• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ امام اور علیہ السلام لکھنا شیعیت ہے ؟

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,550
پوائنٹ
304
ماشاءاللہ آپ نے دلائل پیش کیے لیکن گزارش ہے کہ اس سے آپ کا مدعا ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ سلام صرف پیغمبروں کے لیے خاص ہے!
دیکھیے سورت نمل میں فرمایا:
وسلٰم علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ(آیت:59)
”اور سلام ہو ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے بہ قول اس میں چنیدہ بندوں سے مراد صحابۂ کرامؓ ہیں
اب اگر آپ کی منطق کو لیا جائے تو یہاں صرف انبیا ہی مراد ہونے چاہییں جب کہ ایسا نہیں ہے اور جلیل القدر مفسر اور صحابیِ رسول نے یہاں غیر انبیا مراد لیے ہیں؛پس آپ کا دعویٰ درست ثابت نہ ہوا۔
اسی طرح ہر نماز میں ہم پڑھتے ہیں:السلام علینا و علیٰ عباد اللہ الصالحین۔۔یعنی سلام ہو ہم پر اور خدا کے نیک بندوں پر
اس سے بھی سلام کے انبیا علیھم السلام کے ساتھ خاص ہونے کی نفی ہوتی ہے۔
امید ہے غور فرمائیں گے؛والسلام علیکم(ویسے کیا آپ کو سلام کہہ سکتا ہوں؟؟ابتسامہ)
؛السلام و علیکم و رحمت الله -

محترم -

بات اصول ضوابط کی ہے نا کہ جائز و ناجائز کی - قرانی اسلوب سے یہ بات واضح ہے کہ "سلام" کا لفظ عمومی طور پر انبیاء و رسل کرام کے ساتھ ہی مخصوص ہے جو سوره الصفات کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے-.

.وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ سوره الصفات ١٨١
اور تمام رسولوں پر سلام ہے -

جب کہ رضی الله عنہ صحابہ کرام کے ساتھ عمومی طور پر مختص ہے - ملاحظہ ہو قرآن کی سوره البينة کی آخری آیت :

جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ سوره البينة ٨
ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے بہشت ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے الله ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے-

بلفرض- وسلٰام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ(آیت:59) سلام ہو ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے بقول اس میں چنیدہ بندوں سے مراد صحابۂ کرامؓ ہی ہیں تو اس میں آخر حضرت حسین رضی الله عنہ یا اہل بیت کے ناموں کے ساتھ ہی"علیہ سلام" کا صیغہ مخصوص کیوں قرار پایا ہے؟؟ - حضرت حسین رضی الله عنہ سے پہلے جتنے معتبر صحابہ کرام گزرے ہیں- مثلا حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبدللہ بن مسعود اور دوسرے بے شمار صحابہ کرام رضوان اللّہ اجمعین وغیرہ- ان کے ناموں کے ساتھ آخر پوری اسلامی تاریخ میں "علیہ سلام کا صیغہ کیوں استمعال نہیں کیا گیا؟؟ - صرف اہل بیت کو علیہ سلام کے صیغے سے مخصوص کردینا کیا رافضیت کا طرز فکر نہیں جو بعض نام نہاد اہل سنّت نے بھی اپنایا ہوا ہے ؟؟
 
Last edited:

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
731
پوائنٹ
256
؛السلام و علیکم و رحمت الله -

محترم -

بات اصول ضوابط کی ہے نا کہ جائز و ناجائز کی - قرانی اسلوب سے یہ بات واضح ہے کہ "سلام" کا لفظ عمومی طور پر انبیاء و رسل کرام کے ساتھ ہی مخصوص ہے جو سوره الصفات کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے-.

.وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ سوره الصفات ١٨١
اور تمام رسولوں پر سلام ہے -

جب کہ رضی الله عنہ صحابہ کرام کے ساتھ عمومی طور پر مختص ہے - ملاحظہ ہو قرآن کی سوره البينة کی آخری آیت :

جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ سوره البينة ٨
ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے بہشت ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے الله ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے-

بلفرض- وسلٰام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ(آیت:59) سلام ہو ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے بقول اس میں چنیدہ بندوں سے مراد صحابۂ کرامؓ ہی ہیں تو اس میں آخر حضرت حسین رضی الله عنہ یا اہل بیت کے ناموں کے ساتھ ہی"علیہ سلام" کا صیغہ مخصوص کیوں قرار پایا ہے؟؟ - حضرت حسین رضی الله عنہ سے پہلے جتنے معتبر صحابہ کرام گزرے ہیں- مثلا حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبدللہ بن مسعود اور دوسرے بے شمار صحابہ کرام رضوان اللّہ اجمعین وغیرہ- ان کے ناموں کے ساتھ آخر پوری اسلامی تاریخ میں "علیہ سلام کا صیغہ کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟؟ - صرف اہل بیت کو علیہ سلام کے صیغے سے مخصوص کردینا کیا رافضیت کا طرز فکر نہیں جو بعض نام نہاد اہل سنّت نے بھی اپنایا ہوا ہے ؟؟
میرا سوال یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ صدیق،حضرت عمر ؓکے نام کے ساتھ فاروق اور حضرت علیؓ کے نام کے ساتھ کرم اللہ وجہہ کیوں کاص ہیں؟؟کیا ایک دوسرے صحابہؓ صدیق نہیں ہیں؟اولٰئک ھم الصدیقون۔۔
دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں علی ،فاطمہ،حسن اورحسین علیھم السلام کے ساتھ علیہ السلام کا استعمال علماے اہل سنت کے یہاں رائج رہا ہے؛آپ اپنا مطالعۂ تاریخ ذرا وسیع فرمائیں یا پھر میں ہی ان شاءاللہ ثبوت پیش کر دوں گا۔
سلام علی المرسلین سے خصوصیت کیسے ثابت ہو گئی؟؟میرا سوال باقی ہے۔
اور جو البینۃ کی آیت نقل کی ہے اس میں بھی صحابہ کا اختصاص نہیں ہے؛رضی اللہ عنہ غیر صحابہ کے لیے بھی جائز ہے اور یہ قرآن سے ثابت ہے۔
آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ شیعہ دشمنی نے آپ کو جذباتی کر رکھا ہے اور اصول استدلال سے آپ واقف نہیں ہیں؛خواہ مخواہ کی بحث کا فائدہ نہیں ہے؛آپ تو صحیح احادیث کو ماننے پر تیار نہیں ہیں جیسا کہ عذاب قبر کی بحث میں واضح ہے؛اسی طرھ کاندھلوی اور محمود عباسی ایسے منکرین حدیث اور ناصبیوں کو آپ اہل سنت اور ان پر تنقید کرنے والوں کو رافضی نما قرار دیتے ہیں ؛اب ایسے میں آپ سے کسی علمی بحث کی توقع بھی کیوں کر کی جا سکتی ہے!!والسلام
 

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
731
پوائنٹ
256
شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرت سری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
جو شخص امام مہدیؑ، حضرت عیسیٰؑ یا امام حسین کی شہادت نہیں مانتا وہ بدعتی ہے۔
(فتاویٰ ثنائیہ،جلد اول ،ص ۳۹۵)
 
Last edited:

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
731
پوائنٹ
256
’’ہاں امام حسینؓ کے بڑے بھائی امام حسن ؓ کو بے یار و مدد گار کیوں چھوڑا جائے۔۔‘‘(فتاویٰ ثنائیہ جلد1،ص314)
 

