• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ٹوپی

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,432
پوائنٹ
463
یہ بعینہ وہی فکر ہے جو جاہل اور بے دین صوفیوں کی ہے جو نہ صرف اسلام کی روح کے منافی ہے بلکہ انتہائی قابل مذمت بھی ہے۔

جب تک مسلمان مرد کی داڑھی ہے اس وقت تک اسے لوگ دین دار ہی سمجھیں گے اس لئے عام گناہ گاروں جیسا حلیہ بنانے کے لئے بہتر ہے کہ داڑھی بھی منڈوا دی جائے تب مقصود یقیناً حاصل ہوجائے گا۔ جیسا کہ صوفیاء خود پسندی کے علاج کے لئے مریدوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ داڑھی منڈوا لو، بھیک مانگو، چوری کرو وغیرہ تاکہ لوگ تمھیں دین دار نہ سمجھیں اور نہ تم میں اپنی بڑائی یا تکبر کا احساس پیدا ہو۔ ابوالحسن علوی بھائی کی اس پوسٹ میں بھی یہی فکر کارفرما ہے۔

بے شک ٹوپی پہننا واجب یا فرض نہیں لیکن مستحب تو ضرور ہے اور اگر کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی نیت سے ٹوپی پہنتا ہے تو اس کے اجر و ثواب میں کس کو شک ہوسکتا ہے۔ اب ایسے اچھے عمل کو صرف اس لئے ترک کرنے کا مشورہ دینا کہ کہیں لوگ دین دار نہ سمجھ بیٹھیں بالکل غلط ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ عمل ہے تو کیا کوئی شخص اس نمونے سے ہمیں اس وجہ سے کسی مستحب عمل کو ترک کرنے کا ثبوت پیش کرسکتا ہے کہ یہ خود پسندی کا علاج ہے؟؟؟
محترم شاہد بھائی ! شیخ ابو الحسن بھائی کا یہ اقتباس صوفیت کی طرف نہیں جاتا۔ کسی بھی مسئلے کو پرکھنے اور سمجھنے کے لیے صرف ایک حدیث یا ایک ہی حوالہ ، دلیل کو نہیں دیکھا جاتا ۔ بلکہ اسے وسعت سے دیکھا جانا اور حتی الامکان مثبت پہلو بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

ایسے میں مجھے احساس ہوتا ہے کہ اب میں اپنی چرب زبانی سے کوئی علیحدہ مخلوق لگنا شروع ہو گیا ہوں یا لوگوں کی نظر میں شیخ بن گیا ہوں۔ پس میں اپنا حلیہ دینداروں کی بجائے عام گناہ گاروں جیسا اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہوں تا کہ لوگ مجھے وہی سمجھیں جو میں حقیقت میں ہوں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ میں ان کے جیسا انہی میں سے ایک ہو۔ میں نے یہ عجیب محسوس کیا ہے کہ اس قسم کے متاثرین کے حلقے میں ٹوپی اتار دینا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے اپنے تقدس کی چادر اتار دی ہے اور اگر آپ شلوار قمیص کی بجائے سوٹ پہن لیں تو پھر تو لوگ شاید آپ کے نیک ہونے میں بھی شک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹی چیز ہماری اصلاح میں کس قدر بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔
"عام گناہ گار " کی دلیل یہ حدیث بھی ہو سکتی ہے کہ ابن آدم خطا کار ہے۔یہ تو حدیث ہے۔دوسری طرف خود کو ان جیسا کہنا رنگ نسل ذات کے امتیاز سے بچنا بھی ہے۔ کیونکہ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم
اور پوسٹ کے آخر میں مقصد بھی واضح ہے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,764
ری ایکشن اسکور
5,404
پوائنٹ
562
''بالغ عورتیں سر کی اوڑھنی لیے بغیر نماز پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرتے۔ '' (ابوداؤد، رقم 641)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,383
ری ایکشن اسکور
17,081
پوائنٹ
1,033
باب الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ
باب: عورت سر پر دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے ۔
CHAPTER: A Woman Praying Without A Khimar.

حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ "لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ"، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا"۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱۶۰ (۳۷۷)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۱۳۲ (۶۵۵)، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۴۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۵۰، ۲۱۸، ۲۵۹) (صحیح)
Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Prophet ﷺ said: Allah does not accept the prayer of a woman who has reached puberty unless she wears a veil. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Sa;id bin Abi 'Arubah from Qatadah on the authority of al-Hasan from the Prophet ﷺ.


حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى لِي حَقْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لِي:‏‏‏‏ "شُقِّيهِ بِشُقَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا"، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا: "اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہو چکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں"۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۷۵۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۹۶، ۲۳۸) (ضعیف) (ابن سیرین اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے)
Muhammad said: Aishah came to Sufiyyah Umm Talhat al-Talhat and seeing her daughter she said: The Messenger of Allah ﷺ entered (into the house) and there was a girl in my apartment. He gave his lower garment (wrapper) to me and said; tear it into two pieces and give one-half to this (girl) and the other half to the girl with Umm Salamah. I think she has reached puberty, or (he said) I think have reached puberty. Abu Dawud said: Hisham has narrated it similarly from Muhammad bin sirin.
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
عامر بھائی کچھ شاھد بھائی جیسے بھی ہونے چاھیئیں بہت فائدہ رہتا ہے ان کا بھی ایسے ایسے مزاج کچھ سلف میں بھی پائے گئے ہیں
اور یہ نصوص نقل کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک یہ جائزہ لے کہ کیا اس کے مزاج یا کردار یا عمل میں وہ چیز تو شامل نہیں ہے جن کی نصوص میں مذمت آئی ہے اور اگر کسی کے مزاج یا کردار یا عمل میں ان میں سے کوئی چیز نظر آئے تو پھر اس کے مزاج یا کردار یا عمل کی مخالفت کرنی چاہیے نہ کہ تحسین۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أتدرون ما المفلس؟" قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع فقال:" إن المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي وقد شتم هذا وقذف هذا وأكل مال هذا وسفك دم هذا و ضرب هذا فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته فإن فنيت حسناته قبل أن يقضي ما عليه أُخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار".
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت والے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر اللہ کی جناب میں حاضر ہو گا لیکن اس نے کسی کو برا بھلا کہا ہو گا اور کسی پر الزام تراشی کی ہو گی یا کسی کا مال کھایا ہو گا یا کسی کا خون بہایا ہو گا یا کسی کو مارا پیٹا ہو گا۔ پس ان تمام مظلومین کو اس کی نیکیوں میں سے نیکیاں دی جائیں گی یہاں تک کہ اس کے باوجود لوگوں کے حقوق باقی رہیں گے اور پھر لوگوں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ٙٙ

عن عبد الله قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم : " ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء "
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کبھی طعنہ نہیں دیتا، نہ ہی لعنت بھیجتا ہے، نہ ہی فحش گفتگو کرتا ہے اور نہ ہی بازاری زبان استعمال کرتا ہے۔

حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کا فرمان ہے:
۔اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس!کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو ’دَہ یکی‘ دیتے ہو، پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔اے اندھے راہ بتانے والو، جو مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔۔۔ اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس!کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راستباز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہو ۔۔۔اے سانپو!اے افعی کے بچو!تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے؟(متی :باب 23)

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴿١٨
انسان اپنی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران فرشتہ تیار بیٹھا ہے یعنی اس کو لکھنے کے لیے۔
 
Last edited:
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !۔۔۔۔۔بالغ عورت کے سر ڈھانپنے سے متعلق حدیث تحریر کر دیں۔میرے خیال میں یہ نماز کے لیے حکم ہے۔نہ کہ ہر جگہ یا ہر وقت۔واللہ اعلم!

چہرہ ننگا ركھنے كے متعلق حديث !!!

كيا درج ذيل حديث صحيح ہے:

" جب عورت بالغ ہو جائے اور اسے حيض آنے لگے تو اس كے چہرہ اور ہاتھوں كے علاوہ كچھ ظاہر نہيں ہونا چاہيے " ؟

اور حديث كى بنياد پر عورت كا لباس كيسا ہونا چاہيے ؟

اور اگر عورت كسى ايسے معاشرے ميں رہتى ہو جہاں اس كے ليے سخت پردہ اذيت كا باعث ہو تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟


الحمد للہ:

سوال ميں مذكور حديث كو ابو داود نے وليد عن سعيد بن بشير عنا قتادۃ عن خالد بن دريك عن عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے طريق سے روايت كيا ہے.

وہ بيان كرتى ہيں كہ اسماء بنت ابى بكر رضى اللہ تعالى عنہا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئيں تو اسماء نے باريك كپڑے پہن ركھے تھے، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے اعراض كر ليا اور فرمايا:

" اے اسماء جب عورت بالغ ہم جائے اور اسے حيض آنے لگے تو اس كے ليے اس اور اس كے علاوہ ظاہر ہونا صحيح نہيں "

اور انہوں نے اپنے چہرے اور ہاتھوں كى طرف اشارہ كيا.

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4104 )

ابو داود رحمہ اللہ كہتے ہيں:

يہ خالد بن دريك كى مرسل حديث ہے، كيونكہ اس نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو پايا ہى نہيں.

اور يہ حديث ضعيف ہے، اس سے استدلال كرنا صحيح نہيں، اس كے ضعيف ہونے كے اسباب درج ذيل ہيں:

1 - اس حديث كى سند ميں انقطاع ہے، جيسا كہ امام ابو داود رحمہ اللہ خود اس كى تصريح كرتے ہوئے كہتے ہيں: يہ مرسل ہے؛ خالد بن دريك نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو پايا ہى نہيں.

