• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مختلف فیہ رفع الیدین منسوخ ہے۔؟

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
مسٹر گڈ مسلم کی پوسٹ نمبر 53 کا جواب
محترم جناب سہج صاحب بجائے اس کے کہ پہلے آپ کی ان تین پوسٹ[/FONT] پوسٹ نمبر33 ، پوسٹ نمبر40 اور پوسٹ نمبر41 میں بیان مغالطوں کی حقیقت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ان پوسٹ میں آپ نے جو اضافی دلائل ذکر کیے جن کی تحقیق ابھی تک پیش نہیں کی گئی۔ کا جواب لکھوں، اس سے پہلے جن مقامات پر ہم رفع الیدین کرتے ہیں۔ ان کےدلائل پیش کررہا ہوں۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کی ان تین پوسٹ کاجواب لکھا جائے گا۔


نوٹ:
بہت جلد آپ کی باقی تین پوسٹ کاجواب بھی سامنے آجائے گا۔ تب تک انتظار فرمائیں۔ شکریہ
مسٹر گڈ مسلم آپ نے جو دلائل پیش کئے ہیں ان میں آپ کے عمل کے مطابق دس جگہ رفع یدین کا اثبات نظر نہیں آرہا اور ناہی آپ نے نشان لگا کر یا ایک دو تین چار سے آگے گنتی کے ساتھ دکھایا ہے ۔
پہلی حدیث:
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَمَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا۔ (صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین فی التکبیرۃ الاولی مع الافتتاح سواء،)​
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیا کرتے تھے، اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی انہیں اسی طرح اٹھاتے تھے"​
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
دوسری حدیث:​
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا۔ (صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع و اذا رفع، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام)​
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھتے وقت تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ہاتھ اٹھائے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بھی (نماز میں) ایسا ہی کیا تھا"۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
تیسری حدیث:​
وَائِلِ بْنِ حُجْرٍأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَيَدَيْهِ۔ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب وضع یدہ الیمنٰی علی الیسرٰی بعد تکبیرۃ الاحرام)​
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، ۔ ۔ ۔ ۔پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے"۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
چوتھی حدیث:​
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ - يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِىَّ فِى عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالُوا فَلِمَ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلاَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً. قَالَ بَلَى. قَالُوا فَاعْرِضْ. قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِىَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِىَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلاَ يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلاَ يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ». ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِىَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ يَقُولُ « اللَّهُ أَكْبَرُ ». ثُمَّ يَهْوِى إِلَى الأَرْضِ فَيُجَافِى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِى رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ « اللَّهُ أَكْبَرُ ». وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِى رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَصْنَعُ فِى الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِىَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِى بَقِيَّةِ صَلاَتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِى فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ. قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّى -صلى الله عليه وسلم-.(سنن أبى داود)​
احمد بن حنبل، ابوعاصم، ضحاک بن مخلد، مسدد، یحی، احمد، عبدالحمید، ابن جعفر، محمد بن عمر بن عطاء، حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے جن میں ابوقتادہ بھی تھے ابوحمید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم میں سے سب سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں صحابہ نے کہا وہ کیسے؟ بخدا تم ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی تم ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے ابوحمید نے کہا ہاں یہ درست ہے صحابہ نے کہا اچھا تو پھر بیان کرو ابوحمید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنے مقام پر آجاتی اس کے بعد قرات شروع فرماتے پھر (رکوع) کی تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے اور رکوع میں دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور پشت سیدھی رکھتے سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ اونچا رکھتے۔ پھر سر اٹھاتے اور ۔سَمِعَ اللہ لِمَن حَمِدَہ کہتے۔ پھر سیدھے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے (سجدہ کرتے) اور (سجدہ میں) دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے پھر (سجدہ سے) سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اور سجدہ کے وقت پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھتے پھر (دوسرا) سجدہ کرتے اور اللہ اکبر کہہ کر پھر سجدہ سے سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر آجاتی (پھر کھڑے ہوتے) اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دو رکعتوں سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور مونڈھوں تک دونوں ہاتھ اٹھاتے جس طرح کہ نماز کے شروع میں ہاتھ اٹھائے تھے اور تکبیر کہی تھی پھر باقی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ جب آخری سجدہ سے فارغ ہوتے یعنی جس کے بعد سلام ہوتا ہے تو بایاں پاؤں نکالتے اور بائیں کولھے پر بیٹھتے (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کہا تم نے سچ کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
4۔ دوسری رکعت پڑھ کر تیسری رکعت کےلیے جب اٹھے تو رفع الیدین کی
پانچویں حدیث:​
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنْ الرُّكُوعِ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من ذکر انہ یرفع یدیہ اذا قام من الثنتین، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 744)​
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے، اور جب قراءت سے فارغ ہو کر رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تب اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے تھے"​
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
چھٹی حدیث:​
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ۔ (سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 866)​
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نمازشروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے"۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
ساتویں حدیث:​
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ۔ (سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 868)​
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے"۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
آٹھویں حدیث:​
عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ قَالَ هَلْ أُرِيكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَبَّرَوَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ لِلرُّكُوعِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَاصْنَعُوا وَلاَ يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.(سنن الدار قطنی کتاب الصلاۃ باب ذکر التکبیر و رفع الیدین عند الافتتاح و الرکوع، اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 609)​
ابو موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ نے (ایک دن) کہا "کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز (جیسی نماز پڑھ کر) نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھائے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور ہاتھ اٹھائے۔ پھر کہنے لگے "تم بھی اسی طرح کیا کرو"۔ اور دو سجدوں کےد رمیان انہوں نے ہاتھ نہیں اٹھائے تھے"۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
نویں حدیث:​
عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال :صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی جلد 2 ص 73۔ اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 610)​
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتےتھے"​
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
دسویں حدیث:​
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا قَامَ فِى الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ » . وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِى السُّجُودِ . ( صحيح البخارى)​
محمد بن مقاتل، عبداللہ بن مبارک، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے یہی (اس وقت بھی) کرتے اور یہی جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اس وقت بھی کرتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے (لیکن) سجدہ میں آپ یہ عمل نہ کرتے تھے۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
گیارہویں حدیث:​
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِىَ مَنْكِبَيْهِ وَقَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ وَلاَ يَرْفَعُهُمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.( صحيح مسلم)​
یحیی بن یحیی تیمیی، سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری سالم، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرنے سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند نہ کرتے تھے دونوں سجدوں کے درمیان۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
بارہویں حدیث:​
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِىُّ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِى السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِى كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِىَ صَلاَتُهُ.(سنن أبى داود)​
محمد بن مصفی، سالم، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے پھر ہاتھ اٹھاتے ہوئے رکوع کی تکبیر کہتے اس کے بعد رکوع کرتے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک اٹھاتے اور سَمِعَ اللہ لِمَن حَمِدَہ۔ کہتے مگر سجدوں میں ہاتھ نہیں اٹھاتے بلکہ ہر رکعت میں رکوع میں جانے کے لیے جب تکبیر کہتے تب دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پوری ہو جاتی۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
تیرہویں حدیث:​
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ.۔(سنن النَسائي)​
محمد بن عبدالاعلی، خالد، شعبہ، قتادہ، نصر بن عاصم، مالک بن الحویرث سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت تکبیر پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت رکوع فرماتے تو دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے تھے۔ اس طریقہ سے جس وقت رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح کرتے۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
چودہویں حدیث:​
حدثنا الحسن بن علي الخلال حدثنا سليمان بن داود الهاشمي حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن موسى بن عقبة عن عبد الله بن الفضل عن عبد الرحمن الأعرج عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا قام إلى الصلاة المكتوبة رفع يديه حذو منكبيه ويصنع ذلك أيضا إذا قضى قراءته وأراد أن يركع ويصنعها إذا رفع رأسه من الركوع ولا يرفع يديه في شيء من صلاته وهو قاعد وإذا قام من سجدتين رفع يديه كذلك۔ (سنن الترمذي)​
حسن بن علی خلال، سلیمان بن داؤد ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبداللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبید اللہ بن ابی رافع، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے قرات کے اختتام پر رکوع میں جاتے وقت بھی ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی دونوں ہاتھوں کو شانوں تک اٹھاتے لیکن آپ تشہد اور سجدوں کے دوران ہاتھ نہ اٹھاتے (یعنی رفع یدین نہ کرتے) پھر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے ۔
1۔ نماز شروع کرتے ہوئے رفع الیدین
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین
4۔ دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے
پہلی بات:
ان تمام احادیث میں سے آپ خود بھی دس جگہ رفع یدین نہیں دیکھ سکتے مجھے کیا دکھاسکتے ہیں آپ ؟ مسٹرگڈ مسلم ایک بات ہے کہ آپ نے یہاں دو جمع دو چار نہیں کیا ۔ شاید اسلئے کہ جن احادیث میں تیسری رکعت کی رفع یدین کا زکر نہیں وہاں آپ کو گنتی کرنے کے لئے بھی رفع یدین نظر نہیں آئی ۔(مسکراتے ہوئے) رفع یدین ہو تو گنتی کریں ناں۔یعنی آپ اتنا زیادہ ٹینس ہوگئے ہیں کہ جو روایات آپ کی دلیل ہیں ہی نہیں (آپ کے عمل کے مطابق) آپ انہیں اپنی دلیل کہہ رہے ہیں ۔
افسوس مسٹر گڈ مسلم آپ دس جگہ رفع یدین کا اثبات ابھی تک نہیں دکھا سکے ۔ اور اب تو آپ نے دو جمع دو چار کر کے دکھانا بھی گوارہ نہیں کیا ۔ اچھی بات ہے آئندہ دو جمع دو چار کرنا بھی نہیں کیونکہ وہ آپ کا قیاس ہے وہ بھی بے دلیل ۔ اسلئے اب دو جمع دو چار کبھی بھی کہیں بھی کسی کے سامنے بھی بلکل نہیں کرنا ۔ نہ لکھنا نا بولنا ۔
دوسری بات:
آپ سے درخواست ہے کہ ایسی دلیل پیش کریں صرف ایک ہی ہو بے شک ، جس میں آپ کے دس جگہ کے عمل کا اثبات صراحت کے ساتھ موجود ہو ۔ اور آپ کو زحمت ہی نہیں کرنا پڑے دو جمع دو چار کرنے کی ۔
امید ہے سمجھ گئے ہوں گے آپ؟
اور الحمد للہ ہم اہل سنت والجماعت اپنی نماز کے عمل کے عین مطابق دلیل رکھتے ہیں یعنی چار رکعت نماز کے صرف شروع میں رفع الیدین کرتے ہیں باقی کسی جگہ نہیں کرتے۔الحمدللہ
حدثنا هناد حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة قال وفي الباب عن البراء بن عازب قال أبو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة
سنن الترمذي، كتاب الصلاة، باب ما جاء أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع إلا في أول مرة
شکریہ
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
گڈ مسلم کی پوسٹ نمبر 54 کا جواب


قارئین سہج صاحب کی پوسٹ نمبر33 میری پوسٹ نمبر28 کا جواب ہے۔اس پوسٹ میں سہج صاحب نے کیا گل کھلائے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
جی جی دیکھتے ہیں مسٹر گڈ مسلم کون کون سے گل دکھاتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ دس جگہ رفع الیدین کا اثبات یہاں بھی نہیں دکھا سکے ہوں گے
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]محترم جناب آپ سے اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ اس پر آپ سے پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ جو رفع آپ کرتے ہیں بادلیل اس کو[/FONT] فرض، واجب، مستحب، مباح وغیرہ ثابت کردیں کہ اس دلیل کی روشنی سے پہلی رفع کی یہ حیثیت ہے۔ جو آپ کا جواب ہوگا وہی میرا جواب ہوگا۔ اس لیے پہلے لکھا تھا کہ فما کان جوابکم فہو جوابنا امید ہے اب غور کرنے کی تھوڑی سے تکلیف برداشت کی جائے گی۔ اور اس بات کی بھی تکلیف برداشت کی جائے گی کہ جو رفع کی جاتی ہے اس کا مقام کیا ہے ؟۔۔بادلیل صحیح صریح۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
مسٹر گڈ مسلم اسے کہتے ہیں سوال چنا اور جواب گنا ۔
مسٹر سے پوچھا تھا
١-رفع الیدین آپ کے ہاں سنت ہے یا حدیث؟
اگر سنت ہے تو دلیل پیش کردیں اور اگر حدیث ہے تو بھی دلیل پیش کریں اور ہماری جانب سے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ آپ کی دو دلیلیں ہیں یعنی قرآن اور حدیث۔ اسلئے امتیوں کے اقوال بلکل پیش نہیں کرنے۔
اس سوال میں موضوع والی رفع یدین کی طرف اشارہ ہے اور مسٹر گڈ مسلم چکر چلارہے ہیں نماز کے شروع کی رفع یدین پر ۔ کہ انہیں میں شروع نماز کی رفع یدین کیٓے فرض واجب یا سنت ہونے کی دلیل دوں ؟
مسٹر گڈ مسلم ویسے بھی اس سوال کے جواب کی باری بعد میں آئے گی پہلے آپ دس جگہ کا اثبات دکھائیے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جی الحمدللہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر خاص کرم ہے کہ اس ذات نے ہمیں کسی اور کے دَر جھکنے نہیں دیا۔ اور پھر میں حیران ہوں کہ ایک تقلید کے داعی کو تقلید کیا ہے؟ کا سرے سے پتہ ہی نہیں۔ امید ہے اس بارے جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ کیونکہ اگرآپ کو پتہ ہوتا تو پھر تقلید کا لفظ بول کر اپنی طرف نسبت نہ کرتے۔ کہ گڈمسلم سہج صاحب کی تقلید کرنے کو تیار ہے۔
اگر آپ اپنی دلیلوں پر "الحمدللہ" کہتے ہیں تو انہیں پیش کرتے جان کیوں نکلتی ہے ؟ پیش کیجئے دلیل دس جگہ رفع یدین کرنے کی بغیر دو جمع دو چار کئے ۔ ورنہ مان لیجئے کہ آپ قیاس کو تیسری دلیل مانتے ہو
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]جب آپ کہیں گے۔ میرا جواب بھی اس کے بعد آجائے گا۔۔ ہاں ایک بات یاد رکھنا کہ قیاس بھی کسی شرعی دلیل پر ہوتا ہے۔ کسی اغیرہ وغیرہ کے قیل وقال پر نہیں۔[/FONT]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ٹھیک ھے جب میں بتاؤ گا پھر آپ بھی بتادینا ابھی فلحال موضوع کے مطابق دس جگہ رفع الیدین کے اثبات کی دلیل دکھانے کی جان توڑ کوشش کیجئے
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930[/FONT]]کیا یہ آپ کا الزام ہے۔؟ لیکن سہج صاحب میری عادت کسی پر الزام لگانے کی نہیں۔حقیقت جاننے کےلیے اس تھریڈ کا مطالعہ کریں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
باقی آپ کا پیش کردہ اثر کس حقیقت پر مبنی تھا۔؟؟ اس کی تحقیق پہلے پیش کرچکا ہوں۔ اُس پوسٹ کو ملاحظہ فرمالیں۔
مسٹر گڈ مسلم آپ صحابہ کے عمل کو حجت نہیں مانتے اس کا اک اور ثبوت دیکھئیے
پھر آپ نے صحابی کا عمل پیش کردیا ؟ کیا آپ کے پاس نبی کریم کا عمل نہیں ہے ؟
پوسٹ نمبر تئیس
یعنی آپ صحابی کے عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سمجھتے ہو ۔ اور اگر نہیں سمجھتے تو بتاؤ ایچ ون دباکر ۔اور دوسرے تھریڈوں کا حوالہ دینے کی زحمت کرنے کی بجائے اگر بتادو کہ آپ مسٹر گڈ مسلم قول و عمل صحابی کو حجت مانتے ہو تو پھر کوئی بات تھی یہ کیا بات ہوئی کہ فلاں تھریڈ میں دیکھو اور فلاں تھریڈ میں دیکھو ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930[/FONT]] میرا امام صرف ایک ہے۔ اس کے احکامات کی موجودگی میں کسی اور کے آگے متھا ٹیکوں، میرا ضمیر برداشت نہیں کرتا۔ہاں جو تقلیدی کرتے ہیں کیا ان کا ضمیر بھی ان کو ملامت کرتا ہے ؟ یہ ان سے پوچھا جاسکتا ہے۔ شاید آپ بھی بتا سکیں کیونکہ آپ بھی مقلد ہیں ایک امتی کے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ہاں ضرور پوچھنا اپنے فرقے کے علامہ حضرات سے جو اقراری تقلیدی تھے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ۔کہ ان کا ضمیر انہیں ملامت کیوں نہیں کرتا تھا ؟ ویسے آپ نے اپنے امام کا نام نہیں لکھا جس کے آگے آپ اپنا ماتھا ٹیکتے ہو ؟ نام بھی بتاؤ کہ کون سے امام صاحب ہیں جن کے آگے ہی آپ اپنا ماتھا ٹیکتے ہو اور کون سے دوسرے امام ہیں جن کے آگے ماتھا ٹیکنا آپ کا ضمیر گوارہ نہیں کرتا ۔؟
اور الحمدللہ ہم اہل سنت والجماعت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ہیں اسمیں کوئی شرم محصوص نہیں کرتے اور ناہی ضمیر ملامت کرتا ہے کیونکہ تقلید کرنے کا حکم قرآن و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور صحابہ کرام بھی مجتہد صحابہ کی تقلید شخصی کرتے تھے ۔ بحرحال یہاں یہ موضوع نہیں کہ میں تفصیل میں جاؤں ،یہاں جو موضوع ھے اسکے مطابق اگر آپ دس جگہ رفع الیدین کا اثبات دکھاتے تو کوئی بات تھی یہ کیا کہ آپ اپنے امام صاحب کے سامنے ماتھا ٹیکنے کا اقرار کر رہے ہیں ۔ ہم اہل سنت والجماعت حنفی مالکی شافعی حنبلی تو اللہ کے سوا کسی نبی کے سامنے بھی ماتھا نہیں ٹیکتے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]جی وہ تو مجھے معلوم ہی ہے کہ مخاطب جاہل ہی ہے۔[/FONT]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اجمع الناس علي ان المقلد ليس معدوداً من اهل العلم وان العلم معرفة الحق بدليله
‘‘(جامع بيان العلم ج2 ص115)
تمام لوگوں کا اجماع ہے کہ مقلد عالم نہیں ہوتا ( یعنی جاہل ہوتا ہے) کیونکہ علم حق کو دلیل سے جاننے کا نام ہے۔
یہ تو شکر ہے کہ آپ نے خود ہی اپنی جہالت کااقرار کرلیا ویسے آپ کے مقلد ہونے کے ناطے اس بات سے پہلے بھی میں آگاہ تھا۔ کہ آپ جاہل ہی ہیں۔۔ شکریہ آپ کے بتانے کا۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔ آپ نے ماننی کوئی بات ہی نہیں اس لیے ٹائم کے ضیاع کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا لیکن سنت کا دفاع کرنے کی غرض سے بحث کو بیچ میں چھوڑوں یہ بھی برداشت نہیں۔ اس لیے اس غرض سے کہ شاید آپ کو یا باقی مقلدین کو جو اس رفع الیدین کی سنت پر عمل کرنے سے محروم ہیں سمجھ آجائے لکھنا مناسب سمجھتا ہوں۔
سب سے پہلے تو آپ کو اپنے تمام فرقہ جماعت اہل حدیث سے معافی مانگنی چاھئے کہ آپ نے مجھ اقراری جاھل کو ان علمی اور علماء کے لئے خصوصا استعمال ہونے والے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا ۔
سن لیا مولانا سہج صاحب
مولانا صاحب

