول دینا کافی ہوتا ہے۔ کائنات میں سے اخذ کیا گیا ایک حصہ ، مثال کے طور پر ایک پودا یا جانور، سچائی کے متلاشی کو تمام کائنات کو سمجھ لینے کے قریب لا سکتا ہے۔اسی وجہ سے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّـهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِ‌بَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَ‌ادَ اللَّـهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرً‌ا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرً‌ا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ ﴿٢٦﴾
’’ ہاں اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے‘‘،کیونکہ ’’ جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے‘‘۔(سورۃ البقرہ:۲۶)
مکڑی اور مچھر جیسے ننھے جانوروں کا قرآنی آیات میں تذکرہ موجود ہے۔جس طرح لوگ مچھر کو ایک غیر اہم جانورتصور کرتے ہیں اُسی طرح مکڑی بھی خاص اہمیت کی حامل نہیں ، مگر ’ غوروفکر کرنے والے‘ان معجزات کو دیکھ سکتے ہیں جن کے بارے میں یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں۔ان چھوٹے جانوروں میں سے ہر ایک کو ’چابی‘ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور یہ مخلوقِ خدا کی جامعیت و اکملیت کو ظاہر کرنے کے لئے دروازہ کھولتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی، جو مکڑی کی ایسی حیران کن اور ناقابلِ یقین خصوصیات بیان کرتی ہے جو بہت کم لوگ جانتے ہیں، اور جو دورانِ بیان ’کیسے‘ اور ’کیوں‘ جیسے سوالات بھی اٹھاتی ہے، اسی بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے۔ صرف یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب ان بیشمار کتابوں سے زیادہ اہم ہے جن کا آپ اب تک مطالعہ کر چکے ہیں کیونکہ ’غوروفکر کرنے والوں‘ میں شامل ہو جانا کسی بھی شے سے زیادہ ضروری ہے۔

وَسَخَّرَ‌ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُ‌ونَ ﴿١٣﴾
’’اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے ۔اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جوغوروفکرکرنے والے ہیں۔‘‘(سورۃ الجاثیہ:۱۳)


(THE MIRACLE IN THE SPIDER)
مصنف: ہارون یحيٰ
مترجم: افشین عبدالحمید لودھی




 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207

قارئین کے نام
’ نظریۂ ارتقاء کی موت ‘‘ کے لئے ایک خاص باب اس لئے مختص کیا گیا ہے کیونکہ یہ نظریہ تمام مذہب دشمن فلسفوں کی بنیاد ہے۔ ڈارونیت چونکہ حقیقت تخلیق کو،اور اسی بناء پر وجودِ خدا کو مسترد کرتی ہے اس لئے پچھلے ایک سو چالیس برسوں میں اس نظریے نے متعدد افراد کو ترکِ دین یا تشکیک کا شکار ہو جانے پر مائل کیا ہے۔ چنانچہ اس بات کا اظہار کہ یہ نظریہ ایک فریب ہے، ایک نہایت اہم فریضہ بن جاتا ہے جس کا دین سے گہرا تعلق ہے۔ یہ اشد ضروری ہے کہ یہ اہم خدمت ہر ایک تک پہنچے۔ ہوسکتا ہے ہمارے قارئین میں سے کچھ ایسے ہوں جنہیں ہماری کتابوں میں سے صرف ایک ہی کتاب پڑھنے کا موقع ملے، لہٰذا ہم یہ موزوں سمجھتے ہیں کہ اس کتاب میں ایک باب اس موضوع کے خلاصے کے لئے مقرر کر دیا جائے۔
مصنف کی تمام کتابوں میں مذہب سے متعلق مسائل قرآنی آیات کی روشنی میں بیان کئے گئے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے احکامات سیکھنے اور ان کے مطابق زندگی بسرکرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ کی آیات سے متعلق تمام مضامین اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ قاری کے ذہن میں شک کی کوئی گنجائش یا سوالیہ نشان باقی نہیں رہ جاتا۔ جس مخلصانہ، سادہ و رواں اسلوب کو اپنایا گیا ہے اس نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ ہر عمر کا شخص خواہ وہ کسی بھی معاشرتی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، ان کتابوں کو بہ آسانی سمجھ سکے۔یہ موّثر اور سہل اندازِ بیان ایک ہی نشست میں ان کتابوں کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مذہب کو سختی سے مسترد کرنے والے افراد بھی ان کتابوں میں بیان کردہ حقائق سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے متن کی تردید نہیں کر پاتے۔
مصنف کی دیگر کتب کی مانند یہ کتاب انفرادی طور پر بھی پڑھی جا سکتی ہے یا پھر ایک گروہ میں بیٹھ کر دورانِ گفتگو اس کتاب پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔وہ قارئین جوان کتابوں سے مستفید ہونا چاہتے ہیں انھیں یہ گفتگو بہت فائدہ مند محسوس ہو گی کیونکہ اسطرح وہ ایک دوسرے کو اپنے خیالات اور تجربات سے آگاہ کر سکیں گے۔
مزید یہ کہ ان کتابوں کو، جو صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر لکھی گئی ہیں، پڑھنے اور دوسروں کے سامنے پیش کرنے میں مدد گاری ایک عظیم دینی خدمت ہوگی۔ مصنف کی تمام کتب ، قاری کو قائل کر لیتی ہیں۔ اسی لئے جو لوگ دوسروں تک دین پہنچانا چاہتے ہیں، ان کے لئے سب سے موّثر طریقۂ تبلیغ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو یہ کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں۔
ہم یہ امید کرتے ہیں کہ قاری اس کتاب کے آخری صفحات میں درج مصنف کی دیگر کتابوں پر تبصرے پڑھے گا اور ان میں مذ ہب سے متعلق مسائل پر ، جو پڑھنے میں مفید اور مسرّت بخش ہیں ، موجود مواد کے قیمتی سرچشمے کی قدردانی کرے گا۔
دوسری کتابوں کے برعکس ان کتابوں میں آپ کو نہ تومصنف کے ذاتی خیالات، مشتبہ ذرائع پر مبنی تشریحات، اور ایسا اندازِ بیان جو مقدس موضوعات کے لئے واجب احترام و تعظیم کا پاس نہ کرے ،ملیں گے اور نہ ہی مایوس کن ، شک ڈالنے والے اور قنوطی بیانات جو دل میں انحراف پیدا کرتے ہیں۔

 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
دیباچہ

دنیا میں مکڑیوں کی کئی سو انواع (species)ہیں۔یہ چھوٹے جانور کبھی ہمیں تعمیراتی انجینئر کی مانند نظر آتے ہیں جن میں اپنی رہائش گاہ بنانے کے لئے حساب کتاب کرنے کی قابلیت ہو تو کبھی ایک اِنٹیر ئر ڈیزائنر کی طرح پیچیدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ کبھی یہ کیمیا دان محسوس ہوتے ہیں جو حددرجہ مضبوط اور لچک دار دھاگے ،جان لیوا زہر اور تحلیلی تیزاب بناتے ہوں تو کبھی نہایت عیارانہ تدبیریں چلتے ہوئے شکاری لگتے ہیں۔