2 - اس كى سند ميں بشير ازدى، اور كہا جاتا ہے ابو عبد الرحمن البصرى ہے، بعض علماء حديث نے اسے ثقہ قرار ديا ہے، اور امام احمد اور ابن معين اور ابن مدينى اور نسائى اور امام حاكم، اور ابو داود نے اسے ضعيف قرار ديا ہے.

اور اس كے بارہ ميں محمد بن عبد اللہ نمير كہتے ہيں: يہ منكر حديث ہے، اور ليس بشئى، اور ليس بقوى الحديث ہے، اور قتادہ سے منكر احاديث روايت كرتا ہے.

اور ابن حبان رحمہ اللہ اس كے متعلق كہتے ہيں: يہ ردى حفظ اور فاحش الغلط تھا، قتادہ سے وہ احاديث بيان كرتا ہے جس كى متابعت نہيں كى جا سكتى.

اور اس كے متعلق حافظ ابن حجر كہتے ہيں: يہ ضعيف ہے.

3 - اس ميں قتادہ ہے، اور يہ مدلس راوى ہے، اور پھر اس حديث ميں وہ عن سے حديث بيان كر رہا ہے، اسى طرح اس ميں وليد بن مسلم بھى ہے جس كے متعلق حافظ رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ ثقہ ہے، ليكن بہت زيادہ تدليس اور تسويہ كرتا ہے، اور اس نے بھى عن سے روايت بيان كى ہے.

ان علتوں كى بنا پر اس حديث پر ضعيف كا حكم لگايا گيا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ماخوذ از مجلۃ البحوث الاسلاميۃ ( 21 / 68 ).


اور اگر حديث كو صحيح بھى مان ليا جائے، يا شواہد كى بنا پر اس كو قوى مان ليا جائے تو علماء كرام نے ا سكا جواب يہ ديا ہے كہ: يہ واقعہ پردہ سے قبل كا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور رہى اسماء رضى اللہ تعالى عنہا والى حديث ت واسے پردہ كى آيت سے قبل پر محمول كيا جائيگا ".

اور شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر فرض كر ليا جائے كہ يہ حديث صحيح ہے، تو اسے پردہ سے قبل پر محمول كيا جائيگا "

ديكھيں كتاب: عودۃ الحجاب ( 3 / 336 ).

اور اگر ہم حديث كے متن پر غور كريں تو ہم اس ميں انتہائى بعد پائينگى، كيونكہ اسماء رضى اللہ تعالى عنہا ميں تو تقوى ورع اور شرم و حياء اتنى تھى جو انہيں اس طرح كے شفاف اور باريك لباس پہننے ميں مانع ہے، كہ وہ اس لباس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے آئيں.

اس مسئلہ ميں صحيح يہى ہے كہ عورت غير محرم اوراجنبى مردوں سے اپنا سارا جسم جس ميں چہرہ بھى شامل ہے چھپائيگى.

آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 21134 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور رہا يہ مسئلہ كہ جس معاشرے ميں عورت رہ رہى ہو وہاں پردہ كرنے سے اسے اذيت پہنچے تو اسے اس اذيت پر صبر و تحمل سے كام لينا چاہيے، اور دين پر عمل اور اپنے پروردگار كى اطاعت و فرمانبردارى كرنے كى راہ ميں اسے جو تكليف پہنچے اس ميں وہ اجروثواب كے حصول كى نيت ركھے، اور پھر اس سلسلہ ميں تو ہمارے سلف صالحين رضى اللہ عنہم ہمارے ليے بہترين نمونہ ہيں، كيونكہ انہيں اللہ كى راہ ميں بہت تكليفيں اور اذيتيں دى گئيں، ليكن پھر بھى يہ چيز انہيں دين اسلام سے دور نہ كر سكى، بلكہ ان كے ليے يہ تكليف و اذيت تو دين پر اور زيادہ سختى سے كاربند رہنے اور عمل كرنے كا باعث بنا.

ہو سكتا ہے جن ايام ميں ہم زندگى بسر كر رہے يہ وہى صبر كے ايام ہوں جن كے بارہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے درج ذيل فرمان ميں خبر دى ہے كہ:

" لوگوں پر ايك وقت آئيگا جس ميں اپنے دين پر صبر كرنے والا شخص اس طرح ہو گا جس طرح كسى نے انگارے كو پكڑ ركھا ہو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2260 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 957 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الجمر دہكتے ہوئے آگ كے انگارے كو كہتے ہيں.