مولانا سہج صاحب
محترم المقام عزت مآب سہج صاحب دامت برکاتہم العالیہ
مولانا سہج صاحب
باقی رہی یہ بات کہ آپ نے ماننی کوئی بات ہی نہیں اس لیے ٹائم کے ضیاع کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ صرف قرآن اور حدیث کے ماننے والے مسٹر گڈ مسلم کو زیب نہیں دیتا کہ ایسا اعلانیہ جھوٹ لکھیں ۔ جناب کا طریقہ کار یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح روایات کو جھوٹ قرار دیتے ہیں مردود کہتے ہیں صرف کسی امتی کے آگے ماتھا ٹیک کر کہ اس امتی نے کہہ دیا کہ یہ روایت مردود ہے ۔ اور بھولئے نہیں مسٹر گڈ مسلم میں نے آپ کی پیش کردہ دلیل کو صحیح مانا ہے اور بلکل بھی انکار نہیں کیا ۔ الحمدللہ

یہ الگ بات ہے کہ مزکورہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے آپ کا عمل رفع الیدین دس جگہ کرنے کا ثابت نہیں ہوتا ۔ لیکن الحمد للہ میں نے روایت کو ناہی جھوٹ کہا اور ناہی مردود
۔ جبکہ آپ خود اپنی پچھلی پوسٹوں میں جھانک لو ، میری پیش کردہ ہر روایت کو آپ نے مردود ہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ بھی امتیوں کے اک طبقہ کی رائے کے آگے ماتھا ٹیک کر ۔ فرق صاف ظاھر ہے کہ مسٹر گڈ مسلم فرقہ جماعت اہل حدیث کا نعرہ لگاتے ہوئے صرف قرآن اور حدیث پر عامل ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں اور ماتھا ٹیکتے ہیں صرف امتیوں کی رائے کے آگے وہ بھی روایات کو مردود کہتے ہوئے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
1۔ دلیل پیش کرنے سے نہ کبھی ڈرا اور نہ کبھی ڈرایا جاسکتا ہے۔ الحمد للہ اپنے عمل پر دلیل بھی ایسی پیش کی کہ آپ کو تسلیم کرنا پڑا کہ میں اس دلیل کا انکاری نہیں۔ لیکن آپ نے اپنے مؤقف پر جو دلائل دیئے ان کے بارے میں تحقیق پہلے پیش کرچکا ہوں۔ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہو تو ماقبل پوسٹ پر نظر گھما لینا۔
2۔دس جگہ کرنے کا اثبات اور اٹھارہ جگہ نفی گنتی کے ساتھ یہ جملے نہ تو میرے ہیں اور نہ عین ان جملوں پر دلیل دینا میرا فرض ہے۔ میرے الفاظ نہ ہونے کے باوجودبھی آپ کے اس مطالبے کو پورا بھی کردیا گیا ہے۔ الحمدللہ۔ لیکن آپ ہیں جان کر بھی انجان بنے جارہے ہیں۔ ویسے میرے خیال میں بچے تو نہیں ہونگے آپ؟
3۔ آپ جب پہلی رفع کا حکم ماخذ شریعت سے ثابت کردیں گے تو وہی حکم باقی رفعوں کےلیے میرا بھی سمجھ لینا۔
1-ماشاء اللہ مسٹر گڈ مسلم کتنی دلیلیں پیش فرمائی ہیں ابھی تک جس میں دس جگہ کا اثبات صراحت سے دکھایا ہے آپ نے ؟ ایک بھی نہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی جو دلیل آپ نے پیش کی تھی اسے میں ویسے ہی صحیح مانتا ہوں جیسے رفع الیدین شروع نماز میں کرنے والی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ،ہاں عمل ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث پر کرتا ہوں کیونکہ ہمارے امام صاحب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا فیصلہ اسی عمل پر ہے ۔ آپ سے درخواست کرچکا پچھلی پوسٹوں میں کہ اگر آپ صرف حدیث و قرآن کو ہی دلیل مانتے ہیں تو پھر فیصلہ بھی قرآن یا حدیث کا دکھائیے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یا قرآن کا ۔اور جو تحقیق پیش پوش کی ہے جناب نے اس کے جواب میں اس جاھل نے بھی کچھ پیش پوش کیا ہے اس پر بھی نظر رکھئیے گا ۔
2-آپ کے الفاظ ہیں یا نہیں اور میں بچہ ہوں یا بڑا ، لیکن آپ دوجمع دو چار تو کرتے رہے ہیں ناں ؟ وہ کس بات کو ثابت فرمانے کے لئے تھا ؟ رفع الیدین ثابت فرمارہے تھے آپ مسٹر گڈ مسلم صاحب۔یہ الگ بات ہے کہ کامیاب پھر بھی نہیں ہوئے دس جگہ رفع یدین کا اثبات دکھانے میں۔
3-ماشاء اللہ ، کیا خوب سوال و جواب ہے جناب کا عین موضوع کے مطابق !! شرم تو ناجانے کس چیز کا نام ہے وہ تو پاس سے بھی نہیں گزری شاید کبھی ؟ مسٹر گڈ مسلم شروع نماز کی رفع یدین موضوع نہیں کہ آپ اسکی حیثیت سے اختلافی رفع یدین کا حکم ثابت کریں ۔ شروع نماز کی رفع یدین اختلافی نہیں اس بات کا آپ کو انکار بھی نہیں ہوگا اور شروع نماز کی رفع یدین کے بعد والی اختلافی ہیں ، اس سے بھی آپ کو اختلاف نہیں ہوگا ۔ اب میں نے جو سوال کی تھا کہ دس جگہ کا اثبات دکھاؤ تو مسٹر گڈ مسلم یہ آپ پر احسان کیا تھا ورنہ مجھے مطالبہ کرنا چاھئے تھا کہ شروع نماز کے بعد نو جگہ کا اثبات دکھاؤ، اور آپ نے ٹکریں ہی مارتے رہ جانا تھا اور نو جگہ کا اثبات دکھانا خواب ہی رہ جاتا ۔ اب اگر آپ کوئی روایت پیش کرتے ہیں جس میں شروع نماز کی رفع یدین کا بھی زکر ہے تو یہ تو آپ کے لئے آسانی ہوئی نا کہ آپ اسے ہی پیش کرنا شروع کردیں کہ شروع نماز کی رفع یدین سے ہی سمجھ لو۔جبکہ آپ کے مزھب کے بڑے بڑے علامہ حضرات اختلافی رفع الیدین کو واجب اور سنت غیر متروکہ قرار دے چکے ہیں اسکے باوجود آپ اپنے عمل کی رفع الیدین کا حکم بتانے سے ڈر رہے ہیں ۔ بھئی واجب کہیں یا سنت آپ اس سے پہلے دس جگہ رفع یدین کرنے کا اثبات دکھائیں پھر چلیں گے سنت واجب یا غیر متروکہ کی جانب ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
محترم جناب سہج صاحب دامت برکاتہم العالیہ الحمد للہ جو عمل باسند صحیح نبی کریم سے ثابت ہے۔ جس بھی حالات میں۔ جب اس کے کرنے کا ٹائم آتا ہے یا وہ عمل جس وقت کرنا ہوتا ہے۔ یا جس وقت کرنے کا حکم ہوتا ہے میں کرتا ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ کا مجھ پر احسان ہے کہ اس نے اپنے نبی کی زندگی کے اعمال کو مجھے کرنے کی توفیق سے نوازا ہوا ہے۔
آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب والی حدیث کی بابت کہا کہ آپ کا عمل اصح الکتب میں آیا ہے تو کیا گڈمسلم آپ کھڑے ہوکر پیشاب ہمیشہ کرتے ہیں؟ محترم جناب آپ کی اس ہائی لائٹ قول سے کئی باتیں سامنے آرہی ہیں
1۔ نبی کریم نے ہمیشہ کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا۔
2۔ آپ نے اس عمل کو ہمیشہ کرنے کا حکم بھی نہیں دیا۔
3۔ جب یہ حدیث اصح الکتب میں ہے تو گمان غالب ہے کہ آپ اس حدیث کو مانتے بھی ہونگے۔؟ مانتے ہیں یا نہیں ؟
اب آپ مجھے انصاف سے بتائیں کہ ایک عمل نہ نبی کریم نے خود ہمیشہ کیا ہے؟ نہ آپ نے اس عمل کو ہمیشہ کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ گڈمسلم سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ گڈمسلم اس عمل کو ہمیشہ کرے؟
اچھا بات مختصر کرتے ہیں کہ آپ یہ بتادیں کہ آپ اس حدیث کو مانتے ہیں؟؟ اگر ہاں تو پھر مکمل حدیث اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کردینا۔ اور وضاحت میں یہ بھی پیش پوش کردینا کہ نبی کریم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ہے تو کیوں اور کن اسباب کی وجہ سے؟ اور پھر ساتھ اس بات کا بھی اضافہ کردینا کہ اگر وہی اسباب ہمیں لاحق ہوجائیں تو کیا ہم اس حدیث پر عمل کرسکتے ہیں ؟ جواب کا انتظار رہے گا۔
چلو کچھ ہیلپ آپ کی میں ہی کیے دیتا ہوں۔
رد المختار میں ہے:​
قَالَ الْعُلَمَاءُ يُكْرَهُ إلَّا لِعُذْرٍ، وَهِيَ كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ لَا تَحْرِيمٍ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 344)
"علماء کا کہنا ہے کہ عذر کے بغیر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے اور یہ کراہت تحریمی نہیں تنزیہی ہے"​
1۔ عذر کے بغیر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔
2۔ اگر کوئی عذر کے بغیر کھڑے ہوکر پیشاب کرلے تو حرام نہیں۔
3۔ اگر عذر ہو تو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا کیسا ہے؟ اس جگہ خاموشی ی ی ی ہے؟
جناب ہائی لائٹ الفاظ کو غور سے پڑھ لینا۔ مزید مکروہ تنزیہی کی تعریف احناف کے ہاں یوں کی جاتی ہے:​
مَا كَانَ تَرْكُهُ أَوْلَى مِنْ فِعْلِهِ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 131)
"جسے چھوڑنا اسے کرنے سے اولیٰ ہو"​
اولیٰ خلاف اولیٰ کی بات ہے محترم۔ اور یہاں آپ کی ہی کتب بغیر عذر کا کہہ رہی ہیں۔ کہ بغیر عذر کے اگر کوئی کھڑے ہوکر پیشاب کرتا ہے تو پھر خلاف اولیٰ ہے۔ یہ عمل فاعل کےلیے حرام نہیں اور آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ شاید خلاف اولیٰ عمل پر گناہ بھی نہیں ہوتا۔