مکڑی کی ان بیشمار اعلیٰ خصوصیات کے باوجود کوئی بھی اپنی روزمرہ زندگی میں یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ مکڑیاں کس قدر غیر معمولی مخلوق ہیں۔ مکڑیوں سے متعلق اس غلط اندازے کی رو سے نہ مکڑیوں اور نہ ہی دوسرے جانوروں کے وجود میں کوئی حیرت انگیز عنصر موجود ہے۔مگر یہ بالکل غلط اندازِ فکر ہے کیونکہ، دیگر مخلوقات کی طرح، جوں جوں ہم مکڑیوں کے بارے میں (بھی) مزید معلومات حاصل کرتے جاتے ہیں ،مثلاً ان کے شکار، دفاع اور نسل خیزی (Reproduction) کے طریقوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو کئی حیران کن صفات ہمارے روبرو آتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
کائنات میں تمام ذی روح اشیاء زندہ رہنے کے لئے ایسے طورطریقے اپناتی ہیں جن کے لئے عقل و فہم درکار ہوتی ہے۔ان تمام طور طریقوں میں ، جو جانداروں میں استعداد ، مہارت او ر اعلیٰ درجے کی منصو بہ بندی کی اہلیت کی بنیاد ہیں ، ایک چیز مشترک ہے: ان سب کے لیے ’’صلاحیت‘‘ لازماً مطلوب ہے ۔ وہ تمام ہنر جن پر ا نسان صرف حصولِ علم ، مہارت اور تجربے کے ذریعے عبور حاصل کرتا ہے ، جانوروں میں پیدائشی طور پر پائے جاتے ہیں۔اس کتاب کا آخری حصہ ان سوالات پر مشتمل ہے جو ابھی تک جواب طلب ہیں۔ مثلاً ، یہ صلاحیتیں (جو تفصیل سے بیان کی جائیں گی) کیسے رونما ہوئیں اور جانداروں نے انھیں کس طرح سیکھا۔ یہ جاندار جو نہایت عقلمندانہ بنیادی خاکوں یا بلیو پرنٹس (blue prints) کے مطابق عمل کرتے ہیں ،نپے تلے اندازسے شکار کرتے ہیں، ضرورت کے تحت کیمیائی انجینئر کی مانند عمل کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ مخصوص صورتِ حال میں کون سی چیز بنانی ہے؛ ان سائنسدانوں کو حیران کر دیتے ہیں جنہوں نے ان کا مطالعہ کیا ہے۔یہاں تک کہ ارتقاء پرست سائنسدان بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ چالاک ترین جاندار بھی ایسی صفات کے حامل ہیں جن کے لئے ’ذہانت‘ (Intelligence) لازماً درکار ہے۔سائنسدان رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins)ارتقاء پسند ہونے کے باوجود مکڑیوں کے طور طریقے اپنی کتاب 'Climbing Mount Improbable' میں یوں بیان کرتا ہے:
’’ہمیں اپنے راستے میں مکڑی کے جالے دیکھنے کا موقع ملے گا۔(جن میں ہمیں) وہ حیران کن، لیکن لاشعوری، مہارت بھی (نظر آئے گی) جس سے وہ بنائے جاتے ہیں اور (یہ بھی دیکھیں گے کہ جالے) کس طرح کام کرتے ہیں۔‘۱
دراصل یوں کہہ کر ڈاکنز ایسے سوالات کے مقابل آکھڑا ہوتا ہے جن کی کسی بھی صورت نظریۂ ارتقاء سے وضاحت ممکن نہیں، جیسے کہ ’جانداروں میں باشعور او ر ذہانت آمیز رویہ کیسے ظاہر ہوا اور اس کا منبع کیا تھا؟‘ واقعی یہ سوالات جیسے کہ ’جانداروں کو یہ ذہانت کیسے حاصل ہوتی ہے اور وہ کیسے سیکھتے ہیں کہ اس ذہانت کو کب اور کہاں استعمال کرنا ہے‘ ایسے ہیں جن کے کھلے اور حتمی جوابات پیش کرنے سے نظریۂ ارتقاء کے حامی یکسر قاصر اور معذور ہیں۔
اس مقام پر اُن دلائل کا بغور مشاہدہ کرنا موزوں ہوگا جو اِرتقاء پرست، جانداروں کے شعوری اور ذہانت آمیز طرزِعمل کے متعلق سوال کا جواب دیتے وقت پیش کرتے ہیں۔ آئیے یہ کام ہم ایک ایسی اصطلاح کا ’اصل‘ مطلب واضح کر کے شروع کرتے ہیں جو نظریۂ ارتقاء کے حامی اپنے دعووں میں استعمال کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
