• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر فرحت ھاشمی صاحبہ کی شفقت اپنی طالبات پر

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
530
ری ایکشن اسکور
2,182
پوائنٹ
171
محترمہ ومکرمہ ام محمد صاحبہ حفظہااللہ تبارک وتعالی کی ایک مضمون استاذہ محترمہ کی تعارف کے بارے میں
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظھا اللہ کا مختصر تعارف
نام : ڈاکٹر فرحت ہاشمی۔
ڈاکٹر فرحت ہاشمی آج کے دور مشہور اسلامی اسکالرز میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنے آپ کو قران کا ایک ادنی طالبعلم اور خادم قرار دیتی ہیں۔ اپنے پر اثر انداز بیان اور مدلل طریقہ تدریس کی بدولت آج اسلامی علماء میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
ذاتی کوائف:
محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی 1957 پاکستان کے شہر سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد عبدالرحمن ہاشمی خود بھی ایک عالم دین تھے۔ ان کا شجرہ نسب 53ویں پشت میں جاکر جلیل القدر صحابی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد کی خواہش تھی کہ میری بیٹی دینی تعلیم حاصل کرے اور قران اور حدیث کی تعلیمات کو دنیا میں عام کرے۔ اور انہوں نے اپنے والد کی خواہش کے آگے سر تسلیم خم کیا۔ یہاں یہ بھی عرض کرتی چلوں کہ فقط ڈاکٹر صاحبہ ہی نہیں ان کے دوسرے بہن بھائ بھی دین سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔
یہا‎ں ڈاکٹر صاحبہ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں عرض کردوں کہ آپ کے شوہر کا نام ڈاکٹر محمد ادریس زبیر ہے اور ڈاکٹر صاحبہ کی دینی مصروفیات کو جاری رکھنے میں انہیں اپنے شوہر کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔

تعلیم :
انہوں نے ابتدائ تعلیم سرگودھا ہی سے حاصل کی اور پھر سرگودھا ہی کے گورنمنٹ ڈگری کالج سے گریجویشن کیا۔ جس کے بعد ڈاکٹر فرحت ہاشمی نے پنجاب یونیورسٹی سے عربک میں ماسٹر کی سند حاصل کی دوران تعلیم انہوں نے متعدد ایوارڈز اور سکالر شپس حاصل کیں۔
درس و تدریس : ڈاکٹر فرحت ہاشمی نے سرگودھا ڈگری کالج میں لیکچرر کی حیثیت سے اپنے کیریر کا آغاز کیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے فیکلٹی ممبر کی حیثت سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کو جوائن کیا اور اسی یونیورسٹی سے انہیں گلاسگو یونیورسٹی سے علوم حدیث میں پی ایح ڈی کرنے کے لیۓ اسکالرز شپ ملی۔ گلاسگو یونیورسٹی اسکاٹ لینڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ نے واپس پاکستان آکر اسلامک یونیورسٹی میں تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔
الھدی کا قیام
دوران تدریس انہیں احساس ہوا کہ خواتین میں دینی شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہو‎ۓ انہوں نے 1994 میں اسلام آباد میں الہدی انٹرنیشنل سینٹر کی بنیاد رکھی۔ اس سینٹر نے بہت جلد ہی خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ اس فاؤنڈیشن کے دروازے ہر اس خاتون کے لیۓ کھلے ہیں جو کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔ چاہے اس کی مادی حیثیت کچھ بھی ہو۔ آج الھدی سینٹر کی شاخیں مختلف ممالک میں پھیلی ہوئ ہیں۔
ڈاکٹر فرحت ہاشمی خواتین کوبنیادی طور پر قران کریم کی تعلم دیتی ہیں اور اس سلسلہ میں ان قران کے ترجمہ اور تفسیر پر مشتمل سی ڈیز اور کیسٹس کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔
مملکت سعودی عرب میں الھدی کی کلاسز کا اجراء
سعودی عرب میں الھدی کی کلاسز کے اجراء سے پہلے یہاں کے علماء نے ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی تفسیر کا نہایت تفصیل سے جائزہ لیا اور پھر اس تفسیر کو پڑھانے کی اجازت دی۔ اور آج سعودی عرب کے مختلف شہروں میں میں الھدی کے کلاسز جاری ہیں۔
طریقہ تعلیم: سب سے پہلے کلاس میں ہمیں تجوید پڑھائ جاتی ہے۔ پھر ہم ڈاکٹر صاحبہ کا لیکچر سنتے ہیں اور پھر کلاس میں اس سبق پر ڈسکشن ہوتی ہے اور اس کے مطابق ہم نوٹس تیار کرتے ہیں۔ ہر سپارے کے آخر میں اس کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ جس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیۓ کم از کم 80 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔

ایک خاص بات یہاں عرض کردوں کہ ہماری تمام ٹیچر اپنی تمام خدمات بلامعاوضہ انجام دیتی ہیں۔ اور ان تمام ٹیچر کی دین سے محبت اور ان کا جذبہ خدمت سراہے جانے کے قابل ہے۔ اور ہم سب کے لیۓ مشعل راہ ہے۔ اور اللہ کے فضل کے بعد ان کی تربیت کا نتیجہ ہے۔
الھدی کے تحت مختلف اسلامی کورسز کی تفصیل۔
1- ڈپلومہ کورسز، 2- پوسٹ ڈپلومہ کورسز، 3- سرٹیفیکیٹ کورسز، 4- کورسز بذریعہ خط و کتابت
5- شارٹ کورسز، 6- بچوں اور لڑکیوں کے لیۓ مختلف تعلیمی پروگرام، 7- عوام الناس کے لیۓ مختلف تعلیمی پروگرام۔
اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر ان کی کتب، رسالے، پمفلیٹ اور کارڈز ، دعاؤں کے کارڈز وغیرہ بھی مختلف ممالک میں اردو اور انگلش زبانوں میں دستیاب ہیں۔
یہاں میں نے ڈاکٹر صاحبہ کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔ ان شاء اللہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے ساتھ اور معلومات بھی شئر کرتی رہوں گی۔
اس کے علاوہ ان ویب سائٹ پر ان کے بارے میں مفصل معلومات موجود ہیں۔
Wp.farhathashmi.com , Al-Huda International
ڈاکٹر صاحبہ کے اپنے الفاظ میں ان کا مشن ہے " قران سب کے لیۓ، ہر ہاتھ میں اور ہر دل میں" اور میری بھی خواہش کے میں بھی ان کے اس مشن میں اپنا حصہ ڈال سکوں۔ جس کے لیۓ آپ سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔

اللہ کا شکر کہ جس نے مجھے یہ سب لکھنے کی توفیق عطا فرمائ، ام نور العین کا شکریہ کہ انہوں نے میری رہنمائ کی۔ اور ابو محمد کا بھی شکریہ جو کہ اس سب کو ٹائپ کر رہے ہیں۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,423
پوائنٹ
521
موضوع: ڈاکٹر فرحت ھاشمی صاحبہ کی شفقت اپنی طالبات پر

السلام علیکم

موضوع کسی بہن نے باندھا ھے اس لئے مناسب نہیں کہ اس پر کوئی ایسی بات کہی جائے جس سے سسٹر کو پریشانی ہو اس کے علاوہ کسی بھائی نے لکھا ھے، خلاصہ: کہ حدیث مبارکہ پر کوئی ثبوت فراہم کیا جائے تو اس پر معاملہ مشکوک ھے۔

سعودی عرب سے ایک سلفی برادر [SUP](جو یہاں بھی رجسٹرڈ ھے)[/SUP] نے کسی فارم میں نماز کا مکمل طریقہ حدیث مبارکہ کے ساتھ ٨ مراسلوں میں پیش کیا ہوا تھا، جسے میں نے کاپی کر کے ایک فارم میں پیسٹ کیا۔ اس نماز کے طریقہ کے مطابق کچھ مینوئر میں نہیں کرتا مگر ان باتوں کو اگنور کرتے ہوئے میں نے اس میں کسی قسم کی کانٹ چھانٹ نہیں کی۔

چند دن بعد ایک میل ممبر نے فارم جوئن کیا اور اس نماز کے طریقہ پر بہت سے احادیث مبارکہ کو الگ کر کے ضعیف قرار دے دیا۔ مجھے تعجب ہوا کہ ایک سلفی کی طرف سے لئے گئے نماز کا طریقہ پر دوسرا سلفی احادیث مبارکہ پر اعتراض کر رہا ھے، پھر مزید سرچ کرنے سے بہت علامہ ناصر البانی مرحوم اور حافظ زبیر علی زئی پر دو لنک ملے جس میں نماز کا طریقہ مکمل حدیث مبارکہ سے پیش کیا گیا تھا میں نے اسے بھی اگلے مراسلہ میں ساتھ جوڑ دیا، مگر ممبر نے اس میں بھی حدیثیں ضعیف قرار دے دیں۔ مجھے تو احادیث مبارکہ کی صحت پر کوئی علم نہیں کیونکہ ایسا کوئی کورس نہیں کیا ہوا اس لئے یہ میرے لئے بھی چیلنج بن گیا۔