ملا على قارى كہتے ہيں:

" حديث كا معنى يہ ظاہر ہوتا ہے كہ: جس طرح شديد ترين صبر و تحمل اور مشقت اٹھائے بغير انگارہ پكڑنا ممكن نہيں، اسى طرح اس دور ميں اپنے دين اور ايمان كے نور كى صبر عظيم كے بغير حفاظت كرنے كا تصور بھى نہيں كيا جا سكتا " ا ھـ.

ماخوذ از تحفۃ الاحوذى.

اور فيض القدير ميں مناوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يعنى كتاب و سنت كے احكام پر صبر كرنے والے شخص كو بھى بدعتيوں اور گمراہ قسم كے لوگوں سے اتنى ہى تكليف پہنچتى ہے، جتنى كسى شخص كو آگ كا دہكتا ہوا انگارا پكڑنے سے ہو، بلكہ ہو سكتا ہے اس سے بھى زيادہ تكليف پہنچے، اور يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے معجزات ميں شامل ہوتا ہے جس كے بارہ ميں انہوں نے خبر دى اور يہ ہو بھى چكا ہے " اھـ.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اللہ تعالى سے ملاقات تك دين حق پر ثابت قدم ركھے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
 
شمولیت
ستمبر 13، 2014
پیغامات
393
ری ایکشن اسکور
274
پوائنٹ
71
ابو الحسن بھائی میرا قطعا مطلب یہ نہیں کہ انسان بھتان لگائے لا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا
میرا اشارہ ان اقوال کی طرف تھا جس میں محدثین نے مبتدعہ کو نھایت سخت الفاظ میں مخاطب کیا اور کبھی تو بہت سے قابل ذکر بھی ان کے الفاظ کی زد میں آ گئے
شاھد بھائی کے ذوق سے کچھ مطابقت رکھتی کتاب (اگرچہ میں اس کتاب کو عامۃ الناس اور طلبہ کے درمیان نا پسند کرتا ہوں کہ یہ منساب نہیں اللھم الا یہ کہ کہیں کوئی شرعی مصلحت آ جائے )
نشر الصحیفۃ علی سبیل المثال کہا ہے اب کوئی میرا بھائی میری کلاس نہ لے
کیونکہ یہ کتاب بعض احباب ہے کہ ہاں بہت پسند کی جاتی ہے
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,985
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !۔۔۔۔۔بالغ عورت کے سر ڈھانپنے سے متعلق حدیث تحریر کر دیں۔میرے خیال میں یہ نماز کے لیے حکم ہے۔نہ کہ ہر جگہ یا ہر وقت۔واللہ اعلم!
و علیکم السلام و رحمت الله -

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ "لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ"، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا"۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱۶۰ (۳۷۷)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۱۳۲ (۶۵۵)، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۴۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۵۰، ۲۱۸، ۲۵۹) (صحیح)
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
120
میرا اشارہ ان اقوال کی طرف تھا جس میں محدثین نے مبتدعہ کو نھایت سخت الفاظ میں مخاطب کیا اور کبھی تو بہت سے قابل ذکر بھی ان کے الفاظ کی زد میں آ گئے
یعنی کہ ۔۔۔ دوسرے الفاظ میں ۔۔۔۔ محدثین/مصنفین کا رویہ/عمل حجت ہے اور حسن اخلاق سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو سینکڑوں فرامین اور تنبیہات ہیں وہ قابل نظرانداز ہیں؟
یا پھر یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ دعوت و تبلیغ کے بعض معاملات میں مبلغین کو اپنے نفس کی آزادی حاصل ہے۔ ہر معاملے میں اسوہ حسنہ پر عمل ضروری نہیں کیونکہ ایسا رویہ محدثین یا بعض مذہبی پیشوائیان سے بھی ثابت ہے۔
 

فلک شیر

رکن
شمولیت
ستمبر 24، 2013
پیغامات
185
ری ایکشن اسکور
100
پوائنٹ
81
یہ بعینہ وہی فکر ہے جو جاہل اور بے دین صوفیوں کی ہے جو نہ صرف اسلام کی روح کے منافی ہے بلکہ انتہائی قابل مذمت بھی ہے۔
اللہ اللہ ۔
محترم! کیا اسلام کی روح ٹوپی میں پائی گئی ہے؟
 

فلک شیر

رکن
شمولیت
ستمبر 24، 2013
پیغامات
185
ری ایکشن اسکور
100
پوائنٹ
81
میں صاحب مضمون کے مؤقف سے اتفاق کرتا ہوں ۔
شیطان اپنا جال ہر کسی پہ الگ رنگ میں پھینکتا ہے۔ سچ ہے کہ داعی اور عالم ایسے ہی اس کے چنگل میں پھنستے ہیں ۔ ایک سجا سجایا خاص حلیے کا آدمی ۔ کیا ہم اسلام کو عیسائیت کی طرح ritualsکا ایک مجموعہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں؟
 
Top