’’جانداروں نے بامقصد طورطریقے کس طرح پائے ؟‘‘ اِس سوال کا جواب ڈھونڈنے والے ارتقاء پرست ایک لفظ ’جبلت‘ (Instinct) کا استعمال کر کے اس معاملے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر وہ اس میں کسی بھی طرح کامیاب نہیں ہوئے اور یہ حقیقت ’جبلت‘ کے تصور کا مکمل اندازہ لگانے کے بعد واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ارتقاء پرستوں کے مطابق جاندار ’جبلت‘ کی بناء پر اُلفت ومحبت، منصوبہ بندی، تدابیر یا ایسے طورطریقے اپناتے ہیں جن کے لئے خاص صلاحیتیں درکار ہوں، جن کے لئے شعور اور ذہانت ضروری ہوں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ارتقاء پرستوں کا محض یہ کہہ دینا ہی کافی نہیں ۔ اس دعوے کے ساتھ ساتھ انھیں اس سوال کا جواب بھی دینا ہوگا کہ یہ طرزِعمل پہلے پہل کیسے رونما ہوا اور پھر کیسے نسل درنسل منتقل ہوا ، ا ور جبلت کے تصور کے تحت کس طرح جاندار اشیاء کو عقل و آگہی حاصل ہوئی۔تاہم ارتقاء پسندوں کے پاس ان سوالات کا قطعاً کوئی جواب موجود نہیں۔ ارتقاء پسند ماہرِ جینیات گورڈن راٹرے ٹیلر (Gordon Rattray Taylor) جبلّت کے بارے میں یہ اظہار کرتے ہیں:
’’جب ہم خودسے یہ سوال کرتے ہیں کہ طورطریقوں کا جبلی نمونہ پہلے پہل کیسے ظہور میں آیا اور (کس طرح) موروثی طور پر مستحکم ہوگیا تو ہمیں کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔‘‘ ۲
دیگر ارتقاء پرست کہتے ہیں کہ تمام جانداروں کے طور طریقوں کی بنیاد ’جبلت‘ پر نہیں بلکہ ان کی جینیاتی پروگرامنگ پر ہے۔لیکن اس صورت میں بھی ان کو یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ یہ پروگرام کس نے تیار کر کے جاندار اشیاء میں نصب کیا؟ تاہم ارتقاء پرست ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس نظریے کا بانی ہونے کے باوجود ڈارون ارتقاء پرستوں کو درپیش الجھن کا اِن الفاظ میں اعتراف کرتا ہے:
’’ایک ایسی حیرت انگیز جبلت جیسے کہ چھتے والی مکھی کا اپنے خانے(cells ) بنانا ،بے شمار قارئین کو غالباً ایک ایسی مشکل معلوم ہوئی ہو گی جو میرے پورے نظریے کو الٹ دینے کے لئے کافی ہے۔‘‘۳
مذکورہ بیان سے صاف ظاہر ہے کہ ’’ جبلت‘ ‘کا تصور جاندار اشیاء کے شعوری طور طریقے یا رویّوں پر روشنی ڈالنے کے لئے ناکافی ہے۔ یقیناًایک ایسی طاقت موجود ہے جو جانداروں کو ’’پروگرام‘‘ کر کے ان کو عمل کرنا سکھاتی ہے۔ لیکن یہ طاقت نہ تو ’مادرِ فطرت‘ *کا نتیجہ ہے (جیسا کہ عموماً اسے کہا جاتا ہے)اور نہ ہی کسی جاندار کے (اپنے) بس میں ہے جو اپنے بچیّ کا دفاع کرنے کے لئے جان کی بازی بھی لگا دیتا ہے، یا اپنے گروہ کے رکن کی جان بچانے کی غرض سے مختلف تدابیر کے ذریعے دشمن کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
وہ طاقت جو جانداروں کو ان تمام خصوصیات سے نوازتی ہے ، جو ان میں ذہین طرزِعمل اور بامقصد حرکات تخلیق کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔صرف اللہ تعالیٰ ہی اس دانائی کا مالک ہے جو ہم جاندار اشیاء میں دیکھتے ہیں اور فطرت میں جس کی ان گنت مثا لیں ملتی ہیں۔ جاندار جو بھی عمل سر انجام دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی ان کے دل میں وحی کرتا ہے۔