اسی فارم میں ایک اور دریا دل نامی سلفی ناظم کراچی سے تھا اور وہ فارم کو کسی وجہ سے وقت بہت کم دیتا تھا میں نے اس سے رابطہ کیا کہ فارم میں آئے اور اپنے سلفی بھائی سے اس مسئلہ پر بات کرے۔

دریا دل کیونکہ کراچی سے تھا اور اسے پاکستان سے اس پر بہت معلومات تھی اس نے اسی جاری تھریڈ میں ایک مراسلہ میں فرحت ہاشمی کی شان میں دلیل کے ساتھ کچھ باتیں لکھ دیں جسے پڑھ کر ممبر سیخ پا ہو گیا اور رپوٹیں کرنی شروع کر دیں کہ اس کی ٹیچر فرحت ہاشمی پر جو مراسلہ لگایا گیا ھے اسے ڈیلییٹ کر دیا جائے۔ مسئلہ بہت طول پکڑا فارم آنر نے کہا کہ اسلامی سیکشن کی انتظامیہ ذمہ دار ھے انہی سے رابطہ کرو، دریا دل اس پر تیار نہیں تھا جس پر پھر اس ممبر نے مجھے پیغام بھیجے اور فارم کا ماحول برقرار رکھنے کے لئے مجھے دریا دل کو اعتماد میں لینا پڑا اور اس ممبر کے بہودہ مراسلے بھی ہٹائے اور فرحت ہاشمی پر لکھا گیا اس کا مراسلہ بھی ہٹایا اس کے بعد وہ ممبر دوبارہ فارم میں نہیں آیا۔

فرحت ہاشمی سے نماز کا طریقہ پر اگر کوئی کتاب لکھی ھے تو اسے پیش کریں اور جو نام میں نے اوپر لکھے ہیں ان سے ملا لیں۔

والسلام
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
530
ری ایکشن اسکور
2,182
پوائنٹ
171
HTML:
[HTML]
[/HTML]
موضوع: ڈاکٹر فرحت ھاشمی صاحبہ کی شفقت اپنی طالبات پر

السلام علیکم

موضوع کسی بہن نے باندھا ھے اس لئے مناسب نہیں کہ اس پر کوئی ایسی بات کہی جائے جس سے سسٹر کو پریشانی ہو اس کے علاوہ کسی بھائی نے لکھا ھے، خلاصہ: کہ حدیث مبارکہ پر کوئی ثبوت فراہم کیا جائے تو اس پر معاملہ مشکوک ھے۔

سعودی عرب سے ایک سلفی برادر [SUP](جو یہاں بھی رجسٹرڈ ھے)[/SUP] نے کسی فارم میں نماز کا مکمل طریقہ حدیث مبارکہ کے ساتھ ٨ مراسلوں میں پیش کیا ہوا تھا، جسے میں نے کاپی کر کے ایک فارم میں پیسٹ کیا۔ اس نماز کے طریقہ کے مطابق کچھ مینوئر میں نہیں کرتا مگر ان باتوں کو اگنور کرتے ہوئے میں نے اس میں کسی قسم کی کانٹ چھانٹ نہیں کی۔

چند دن بعد ایک میل ممبر نے فارم جوئن کیا اور اس نماز کے طریقہ پر بہت سے احادیث مبارکہ کو الگ کر کے ضعیف قرار دے دیا۔ مجھے تعجب ہوا کہ ایک سلفی کی طرف سے لئے گئے نماز کا طریقہ پر دوسرا سلفی احادیث مبارکہ پر اعتراض کر رہا ھے، پھر مزید سرچ کرنے سے بہت علامہ ناصر البانی مرحوم اور حافظ زبیر علی زئی پر دو لنک ملے جس میں نماز کا طریقہ مکمل حدیث مبارکہ سے پیش کیا گیا تھا میں نے اسے بھی اگلے مراسلہ میں ساتھ جوڑ دیا، مگر ممبر نے اس میں بھی حدیثیں ضعیف قرار دے دیں۔ مجھے تو احادیث مبارکہ کی صحت پر کوئی علم نہیں کیونکہ ایسا کوئی کورس نہیں کیا ہوا اس لئے یہ میرے لئے بھی چیلنج بن گیا۔