لیکن آپ کے حنفی اپنے ہی علماء کی فقاہت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو صغیرہ گناہ میں شامل کرتے ہیں۔۔
کیا بات ہے۔ماشاء اللہ
یہ باتیں موضوع سے تو خارج ہیں لیکن آپ نے بات کردی اس لیے نمونہ کے طور پر پیش کردیا ہے۔۔۔ ہماری اصل بحث رفع الیدین پر ہے اس لیے گزارش ہے کہ زیر بحث مسئلہ پر ہی گفتگو کریں۔ ادھر ادھر کی اختلافی ابحاث کا تذکرہ درست نہیں۔۔گریز کیجیے گا۔ شکریہ
محترم جناب سہج صاحب دامت برکاتہم العالیہ الحمد للہ جو عمل باسند صحیح نبی کریم سے ثابت ہے۔ جس بھی حالات میں۔ جب اس کے کرنے کا ٹائم آتا ہے یا وہ عمل جس وقت کرنا ہوتا ہے۔ یا جس وقت کرنے کا حکم ہوتا ہے میں کرتا ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ کا مجھ پر احسان ہے کہ اس نے اپنے نبی کی زندگی کے اعمال کو مجھے کرنے کی توفیق سے نوازا ہوا ہے۔
جس بھی حالات میں۔ جب اس کے کرنے کا ٹائم آتا ہے یا وہ عمل جس وقت کرنا ہوتا ہے۔ یا جس وقت کرنے کا حکم ہوتا ہے آپ یہ اپنی دونوں دلیلوں سے ثابت کرسکتے ہیں کہ کب کڑے ہوکر پیشاب کرنا ہے اور کب نہیں کرنا ؟ جیسے رفع یدین آپ جہاں جہاں کرتے ہیں وہاں وہاں آپ کس دلیل سے کرتے ہیں ہمیشہ ؟ جیسے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی روایت میں ہمیشہ کا زکر نہیں ویسے ہی آپ کے عمل یعنی اختلافی رفع یدین کرنے کا بھی ہمیشہ زکر نہیں ۔ پھر یہ فرق کیسا ؟ کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا الگ قسم کی سنت جسے کبھی کرنا ہے اور رفع یدین الگ قسم کی سنت جسے کرنا ہمیشہ ضروری ؟ ماشاء اللہ آپ پر احسان ہوا ہوا ہے کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اعمال پر عمل کرنے کی توفیق سے سرفراز ہیں تو پھر یہ درجہ بندی کیسی ؟ امید ہے دلیل سے جواب دیں گے زاتی خیالات سے نہیں۔
آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب والی حدیث کی بابت کہا کہ آپ کا عمل اصح الکتب میں آیا ہے تو کیا گڈمسلم آپ کھڑے ہوکر پیشاب ہمیشہ کرتے ہیں؟ محترم جناب آپ کی اس ہائی لائٹ قول سے کئی باتیں سامنے آرہی ہیں
جس کتاب کو آپ اصح الکتب بعد کتاب اللہ مانتے ہیں اس میں بیٹھ کر پیشاب کرنے کی حدیث نہیں ھے نا ہی یہ ہے کہ کس عزر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ۔
1۔ نبی کریم نے ہمیشہ کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا۔
2۔ آپ نے اس عمل کو ہمیشہ کرنے کا حکم بھی نہیں دیا۔
3۔ جب یہ حدیث اصح الکتب میں ہے تو گمان غالب ہے کہ آپ اس حدیث کو مانتے بھی ہونگے۔؟ مانتے ہیں یا نہیں ؟
اب آپ مجھے انصاف سے بتائیں کہ ایک عمل نہ نبی کریم نے خود ہمیشہ کیا ہے؟ نہ آپ نے اس عمل کو ہمیشہ کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ گڈمسلم سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ گڈمسلم اس عمل کو ہمیشہ کرے؟
اچھا بات مختصر کرتے ہیں کہ آپ یہ بتادیں کہ آپ اس حدیث کو مانتے ہیں؟؟ اگر ہاں تو پھر مکمل حدیث اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کردینا۔ اور وضاحت میں یہ بھی پیش پوش کردینا کہ نبی کریم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ہے تو کیوں اور کن اسباب کی وجہ سے؟ اور پھر ساتھ اس بات کا بھی اضافہ کردینا کہ اگر وہی اسباب ہمیں لاحق ہوجائیں تو کیا ہم اس حدیث پر عمل کرسکتے ہیں ؟ جواب کا انتظار رہے گا۔
1-اس بات پر کوئی دلیل کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا ؟
2-کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا حکم بھی نہیں دیا اس پر بھی کوئی دلیل ہوجائے۔؟
3-جی جی مانتے ہیں مانتے کیوں نہیں ،لیکن عمل بیٹھ کر پیشاب کرنے کی حدیث پر ہی کرتے ہیں الحمدللہ اس روایت کے مطابق
عن عائشہ قالت من حدثک ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بال قائمًا فلا تصدقہ انا رایئتہ یبول قاعدًا
سنن ابن ماجہ
اور اب موضوع پر آتے ہیں اسی مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کا کہنا ہے کہ گڈ مسلم کیسے ہمیشہ کھڑے ہوکر پیشاب کرے گا ؟ کیوں یہی کہا ہے ناں آپ نے ؟
صحیح بخاری میں ہے
نبی ایک قبیلے کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر گئے تو وہاں کھڑے ہوکر پیشاب کیا
اور سنن ابن ماجہ میں ہے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں " میں نے یہی دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے"​
دونوں طرح کی روایات موجود ہیں جس میں آپ لوگ یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی عزر ہو تو کھڑے ہوکر پیشاب کی سنت پر عمل کرلیں اور عزر نہ ہوتو پھر بیٹھ کر پیشاب کرنے کی سنت پر عمل کرلیں۔ فرق کیا ناں مسٹر گڈ مسلم ؟ اور یہی آپ حضرات یا آپ کے علماء غیر مقلدین کی رائے ہے ، جسے آپ مانتے ہی نہیں ہمیشہ عمل کرتے ہیں ۔ جبکہ اس مسئلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ موجود نہیں ۔ اگر ہے تو پیش کریں ۔
بلکل اسی طرح رفع الیدین کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کرنا آپ کے ذمہ ہے کیونکہ آپ اسے ہمیشہ کرتے ہیں اور کبھی نہیں چھوڑتے اور جہاں چھوڑتے ہیں وہاں کے بارے میں بھی آپ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کرنے سے قاصر ہیں اور الحمدللہ میں نے جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کی روایت سے اسکنوا فی الصلاۃ یعنی نماز میں سکون اختیار کرنے اور رفع الیدین نماز میں نہ کرنا ثابت کیا ہے اور آپ اسی روایت کو سلام سے متعلق کہہ کر رد کرچکے ۔ کس کے فیصلہ سے ؟ امتیوں کے مسٹر گڈ مسلم امتیوں کے فیصلہ پر ماتھا ٹیکا ہے آپ نے ۔ اگر اس بات سے انکاری ہیں تو پھر پیش کریں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ۔ کیونکہ آپ ہمیشہ رفع الیدین کرتے ہیں
چلو کچھ ہیلپ آپ کی میں ہی کیے دیتا ہوں۔
رد المختار میں ہے:​
قَالَ الْعُلَمَاءُ يُكْرَهُ إلَّا لِعُذْرٍ، وَهِيَ كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ لَا تَحْرِيمٍ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 344)
"علماء کا کہنا ہے کہ عذر کے بغیر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے اور یہ کراہت تحریمی نہیں تنزیہی ہے"​
1۔ عذر کے بغیر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔
2۔ اگر کوئی عذر کے بغیر کھڑے ہوکر پیشاب کرلے تو حرام نہیں۔
3۔ اگر عذر ہو تو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا کیسا ہے؟ اس جگہ خاموشی ی ی ی ہے؟
جناب ہائی لائٹ الفاظ کو غور سے پڑھ لینا۔ مزید مکروہ تنزیہی کی تعریف احناف کے ہاں یوں کی جاتی ہے:
مَا كَانَ تَرْكُهُ أَوْلَى مِنْ فِعْلِهِ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 131)
"جسے چھوڑنا اسے کرنے سے اولیٰ ہو"​
اولیٰ خلاف اولیٰ کی بات ہے محترم۔ اور یہاں آپ کی ہی کتب بغیر عذر کا کہہ رہی ہیں۔ کہ بغیر عذر کے اگر کوئی کھڑے ہوکر پیشاب کرتا ہے تو پھر خلاف اولیٰ ہے۔ یہ عمل فاعل کےلیے حرام نہیں اور آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ شاید خلاف اولیٰ عمل پر گناہ بھی نہیں ہوتا۔
لیکن آپ کے حنفی اپنے ہی علماء کی فقاہت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو صغیرہ گناہ میں شامل کرتے ہیں۔۔ کیا بات ہے۔ماشاء اللہ
یہ باتیں موضوع سے تو خارج ہیں لیکن آپ نے بات کردی اس لیے نمونہ کے طور پر پیش کردیا ہے۔۔۔ ہماری اصل بحث رفع الیدین پر ہے اس لیے گزارش ہے کہ زیر بحث مسئلہ پر ہی گفتگو کریں۔ ادھر ادھر کی اختلافی ابحاث کا تذکرہ درست نہیں۔۔گریز کیجیے گا۔ شکریہ
مسٹر گڈ مسلم اوپر جوبھی اقوال پیش کئے وہ کس کے ہیں ؟ امتی کے یا نبی کے ؟ ظاہر ہے سب امتیوں کی اور وہ بھی مقلدوں کی باتیں ہیں ، دونوں قسم کی احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے بخاری کے حوالے سے بھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے بھی اور الحمدللہ ہم اہل سنت والجماعت کسی صحیح روایت کا انکار نہیں کرتے اسے مانتے ہیں لیکن عمل اس پر کرتے ہیں جس پر ہمارے مسلک کے علماء کا فتوٰی ہوتا ہے ۔ وہی صورت یہاں ہے ایک نے بخاری کی رو سے عزر پر جائز والی بات کی اور دوسرے نے ابن ماجہ وغیرہ والی روایت کی وجہ سے گناہ صغیرہ کہا ۔ یہ تو بہت موٹی سی وضاحت کی ہے تفصیل سے باقائدہ بات اسی موضوع والے تھریڈ میں ہوچکی ہے جہاں کھڑے ہوکر پیشاب کو سنت مانا گیا تھا آپ کے فرقہ جماعت اہل حدیث کی جانب سے۔
اور مسٹر گڈ مسلم آپ کے لئے بہتر یہی ھے کہ آپ اپنی توجہ صرف دس جگہ رفع یدین کے اثبات کی دلیل دینے پر رکھیں زیادہ ادھر ادھر جائیں گے تو پھنس جائیں گے خود اپنے ہی جال میں ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]اصح الکتب مَیں اکیلے نے نہیں بلکہ جمع غفیر نے کہا ہے۔ اور وہ بھی اخباری بیانات دینے والوں نے نہیں بلکہ علماء، فضلاء اور محدثین نے اس بات کا اقرار کیا ہے۔ اس بات پر یہ شور مچانا شور نہ کردینا کہ گڈمسلم اتنے سارے علماء کی تقلید کررہا ہے۔ تقلید کا دھبہ مجھ پر لگانے سے[/FONT] پہلے تقلید کیا ہے؟ جان لینا۔۔اگر پتہ ہے تو پھر اس تھریڈ میں آکر مجھے بھی بتانا۔ تاکہ آپ کا مجھ پہ مقلد ہونے کا الزام میں قبول کرسکوں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈ مسلم اصح الکتب کے بارے میں جم غفیر کا کہنا مانتے ہیں اور اہل کوفہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کو نہیں مانتے جنہوں نے صرف پہلی یعنی شروع نماز کی رفع یدین دیکھ کر نا ٹوکا ناہی تصیح فرمائی کہ ابن مسعود آپ نے غلط نماز پڑھی (معاذ اللہ) افسوس گڈ مسلم کی نظر میں غیر صحابی امتیوں کا جمغفیر تو اہمیت رکھتا ہے لیکن اتنا سمجھ میں آنا مشکل ہے کہ جہاں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھ کر دکھلائی وہاں صحابہ کا جم غفیر بھی موجود تھا ۔خود امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ کی یہ بات
وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعينترمذی
یہی قول ہے ایک سے زیادہ صحابہ و تابعین میں سے اہل علم کا
شاہد ہے کہ اہل علم بھی موجود تھے اور وہ اہل علم جو صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تابعین کرام بھی ، ان کے سامنے ابن مسعود نے نماز ادا کرکے دکھائی اور پہلے اعلان فرمایا ألا کہہ کر ۔ اور صحابہ و تابعین کی جماعت خاموش رہی صداقت کی مہر ثبت فرمائی اور آج کے غیر مقلد یعنی فرقہ جماعت اہل حدیث کے غیر اعلانیہ مقلدین اعتراض کرتے ہیں ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر اور ان سے ثابت روایات پر ۔ اور یہی اعتراض کرنے والے غیر صحابی اور غیر تابعین کے جم غفیر ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں بخاری کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہنے کو۔ کیا زبردست دلیل ہے جم غفیر ۔ مسٹڑ گڈ مسلم آپ کو ابن مسعود کی نماز دیکھنے والا جم غفیر کیوں نظر نہیں آتا ؟ یہاں بھی اپنا قیاس لڑائیے غیر اعلانیہ مقلد صاحب ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]کبھی کبھی آپ کے اخباری بیانات پڑھ کر ہنسی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اہل سنت والجماعت کے ساتھ حنفی کا اضافہ حیران کن دِکھ رہا ہے۔ کیا جامد حنفیوں دیوبندیوں کا شمار بھی اہل سنت میں ہوتا ہے؟ ٹائم ملا تو اس عنوان سے تھریڈ بنا کر آپ سے معلومات لی جائیں گی۔[/FONT]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
مسٹر گڈ مسلم جامد تو آپ کا فرقہ ہے ، تصیح فرمالیں کہ آپ صرف قرآن اور حدیث تک ہی دلیل کو محدود کرتے ہیں اور ہم
اہل سنت والجماعت حنفی
اہل سنت والجماعت مالکی
اہل سنت والجماعت حنبلی
اہل سنت والجماعت شافعی
جامد نہیں الحمدللہ، ماشاء اللہ ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے علماء کے لئے قرآن و سنت و آثار صحابہ سے ایسے اصول وضح کردئیے ہیں جن پر مسئلہ برکھنے کے بعد قیامت تک علماء حل ڈھونڈ سکتے ہیں ۔
اور آپ ؟ امتی کی رائے کے بغیر کیا کرسکتے ہیں ؟ کھڑے ہوکر پیشاب کرسکتے ہیں ، لیکن اسے بھی امتیوں کی مان کر عزر کی نظر کردیا ۔ نماز میں ہر ہر تکبیر اور اونچ نیچ پر رفع یدین کرنے کی حدیثوں کو چھوڑا تو کس کے کہنے پر ؟ امتیوں کے کہنے پر ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ آپ پیش کر ہی نہیں سکتے ۔اگر ہے تو پیش کریں میں ان شاء اللہ تعالٰی حلفیہ کہتا ہوں مان لوں گا اور اگلے سوال کا رخ کروں گا ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]جناب لکھنا کیا ہے۔ کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جو رفع آپ کرتے ہیں وہ[/FONT] فرض ہے؟ واجب ہے؟ مستحب ہے؟ مباح ہے؟ مکروہ ہے؟ ہنگامی حالات میں جائز اور غیر ہنگامی حالات میں ناجائز ہے؟ بادلیل ثابت کردیجیے۔ جو آپ پہلی رفع پر حکم لگائیں گے۔ وہی حکم میرا باقی رفعوں کے بارے میں بھی ہوگا۔۔ اس لیے جلدی کیجیے اور پہلی رفع کا حکم ومقام طے کیجیے وہ بھی بادلیل صحیح، صریح۔۔ اورہاں جب آپ مقام ومرتبہ بتا دیں گے تو تسلی وتشفی بھی تو کرونگا ناں کہ آپ نے کن دلائل سے کس طرح پہلی رفع کا مقام ثابت کیا ہے؟ یعنی ڈسکس
[FONT=Arial نے کہا ہے:
آپ پہلی رفع الیدین کو یعنی شروع نماز کی رفع کو اختلافی ثابت کردیں پھر مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں ویسے الحمدللہ امت میں شروع نماز کی رفع الیدین کا کوئی اختلاف نہیں اور ناہی کسی روایت میں اس کے خلاف ہے ۔اگر ہے تو پیش کردیں ۔اور شروع نماز کے بعد کی یعنی فی الصوٰۃ والی رفع الیدین کو تو آپ خود اختلافی مانتے ہیں ۔مانتے ہیں کہ نہیں ؟؟پھر اس پر پہلی کا حکم کیسے لگاسکتے ہیں ؟ جبکہ آپ ہی کے فرقہ جماعت اہل حدیث کے اکابرین محتلف قسم کے حکم لگاچکے ہیں اختلافی رفع یدین پر ۔ دیکھئے۔
ایک
جناب مسعود احمد غیر مقلد صاحب نے مستقل رسالہ لکھا ہے کہ رفع یدین فرض ہے (ھمارے نامور علماء علم کی کسوٹی پر رفع یدین فرض ہے۔ طبع کراچی)
دو
جناب رفیق پسروری صاحب لکھتے ہیں کہ رکوع میں جاتے وقت اور اٹھتے وقت رفع الیدین کا مسئلہ نماز کے ارکان سے تعلق رکھتا ہے۔
(فتاوٰی رفیقیہ حصہ چہارم صفحہ ایک سو پینتیس)​
(یعنی کہ راقم الحروف کے عقیدے کے مطابق تارک رفع یدین کی نماز ہی نہیں ہوتی۔ )
تین
جناب پروفیسر عبداللہ بہاولپوری صاحب لکھتے ہیں کہ رفع الیدین واجب ہے۔
چار
جناب صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ رفع یدین شروع کردیں کہ سنت موکدہ ہے۔(صلوٰۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ دوسوچھتیس)
پانچ
جناب علی زئی لکھتے ہیں کہ نماز میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں ہاتھوں کو کندھو یا کانوں تک اٹھانے کو رفع یدین کہتے ہیں۔ اہلحدیث اس رفع یدین کو سیدنا امام اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر منسوخہ وغیر متروکہ سنت کہتے ہیں۔(نورالعینین العلی زئی،صفحہ باون،طبع دوھزارچھ)
چھ
اور فتاوٰی علماء الحدیث جلد 3،صفحہ160،161 میں لکھا ہے
رفع یدین اور چھوڑنا دونوں ثابت ہیں۔“​
اب مسٹر گڈ مسلم بتائیں کہ مندرجہ بالا تمام اکابرین فرقہ جماعت اہل حدیث میں سے کون سچا ہے ؟ جو آپ کا جواب ہوگا اسے ہی لے لیں گے ۔ ان شاء اللہ
لگے ہاتھوں ایک اور فتوٰی بھی دیکھ لیں
فرض یا سنت کی وضاحت کسی حدیث میں نہیں آئی البتہ احادیث سے یہ چیز ضرور ثابت ہے کہ رسول اللہ نماز میں رفع الیدین کرتے تھے نیز رسول اللہ کا حکم «صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ»(صحیح بخاری جلد اول۔کتاب الاذان باب الاذان للمسافر)’’تم نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘
الحمد للہ ثمہ الحمدللہ
کئی قسم کے امتیوں کے فیصلے آپ کے سامنے پیش پوش کردئیے ہیں اب آپ ان میں سے جسے مرضی چن لیں
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]1۔ غور سے پڑھا ہوتا تو عمل بھی کرتے مولانا[/FONT]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
2۔ ابن عمر رض کا جو اثر آپ نے پیش کیا اس کو میرے پیش کردہ اثر سے موازنہ کرلیجیے اور دونوں پر تقلیدی علماء سے تحقیق بھی کروالیجیے کہ کون سا اثر سنداً ومتناً درست طور ثابت ہے۔ اور جو اثر آپ نے پیش کیا اسنادی اعتبار سے کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کو قبول کیا جائے؟ اس کی تحقیق پیش کرچکا ہوں۔ امید ہے فرق پڑے گا۔ ان شاءاللہ
3۔ واہ جی واہ گواہوں کی گواہی سمیت؟؟؟ کئی بار کہنے کے باوجود اپنے پیش اثر کی سند پیش نہیں کرسکے لیکن اب دعویٰ ہے کہ گواہوں کی گواہی سمیت۔۔
-غور سے پڑھ کر عمل کرنا شرط ہے تو دلیل پیش کردیجئے
-ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل آپ کی پیش کردہ روایت سے پہلے کا اور بعد کا بھی پیش کیا ہے اس بارے میں کچھ پیش پوش کریں ۔
-بے وقت کی راگنی ہے ۔ دوبارہ تحقیق کیجئے پچلی پوسٹو کو دیکھئے
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930] جناب اگر آپ کے بس میں ہو تو یہ کام بھی کرگزریں۔[/FONT] کیونکہ تقلیدیوں کے لیے قرآن وحدیث میں تحریف کرنا جب بائیں ہاتھ کا کھیل ہے تو پھر یہ کون سا مشکل کام ہے ان کےلیے؟ آپ یہ عمل کیوں نہیں کرسکتے۔اس کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ جن پر بات کرنا خارج از موضوع ہے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
تحریف کا الزام ثابت کرسکتے ہیں آپ ؟ تو کیجئے الگ تھریڈ میں ۔ میں منتظر ہوں
رہی بات گواہوں کی گواہی کی تو الحمد للہ وہ ثابت شدہ ہیں خود بخاری اور مسلم سے ۔ تحقیق فرمالیں
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930]جب آپ یہ سب عمل کرکے مقلد ابی حنیفہ ہی ٹھہرتے ہیں تو پھر اگر ہم کرتے ہیں تو ہم متبع رسول[/FONT] نہیں ٹھہر سکتے۔ کیوں؟؟؟۔(الزامی جواب)ۤ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب آپ اتنے بھی کورے نہیں کہ آپ کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا ہی پتہ نہ ہو؟ گواہوں کی گواہی تسلیم کرنے کا حکم قرآن وحدیث میں ہے یا نہیں؟؟ اس بات کا جواب دے دینا اگر ہمت ساتھ دے تو۔
الحمدللہ ہم اہل سنت والجماعت سچ کہتے ہیں جو ہیں ویسا ہی بتاتے ہیں فرقہ جماعت اہل حدیث کی طرح جھوٹ نہیں کہتے کہ رفع الیدین فرض ،واجب،سنت موکدہ،سنت غیر منسوخہ و غیر متروکہ وغیرہ اور یہاں تک کہ سنت ہونے سے ہی انکار تک بات پہنچی ہوئی ہے ۔ ہم امام اعظم ابوحنیفہ کے مقلد ہیں اور جو مسئلہ ان کی رہنمائی میں حاصل کرتے ہیں نسبت بھی اسی طرف کرتے ہیں اور امام اعظم رحمہ اللہ کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتی ہے ۔الحمدللہ
اور آپ کا طرز عمل یہ ہے کہ حکم ماننا ہے علی زئی ،بہاولپوری،پسروری،یا صادق سیالکوٹی کا اور چسپاں کرتے ہو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ، اب بتاؤ مسٹر گڈ مسلم جھوٹا کون ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;69930] پہلے آپ میری پیش کردہ حدیث سے ثابت عمل کا انکار کریں کہ یہ عمل نبی کریم[/FONT] نے نہیں کیا۔ اس کے بعد بادلیل ثابت کرنا میرے پہ فرض ہے۔لکھیں کہ گڈمسلم صاحب جوحدیث آپ نے پیش کی اس حدیث سے ثابت عمل کا میں انکار کرتا ہوں۔۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اسے کہتے ہیں سوال چنا اور جواب مسور، سوال کیا تھا مسٹر گڈ مسلم سے کہ
یہ تو آپ ہی بتائیے جناب کہ جس روایت کو آپ نے اصح الکتب بعد کتاب اللہ یعنی بخاری شریف سے پیش فرمایا اس روایت کو اللہ نے صحیح قرار دیا یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ؟ نہیں کہا ناں ؟ تو پھر آپ نے کیسے مانا اس روایت کو کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فعل بیان ہوا ہے ؟
اب بجائے اس کے کہ آپ کہتے فلاں روایت میں رسول اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا (معاذ اللہ) کیونکہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہونے کے دعوے دار ہیں ۔ اب یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ بتائیں کہ آپ عمل کریں صادق سیالکوٹی یا علی زئی کی رائے پر اور دعوٰی کریں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے ۔
اب آپ برائے مہربانی یہ بتادیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کو پیش کرکے آپ نے کیسے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے ، دلیل کے ساتھ قیاس کے ساتھ نہیں ناہی کسی امتی کا قول پیش کیجئے گا ۔ اگر امتیوں کی رائے پیش کریں تو پھر پہلے امتی کے مقلد ہونے کا اعلان کیجئے گا اور یہ بھی کہ اب آپ کی دو ہی نہیں تین دلیلیں ہیں ایک قرآن دوسری حدیث اور تیسری فلاں امتی اور جب جب مزید امتی کی بات مانیں تو اسے امتی کا نمبر دیتے جائیں چار پانچ چھ وغیرہ ، امید ہے سمجھ شریف میں آگیا ہوگا۔لیکن پہلے پہل یہ بتادیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کو مرفوع کس امتی کے کہنے پر مرفوع مانا ؟
یعنی جو تقلید کا منکر ہے اس سے آپ یہ بات طلب کرسکتے ہیں کہ وہ ہر آیت وحدیث کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یا نبی کریم کافرمان عالیشان پیش کرے کہ وہ صحیح بھی ہے یا نہیں؟؟؟ رائٹ ؟؟؟
اچھا کیا یہ عین انصاف نہیں کہ تقلید کی مدعیوں سے بھی اس بات کا جواب طلب کیا جائے کہ وہ جس کے مقلد ہیں قرآنی ہر آیت اور ہر حدیث کے بارے میں اسی کی ہی تصریحات پیش کریں جس کے وہ مقلد ہیں ؟
محترم جناب پہلی بات یہ آپ کا کہنا، لکھنا اور پھر پوچھنا بچگانہ حرکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ضمیر مردہ ہوجائے تو پھر جو دل میں آتا ہے انسان کرتا چلا جاتا ہے۔
دوسری بات اگر آپ مجھ ( متبع رسول ) سے اس بات کا مطالبہ کرنے پر مصر ہیں تو پھر میں بھی آپ(مقلد ابی حنیفہ) سے اس بات کا مطالبہ کرنے پر مصر رہونگا کہ آپ جو بھی آیت پیش کریں۔ جو بھی حدیث پیش کریں۔ اپنے امام کی تصریح ساتھ ساتھ پیش کرنا مت بھولیے گا۔یعنی جب آپ قرآنی آیت پیش کریں تو اس آیت پر اپنے امام کا قول پیش کردینا کہ امام صاحب نے لکھا ہو کہ یہ آیت قرآنی ہے۔ اور میرے مقلدین کو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جو بھی حدیث پیش کریں اس کی بھی سند اور متن پر امام صاحب کی تصریحات پیش کریں۔
کیونکہ آپ کے بقول میں تو ہوا غیر مقلد ( یعنی کسی کی بھی تقلید نہیں کرتا۔ جو دل میں آتا ہے وہ کرتا ہوں۔۔ دوسرے الفاظ میں آزاد خیال آدمی) لیکن آپ تو مقلد ہیں ناں اور یاد ہے آپ کو کہ مقلد بارے کیا حکم لکھے گئے ہیں۔؟؟؟
جناب مقلدین کو کیا ہدایات ہیں ایک دو پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں، تاکہ آپ کو آئینہ دکھایا جائے۔ (اور اگر تقلید پر بھی بات کرنے کا من چاہ رہا ہوں تو اس موضوع پر اسی فورم پر میری پہلے سے بحث ومباحثہ آپ کے ہی ہم مسلک لوگوں کے ساتھ موجود ہے۔ اس کو دیکھ لینا اور تشفی نہ ہو تو انہیں تھریڈ میں بات کو چلا لینا۔ شافی کافی جوابات سے نوازا جائے گا۔ ان شاءاللہ)
’’ اما المقلد فمستنده قول مجتهده لا ظنه ولا ظنه ‘‘ (مسلم الثبوت ص9)​
مقلد کی دلیل صرف اس کے امام کا قول ہے۔ نہ تو وہ خود تحقیق کرسکتا ہے۔ نہ اپنے امام کی تحقیق پر نظر ڈال سکتا ہے۔
’’ ہم امام کے مقلد ہیں اور مقلد کےلیے قول امام ہی حجت ہوتا ہے۔ ناکہ ادلہ اربعہ ان سے استدلال وظیفہ مجتہد ہے نیز توسع مجال کی خاطر اہل بدعت فقہ حنفی کو چھوڑ کر قرآن وحدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ ‘‘ (ارشاد القاری، ج1 ص228 و 412)​
پڑھ لیا جناب مولانا سہج صاحب؟؟۔ اس لیے اب میں اس بات کا مطالبہ کرنے پر بھی حق بجانب ہوں کہ آپ جو بھی آیت پیش کریں یا جو بھی حدیث پیش کریں۔ میں آپ سے پوچھوں کہ آپ اس پر اپنے امام کا قول پیش کرو کیونکہ آپ کےلیے اپنے امام کا قول ہی حجت ہے۔( اگر آپ پر اپنے امام کا قول حجت نہیں تو پھر لکھیے)۔ادلہ اربعہ سے تو آپ تبرک لیتے ہیں۔۔۔ کیا خیال ہے اگر میں آپ کو تبرک نہ لینے دوں تو ؟؟؟ یعنی آپ سے ہر آیت، ہر حدیث ہر تشریح پر قول امام ہی پوچھوں؟؟؟ تو کیا خیال ہے؟
سمجھ آگیا محترم سہج صاحب۔؟ شروع سے اب تک جتنی بھی قرآنی آیات، احادیث، اقوال اور تشریحات پیش کیے ان سب پر اپنے امام کی تصریحات پیش کریں یا پھر غیر مقلد ہونے کا اعلان کریں۔کیونکہ آپ نے ابھی تک ان پر اپنے امام کی طرف سے تصریحات پیش نہیں کی ہوئیں۔ میرے خیال میں آپ کا تصریحات پیش نہ کرکے اس عمل کی وجہ سے ایک تو آپ مقلد سے غیر مقلد بھی ہوگئے ہیں اور دوسرا شاید آپ اس ہدایت کے دائرہ میں بھی آگئے ہونگے۔
" فلعنة ربنا اعداد رمل علی من رد قول ابی حنفة" (درالمختار مع شامی ص ۶۶ج ۱)
پس اس شخص پر ریت کے زروں کے برابر لعنتیں ہوں جو ابو حنیفہ کے قول کو رد کرتا ہے۔
اگر آپ اپنے پیش کردہ تمام دلائل پر اپنے امام کی طرف سے تصریحات پیش کردیں تو اس ہدایت سے چھٹکارا پائیں گے ورنہ یہ ہدایت آپ کے سَر ہے۔قبول فرمالینا۔