کسی بھی جاندار کے رویے کی ’’اتفاق‘‘ (Coincidence)، کسی دوسرے میکانیکی عمل یا کسی اور دلچسپ نظریے سے وضاحت کرنا ناممکن ہے۔ ایسا کوئی بھی نظریہ ایک فریب سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔ آیاتِ الٰہی میں سے ایک آیت میں ارشاد ہے:
قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ شُرَ‌كَاءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ أَرُ‌ونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْ‌ضِ أَمْ لَهُمْ شِرْ‌كٌ فِي السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَىٰ بَيِّنَتٍ مِّنْهُ ۚ بَلْ إِن يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا ﴿٤٠﴾
’’( اے نبی ﷺ) ان سے کہو کبھی تم نے دیکھا بھی ہے اپنے شریکوں کو جنھیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو ؟ مجھے بتاؤ انھوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے۔( اگر یہ نہیں بتا سکتے تو ان سے پوچھو) کیا ہم نے انھیں کوئی تحریر لکھ کر دی ہے جس کی بناء پر یہ (اپنے اس شرک کے لئے )کوئی صاف سند رکھتے ہوں؟ نہیں بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دیئے جا رہے ہیں‘‘۔(سورۃ الفاطر : ۴۰)
وہ جانور جو اس کتاب کا موضوع ہے ، یعنی مکڑی ، اُس کے طورطریقوں کے نمونے اور بے عیب میکانیکی عمل ، ایسے ہیں جو نظریۂ ارتقاء کو جھوٹا ثابت کر تے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اس ’نظریے کو تبا ہ و برباد کر دیتے ہیں‘۔ کتاب کے اگلے صفحات اللہ تعالیٰ کی خلقت کے اَن گنت معجزات میں سے ایک معجزے ’مکڑی‘ کو پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر یہ ثابت کریں گے کہ نظریۂ ارتقاء جو مکمل طور پر ’’اتفاقات‘‘ پہ منحصر ہے، تضحیک اور بے بسی کی گہرائیوں میں جا گرا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
مکڑی کے شکاری طریقے

کمند یا پھندا پھینکنے والی مکڑی (The Lasso-throwing spider)
مکڑیوں کی بیشمار انواع میں سے بولاس Bolas))مکڑی اپنی شکاری تدابیر کی بناء پر سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔اس کیڑے پر اپنی مفصل ریسرچ کے بعد,مکڑیوں کے ماہر Dr.Gertsch نے یہ بات ثابت کی ہے کہ بولاس مکڑی اپنے شکار کو پکڑنے کے لئے پھندے (noose)کا استعمال کرتی ہے۔
بولاس مکڑیاں دو مرحلوں میں اپنا شکار پکڑتی ہیں۔پہلے مرحلے میں مکڑی چپچپے سرے والا ایک دھاگا بن کر شکار کی گھات میں بیٹھ جاتی ہے۔بعد میں وہ اسی چپچپے دھاگے کو پھندے 'lasso' ( امریکہ میں مویشیوں کو پکڑنے کا پھندا) کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ شکار کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے مکڑی ایک بہت خاص کیمیا خارج کرتی ہے۔یہ ’ فیرومون ‘ (pheromone)کہلاتا ہے جسے مادہ پتنگے جفتی کے لئے نر پتنگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔نر پتنگا (moth)جعلی آواز سے دھوکا کھا کر بو کے منبع کی جانب بڑھتا ہے۔ مکڑیوں کی قوتِ بینائی بہت کمزور ہوتی ہے لیکن وہ اڑتے ہوئے پتنگے سے پیدا ہونے والے ارتعاش کو محسوس کر لیتی ہیں۔یوں مکڑی شکار کو اپنی جانب بڑھتے ہوئے محسوس کر سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مکڑی تقریباً اندھی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود وہ اُڑتے ہوئے زندہ جانور کو اس دھاگے سے باآسانی پکڑ لیتی ہے جسے وہ ہوا میں لٹک کر بنتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