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
731
پوائنٹ
256
فتاویٰ ثنائیہ، جلد دوم کی فہرست میں لکھا ہے:
شہادت حسین علیہ السلام
(ص،ز)
اس کے متعلق سوال ص۱۴۴ پر ہے جس میں سائل نے ’’امام حسین علیہ السلام‘‘ لکھا ہے؛مفتی یا مرتب کی جانب سے کوئی گرفت نہیں کی گئی!
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
بہرام صاحب !
یار اس قدر بچکانہ باتیں شروع کردی ہیں آپ نے ۔
میں نے آپ سے شروع میں کہا تھا کہ کسی مصنف کی کسی کتاب میں اس طرح کی باریکیوں کو ( مثلا کسی حرف کا رسم الخط کیا ہے ؟ صلی اللہ علیہ وسلم ، علیہ السلام ، رضی اللہ عنہ ) حتمی طور پر مصنف کی طرف طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ اس طرح کی کمی بیشی کاتب ، ناسخ ،طابع وغیرہ سے ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے یہ باتیں کئی نسخوں میں ملتی ہیں کئی میں نہیں ہوتیں اسی طرح کئی طبعات میں ہوتی ہیں کئی میں نہیں ہوتیں ۔
لہذا اس طرح کی کوئی بات مصنف کی طرف منسوب کرنے کے لیے کوئی قوی دلیل یا قرینہ ہونا چاہیے کہ واقعتا مصنف نے اس کو ایسے ہی لکھا ہے ۔
اب اس طرح کی کوئی چیز تو آپ کے پاس ہے نہیں اور نہ ہی دور دور کوئی امکانات نظر آرہے ہیں ۔
البتہ آپ نے یہ ضد شروع کردی ہے کہ جناب فلاں جگہ بخاری میں یہ لکھا ہوا فلاں ویب سائٹ پر یوں ہے ۔
میں نے آپ کے اصول پر ہی آپ کی ویب سائٹ والی دلیل سے قوی دلیل مطبوع کتاب کی تصویر پیش کی ہے ۔ کہ اگر ویب سائٹ امام بخاری کے اس حدیث میں ’’ علیہ السلام ‘‘ لکھنے کی دلیل بن سکتی ہے تو پھر ایک مطبوع کتاب ’’ نہ لکھنے کی دلیل ‘‘ کیوں نہیں بن سکتی ؟
لیکن آپ نے وہی بچوں والی باتیں کرنا شروع کردی ہیں ۔
شیعہ کاتبین کی چیزہ دستیاں اس لیے کہا تھا کہ یہ کام ( علیہ السلام صرف اہل بیت کے بعض افراد کے ساتھ لکھنا ) امام بخاری کے عقیدہ و منہج سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے اس پر کسی شیعہ یا متأثرین شیعہ کو ہی متہم کیا جاسکتا ہے ۔
کسی کتاب میں علیہ السلام لکھا ہوا ، کب دلیل ہوگا ، اس پر میں اپنا موقف تفصیل سے بیان کر چکا ہوں ، اور یہ صرف میرا موقف نہیں، بلکہ اہل علم کی یہ تحقیق ہے ۔ کئی علماء نے یہ بات کہی ہے کہ کتابوں کے اندر صرف علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ’’ علیہ السلام ‘‘ کا لکھا ہونا ، یہ ناسخین کا تصرف ہے ۔ اصول حدیث میں قواعد نسخ و املاء میں بھی یہ بات موجود ہے کہ کلمات ترضی ، سلام و صلاۃ وغیرہ ، میں ناسخین کا دخل ہوسکتا ہے ۔ لہذا ان احتمالی چیزوں کو کسی دعوی کے اثبات کے لیے بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا ۔
دیکھیے بات یہ ہے کہ اس باب میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے کوئی ایسی صریح نص نہیں ملتی کہ انبیاے کرام علیھم السلام یا صحابۂ کرامؓ کے اسماے گرامی کے ساتھ التزاماً کیا الفاظ لکھے جائیں؟نبی اکرم ﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ درود لکھا جاتا ہے جب کہ دیگر انبیا کے ناموں کے ساتھ محض سلام پر اکتفا کیا جاتا ہے حالاں کہ غالباً مسلم شریف میں واقعۂ معراج کے ضمن میں موسی ﷺ بھی آیا ہے؛اب اسے بھی کاتب کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے!
دوسری بات یہ ہے کہ علیہ السلام کا انبیا کے ساتھ مختص ہونا کوئی صریح اجماعی مسئلہ بھی نہیں کہ غیر انبیا کے لیے اس کا استعمال ممنوع ٹھیرایا جائے!
تیسری بات یہ ہے کہ سیدنا علی،جناب فاطمہ اور حضرات حسنین علیھم السلام میں سے ہر ایک کے لیے علیہ السلام یا علیھاالسلام کا اندراج محض صحیح بخاری شریف ہی میں نہیں ہے بل کہ دیگر بے شمار ائمہ محدثین کے یہاں بھی ملتا ہے؛مثلاً امام احمد،حافظ ابن حزم اور امام ابو اسحاق الشیرازی وغیرھم رحمھم اللہ ؛یہ محض یادداشت سے لکھ دیے ہیں اور بھی بہت سے نام ہیں ؛اس لیے اسے کاتبوں کے ذمے لگا کر بات کو اڑا دینا کوئی ٹھوس علمی دلیل نہیں ہے بل کہ ایک احتمال ہے جب تک کہ خود کسی کاتب یا اس مصنف کی صراحت نہ ہو؛اس طرح تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی کے لیے امام ،شیخ الاسلام اور دیگر القاب بھی کاتبوں کی خوش اعتقادی کا نتیجہ ہیں !!اصل یہ ہے کہ انھیں مصنف ہی کی جانب سے خیال کیا جائے گا۔
میں اس باب میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ اصل میں کسی مصنف کے ذوق اور میلان طبع پر منحصر ہے کہ وہ کسی برگزیدہ ہستی کے لیے کیا دعائیہ کلمہ پسند کرتا ہے؟پس ہر ایک اپنے رجحان طبع کے مطابق دعائیہ کلمہ لکھ دیتا ہے؛یہی وجہ ہے کہ ہر امام یا محدث کے یہاں اس کا استعمال نہیں ملتا بل کہ جس نے لکھا ہے اسی کی کتابوں میں ملتا ہے؛جس نے یہ کلمہ استعمال نہیں کیا ،اس کی کتابوں میں یہ مذکور نہیں ۔
اس ضمن میں یہ تحقیق بھی کی جانی چاہیے کہ جس امام نے غیر انبیا کے لیے علیہ السلام لکھا ہے،اس کی مختلف کتابوں میں دیکھا جائے کہ کیا ہر کتاب میں ان کا یہی اسلوب ہے یا ایک آدھ ہی میں ہے؟اگر تو زیادہ یا اکثر کتابوں میں یہ پایا جائے تو بالیقین انھی کا لکھا ہوگا اور اگر ایک آدھ کتاب یا نسخے ہی میں ہو تو پھر یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ شاید کاتب کا تصرف ہو؛گو،حتمی پھر بھی نہیں کہا جا سکتا۔
اور آخری گزارش یہ ہے کہ اس پر اتنا حساس ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ہر صحابیؓ کا اپنا مقام ہے؛ہر کوئی صدیق یا فاروق نہیں ؛اسی طرح کرم اللہ وجہہ صرف حضرت علیؓ کے لیے بولا اور لکھا جاتاہے؛ تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اہل بیت کے اسماے گرامی کے ساتھ علیہ السلام تحریر کیا جائے۔
ایک بات جاتے جاتے اور ذہن میں آ گئی کہ مختلف علاقوں کا بھی اپنا عرف اور انداز تعظیم و توقیر ہوتا ہے؛مثلاً ہمارے یہاں صحابہؓ اور علما کے لیے حضرت کا استعمال عام ہے جب کہ عربوں میں ایسا نہیں ؛اسی طرح یہاں مولانا بہ کثرت مستعمل ہے کہ جب کہ وہاں الشیخ زیادہ رائج ہے ؛تو ان باتوں پر چیں بہ جبیں نہیں ہونا چاہیے اور ہر ایک کو اپنے میلان طبع کے مطابق بولنے اور لکھنے کی آزادی ہونا چاہیے الا یہ کہ اس میں کسی واضح نص یا اجماع کی خلاف ورزی ہو؛ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب و علمہ اتم و احکم
جواز میں شاید کسی کو اختلاف نہیں ہوگا ، لیکن اس اس کو عادت بنالینا ، یہ محل نزاع ہے ، دلیل صرف کبھی کبھی استعمال کے جواز نہیں بلکہ عادت بنانے کی مطلوب ہے ، پھر اس سے بڑھ کر لفظ امام اور علیہ السلام کو اہل بیت کے ساتھ خاص کرنے کی دلیل کی ضرورت ہے ۔
آپ نے جتنے محدثین کے حوالے دیے ہیں ، صرف زبانی کلامی بات کرنے کی بجائے ہم ان کی کتابوں سے اقتباس پیش کرتے ہیں ، اور پھر نسخ کا جائزہ لیتے ہیں ، امید ہے ان شاءاللہ کافی حد تک بات واضح ہو جائے گی ۔
اس اسلوب پر چیں بہ چیں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ اہل سنت کا اسلوب نہیں ہے ، آپ کے نزدیک ہوگا ، آپ نہ ہوں ، لیکن جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا ہے ، مختلف رائے رکھنے والے پر جملہ کسنا قبل از وقت شمار کیا جائے گا ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,538
پوائنٹ
791
جواز میں شاید کسی کو اختلاف نہیں ہوگا ، لیکن اس اس کو عادت بنالینا ، یہ محل نزاع ہے ، دلیل صرف کبھی کبھی استعمال کے جواز نہیں بلکہ عادت بنانے کی مطلوب ہے ، پھر اس سے بڑھ کر لفظ امام اور علیہ السلام کو اہل بیت کے ساتھ خاص کرنے کی دلیل کی ضرورت ہے ۔
اصل بات یہی ہے جو اوپر ان دو سطروں میں بیان کی گئی ہے
اور کافی دیر سے میں اس تھریڈ کے مطالعہ سے یہ نکتہ ذہن میں تھا کہ :
امام اور علیہ السلام کو اہل بیت کے ساتھ خاص کرنے کی دلیل کی ضرورت ہے
کیونکہ اہل بیت کیلئے ’’ علیہ السلام ‘‘ کہنے کے جواز میں جو دلائل یا نکات پیش کئے گئے وہ عمومی ہیں (وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى ۔۔۔)
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
" وقد غلب هذا في عبارة كثير من النساخ للكتب أن يُفرد علي رضي الله عنه
بأن يقال " عليه السلام " من دون سائر الصحابة أو " كرم الله وجهه " ، وهذا وإن كان معناه صحيحا ، لكن ينبغي أن يسوى بين الصحابة في ذلك ؛ فإن هذا من باب التعظيم والتكريم ، والشيخان وأمير المؤمنين عثمان أولى بذلك منه رضي الله عنهم " انتهى من" تفسير ابن كثير " ( 3 / 517)