استغفراللہ
مسٹر گڈ مسلم مانا کہ آپ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف ہو لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آپ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تشبیہ دے دی ؟ شرم کا مقام ہے کم از کم میرے لئے کہ میں اک ایسے بندے سے بات کررہا ہوں جو تعن بھی کرے گا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو کھڑا کرکے ۔ معاذاللہ

یعنی امتی اور نبی میں کوئی فرق ہی نہیں چھوڑا آپ نے ؟ مسٹڑ گڈ مسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پیش کریں قولی،فعلی،تقریری ۔جس سے فیصلہ ہوسکے دس جگہ کی رفع الیدین کرنے کا ۔
مسٹر گڈ مسلم اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کا مطلب کیا ہے ؟ کیا یہ مطلب ہے کہ آپ صرف نعرہ لگاتے رہیں ؟ مسٹر گڈ مسلم اقرار کرلیجئے کہ آپ امتیوں کی زاتی رائے پر ہی حدیث کو حدیث اور حدیث کو جھوٹ اور حدیث کو ضعیف مانتے ہو اپنی رفع الیدین کو جسے آپ خود بھی اختلافی کہتے ہو ، کو کسی امتی کی رائے کے بغیر ناہی سنت کہہ سکتے ہو ناہی واجب و فرض ، آپ تقلید کرتے ہیں علی زئی و پسروری و بہاولپوری و حکیم سیالکوٹی کی اور کہتے ہو کہ ہم متبع رسول اللہ ہیں ۔ اس سے بڑا جھوٹ کوئی اور ہو نہیں سکتا ۔
مسٹر گڈ مسلم آپ صرف دس جگہ رفع الیدین کا اثبات دکھائیں صراحت کے ساتھ ۔ تاکہ بات آگے چل سکے۔
اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ہم مقلد ہیں تو ان کا فیصلہ ضرور مانیں گے کیوں کہ وہ سب سے پہلے قرآن پھر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر جماعت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع سے دلیل لیتے تھے اور اگر ان سب میں نہ ہو تو پھر ان ہی میں سے مسئلہ کو اپنے قیاس کی مہر لگاکر پیش کرتے تھے ۔ الحمد للہ
اب یہ نہ کہنا کہ امام صاحب سے ان کے شاگردوں نے بعض معاملات میں مختلف فتوٰی دیا ہے ، یہ بھی امام صاحب رحمہ اللہ کی ہی شان ہے کہ ان کے شاگدروں نے جس مسئلہ میں سمجھا اس کی نوک پلک مزید سنواری اور موجودہ دور کے مسائل جو بھی نئے پیش آتے ہیں ان کا حل بھی ان ہی اصولوں میں موجود ہے مسٹر گڈ مسلم ۔بس مسئلہ سامنے آتے ہی مسلک حنفی کے علماء امام صاحب کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے استنباط کرلیتے ہیں ۔
اور رفع یدین کا مسئلہ تو پہلے سے ہی حل شدہ ہے ہم اہل سنت والجماعت حنفی اور اہل سنت والجماعت مالکی نہیں کرتے ، ہمارے امام کا فیصلہ ہے ،شافعی اور حنبلی بھی اہل سنت والجماعت ہیں وہ اپنے امام کا فیصلہ مانتے ہیں ۔ اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں مسٹر گڈ مسلم ، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو امام مانتے ہیں ۔ مانتے ہیں کہ نہیں ؟ اگر مانتے ہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کرنا چاھئے کہ نہیں ؟ پیش کیجئے مسٹر گڈ مسلم
باقی رہا مسئلہ امام صاحب رحمہ اللہ سے ثابت کیا جائے تو پہل آپ کیجئے مسٹر گڈ مسلم کیونکہ آپ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا امام مانتے ہو اور پہلا حق آپ کا ہی ہے کہ آپ کم از کم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس رفع الیدین جس کو آپ اختلافی مانتے ہو ، کے بارے میں اپنے اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک یا فیصلہ پیش کردو ۔ اگر پیش کردیا تو ان شاء اللہ میں مانوں گا بھی اور پھر اگلے سوال کی طرف چلا جاؤں گا دوبارہ پوری زندگی کسی غیر مقلد سے دس جگہ رفع یدین کے اثبات کی دلیل نہیں مانگوں گا ۔ یہ میرا وعدہ ہے آپ سے ۔

اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش نہیں کرسکتے تو پھر میں اپنے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا فیصلہ پیش کردوں گا کیونکہ میں ان کا مقلد جو ہوا ۔ پھر آپ کو بھی اسے ماننا ہوگا اور تسلیم کرنا ہوگا کہ آپ دس جگہ کی رفع یدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک یعنی فیصلہ سے نہیں دکھاسکے اور آئندہ کسی کو رفع یدین ثابت ہونے کا چیلنج نہیں کرو گے ۔
ہمت کیجئے مسٹر گڈ مسلم اور فیصلہ کن فیصلہ پیش کردیجئے گھبرائیے مت میں آپ کے ساتھ ہوں
گواہوں کی گواہی ماننے کے حکم کے ساتھ شریعت نے جب خبر کی تصدیق کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔۔ تو جناب پھر تو بچگانہ باتیں نہ کرو۔
گواہوں کی تصدیق کیسے فرمائی جناب نے ؟ وضاحت کیجئے ، کس سے تصدیق کروائی اور جس سے تصدیق کروائی اس کی تصدیق کس سے کروائی ۔
ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا کیا یہ حکم صرف اور صرف اللہ نے اپنے رسول کو ہی دیا ہے ؟ یا اس کے خطاب میں امت محمدیہ بھی شامل ہے؟ ۔۔۔ہاں یا ناں میں جواب
پھر وہی ؟ سوال چنا اور جواب حلوہ۔ مسٹر گڈ مسلم میں نے صحیح بخاری کی روایت کی تصدیق مانگی تھی اور آپ مجھ ہی سے اک عدد سوال کرلیا ۔ چلیں میں جواب دے دیتا ہوں آپ کے سوال کا اور میرا سوال آپ پر ادھار رہا ۔ میرا جواب ہے ہاں
(((((((((((((((پوسٹ نمبر 54 کا بقیہ جواب اگلی پوسٹ میں ))))))))))))))))))))
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
گڈ مسلم کی پوسٹ نمبر 54 کا بقیہ حصہ

