1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نوح علیہ السلام کی قوم میں شرک نیک لوگوں کی عقیدت میں غلو سے پیدا ہوا

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏مئی 15، 2012۔

  1. ‏مئی 19، 2012 #21
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,952
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    جس طرح آپ حدیث کو نہیں مانتے (اپنے خود ساختہ اصولوں پر اپنی مطلب کی کچھ احادیث کو ماننا اصل میں ماننا نہیں بلکہ انکار حدیث ہے) صرف قرآن کو مانتے ہیں۔ اسی طرح فرض کریں کہ ایک شخص اس کے برعکس قرآن کو نہیں مانتا صرف حدیث کو مانتا ہے۔ اب اگر یہ شخص آپکو حجیت حدیث پر قائل کرنے کے لئے حدیث پیش کرے گا تو آپ فورا یہ کہہ دو گے کہ میں تو حدیث کو مانتا ہی نہیں۔ اسی طرح آپ اس شخص کو حجیت قرآن پر قائل کرنے کے لئے جب قرآن ہی کی کوئی آیت پیش کروگے تو آپ کی طرح وہ شخص بھی کہہ دے گا کہ میں تو قرآن کو نہیں مانتا۔ آپ ایسے شخص کی تسلی کے لئے کیا دلیل پیش کرو گے؟؟؟

    برائے مہربانی وہی دلیل پیش کریں لیکن یاد رہے کہ دلیل خارج سے ہوقرآن سے نہ ہو۔ ہمیں یقین ہے آپ قرآن کو ثابت کرنے کے لئے خارج سے کوئی دلیل پیش نہیں کرسکیں گے۔ان شاء اللہ۔ اس لئے میرے بھائی اصولی بات یہ ہے کہ جب آپ سے قرآن ثابت نہیں ہوسکتا تو حدیث کی طرح قرآن کو بھی چھوڑ دیں۔ ورنہ جن ہاتھوں سے آپ قرآن قبول کررہے ہیں انہی ہاتھوں سے حدیث قبول نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے قرآن بھی سنا اور حدیث بھی پھر اسے آگے پہنچادیا اسی طرح ثقہ لوگوں سے ہوتا ہوتا قرآن و حدیث ہم تک پہنچ گیا۔ اب اگر کوئی شخص انکار حدیث کرتا ہے تو اصولی طور پر اسے انکار قرآن بھی کرنا چاہیے یا پھر دونوں کو بیک وقت قبول کرنا چاہیے۔آدھا تیتر آدھا بٹیر بننے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
     
  2. ‏مئی 19، 2012 #22
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    بخاری صاحب نے یہ باتیں کہاں سے معلوم کیں؟ اس معلومات کا اصل ذریعہ کیا ھے؟
    اگر جناب ابن عبّاس نے فرمایا ھے، تو ان کو کہاں سے معلوم ہوا؟
    کیا ابن عبّاس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا؟
    آخر اس معلومات کا ذریعہ کیا ھے؟
    ان سوالات کے جوابات کوئی نہیں دے رہا۔
    شاہد نزیر صاحب آپ ہی جواب دے دیں۔
     
  3. ‏مئی 20، 2012 #23
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376



    امام بخاری تک ابن عباس کا یہ قول بذریعہ سند پہنچا۔ چونکہ اس بات کا تعلق غیب سے ہے اور ابن عباس اپنی طرف سے گھڑ کر کوئی بات بیان کرنے والے نہیں تھے اس لیے ہم یہ کہیں گے کہ ابن عباس نے یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اس کے علاوہ کسی اور چیز کا امکان نہیں ۔
     
  4. ‏مئی 20، 2012 #24
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    کسی صحابی کے لیئے یہ جائز نہیں کہ وہ کوئی بات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے، اور بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
    نام مبارک استعمال کیئے اپنے نام سے بیان کردے۔ صحابہ کرام سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی۔
    لہٰذا آپ کی تاویل درست نہیں ھے۔
    ان باتوں کے ذمّہ دار بخاری صاحب ہیں۔ لہٰذ یہ ثابت ہورہا ھے کہ بخاری صاحب کی کتاب میں لکھی ہوئی تمام باتیں صحیح نہیں ہیں۔
     
  5. ‏مئی 20، 2012 #25
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    کیا آپ کے لیے جائز ہے کہ بغیر کسی دلیل کے کسی عمل کو ناجائز قرار دیں؟
     
  6. ‏مئی 20، 2012 #26
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    اور آپ کی توقع ہمارے لیے کیوں کر دلیل بن سکتی ہے ؟
     
  7. ‏مئی 20، 2012 #27
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    سیدھی بات کہتے ہوئے آپ کیوں ڈر رہے ہیں، کہ یہ جناب ابن عبّاس پر محض افتراء ھے۔
     
  8. ‏مئی 20، 2012 #28
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    الٹی بات کہتے ہوئے آپ ڈر کیوں نہیں رہے؟
    افتراء کی آپ کے پاس دلیل کیا ہے ؟
    یہ جائز نہیں کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟
     
  9. ‏مئی 20، 2012 #29
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86


    آپ کا کہنا اور آپ کے امکانات، کیونکر دلیل ہو سکتے ہیں؟
     
  10. ‏مئی 20، 2012 #30
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    کیونکہ افتراء کا کوئی ثبوت نہیں آپ کے پاس۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں