asifchinioty
رکن
- شمولیت
- جولائی 27، 2015
- پیغامات
- 138
- ری ایکشن اسکور
- 11
- پوائنٹ
- 37
لہذا اسی جواب کو برداشت کرو اور بات کو آگے چلاؤ
لیکن اپنی ناسمجھی کو میری سوچ بنانا یہ موصوف کی انفرادی حالت نہیں بلکہ تمام غیرمقلدین کے درمیان قدر مشترک ہے۔
پہلی اور شاید آخری تنبیہ ۔میں نے جو کچھ کہا ہے اس کامطلب ہر شخص اپنے اپنے ذوق و مزاق کے مطابق لے سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ موصوف ابوعبد الرافع صاحب کافی باذوق نظر آتے ہین اور اپنے ذوق کے مطابق میری بات کا مطلب لے رہے ہیں اور پھر اسے بداخلاقی کا نام دے کر بلاک کرنے کے بہانے کاراستہ ہموار کر رہے ہیں
پہلی اور شاید آخری تنبیہ ۔
اس مباحثے کو آگے چلنا چاہیے یانہیں ، اس کا فیصلہ باحثین کے ہاتھ میں ہے ۔ و من تغافل و تجاهل فلا یلومن إلانفسه
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا
ارے میری جان ہر چیز کو بداخلاقی قرار دے کر کیوں بھاگنے کے بہانے تلاش کر رہے ہو
حقائق کو سننا، دیکھنا اور برداشت کرنا سیکھیں، میں نے اللہ کے فضل سے کوئی بداخلاقی نہیں کی
او میرے بھائی ! آپ جیسے آدمیوں کے منہ لگنا بڑے حوصلے کام ہے ، لیکن پھر بطور انتظامیہ رکن کے میری ذمہ داری ہے کہ ’’ فضول ‘‘ باتوں پر تنبیہ کی جائے ، اگر آپ کو تنبیہ ناگوار گزرتی ہے ، براے مہربانی ’’ جملے کسنے ‘‘ سے پرہیز کریں ، کوئی بلاک نہیں کرے گا ۔اللہ کے فضل سے دلائل کے سامنے گھڑے ہونا جناب کے بس کی بات نہیں ہے، یقینا یہ آخری تنبیہ ہی ہوگی کیونکہ اس کے بعد موصوف کے پاس بات کرنے کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہا، اب صرف ایک ہی حل ہے عزت بچانے کا اور وہ حل جناب کی تنبیہ میں پوشیدہ ہے،
مجھے امید ہے بہت جلد مجھے بلاک کرکے فتح کا جشن منایا جائے گا
اہل حدیث کی قدیم اصطلاح میں اہل حدیث کا لفظ استعمال ہی محدثین کے لئے ہوا ہے، یہی میرے دعوی کا مقصد و منشا ء ہے کہ میں نے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ اصطلاح خاص ہی محدثین کے لئے ہے۔بس جہاں محدثین کےلیے لفظ اہلحدیث استعمال ہوا، ان عبارتوں کو کاپی پیسٹنگ پہ زور لگا رہے ہیں۔
کیا کہنے جناب ابوعبد الرافع صاحب کے
جناب عالی! جواب مخالف کی مرضی، خواہش اور چاہت کے مطابق نہیں دیا جاتا بلکہ جواب اپنے نظریے اور سوچ کے مطابق دیا جاتا ہے