الحمدللہ بات پوری پڑھتا ہوں۔ پوری بات کا جواب بھی دیتا ہوں کاٹم پیٹی مشغلہ متبع نہیں بلکہ وظیفہ مقلد ہے۔
دیکھتے ہیں
1-سب سے پہلی بات ریڈ کلر کی ہائی لائٹ عبارت میں آپ نے اپنے علماء کو بچھاڑا ہے۔ ویسے تو آپ لوگ اکابرین اکابری کے نعرے بلند کرتے رہتے ہیں لیکن جب اکابرین کے اقوال سامنے آتےہیں تو پھر کہا جاتا ہے کہ ’’ یہ سب باتیں میں نے کیں ہیں ‘‘‘؟؟؟ بہت خوب۔۔ چلو خیر یہ آپ کا عمل ہے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں
2۔ آپ نے باقی موقفوں کو پس پشت ڈال کر ایک موقف (کبھی جانوروں کا فعل کہتے ہیں۔) کا جواب دینے کی حدیث سے لاحاصل سعی کی ہے۔ جس کا تفصیلی جواب تو آپ کو دیا جاچکا ہے۔ اسی جواب سے ایک جواب پیش ہے۔۔ آپ سے اس پر تبصرہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔۔ اگر ہمت ہے تو تبصرہ کردینا۔
1-مسٹر گڈ مسلم علماء کو پچھاڑنے کا کام آپ کا ہے میرا نہیں ، میں تو ہوں اک جاہل آدمی علماء کی ہی نقل کرنے والا میں بھلا انہیں کیوں پچھاڑوں گا ؟ یہ آپ کا ایک اور جھوٹ ھے ۔ دیکھئے مسٹر گڈ مسلم آپ نے مزکورہ عبارات پیش کرنے کے ساتھ کسی قسم کا کوئی حوالہ دیا تھا کہ کون سی عبارت کس علامہ صاحب کی ہے ؟اب آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ مزکورہ عبارات کے ٹوٹوں کے حوالے پیش کریں تاکہ دیکھا جائے کہ کس نے اور کیوں ایسا ایسا لکھا ۔ اور آخری بات یہ کہ جب آپ مخاطب مجھ سے ہیں اور مجھے عبارات بغیر حوالوں کے دکھائیں گے تو میں کیا سمجھوں گا ؟ یہی ناں کہ آپ مجھے میرے الفاظ یا ان سے نکالے گئے مطالب دکھا رہے ہیں۔ اسلئے جب بھی کسی علامہ صاحب کا قول پیش کریں تو ان کا حوالہ ضرور پیش کریں تاکہ مجھے یہ نہ کہنا پڑے کہ ’’ یہ سب باتیں میں نے کیں ہیں ‘‘‘؟؟؟ ویسے بائی دی وے آپ کو مبارک تو مل ہی چکی ہے اسے ضرور قبول کرلینا ۔
2-جی مسٹر گڈ مسلم پہلے بھی جواب دیا تھا اب چونکہ آپ نے وہی اعتراض دھرایا ہے اسی لئے جواب بھی وہی حاضر خدمت کروں گا جو پہلے دیا تھا
’’ مولانا صاحب اگر اس حدیث کے الفاظ کو رفع الیدین پر محمول کیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رفع الیدین کرنا ایک قبیح فعل ہے۔ چونکہ مختلف فیہ رفع الیدین نبی کریم سے باسند صحیح تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔(جس کو آپ بھی تسلیم کرچکے ہیں) اور نبی کبھی بھی فعل قبیح کا مرتکب نہیں ہوا کرتا (نعوذباللہ اگر ہوتا ہے تو بتائیں) تو معلوم ہوا کہ اس حدیث کا اختلافی رفع الیدین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، ورنہ نعوذ باللہ نبی کے فعل کو قبیح تسلیم کرنا پڑے گا۔ جس کے تصور سے ہی ہم پناہ مانگتے ہیں۔ لیکن آپ ہیں کہ بلا خوف وخطر اپنے کمزور وبے دلیل مؤقف کو ثابت کرنے کےلیے قیل وقال سے سہارا لیے ساتھ ساتھ سنت نبوی کو غلط تشبیہات بھی دیئے جارہے ہیں۔ اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ ایک ایسا فعل جس پر نبی کریم خود عامل رہے ہیں بری تشبیہ دیئے جارہا ہوں۔‘‘
پہلی بات
مسٹر گڈ مسلم ، کوئی بھی نبی کسی بھی قبیع فعل کا مرتکب نہیں ہوتا ایسا سوچنے والا ہی دائرہ اسلام سے باہر ہے ۔ اور اک بات اچھی طرح زہن نشین کرلیجئے آپ بار بار ان کنٹرولڈ الفاظ استعمال کررہے ہیں یعنی اس حدیث کا اختلافی رفع الیدین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، ورنہ نعوذ باللہ نبی کے فعل کو قبیح تسلیم کرنا پڑے گا۔ اب غور سے پڑھئے گا جناب گڈ صاحب۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اشارہ کرنے سے بھی اور ہاتھ اٹھانے سے بھی ۔ ٹھیک
آپ کہتے ہیں دونوں کا مطلب ایک ہی ہے یعنی صرف اشارے سے منع کیا ۔ ٹھیک
اب اگر مان لیا جائے کہ دونوں طرح کی احادیث ایک ہی عمل کو منع کرنے کے لئے ہیں ۔
تو پھر بھی صحابہ کا عمل سنت کے مطابق ہی تھا ،کیونکہ صحابی جو دیکھتا تھا وہی کرتا تھا۔
اگر اس منع شدہ حرکت جو کہ ہاتھ کا اشارہ ہو یا رفع الیدین وہ منع کرنے سے پہلے سنت تھا اور منع کے بعد گھوڑے کی دم جیسا ۔
منع سے پہلے کے عمل کو گھوڑے کی دم جیسا سمجھنا جہالت اور منع کے بعد گھوڑے کی دم جیسا نہ سمجھنا بھی جہالت۔
اب آپ سے سوال ہے مسٹر گڈ مسلم کہ آپ کا ماننا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا اور اسے گھوڑے کی دم جیسا کہا ۔ کیوں مانتے ہیں کہ نہیں؟اب آپ یہ بتادیجئے کہ جب ہاتھ سے اشارہ منع نہیں ہوا تھا تو اس وقت اس کی حیثیت کیا تھی؟ سنت تھی یا بدعت ؟ یاد رکھنا کہ آپ الفاظ استعمال کرتے رہے ہو "قبیع فعل" ۔ اگر بدعت کہتے ہو تو صحابہ کی گستاخی کا ثبوت اور اگر سنت کہو گے تو بھی گستاخی کا ثبوت ۔ کیوں کے آپ گھوڑے کی دم والے عمل کو قبیع قرار دیتے ہو۔اور سب سے اہم بات یہ کہ آپ کو یہ یاد رکھنا چاھئے تھا کہ الفاظ "گھوڑے کی دم " استعمال کرنے والی ہستی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کے بعد مزکورہ فعل کو گھوڑے کی دم جیسا کہنا بلکل برحق ہے ۔ اور میرا اس پر ایمان ہے،کیونکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک جو ہے
دوسری بات
تشبیہ ایک جیسے الفاظ سے دینا
یہ کبوتر دودھ کی طرح سفید ہے
وہ دیوار دودھ کی طرح سفید ہے
بلب دودھ کی طرح سفید ہے
دانت دودھ جیسے سفید ہیں
چونا دودھ جیسا سفید ہے
تمام مثالوں میں دودھ سے تشبیع دی گئی ہے تو کیا تمام اشیاء پر دودھ کا ہی حکم لگے گا ؟یا ہر دو چیزیں جن کی مثال دی گئی وہ ایک ہی ہیں ؟یعنی
کبوتر الگ شئے ہے اور دودھ الگ
دیوار کا سفید رنک الگ اور دودھ الگ
بلب کی سفید روشنی الگ شئے ہے اور دودھ الگ
دانت بھی الگ چیز ہیں اور دودھ بھی الگ
چونا کی سفیدی اور دودھ بھی الگ الگ ہی ہیں
غرض کسی چیز یا کئی چیزوں کو ایک ہی چیز سے تشبیہ دینے سے ہر دوچیزیں ایک ہی قرار نہیں پاتیں ۔
جیسے سلام کے وقت کے اشارے کو گھوڑے کی دم سے تشبیہ دی گئے اور رفع الیدین کو بھی ۔ دونوں الگ الگ موقع اور چیزیں ہیں ۔ انہیں ایک ہی ثابت کرنے کی کوشش درست نہیں۔
واہ بہت چالاک ہیں مولانا سہج صاحب۔۔دیکھیے محترم تین باتیں ہیں۔
1۔ چار رکعات میں پہلی رکعت کے آغاز میں کی جانے والی رفع مختلف فیہ ہے یا نہیں؟
2۔ چار رکعات میں باقی تین مقامات پر کی جانے والی رفع مختلف فیہ ہے یا نہیں؟
3۔ سجدوں کی رفع مختلف فیہ ہے یا نہیں ؟
پہلی بات تیسرےنمبر کی رفع کے نہ آپ قائل اور نہ ہم قائل۔۔ کیونکہ کئی احادیث میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ (وَلاَ يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.۔۔سنن الدار قطنی کتاب الصلاۃ باب ذکر التکبیر و رفع الیدین عند الافتتاح و الرکوع، اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 609) یعنی تصریح موجود ہے۔ اس لیے آپ بھی عمل نہیں کرتے اور ہم بھی نہیں کرتے۔۔ اور یہ تصریح صرف ان لوگوں کےلیے جو رفع یدین کو سنت سمجھتے ہیں۔۔ جو سرے سے رفع کے سنت ہونے کے انکاری ہیں۔۔اس کےلیے کسی کام کی نہیں۔۔اس لیے میں نے لکھا تھا کہ
گڈمسلم ’’ اس لیے یہاں ہم اس رفع پر بات کریں گے جس رفع پر ہمارا اختلاف ہے۔ اگر ہم سجدوں کی رفع کرتے ہوتے اور آپ نہ کرتے ہوئے یا آپ کرتے ہوتے اور ہم نہ کرتے ہوتے تب اس پر بات کرنے کا کوئی مقصد بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن اب جب فریقین کے بیچ اختلاف ہی نہیں ہے۔ پھر اس پر رولا ڈالنے کا کیا فائدہ ؟ ‘‘
مسٹر گڈ مسلم ، شروع نماز کی رفع الیدین تو پوری امت میں اختلافی نہیں ۔ اور آپ اس پر بھی اختلاف ڈالنا چاھتے ہیں ۔دیکھئے
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;65871[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
آپ شروع کی رفع الیدین کرتے ہیں یا نہیں ؟ کرتے ہیں ناں ؟ (کیونکہ ہوسکتا ہے تضاد، ٹکراؤ آجانے سے شاید اب آپ اس رفع کو بھی چھوڑ دیں۔) یہ رفع آپ کے نزدیک فجر کی سنتوں کی طرح ہے یا عصر کی سنتوں کی طرح۔؟ جو آپ کا جواب وہ ہمارا جواب.​
آپ اپنی پہلی رفع پر دلیل پیش کیجیے ؟ قرآن سے ؟ دیکھتے ہیں کہ اس رفع پر آپ کے پاس قرآن سے کوئی دلیل ہے یا نہیں ؟
٭ پہلی رفع کا مسئلہ قرآن کا ہے ؟
٭ پہلی رفع کامسئلہ حدیث کا ہے ؟
٭ پہلی رفع کا فیصلہ کس کا ہے اللہ کا ؟ رسول کا ؟ صحابیکا؟ یا کسی امتی کا ؟
یہ آپ کی پچھلی پوسٹ نمبر تئیس کا عکس ہے جس میں آپ نے غیر مختلف فیہ رفع یدین کو حدف بنایا تھا اور پوسٹ نمبر اٹھائس میں کہا تھا
اس لیے جناب کوئی ایسی حدیث پیش کریں جس میں پہلی رفع کے استثناء کے ساتھ یہ فرمان جاری ہوئے ہوں۔ لائیے کوئی حدیث
یہ تو ہوگئی وہ باتیں جن سے آپ شروع نماز کی رفع یدین کو بھی اختلافی بنانے پر تلے ہوئے ہو ۔اور آگے پوسٹ نمبر چون میں فرماتے ہیں
گڈمسلم ’’ اس لیے یہاں ہم اس رفع پر بات کریں گے جس رفع پر ہمارا اختلاف ہے۔ اگر ہم سجدوں کی رفع کرتے ہوتے اور آپ نہ کرتے ہوئے یا آپ کرتے ہوتے اور ہم نہ کرتے ہوتے تب اس پر بات کرنے کا کوئی مقصد بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن اب جب فریقین کے بیچ اختلاف ہی نہیں ہے۔ پھر اس پر رولا ڈالنے کا کیا فائدہ ؟ ‘‘
اب بتادیجئے مسٹر گڈ مسلم اور دیکھ لیجئے دیکھنے پڑھنے والے کہ ، رولا کس نے ڈالا ہوا ہے شروع نماز کی رفع یدین پر ؟
دوسری بات میں مانتا ہوں کہ پہلی رفع آپ بھی کرتے ہیں ہم بھی کرتے ہیں۔۔ یعنی جب دونوں عامل ہیں تو پھر اس رفع کو بھی زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔لیکن جناب یہ رفع کیوں زیر بحث لائی جاتی ہے۔؟؟۔اس کا سبب بھی آپ لوگ ہیں۔
دیکھیئے آپ لوگ رفع یدین پرجو ڈھکے چھپے الفاظ میں دعویٰ پیش کرتے رہتے ہیں۔(ویسے تو مقلدین کی طرف سے بہت سارے دعوے ہوتے ہیں لیکن یہاں آپ نے منسوخ کا دعویٰ کیا ہوا ہے۔) تو کیا اس کے عین مطابق آپ نے دلیل پیش کی ؟؟ جب تھریڈ کا عنوان ہی مختلف فیہ رفع ہے تو پھر آپ نے شروع سے اب تک دعویٰ کے عین مطابق صرف اور صرف مختلف فیہ پر کتنے دلائل پیش فرماچکے ہیں جناب۔؟؟؟۔۔( یادر رہے صرف اور صرف مختلف فیہ رفع کی منسوخیت پر ) آپ کے وہ دلائل بالکل قابل قبول نہیں جن میں غیر اختلافی رفع کا بھی ذکر ہو۔۔
مسٹر گڈ مسلم جب آپ مانتے ہیں شروع نماز کی رفع سب کرتے ہیں تو پھر رولا ڈالنے کی کیا ضرورت ؟ اور جناب بھول کیوں جاتے ہیں کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اسکنوا فی الصلوٰة آیا ہے اور ہمارے بیچ بات چیت یا بحث کا موضوع بھی نماز کے اندر والی رفع یدین ہے ناکے نماز شروع کرنے والی رفع یدین ؟
مسٹر گڈ مسلم آپ کا دعوٰی ہے کہ میں اختلافی رفع الیدین کی منسوخیت کا قائل نہیں یعنی آپ ہمیشگی مانتے ہیں رفع یدین کے بارے میں ۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین کیا فی الصلوٰۃ ؟ کیوں ٹھیک ہے ؟ آپ نے ثابت کرنا ہے کہ فی الصلوٰۃ والی رفع یدین حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کی اور دنیا سے رخصت ہونے تک رفع یدین فی الصلوٰۃ کرتے رہے ۔ کیوں یہی مطلب ھے ؟
اور دخل في الصلاة
قَامَ
إِلَى الصَّلَاةِ
افْتَتَحَ الصَّلَاةَ والی رفع الیدین میں کوئی اختلاف نہیں ۔
آپ کے وہ دلائل بالکل قابل قبول نہیں جن میں غیر اختلافی رفع کا بھی ذکر ہو۔
اگر آپ مختلف فیہ رفع یدین کے علاوہ یعنی شروع نماز کی رفع یدین والی روایت پیش کرنے پر اعتراض پیرا ہیں تو مسٹر گڈ صاحب آپ نے ابھی تک جتنی روایات پیش کی ہیں ان میں بھی شروع نماز کی رفع کا زکر ہے ۔ ہے کہ نہیں ؟ پھر آپ کو اپنے ہی حکم پر عمل کرنا چاھئیے کہ نہیں ؟
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو صریح صحیح ایسی دلیل پیش کرنی چاہیے کہ جس میں
1۔ چار رکعات میں پہلی رکعت کےشروع میں جو رفع کی جاتی ہے اس کا بالکل ذکر تک نہ ہو۔۔( کیونکہ یہ مختلف فیہ نہیں ہے۔جس طرح میرے دلائل میں سجدوں کی رفع کا ذکر نہیں ہوتا۔ ہاں اس بات کی صراحت مل جاتی ہے کہ سجدوں میں رفع نہیں کرنی چاہیے)۔ لیکن اگر ذکر ہو بھی تو اس بات کی صراحت ہو کہ پہلی رفع کرنی چاہیے اور باقی تین جگہوں پر رفع نہیں کرنی چاہیے۔
2۔ چار رکعات میں باقی تین مقامات پر جو رفع کی جاتی ہے۔پیش کی جانے والی دلیل میں صرف ان تین جگہوں کی رفع کی منسوخیت کا ذکر ہو۔۔( پہلی رفع جو مختلف فیہ نہیں اس کا ذکر نہ ہو۔ اگر ہو بھی تو پہلی کا اثبات باقی تین کی نفی ومنسوخیت کی تصریح)​
ماشاء اللہ مسٹر گڈ مسلم ، یہی قانون آپ پر بھی لاگوں کیوں نہ ہو ؟ چلیں اب نئے سرے سے دلائل پیش کریں جس میں غیر اختلافی رفع الیدین کا بلکل بھی زکر نہ ہو نا شروع نماز کی اور ناہی سجدوں کی رفع یدین کرنے یا نہ کرنے کا ؟ اگر منظور ہو تو ہاں کہیں ورنہ اپنی توجہ صرف اور صرف نو جگہ کی رفع یدین کے اثبات کی حدیث دکھانے پر صرف کریں جو کہ فیصل بنے ہمارے بیچ ۔
رہی میرے دعوے کی بات تو مسٹر گڈ مسلم میرے دعوے کی فوٹو کاپی دکھائیں گے آپ ؟ یہ بھی عجیب بات ہے آپ کی مسٹر ؟؟؟؟ دعوٰی تو آپ کا ہے رفع یدین کے بارے میں کہ ہمیشہ کرنا ہے (رفع یدین منسوخ نہیں کا یہی مطلب ہوا)، اسی لئے آپ نے حتٰی لقی اللہ والی روایت بھی پیش کی تھی(جس پر میرے اٹھائے سوال کا ابھی تک تو جواب نہیں آیا) ۔ اور وہ رفع یدین جسے خود اختلافی کہتے ہیں اسے سنت بھی مانتے ہیں اسی رفع یدین کو غیر منسوخہ بھی کہتے ہیں مگر ثابت کرتے ناجانے کیا مشکل ہے کہ پچاس سے زیادہ پوسٹیں ہوگئیں اور جناب ناجانے کہاں کہاں کی باتیں اور امتیوں کے اقوال بیچ میں لالا کر بات کو طول دئیے جارہے ہیں اور نہیں دیتے تو دلیل نہیں دیتے کہ دس جگہ رفع یدین کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کا عمل تھا ، اور ناہی فیصلہ دکھا رہے ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ۔ جبکہ میں واضح کرچکا کہ آپ ہمت کیجئے مسٹر گڈ مسلم میں آپ کے ساتھ ہوں اور قبول کرلیجئے کہ آپ بلکل کورے ہیں اس بارے میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کرسکیں رفع یدین کے بارے میں ۔پہلے آپ اقرار کریں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش نہیں کرسکتے۔ اسکے بعد مجھ سے میرے امام کا فیصلہ مانگیں میں ان شاء اللہ پیش کروں گا۔ لیکن پہلا حق آپ کا ہے کہ آپ فیصلہ پیش کریں کیوںکہ آپ اوپر کی ہی دو دلیلیں مانتے ہیں اور نیچے تب جایا جاتا ہے جب اوپر سے فیصلہ نہ ملے ۔ تو پہلے آپ پیش کریں اگر نہ کرسکیں تو مجھ سے مانگیں ۔ امید ہے سمجھ گئے ہوں گے ؟
تو جناب آپ لوگ جب دلائل پیش کرنا شروع کرتے ہیں تو اپنے دلائل میں ان دو باتوں کا خیال رکھتے ہیں ؟ آپ لوگ ایسی رفع کا کیوں ذکرکرتے ہیں جو اختلافی نہیں ہے؟