یعنی ناسخین و کاتبین کی عادت بن گئی ہے کہ وہ دیگر صحابہ کرام ؓ کو چھوڑ کر صرف سیدنا علی ؓ کے نام کے ساتھ " عليه السلام "۔۔یا۔۔" كرم الله وجهه " لکھا کرتے ہیں۔
معنے کے لحاظ سے گو کہ یہ صحیح ہے ،لیکن حق بات یہ کہ پھر اس طرح تو تمام صحابہ کرام میں برابری کرنا چاہئے ۔۔کیونکہ ایسا کرنا تعظیم و تکریم کے باب سے ہے ۔اور شیخین یعنی سیدنا ابوبکر و عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم جناب علی سے زیادہ اس کے حقدار ہیں ‘‘
(تفسیر ابن کثیر تحت آیہ ’’ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ‘‘ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور علامہ ابن باز رحمہ اللہ اسی مسئلہ پر ایک استفتاء کے جواب میں فرماتے ہیں :
فأجاب : لا ينبغي تخصيص علي رضي الله عنه بهذا اللفظ بل المشروع أن يقال في حقه وحق غيره من الصحابة (رضي الله عنه) أو رحمهم الله لعدم الدليل على تخصيصه بذلك، وهكذا قول بعضهم كرم الله وجهه فإن ذلك لا دليل عليه ولا وجه لتخصيصه بذلك، والأفضل أن يعامل كغيره من الخلفاء الراشدين ولا يخص بشيء دونهم من الألفاظ التي لا دليل عليها. " انتهى من "فتاوى الشيخ ابن باز" (6/ 399).
جملہ ( عليه السلام ) کو صرف جناب علی رضی اللہ عنہ کیلئے خاص نہیں کرنا چاہئے ۔
بلکہ مشروع تو یہ ہے کہ جناب علی اور دیگر تمام صحابہ کرام کیلئے (رضي الله عنه ، ) یا (رحمہم اللہ ) لکھا اور بولا جائے ۔
کیونکہ تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔۔اسی طرح (کرم اللہ وجہہ )کی جناب علی کیلئے تخصیص کی بھی کوئی دلیل نہیں ۔۔افضل یہی ہے کہ (ان الفاظ ِ تعظیمیہ ) کے معاملہ میں سیدنا علی ؓ سے دیگر تمام خلفاء راشدین جیسا برتاؤ کیا جائے ۔اور ان کے لئے علیحدہ مخصوص الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن پر کوئی دلیل نہیں
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,538
پوائنٹ
791
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ ’’علیہ السلام ‘‘ کی تخصیص
(الإسلام سؤال وجواب )
لا ينبغي تخصيص علي رضي الله عنه بهذا اللفظ ، بل المشروع أن يقال في حقه وحق غيره من الصحابة : رضي الله عنه ، أو رحمهم الله ؛ لعدم الدليل على تخصيصه بذلك ، وهكذا قول بعضهم : كرم الله وجهه ، فإن ذلك لا دليل عليه ولا وجه لتخصيصه بذلك ، والأفضل أن يعامل كغيره من الخلفاء الراشدين ، ولا يخص بشيء دونهم من الألفاظ التي لا دليل عليها " انتهى من "فتاوى الشيخ ابن باز" (6/ 399).
مشروع تو یہ ہے کہ جناب علی اور دیگر تمام صحابہ کرام کیلئے (رضي الله عنه ، ) یا (رحمہم اللہ ) لکھا اور بولا جائے ۔
کیونکہ تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔۔اسی طرح (کرم اللہ وجہہ )کی جناب علی کیلئے تخصیص کی بھی کوئی دلیل نہیں ۔۔افضل یہی ہے کہ (ان الفاظ ِ تعظیمیہ ) کے معاملہ میں سیدنا علی ؓ سے دیگر تمام خلفاء راشدین جیسا برتاؤ کیا جائے ۔اور ان کے لئے علیحدہ مخصوص الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن پر کوئی دلیل نہیں‘‘ انتہی