اسی فارم میں ایک اور دریا دل نامی سلفی ناظم کراچی سے تھا اور وہ فارم کو کسی وجہ سے وقت بہت کم دیتا تھا میں نے اس سے رابطہ کیا کہ فارم میں آئے اور اپنے سلفی بھائی سے اس مسئلہ پر بات کرے۔

دریا دل کیونکہ کراچی سے تھا اور اسے پاکستان سے اس پر بہت معلومات تھی اس نے اسی جاری تھریڈ میں ایک مراسلہ میں فرحت ہاشمی کی شان میں دلیل کے ساتھ کچھ باتیں لکھ دیں جسے پڑھ کر ممبر سیخ پا ہو گیا اور رپوٹیں کرنی شروع کر دیں کہ اس کی ٹیچر فرحت ہاشمی پر جو مراسلہ لگایا گیا ھے اسے ڈیلییٹ کر دیا جائے۔ مسئلہ بہت طول پکڑا فارم آنر نے کہا کہ اسلامی سیکشن کی انتظامیہ ذمہ دار ھے انہی سے رابطہ کرو، دریا دل اس پر تیار نہیں تھا جس پر پھر اس ممبر نے مجھے پیغام بھیجے اور فارم کا ماحول برقرار رکھنے کے لئے مجھے دریا دل کو اعتماد میں لینا پڑا اور اس ممبر کے بہودہ مراسلے بھی ہٹائے اور فرحت ہاشمی پر لکھا گیا اس کا مراسلہ بھی ہٹایا اس کے بعد وہ ممبر دوبارہ فارم میں نہیں آیا۔

فرحت ہاشمی سے نماز کا طریقہ پر اگر کوئی کتاب لکھی ھے تو اسے پیش کریں اور جو نام میں نے اوپر لکھے ہیں ان سے ملا لیں۔

والسلام
معلوم نہیں یہ کیا کہانی ہے اور کہاں کی ہے ؟؟؟؟؟؟؟
استاذہ محترمہ کا بھی کچھ تذکرہ ہے لیکن سمجھ کچھ نہیں آیا جناب کنعان صاحب یقین کریں کچھ سمجھ نہیں آیا یہ کیا ماجرا ہے؟؟؟
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
530
ری ایکشن اسکور
2,182
پوائنٹ
171
فہم قرآن اور تعلیم قرآن کی عالمی مبلغہ ہونے کی وجہ سے محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کو اللہ سبحانہ نے جو مقام دیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اگر ہم سب قرآن شریف کی تعلیم وتعلم کو کچھ
وقت دیں تو ان شاء اللہ
اللہ تعالی ہمارا بھی بیڑہ پار کردیگا اور شرک وبدعت کی یہ اندھیرے ختم ہوجاینگے لیکن افسوس کہ ہم نے خود قرآن عظیم الشان کی تعلیم وتعلم کو وقت دیا نہیں اور جو لوگ یہی کام کررہے ہیں ان کی پیچھے پڑگیے اس لیے دنیا اور اھل دنیا شرک اور بدعت کی طرف راغب ہے کم ازکم اگر خود کچھ نہیں کرسکتے تو حمایت تو کرے
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,423
پوائنٹ
521
السلام علیکم

عبداللہ بھائی، جو میں نے لکھا وہ میرے لئے بھی سوالیہ نشان ھے یہ وہی کلیئر کر سکتا ھے جس نے ان کے مدرسہ/ جامعہ سے کوئی سرٹیفکیٹ/ ڈگری حاصل کی ہو، استاذہ محترمہ نے اگر کوئی کتاب "نماز کا طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں" لکھی ہوئی ھے تو وہ پیش کریں۔

والسلام
 
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
82
ری ایکشن اسکور
309
پوائنٹ
79
السلام علیکم

عبداللہ بھائی، جو میں نے لکھا وہ میرے لئے بھی سوالیہ نشان ھے یہ وہی کلیئر کر سکتا ھے جس نے ان کے مدرسہ/ جامعہ سے کوئی سرٹیفکیٹ/ ڈگری حاصل کی ہو، استاذہ محترمہ نے اگر کوئی کتاب "نماز کا طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں" لکھی ہوئی ھے تو وہ پیش کریں۔

والسلام
وعلیکم السلام

جی انہوں نے کتاب پڑھائی ہے، جس کی آڈیو آپ یہاں سے سن سکتے ہیں۔
جو کتاب پڑھائی ہےاس کا پی ڈی ایف وژن یہاں سے پڑھا جا سکتا ہے۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,423
پوائنٹ
521
السلام علیکم