آپ اس پہلی غیر اختلافی رفع کے ذکر کے علاوہ دلائل پیش کریں۔۔ ان شاءاللہ میں کبھی آپ سے پہلی رفع پر کوئی مطالبہ نہیں کرونگا۔۔
جناب شروع نماز کی رفع یدین کے زکر کا رولا آپ نے ڈالدیا ہے ، ورنہ اس کا کوئی رولا نہیں تھا ۔ اگر آپ یہ رولا جاری رکھنا چاھتے ہیں تو پھر شروع نماز کی رفع یدین اور سجدوں کی رفع یدین کے زکر والی تمام روایات واپس لیں ۔اور پھر شروع نماز کی رفع یدین کے بغیر روایت پیش کردیں،اور مسٹر گڈ مسلم آپ کی پیش کردہ تمام روایات میں بھی شروع نماز کی رفع یدین کا زکر موجود ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
جب آپ دلائل پیش کرتے ہوئے اس غیر اختلافی رفع کا تذکرہ بیچ میں لاتے ہیں اور باقیوں کے بارے میں بغیر صراحت کے کہہ دیتے ہیں کہ ’’ پہلی کے علاوہ اور نہیں کرتے تھے‘‘ (اور کون سی نہیں کرتے تھے؟؟ دوسری رکعت کے رکوع جاتے ہوئے یا رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے الخ۔) تو جناب آپ کے ہی اس رفع کو دلائل میں ذکر کرنے کی وجہ سے اِس غیر اختلافی پہلی رفع پر سوالات کیے جاتے ہیں۔۔آگئی ناں سمجھ مولانا سہج صاحب۔؟؟؟
مسٹر گڈ مسلم ہم چار رکعت والی نماز کی شروع نماز کی رفع یدین کے بعد کی تمااااااااااااااااااام رفع یدین کا انکار کرتے ہیں اور دلیل بھی الحمد للہ ویسی ہی دکھاتے ہیں یعنی ایک کا اثبات اور باقی کی نفی ۔ جبکہ آپ کا طریقہ ہے کہ شروع نماز کی رفع الیدین کے بعد بھی رفع الیدین کرتے اور چھوڑتے ہیں ۔ تو دلیل میں بھی تو ویسی ہی صراحت ہونی چاھئیے کہ نہیں؟ دو جمع دو چار تو آپ کی دلیل ہے ہی نہیں ۔ اسی لئے تو کہتا ہوں کہ دس جگہ کا اثبات دکھائیے تاکہ بات کو آگے بڑھائیں ، ورنہ یاد رکھیں کہیں انتظامیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوجائے ۔
آپ دلائل ایسے ذکر کریں جس میں اس پہلی غیر اختلافی رفع کا ذکر تک نہ ہو۔ میں بھی آپ سے اس بارے کوئی مطالبہ یا سوال نہیں کرونگا۔ لیکن جب آپ دلائل میں اس کا ذکر لائیں گے تو پھر میں بھی اس غیر اختلافی رفع پر آپ سے مطالبات وسوالات کرونگا۔۔۔ جو منظور ہو قبول فرمالیجیے۔
ماشاء اللہ مسٹر گڈ مسلم اپنے دعوے و عمل اور ہمارے عمل کے مطابق بات کیجئے ۔ ہمارا عمل ہے شروع نماز کی رفع یدین کرنا اور نماز کے اندر والی باقی تمام رفع یدین نہ کرنا چاروں رکعت میں، اور آپ کا دعوٰی ہے کہ رفع یدین منسوخ نہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین کی ۔ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے اپنا عمل ثابت کردیا ہے اور آپ نے ابھی ثابت کرنا ہے ۔ یعنی دس جگہ کا اثبات ،دو جمع دو چار کے بغیر ۔ سمجھے مسٹر گڈ مسلم ۔
اگر آپ کے پیش کردہ فارمولے کو لے لیں تو پھر مشکل آپ کو ہی ہوگی کیونکہ آپ شروع نماز کی رفع یدین کے بغیر صرف اختلافی رفع یدین کو حدیث سے ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ ہر حدیث میں پہلی اور سجدوں والی رفع یدین کا زکر ہے اثبات کا یا نفی کا ۔ اس صورت میں آپ کچھ بھی پیش نہیں کرسکیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ اثبات بھی گیا اور نفی بھی گئی ، پھر جب نہ اثبات ہو اور نا ہی نفی تو باقی کیا بچا ؟؟ یہ آپ بتادینا مجھے ۔
جناب میرا اپنے پہ احسان سمجھیں یا میری شرافت کہ شروع سے اب تک مختلف فیہ رفع کی منسوخیت پر آپ سے صریحی دلیل طلب ہی نہیں کی۔ کہ جناب سہج صاحب پہلی رفع بھی مختلف فیہ رفع سے خارج ہے اور اسی طرح سجدوں کی رفع بھی مختلف فیہ رفع سے خارج ہے۔ آپ اپنے دعویٰ کے مطابق باقی تین جگہوں پر جو رفع کی جاتی ہے ان کی منسوخیت پر دلیل صحیح پیش فرمائیں۔( کیونکہ ہماری بحث صرف مختلف فیہ رفع پر ہے۔ جس پر تھریڈ کا عنوان بھی گواہ ہے)
مسٹر گڈ مسلم اور یہ اہل سنت والجماعت احناف کی سچائی کی دلیل ہے کہ آپ ابھی تک اپنے عمل کے مطابق صریح دلیل بغیر دو جمع دو چار کئے پیش نہیں کرسکے اور ان شاء اللہ پیش کربھی نہیں سکتے ۔ جس کا واضح ثبوت آپ کا یہ نیا روپ ہے جو اختیار فرمایا ہے یعنی مختلف فیہ رفع یدین کے علاوہ کسی رفع یدین کا زکر نہ ہو ۔ اور یہ بھول گئے کہ اس کے چکر میں خود ہی پھنس گئے ہیں آپ ۔ کیونکہ میرے مطالبہ پر آپ نے جو اپنے تعیں پہلی دلیل پیش کی تھی وہ یہ ہے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;65725]سہج بھائی کی خدمت میں ان کی[/FONT] پوسٹ نمبر10 پر بنا کچھ کہے (ٹائم کی قلت۔گزارشات ضرور پیش کرونگا) ابھی صرف ایک حدیث پیش کررہا ہوں۔ان کا مطالبہ ہے کہ دس بار کرنے کی اور اٹھارہ بار نہ کرنے کی دلیل دیں۔ اور یہ دو باتیں ہیں۔ ایک دس بار کرنے کی اور دوسری اٹھارہ بار نہ کرنے کی۔ اس لیے میں ابھی پہلی بات کو پیش کر رہا ہوں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
" كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال : سمع الله لمن حمده ، رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه
" (صحيح البخاری، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين، حديث:‏739)​
’’ جب نماز کا آغاز فرماتے تو تکبیر کہتے اور رفع الیدین فرماتے، اور جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رفع الیدین کرتے، اور جب دو رکعتوں سے اُٹھتے تو پھر بھی رفع الیدین کرتے۔‘‘​
پہلی بات
اس روایت سمیت باقی روایات جو آپ نے پیش کی ہیں شروع نماز کی رفع یدین کا زکر ہے، اور آپ کے نئے روپ میں آنے کی وجہ سے یہ روایت جوکہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ہی عمل پیش کررہی ہے آپ کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ قبول ہے ؟
دوسری بات
آپ کی یہ بات کہ میں مدعی ہوں غلط ثابت ہوچکی کیونکہ رفع الیدین غیر منسوخ ثابت کرنے کے لئے آپ نے اپنے دعوے پر دلیل پہلے دی اور دلیل مدعی کے ذمہ ہوتی ہے ۔ ہوتی ہے کہ نہیں ؟
تیسری بات
دس بار کرنے کی یعنی رفع الیدین کا دس جگہ کا اثبات دکھانے کی حامی آپ نے بھری ۔ ثابت ہوئی آپ کی حامی یا نہیں ؟
ان کا مطالبہ ہے کہ دس بار کرنے کی اور اٹھارہ بار نہ کرنے کی دلیل دیں۔ اور یہ دو باتیں ہیں۔ ایک دس بار کرنے کی اور دوسری اٹھارہ بار نہ کرنے کی۔ اس لیے میں ابھی پہلی بات کو پیش کر رہا ہوں۔
کیوں مسٹر گڈ مسلم آپ کے الفاظ آپ کو دکھ گئے کہ آپ نے کس اثبات کو دکھانے کا بیڑا اٹھایا تھا ؟ اور کیا دکھایا ؟ جس کا انکار اب آپ خود کررہے ہیں کہ شروع کی رفع یدین کے زکر کے بغیر دلیل دکھائی جائے ۔
پہلی رفع جو کہ مختلف فیہ رفع میں شامل نہیں لیکن پھر بھی اس کو تذکرہ میں لایا جاتا ہے۔کیوں لایا جاتا ہے؟ مفتی سہج صاحب اس کا لاجک سمجھ آگیا کہ نہیں ؟
جی جی جی مسٹر گڈ مسلم میں سمجھ چکا ہوں ، صرف اسلئے کہ بات کو گول مول کردیا جائے اور دس جگہ کا اثبات نہ دکھانا پڑے۔ بس
شکریہ

پوسٹ نمبر 54 کا جوابی پوسٹ مکمل ہوا
((((((((((((((((((((((مزید پوسٹوں کے جواب جاری ہیں)))))))))))))))))))
 

غازی

رکن
شمولیت
فروری 24، 2013
پیغامات
117
ری ایکشن اسکور
183
پوائنٹ
90
گڈ مسلم صاحب پہلے آپ یہ تو بتادیں کہ
١-رفع الیدین آپ کے ہاں سنت ہے یا حدیث؟
اگر سنت ہے تو دلیل پیش کردیں اور اگر حدیث ہے تو بھی دلیل پیش کریں اور ہماری جانب سے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ آپ کی دو دلیلیں ہیں یعنی قرآن اور حدیث۔ اسلئے امتیوں کے اقوال بلکل پیش نہیں کرنے۔

جب آپ یہ ثابت کرچکیں "دلیل" سے ،کہ رفع الیدین سنت ہے یا حدیث تو پھر یہ بھی بتادیجئے گا کہ کون سی سنت ہے یعنی
٢-فجر کی سنتوں کے جیسی یا پھر عصر کی سنتوں جیسی؟ اور اگر حدیث ہے تو بھی دلیل فراہم کردیں ۔

اور آخر میں جناب رفع الیدین کی گنتی کرکے ثابت فرمادیں کہ
٣-رفع الیدین کس کس رکن نماز کے ساتھ کرنا ہے اور کہاں کہاں نہیں کرنا یہ بھی گنتی کے ساتھ ۔

زیادہ لمبی چوڑی باتیں کرنے سے گریز فرمائیے گا کیوں کہ وقت کی کمی ہے میرے پاس ۔
اور رہی یہ بات کہ دعوٰی میں لکھوں ، تو بھئی آپ رفع الیدین کو ثابت کیجئے وہاں وہاں جہاں جہاں آپ کیا کرتے ہیں اور وہاں وہاں نہ کرنا دلیل سے ثابت کیجئے جہاں جہاں آپ نہیں کرتے ،اس کا درجہ بتائیے اور مقامات بتائیے تاکہ معلوم ہو کہ آپ رفع الیدین کو کیسے مانتے ہیں ؟ پھر میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں رفع الیدین کو کہاں کرتا ہوں اور کہاں نہیں کرتا اور کس وجہ سے ۔ویسے بائی دی وے آپ کا جوتا آپ کا سر میں انتظامیہ کو میں نے مجبور نہیں کیا اور ناہی میں ایسا کرواسکتا ہوں اگر آپ کو انتظامیہ کے فیصلہ پر اعتراض ہے تو انتظامیہ سے بات کریں ۔