کتاب "Strange Things Animals Do"میں مکڑی کے اس شکاری طریقِ کار کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے پھندا پھینکتے ہوئے گایوں کے رکھوالے ’کاؤ بوائے‘ (cowboy) سے تشبیہ دی گئی ہے۔
’’مکڑی ایک ریشمی دھاگا بنتی ہے اور پھر اس کے ایک سرے پر گوند کے بھاری ٹکڑے کی صورت میں ایک وزن رکھ دیتی ہے۔اس طرح یہ ہتھیار ہمیں کاؤ بوائے کی یاد دلاتا ہے۔اس کے بعد مکڑی دھاگے کو اپنی سامنے والی دو ٹانگوں میں ،جو اب بازوؤں کا کام دیں گی، پکڑ لیتی ہے۔ جب پتنگا پاس سے گزرتا ہے تو مکڑی پھندا پھینکتی ہے۔چپچپا وزنی سرا اُڑتے ہوئے کیڑے کے جسم سے ٹکرا کر اس سے چپک جاتا ہے اور مکڑی پتنگے کو اپنی طرف کھینچ کر اسے لپیٹ دیتی ہے۔‘‘۴
شکار کرنے کا دوسرا مرحلہ اسوقت شروع ہوتا ہے جب شکار بو سے دھوکا کھا کر مکڑی کی جانب بڑھتا ہے۔ اپنی ٹانگیں پیچھے کی جانب لے جا کر مکڑی حملہ کرنے کی پوزیشن میں آجاتی ہے اور چشم زدن میں پھندا پتنگے کی طرف پھینکتی ہے۔ دھاگے کے سرے پرلگے چپچپے گولے سے پتنگا چپک جاتا ہے۔اب دھاگے سے شکار کو اپنی طرف کھینچ کر مکڑی اسے کاٹتی ہے جس سے وہ مفلوج ہوجاتا ہے۔اس کے بعد وہ پتنگے کو ایک خاص دھاگے سے لپیٹ دیتی ہے جو غذا کو طویل مدّت تک تازہ رکھتا ہے۔اس طرح مکڑی اپنے شکار کو بعد میں کھانے کے لئے محفوظ(preserve)کر لیتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
درج بالا کتاب میں مصنف مکڑی کی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی حرکات کا ان الفاظ میں تجزیہ کرتا ہے۔
’’سائنسدان مکڑی کو ایک کمتر جانور سمجھتے ہیں۔ لیکن Dr.Gertschمطمئن نہیں کہ یہ ایک درست اصطلاح ہے۔کیونکہ جس چیز کو ایک سدھائی ہوئی پانی کی بلّی ، ایک کتا، یا شیر نہیں کر سکتا، جسے ایک بڑا بن مانس بھی نہیں کر سکتا، جو کام ایک کاؤ بوائے کو بھی مشکل معلوم ہوتا ہے، یہ حقیر کہلائے جانے والا جانور(باآسانی)کر لیتا ہے۔‘‘۵
چنانچہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بولاس مکڑی کا شکار کرنے کا طریقہ ایک خاص مہارت کا طالب ہے اور مسلسل مشق کے ذریعے اس طریقے میں تجربہ و مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔اگر ہم اس عمل کا درجہ بہ درجہ جائزہ لیں تو مکڑی کی حرکات کی پیچیدہ نوعیت مزیدواضح ہو جاتی ہے۔ آئیے اس سوال کے جواب پر نظر ڈالتے ہیں کہ’شکار کرتے وقت بولاس مکڑی کو کیا کچھ کرنا ہوتا ہے؟‘
* مکڑی دھاگے کے سرے پر ایک چپچپا گولا تیار کرتی ہے۔
*وہ اپنے جسم میں ایک ایسی بو تیا رکر کے باہرخارج کرتی ہے جو دوسری نوع(species) کے مکوڑوں کی مادہ نر کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے خارج کرتی ہے۔
*اس کے بعد چشم زدن میں پھندے کو شکار کی طرف پھینکتی ہے۔
*وہ پھندے سے شکار کا نشانہ باندھ کر اس پر ضرب لگاتی ہے۔
* آخر میں شکار کو تازہ رکھنے کی غرض سے مکڑی ایک خاص قسم کا دھاگا بنتی ہے جس میں وہ شکار کو لپیٹ دیتی ہے۔
 
Top