پہلے لنک میں لیکچرز ہیں معذرت کے ساتھ اس پر وقت نہیں اور دوسرا لنک میں مسٹر زئی کی کتاب کا لنک ھے ان کی اپنی لکھی ہوئی کوئی کتاب نہیں۔ خیر کوئی سیرئس میٹر نہیں وقت ملنے پر میں ایک دھاگہ میں نماز کے طریقے پیش کروں گا جس کے لنکس آپکو پی۔ ایم کر دوں گا آپ انہیں محترمہ ڈی ایف ہاشی کو دکھا کر پوچھیں کہ اس میں کہاں ضعیف حدیث کا سہارا لیا گیا ھے۔

ایک اہم بات نوٹ فرما لیں کہ جب میں سپیشل مراسلہ میں صرف کوئی سوال پوچھتا ہوں تو اس پر میرا مقصد اس پر جاننا ہی ہوتا ھے بحث نہیں اور جواب آنے پر بھی میں بحث میں سوال کا اثر ضائع نہیں کرتا۔ اگر اس پر مفید جواب آیا تو پھر اس کے بعد ایک اور سوال پی۔ ایم میں ہی کروں گا یہاں نہیں۔

والسلام
 
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
82
ری ایکشن اسکور
309
پوائنٹ
79
السلام علیکم

استاذہ محترمہ نے اگر کوئی کتاب "نماز کا طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں" لکھی ہوئی ھے تو وہ پیش کریں۔

والسلام
بھائی آپ نے "صحیح احادیث کی روشنی" میں ان کی لکھی ہوئی کتاب کا پوچھا ۔ اس لیے انہوں نے "صحیح احادیث کی روشنی" جو کتاب پڑھائی اس بارے میں بتا دیا۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
پہلے لنک میں لیکچرز ہیں معذرت کے ساتھ اس پر وقت نہیں اور دوسرا لنک میں مسٹر زئی کی کتاب کا لنک ھے ان کی اپنی لکھی ہوئی کوئی کتاب نہیں۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
علمائے کرام کے اپنے اپنے میدان ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا میدان خطابت و تقریر ہے۔ ان کے اکثر لیکچرز اور کورسز ایسی ہی اہم کتب کی تشریح و تفسیر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی لکھی ہوئی کتاب کی شرط لگانا درست نہیں، یہ کام جب پہلے ہی کئی علمائے کرام کر چکے ہیں تو تحصیل حاصل کا کیا فائدہ ؟
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,596
پوائنٹ
139
السلام علیکم

پہلے لنک میں لیکچرز ہیں معذرت کے ساتھ اس پر وقت نہیں اور دوسرا لنک میں مسٹر زئی کی کتاب کا لنک ھے ان کی اپنی لکھی ہوئی کوئی کتاب نہیں۔ خیر کوئی سیرئس میٹر نہیں وقت ملنے پر میں ایک دھاگہ میں نماز کے طریقے پیش کروں گا جس کے لنکس آپکو پی۔ ایم کر دوں گا آپ انہیں محترمہ ڈی ایف ہاشی کو دکھا کر پوچھیں کہ اس میں کہاں ضعیف حدیث کا سہارا لیا گیا ھے۔

ایک اہم بات نوٹ فرما لیں کہ جب میں سپیشل مراسلہ میں صرف کوئی سوال پوچھتا ہوں تو اس پر میرا مقصد اس پر جاننا ہی ہوتا ھے بحث نہیں اور جواب آنے پر بھی میں بحث میں سوال کا اثر ضائع نہیں کرتا۔ اگر اس پر مفید جواب آیا تو پھر اس کے بعد ایک اور سوال پی۔ ایم میں ہی کروں گا یہاں نہیں۔

والسلام
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کنعان بھائی !
یہ کتاب مسٹر زئی کی نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی ہے اور مسٹر زئی نے صرف ترتیب و تخریج کی ہے(بمطابق کتاب کے ٹائیٹل کے) لیکن وہ خود بار ہا اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی صرف وہی کتاب قابل اعتماد ہے جو مکتبہ اسلامیہ لاہور،فیصل آباد سے چھپی ہو یا مکتبۃ الحدیث حضرو اٹک سے چھپی ہو اور/یا کتاب کے آخر میں ان کے دستخط اور مہر ہوں۔
 
Top