فتحصّل من هذا أنه لا ينبغي تخصيص علي رضي الله عنه أو أحد من الصحابة بالصلاة أو السلام عليه عند ذكره ، وذلك لأمور :
الأول : عدم الدليل على التخصيص .
الثاني : أنه يوحي بأفضليته على غيره ، وقد يوجد من هو أفضل منه كما هو الحال مع علي وأبي بكر وعمر ، فإنهما أفضل منه اتفاقا .
الثالث : أن التخصيص أصبح شعارا لأهل البدع ، فلا ينبغي مشابهتهم فيه ‘‘

یعنی لفظ ’’صلاۃ ۔۔اور سلام ‘‘ جناب علی یا کسی اور صحابی سے خاص نہ کئے جائیں اس کے دو سبب ہیں :
ایک تو یہ کہ : تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ؛
دوسرا یہ کہ ان کے نام سے یہ الفاظ خاص کرنے سے دوسرے صحابہ کرام پر ان کی برتری اور فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔جبکہ اصل میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ان سے افضل ہیں۔اور اس عقیدہ پر اتفاق ہے ؛
تیسرا سبب یہ کہ: جناب علی ؓ کے نام کے ساتھ علیہ السلام کی تخصیص اہل بدعت کی علامت و شناخت بن چکی ہے ۔ اس لئے ان سے مشابہت سے بچنا چاہئے۔
 
Top