شروع کیجئے ، ٹودی پوائین۔
نوٹ:گنتی کے ساتھ رفع الیدین کی دلیل ضرور فراہم کیجئے

شکریہ
آپ یہی ساری باتیں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین یا عیدین اور وتر والے رفع الیدین کی بابت بتلادیں ۔
اوردلیل میں قران ، حدیث ، اجماع ، قیاس ، یا کم از کم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا فتوی ہی پیش کردیں ۔
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
(گڈ مسلم کی پوسٹ نمبر55 کا جواب)
قارئین کرام سہج صاحب کی پوسٹ نمبر33 میری پوسٹ نمبر28 کا جواب ہے۔اس پوسٹ کے کچھ حصے کا جواب پوسٹ نمبر54 میں پیش کیا تھا۔ کچھ مصروفیات کی وجہ سے باقی حصے کا جواب اب پوسٹ کیا جارہا ہے۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
محترم المقام مانتا ہوں آپ دلیل دکھا چکے ہیں۔ جناب دلیل دکھانے کی غرض سے پیش نہیں کرنی اور نہ ہی آپ کی ایسی دلیل قابل تسلیم ہوگی جو صرف دکھانے کی حد تک ہوگی۔ جناب یہ شرعی مسئلہ ہے، اور یہاں دلائل دکھائے نہیں جاتے بلکہ ایسے دلائل پیش کیے جاتے ہیں جو صحیح بھی ہوں۔
شکر ہے کم از کم یہ تو مان ہی لیا آپ نے کہ دلیل دکھا چکا اسے آپ نے ماننا نہیں ، کیونکہ آپ فرقہ غیر مقلد سے تعلق رکھتے ہیں ۔اور مخالف کی دلیل کو مردود کہنا ضروری ہے آپ کے ہاں وہ بھی بے دلیل ۔ بے دلیل اسلئے کہ امتی کا قول آپ کے ہاں "دلیل" نہیں ۔ الحمد للہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت نہ ہی جھوٹی ہے اور ناہی مردود ۔ یہ بھی میں دکھا چکا ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جو آپ نے دلیل دکھائی یعنی پیش کی تھی اس وقت جب میں نے بخاری سے ان مقامات پر رفع الیدین کرنے کی صریح حدیث پیش کی تھی جن مقامات پہ ہم رفع الیدین کرتے ہیں اور دلیل بھی ایسی تھی کہ آپ کو اقرار کرنا پڑا کہ میں اس دلیل کو مانتا ہوں ( مان کر عمل سے کیوں انکاری ہیں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے حدیث دشمنی آڑے ہے یا تقلید کا پھندا یہ میں نہیں جانتا ) تو آپ نے اس کے جواب میں جو دلیل پیش فرمائی اس کا مقام کیا تھا وہ پوسٹ نمبر46 میں بیان کیا جاچکا ہے۔ اگر تکلیف برداشت ہوسکے تو اس پوسٹ کی طرف رجوع کرلیں۔
گڈ مسلم آپ کو غلط فہمی ہے کہ آپ نے جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کیا وہ آپ کے عمل کے مطابق ہے ۔ آپ کا عمل اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل ایک جیسا نہیں (اس روایت میں جو آپ نے پیش کی) ۔ یعنی دس جگہ کا اثبات صراحت کے ساتھ موجود نہیں ھے ۔ اور الحمد للہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کا منکر اب بھی نہیں اور قیامت تک نہیں ہوں گا ۔ اس پر عمل کیوں نہیں کرتا یہ بھی بتاچکا کہ وہ پہلے زمانے کا عمل تھا ۔ اور میں الحمدللہ بعد کے " جاری " عمل پر عامل ہوں ۔اور اور اور مسٹر گڈ مسلم موجودہ پوسٹ تک آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا کہ یہ عمل کس کا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ؟؟؟؟ بحر حال میں آپ کو پہلے بھی بتاچکا پھر بتادیتا ہوں بغیر لنک دئیے دیکھو۔
قال ابو داود الصحيح قول ابن عمر وليس بمرفوع ‏.۔۔سنن ابوداود،أبواب تفريع استفتاح الصلاة‏
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں
اسکے جواب میں آپ اسکے سوا کیا کہو گے کہ "یہ اک امتی کی رائے ہے جو گڈ مسلم کے فرقہ غیر مقلد میں حجت نہیں"
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
مطالعہ کے بعد اگر کوئی علمی اعتراض ہو تو پیش کیجیے گا۔ بازاری اعتراضات کے جواب دینے کا وقت نہیں ہے میرے پاس۔
آپ کے پاس ہے کیا؟؟؟؟؟؟؟( وقت آپ کے پاس نہیں بیسیوں دنوں کے بعد پوسٹ لکھتے ہیں اور وہ بھی من مرضی کی ، یعنی پوسٹ کے جواب میں پوسٹ کی بجائے من مرضی انداز اختیار کئے ہوئے ہیں اور پوسٹوں کو بلاجواز طول دیتے جارہے ہیں ) دلیل صریح آپ کے پاس نہیں ؟ شروع نماز ،رکوع جاتے اٹھتے اور تیسری رکعت اٹھتے کی رفع یدین دکھا کر کہتے ہیں کہ ثابت کردیا دوجمع دو چار کرکے ، کہ یہ ہے ہمارا عمل ۔ ماشاء اللہ ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
حضور سہج صاحب آپ نے فرمایا ہوا ہے کہ آپ رفع الیدین کو منسوخ مانتے ہیں۔ ( حالانکہ آپ نے تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کا اختصاص نہیں کیا۔ چلیں آپ کی غلطی ہی تسلیم کی جاتی ہے۔ ورنہ آپ کو اپنے الفاظ میں وضاحت کرنا چاہیے تھی جب آپ رفع الیدین کو منسوخ کہنے جارہے تھے۔ کہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کے علاوہ باقی رفعوں کو منسوخ مانتا ہوں) اور اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کےلیے ایک ایسی حدیث بھی پیش فرمادی جس کا اختلافی رفع سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ آپ کی پیش کردہ حدیث آپ کے مؤقف پر دلیل بن سکتی ہے یا نہیں۔ اس کا مفصل جواب پوسٹ نمبر47 میں دیا جا چکا ہے۔ برائے مہربانی وہاں کا چکر لگائیں۔ شکریہ ۔۔۔ چکر لگانے کے بعد آپ کو سمجھ آجائے گا کہ میں نے جو دلیل پیش کی ہے اس سے میرا مدعا ثابت بھی ہوتا ہے کہ نہیں ؟؟
گڈ مسلم صاحب آپ یا تو بھولے ہیں یا بھولا بنانے کی کوشش میں ہیں ؟ وہ بھی ایک جاہل کو ؟ مسٹڑ گڈ مسلم کو یاد کروادوں کہ اس تھریڈ کا موضوع جناب نے رکھا ہوا ھے موضوع: کیا مختلف فیہ رفع الیدین منسوخ ہے۔؟ اور پھر کبھی بات کرتے ہیں عیدین کی اور کبھی وتروں کی اور کبھی شروع نماز کی رفع یدین کی ۔ مسٹر گڈ مسلم مجھے تو لگتا ہے آپ بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہو اپنی ہی بنائی ہوئی۔ اور اب واپس نکلنے کا راستہ مل نہیں رھا ۔ مسٹر گڈ مسلم ہمت رکھئیے اور اپنا عمل ثابت کیجئے جو ابھی تک صریح دلیل سے پیش نہیں کیا ۔ جناب کبھی دو جمع دو چار کرتے ہیں اور کبھی تحریمہ والی رفع یدین کو ثابت کروانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جناب سے درخواستوں کی بھرمار کردی ہے کہ پلیییز اپنے عمل کے مطابق صحیح صریح دلیل پیش کردیں جس سے معلوم ہو کہ آپ کا عمل دلیل پر قائم ہے یعنی آپ کے دو ہی اصولوں کے مطابق۔
اور پوسٹ نمبر سینتالیس کا جواب وہی جاکر پڑھ لیں بلکہ پڑھ لیا ہوگا جہاں وہ پوسٹ ہے تلاش کیجئے اور اپنی پوسٹ سینتالیس کا جواب دیکھ لیں ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اس لیے میں کہنا چاہونگا کہ آپ نے ابھی تک اپنے مؤقف پر کوئی صحیح، صریح دلیل پیش ہی نہیں کی۔۔ برائے مہربانی اپنے مؤقف پر کوئی ایک صحیح، صریح حدیث پیش کرکے ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں۔ ورنہ میری پیش کردہ حدیث کے مطابق عمل شروع کردیں کیونکہ آپ خود کہہ چکے ہیں کہ میں اس حدیث کا انکاری نہیں۔۔۔
مسٹر گڈ مسلم ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو صحیح نہیں مانتے ۔ بلکہ مردود کہتے ہیں ۔ اور پھر بھی بنتے ہیں اہل حدیث ؟ اور الحمدللہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت و عمل کا انکاری نہیں ، عامل اسلئے نہیں کہ وہ عمل پہلے کا تھا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر عامل ہوں ۔ کیونکہ وہ بعد کا ہے ۔ الحمد للہ
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
یہ حدیث آپ کے مؤقف کی دلیل ہے ہی نہیں۔
ماشاء اللہ مسٹر گڈ مسلم یہ قول جو آپ نے پیش کیا یہ قرآن ہے یا حدیث ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
میری پیش کردہ حدیث سے کیا بات ثابت ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل سے وضاحت پہلے بھی پیش فرما چکا ہوں، مختصر دوبارہ بھی عرض ہے کہ
1۔ نماز شروع کرتے وقت رفع الیدین کرنا سنت رسولﷺ ہے
2۔ رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین کرنا سنت رسولﷺ ہے
3۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کرنا سنت رسولﷺ ہے
4۔ دو رکعت پڑھنے کے بعد جب تیسری رکعت کا آغاز کرنا ہے تو اس وقت رفع الیدین کرنا بھی سنت رسولﷺ ہے۔
اور میں پہلے بھی بتاچکا کہ ایک دو تین چار لکھ دینے سے آپ کا عمل ثابت نہیں ھوتا اور ناں ہی دو جمع دو چار کرنے سے ، کیونکہ آپ دس جگہوں کی رفع یدین مسلسل نہیں کرتے درمیان میں چھوڑتے بھی ہیں ۔ تو مزکورہ روایت میں آپ کا عمل مکمل نہیں دکھایا گیا آپ کی طرف سے ۔ اسلئے آپ سے التجا ہے کہ پلیییز پلیییز پلیییز اب اپنا اور میرا وقت برباد نہ کریں اور وہ دلیل پیش کردیں جس کے پیش ہونے کے بعد میرا جواب مجھے مل جائے اور آپ اور آپ کا فرقہ غیر مقلد سرخ رو ہوسکے ۔ ورنہ یاد رکھو مسٹر گڈ مسلم آپ کا فرقہ اور آپ لاکھ دو جمع دو چار اور ایک دو تین چار کرتے رھو آپ کا عمل ثابت نہیں ہوسکتا ۔
سنت رسولﷺ ہے یہ جواب اگلے سے اگلے سوال کا تھا جو آپ نے ابھی سے دے دیا لیکن یہ کیا اسکی بھی دلیل پیش نہیں کی ؟ کیا آپ "سنت" کو سنت بلادلیل مانتے کہتے کرتے ہیں ؟ ابھی نہیں مسٹر گڈ مسلم ابھی نہیں ! دلیل ضرور دیجئے گا رفع یدین کے سنت ہونے کی کہ کس نے قرار دیا رفع یدین کو "سنت" قرآن میں آیا یا حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ؟ ابھی تو آپ صرف دس جگہ کا اثبات دکھائیے چار رکعت نماز میں ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اور ہم اہل حدیث الحمدللہ اس حدیث پر عمل کرتے ہیں اور ان شاءاللہ قیامت تک کرتے رہیں گے۔ اور فرق باطلہ کے اعتراضات کے جوابات بھی منہ توڑ دیتے رہیں گے۔۔ان شاءاللہ
مسٹر گڈ مسلم اب توڑ بھی چکو منہ ، کہیں ایسا نہ ہو آپ اپنا سا منہ لیکر رہ جائیں اور چیونٹیاں چٹ کر جائیں کھیت ۔ اور آپ دس جگہ کا اثبات دکھا ہی نہ سکو ۔
بائی دی وے مسٹر گڈ مسلم لگتا ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل والی روایت کے سوا آپ کے پلے کچھ بھی نہیں یعنی اور کوئی روایت موجود ہی نہیں ورنہ کوئی اندھا بھی نہیں مان سکتا کہ مزکورہ تھریڈ کے اس پچپن نمبری مراسلہ میں بھی خالی دعوٰی کیا جارہا ہے کہ "منہ توڑ دیتے رہیں گے" اور منہ کیسے توڑتے ہیں دو جمع دو چار کرکے ۔ماشاء اللہ

گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
دوسری بات مولانا چالاک بننے کی تو بہت کوشش کرتے ہیں لیکن چالاک بننا نہیں جانتے یا جس سے پڑھ کر آتے ہیں اس کے بتائے ہوئے تمام ڈھنگ یاد ہی نہیں رکھ پاتے۔ آپ نے '' اسکنوا فی الصلاۃ '' والی حدیث پیش کرکے اپنے تائیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم نماز کی اندر والی رفع الیدین نہیں کرتے۔ اور دلیل پکڑی '' فی الصلاۃ '' کے الفاظ سے۔ اور پھر اپنی تائید حاصل کرنے کےلیے میری پیش کردہ حدیث کو بھی بغیر سوچے سمجھے ذکر کردیا ۔۔اور فرمان جاری کردیا کہ '' آپ کی پیش کردہ روایت سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے '' واہ جناب واہ
چالاک بننے کی ضرورت ہی نہیں مجھے کیوں کہ میں جاہل ہوں ۔ الحمد للہ جو ہوں وہی بتاتا ہوں اپنے آپ کو ، فرقہ جماعت غیر مقلدین کی طرح نہیں کہ دو جمع دو چار کرکے بھی اپنے آپ کو اہل حدیث پکاروں ۔
اور الحمد للہ اب آپ کے ڈھکوسلہ کا جواب دکھاتا ہوں '' فی الصلاۃ '' کے بارے میں۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
سہج صاحب آپ نے جو حدیث پیش کی اس میں '' فی الصلاۃ '' کے الفاظ ہیں اور میں نے جو حدیث پیش کی اس میں بھی '' فی الصلاۃ '' کی الفاظ ہیں۔۔ دیکھیئے اپنی حدیث '' اسکنوا فی الصلوٰة '' اور دیکھیئے میری حدیث '' كان إذا دخل في الصلاة '' جب اپنی حدیث کا ترجمہ پیش کیا تو ان الفاظ کا ترجمہ کیا '' تم لوگ نماز میں سکون سے رہا کرو۔'' اور جب میری حدیث کا ترجمہ پیش کیا تو ہیڈنگ ٹو لگا کر یوں پیش کیا (میں نے کیا ترجمہ کیا تھا وہ میری سردردی تھی۔پر آپ کو کیا ترجمہ پیش کرنا چاہیے تھا وہ آپ اپنی پیش کردہ حدیث سے موازنہ کرتے ہوئے اس بات کا خصوصی خیال کرتے) '' جب نماز کا آغاز فرماتے '' محترم جناب جب آپ نے اپنے الفاظ '' فی الصلاۃ '' کا ترجمہ نماز میں کیا ہے تو پھر میرے الفاظ '' فی الصلاۃ '' کا ترجمہ نماز کا آغاز کرتے کیوں کیا ہے ؟ ( میں نے کیا ترجمہ کیا ہوا ہے اس بات کو رگڑنے مت بیٹھ جانا جو آپ سے پوچھا ہے اس کا جواب دینا شکریہ ) یہ تو ہوئی ترجمہ کی بات۔۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں الفاظ ہیں دخل في الصلاة اور جناب گڈ مسلم صاحب دخل کو بھی نماز میں کہتے ہیں ، ماشاء اللہ کیا زبردست قسم کے اہل حدیث ہیں ۔ واہ، یعنی گڈ مسلم کے مطابق بندہ نماز شروع پہلے کرتا ہے اور رفع یدین (تحریمہ )بعد میں کرتا ہے ۔ ایک اور واہ۔
یہ تو ہوئی ترجمہ کے بارے میں آپ کے ڈھکوسلہ کی بات۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اور پھر جناب اگر آپ اپنی حدیث سے تکبیر اولیٰ والی رفع الیدین کے علاوہ باقی رفعوں کو منسوخ ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کررہے ہیں تو پھر آپ کو میری حدیث سے یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ تکبیر اولیٰ والی رفع الیدین بھی نماز میں کی جاتی ہے۔ کیونکہ دونوں احادیث میں '' فی الصلاۃ '' کے الفاظ ہیں۔ اگر آپ اپنی حدیث سے تکبیر اولیٰ والی رفع کو خارج کررہے ہیں اور باقی رفعوں کی منسوخیت پر ایز اے دلیل پیش کررہے ہیں تو پھر میری پیش کردہ حدیث سے بھی تکبیر اولیٰ والی رفع کو خارج تسلیم کرنا ہوگا۔اور آپ کو کہنا ہوگا کہ گڈمسلم صاحب آپ نے جو حدیث پیش کی اس میں تکبیر اولیٰ والی رفع الیدین کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے جب آپ تسلیم کرلیں گے کہ گڈمسلم صاحب آپ کی حدیث سے بھی میں تکبیر اولیٰ والی رفع کو خارج مانتا ہوں۔ تو پھر ان شاءاللہ مزید باتیں ہونگی۔۔ فی الحال اس پر آپ کا جواب مطلوب ہے۔۔
مسٹر گڈ مسلم اب یہ آپ کا کام ہے کہ آپ شروع نماز کی رفع یدین کو نماز سے باہر ثابت کرو ۔ کیونکہ آپ کی ساری بات جو اوپر لکھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شروع نماز کی رفع یدین کو بھی مختلف فیہ مانتے ہو اور میں الحمد للہ تمام امت محمد کی طرف سے گواہی دیتا ہوں کہ امت کے کسی بھی فرقے میں تکبیر تحریمہ والی رفع الیدین کا کوئی جھگڑا نہیں کیونکہ سب مانتے ہیں کہ تحریمہ والی رفع یدین نماز کے اندر یعنی فی الصلاۃ نہیں بلکہ نماز شروع کرنے دخل فی الصلاۃ والی ہے ۔ اور مسٹر گڈ مسلم تحریمہ کی رفع یدین کو بھی مختلف فیہ ثابت کررہے ہیں ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
بہت خوب دوھرا معیار۔۔ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ نماز میں داخل ہونے کےلیے تکبیر اور رفع یدین کرتے ہیں اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ نماز میں داخل ہونے کے بعد کی تمام رفع یدین منع کردی گئی ہیں۔۔ حالانکہ دونوں میں الفاظ '' فی الصلاۃ '' کے ہیں۔ ترجمہ میں فرق کس بناء پہ کررہے ہیں مولانا ؟ آپ کی ہی باتیں اس بات پر شاہد ہیں کہ آپ کی بھی پیش کردہ دلیل بھی آپ کے مؤقف کے خلاف ہے۔۔ اور اس کی تفصیلی وضاحت پوسٹ نمبر47 میں پیش بھی کی جاچکی ہے۔
مسٹر گڈ مسلم دخل فی الصلاۃ میں دخل نماز کے اندر ہے یا باہر ؟
اور" نماز میں داخل ہونے کے بعد کی تمام رفع یدین منع کردی گئی ہیں" یہ الفاظ حدیث کے ہیں یا میرے ؟اور اک بار پھر غور کیجئے دحکوسلوں سے دور رہتے ہوئے دخل فی الصلاۃ پر ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
بات کو گھمانے کی کوشش بہت کرتے ہیں مولانا سہج صاحب آپ۔ لیکن گھما سکتے نہیں۔ اس لیے ناکام ہی رہ جاتے ہیں۔ جناب میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ جو بلا دلیل کہہ دیں گے میں مان لونگا بلکہ میں نے '' بادلیل '' کے الفاظ بھی بولے تھے۔ اور جناب کو تقلید کی تعریف بھی شاید یاد ہوگی کہ '' تقلید بلادلیل بات مان لینے کو کہتے ہیں۔'' اس لیے جناب میری بولے گئے الفاظ ''فما کان جوابکم فہو جوابنا '' پر آپ کا مجھے حنفی مقلد ہونے کی نصحیت کرنا ناسمجھی پر دلالت کرتا ہے۔ گزارش ہے ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں اور آپ ہمیں بادلیل بتائیں کہ آپ جو رفع کرتے ہیں وہ سنت ہے؟ یا حدیث ہے؟ یا فجر کی سنتوں کی طرح ہے؟ یا عصر کی سنتوں کی طرح ہے۔ جو جواب آپ کا وہی جواب میرا۔ جناب جواب دینے میں ذرا جلدی کیجیے۔اور مجھے اپنے ساتھ ملا لیجیے۔ لیکن جناب جواب دلیل صحیح کے ساتھ تسلیم ہوگا۔ اغیرہ وغیرہ کے قول پر نہیں۔۔ اس بات کا دھیان کرلینا۔
مسٹر گڈ مسلم ابھی تک آپ سے سنت اور حدیث کے بارے میں باقائدہ سوال کا جواب نہیں مانگا کیونکہ ابھی تک آپ دس جگہ کی رفع یدین بھی ثابت نہیں کرسکے ۔ پہلے اسے ثابت کرلیں پھر مختلف فیہ رفع یدین کے سنت یا حدیث ہونے کی بات کریں گے ۔ اور جناب سے گزارش ہے کہ اگر آپ شروع نماز کی رفع یدین کو بھی مختلف فیہ سمجھتے ہیں تو واضح الفاظ میں تحریر کیجئے تاکہ پھر آپ کے اس دحکوسلہ کو بھی سمجھا جاسکے ۔ باقی رہا آپ کو تقلید کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ ماشاء اللہ قرآن اور حدیث کے علاقہ قیاس کو بھی دلیل حجت مانتے ہیں ۔ دو جمع دو چار امید ہے سمجھ گئے ھوں گے؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
آپ کے اس فرمان عالیشان '' خود بخود دلیلیں سمجھ آجائیں گی۔'' نے حیرانگی کی انتہاء میں ڈالنے کے ساتھ ششدر کرکے رکھ دیا ہے۔ کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ ہم دلائل کو سمجھ ہی نہیں سکتے اس لیے کسی مجتہد کی تقلید واجب ہے۔ اور دوسری طرف آپ جیسے کچھ کرم نوا ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مقلد بن جاؤ دلائل خود بخود سمجھ آجائیں گے۔۔ بھائیوں مقلد بننے کے بعد آپ لوگ ایسی کیا چیز پلاتے ہیں؟ جس کی وجہ سے دلائل خودبخود سمجھ آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ کیا ہم پر ترس کرکے وہ چیز ہمیں بھی دینے کی نیکی کریں گے؟ ( اگر مہنگی ہے تو ہم اس کی قیمت بھی دینے کو تیار ہیں۔) تاکہ غیر مقلد ہوتے ہوئے بھی ہمیں دلائل خودبخود سمجھ آجائیں اور ہم اسی طرح زندگی گزارنا شروع کردیں جس طرح نبی کریمﷺ نے بتائی اور صحابہ نے عملی نمونہ پیش کرکے دکھایا۔۔اگر وہ چیز جس سے دلائل خود بخود سمجھ آجاتے ہیں پینے کے بعد مقلد ہونا ضروری ہوا تو مقلد بھی ہوجائیں گے۔ (کیونکہ مقصود مقلد یا غیر مقلد ہونا نہیں بلکہ زندگی کا مقصد اسوۂ رسولﷺ کے مطابق چلنا ہے) لیکن پہلے ذرا اس چیز کا تعارف اور ایز اے ٹرائیل ہمیں دی تو جائے ناں۔( جس طرح سوفٹ وغیرہ کے ٹرائیل ورژن دیئے جاتے ہیں۔) کیا خیال ہے مولانا سہج صاحب پھر کب مجھے ٹی سی ایس کروا رہےہیں ؟
وقت بچانے کی خاطر مسٹر گڈ مسلم کی ایک ایک سطر کے جواب میں کئی کئ سطروں کے فضول خیالات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جانے کو دل کرتا ہے کیونکہ جناب لمبی لمبی باتیں بنانے کے ماہر معلوم ہوتے ہیں ، جبکہ میں چاھتا ہوں کہ اصل موضوع پر ہی بات رہے ۔ اور گڈ صاحب دس جگہ کا اثبات دکھاکر بات کو آگے بڑھائیں ۔ لیکن گڈ صاحب کو کچھ اور ہی کرن اہے شاید ۔ بحرحال ۔
گڈ مسلم صاحب آپ دلیل نہیں جانتے جس میں دس جگہ کا اثبات صراحت کے ساتھ ہو اور آپ کو دو جمع دو چار کا سہارہ بھی نہ لینا پڑے ۔ ٹھیک؟
اور میں جاہل بندہ الحمد للہ جانتا ہوں شروع نماز میں رفع یدین کرنے کی اور باقی مقامات پر رفع یدین نہ کرنے کی دلیل ۔ دیکھ لیا ایک مقلد اور غیر مقلد کا فرق ؟
آپ غیر مقلد ہوکر بھی امتیوں کی رائے سے حدیث کو صحیح ضعیف وغیرہ کہتے ہو اور جھوٹا دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم امتیوں کی تقلید نہیں کرتے ۔
اور میں الحمد للہ اپنے مسلک کے کسی مولوی سے ہی سہی، پوچھ کر عمل کروں تو وہ بھی سنت کے مطابق ہوگا ۔ ان شاء اللہ
یہ ہے فرق غیر مقلد اور مقلد کا ، کہ غیر مقلد دلیل نہیں جانتا لیکن "سنت" کہتا ہے اور مقلد کے لئے دلیل جاننے بغیر مولوی کا کہا مان کر "سنت" مان لینا تقلید کی رو سے اسے غیر مقلد سے ممتاز کرتا ہے ۔ کیوں کہ غیر مقلد جب تک دلیل نہ جانے اس وقت تک عمل کو کرنہیں سکتا "سنت" کہنا تو دور کی بات ۔ غور کیجئے گا مسٹر ، "دلیل جاننا ضروری ہے "غیر مقلد کے لئے ، ھے کہ نہیں ؟ یا کوئی گنجائش ہے غیر مقلد جاھلوں کے لئے بھی ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جناب کی خدمت میں ایک گزارش کرتا چلوں کہ گڈمسلم صاحب شخصیات کو نہیں دلائل کو دیکھتا ہے۔ اور آپ کو بھی مشورہ دیتا ہے کہ شرعی معاملات میں دلائل کو دیکھا کریں شخصیات کو مت دیکھا کریں۔اسی میں ہی بھلائی ہے۔اور آپ سے بھی جو مطالبہ کیا تھا وہ بھی دلیل کے ساتھ تھا۔۔ اس لیے جب آپ دلیل کے ساتھ میرے مطالبے کو پورا کردیں گے۔ تو گڈمسلم صاحب دلائل کو دیکھنے اور پرکھنے کے بعد ہی آپ کے مؤقف کو تسلیم کرے گا۔۔ اور پھر کہے گا کہ ٹھیک ہے میرا بھی یہی جواب ہے لیکن دلیل کے بغیر آپ کہہ دیں اور پھر یہ خیال کرلیں کہ گڈمسلم صاحب بھی میرے اس مؤقف کو تسلیم کرلیں یہ ممکن نہیں۔۔ناممکن ہے۔
آپ کی دلیل کیا ہے ؟
قرآن ؟
حدیث؟

یا اسکے علاوہ بھی کچھ اور ؟؟؟؟؟
اب وضاحت کرہی دیں تاکہ معلوم تو ہو مسٹر گڈ مسلم کس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں ؟ میں جسے فرقہ جماعت اہل حدیث کا بندہ سمجھ رہا ہوں وہ اصل میں ہے کیا ؟ دلیل دلیل دلیل کی رٹ لگی ہوئے ہے اور ڈھیر لگاتے جاتے ہیں امتیوں کے اقوال کے کہ فلاں نے صحیح کہا اور فلاں نے کہا کہ صحیح نہیں ، فلاں نے کہا جھوٹ ہے اور فلاں نے کہا کہ درست ہے ۔
مسٹڑ گڈ مسلم وضاحت کریں اپنی دلیلیں نمبر وار لگائیں تاکہ فیصلہ ہوسکے کہ کون سی دلیل کس طرح پیش کرنا ہے ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جناب مولانا سہج صاحب بعد کی باتیں بعد میں ۔۔ پہلے کی باتیں پہلے۔۔ اس لیے پہلے ثابت کریں۔۔ بعد کےمراحل تک ہاتھ کو باندھ کر رکھیں۔۔شکریہ
جی مسٹر گڈ مسلم اب آپ پہلے اپنی دلیلوں کی فہرست پیش کیجئے پھر دیکھئیں گے کہ آپ تقلید کے مجرم ہیں کہ نہیں ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جناب آپ ثابت تو کریں ناں۔۔ یہ کیا بات ہے کہ ثابت کرتے نہیں اور مجھے مشورے دیتے جارہے ہو کہ آپ مقلد ہوجائیں حنفی ہونے کا اعلان کردیں۔ دلائل خود بخود سمجھ آجائیں گے۔۔ دن رات اور رات دن ہوجائے گی۔ یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا۔۔ اللہ کے ولی پہلے ثابت تو کرو۔۔ لیکن ثابت کرتےہوئے میری اس بات کا خاص خیال رکھنا کہ '' دلیل کے ساتھ '' اور پھر میں آپ ک بتاؤں گا کہ دلیل کے ساتھ جو بات مانی جائے اس بارے حنفی علماء کیا کہتے ہیں؟ کیا اس کو بھی تقلید کانام دیتے ہیں ؟ اس لیے واویلا اور ادھر ادھر کی باتوں سے بہتر ہے کہ سارا فوکس اس بات کو ثابت کرنے پر لگائیں کہ آپ جو رفع کرتے ہیں وہ سنت ہے؟ یا حدیث ہے؟ یا فجر کی سنتوں کی طرح ہے؟ یا عصر کی سنتوں کی طرح ہے۔ بادلیل ثابت کرنا ہے۔
مسٹر گڈ مسلم پہلے آپ یہ ثابت کردیں کہ دخل فی الصلاۃ سے نماز کا اندر مراد ہے یعنی نماز شروع کرنے کے لئے نماز کے اندر ہونا ثابت کریں ، اس ثبات کرنے سے ہوگا یہ کہ آپ پہلی رفع یدین کو بھی اختلافی ثابت کرلیں گے ، دل کی بھڑاس نکال لیں ۔لیکن یاد رکھیں شروع نماز کی رفع یدین پر اختلاف آپ ڈال رہے ہیں ورنہ امت میں ایسا اختلاف موجود نہیں ۔ رہی بات رفع یدین جو ہم کرتے ہیں وہ سنت ہے یا حدیث ہے فجر جیسی یا عصر جیسی تو مسٹر غیر مقلد گڈ صاحب میں اہل سنت والجماعت ہوں اور میرے امام اعظم ہیں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ میں سنت پر عامل ہوں آپ کی طرح حدیث پر نہیں ،بھئی آپ کا نام ہی اہل حدیث رکھا ہوا ہے تو آپ حدیث پر عامل ہوئے ناں ؟َ اور میں اہل سنت والجماعت ہوں تو سنت پر عامل ہوا اور والجماعت کی رو سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رائے بھی جسے میرے امام ابوحنیفہ یا ان کے شاگردوں نے لیا اس پر عمل کرتا ہوں ۔ ویسے بائی دی وے آپ کا منہ بند کرنے کی خاطر بتادیتا ہوں صرف ورنہ موضوع یہ نہ تھا کہ شروع نماز یعنی تحریمہ والی رفع یدین کیا ہے ؟ تو مسٹر گڈ مسلم دل تھام کر رکھئیے کہ بتانے لگا ہوں،نماز شروع کرتے وقت کی رفع الیدین کرنا اہل سنت والجماعت احناف کے ہاں سنت ہے
حدثنا محمد بن المثنی حدثنا ابن عدی عن سعید عن قتادۃ بھذہ الاسناد انہ راءی نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال حتٰی یحاذی بھما فروع اذنیہ
صحیح مسلم جلد ایک صفحہ 745
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر اٹھاتے۔
امت کا اجماع شرح مسلم النوی سے
أجمعت الأمة على استحباب رفع اليدين عند تكبير الإحرام
نمازکی ابتداء میں تکبیرتحریمہ کہتے وقت رفع یدین (دونوں ہاتهہ اٹهانا) بالاتفاق مستحب ہے
موطا امام محمد صفحہ انانوے
تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین مسنون ہے
اب رہ گئی بات کہ فجر جیسی یا عصر جیسی ؟
تو مسٹر گڈ مسلم اس بات کا جواب آپ کو تب دیا جا یائے گا جب آپ اختلافی رفع الیدین کو ثابت کرچکیں گے یعنی دس جگہ کرنے کو ، اور پھر اپنے عمل کے مطابق رفع یدین کرنے کو سنت ثابت کریں گے "دلیل" سے ! اور آپ کی دلیلیں کیا ہیں یہ آپ سے پوچھا تھا پہلے اپنی دلیلیں ضرور بتانا پھر ان ہی دلیلوں سے رفع یدین کو سنت ثابت فرمانا ۔ اور پہلے آپ بتائیں گے کہ رفع یدین جہاں جہاں آپ کرتے ہیں وہ فجر جیسی ہے یا عصر جیسی۔ پھر میں بھی جواب دے دوں گا ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
آپ میری بات کو بھی پھر سے دیکھ لیجیے، سمجھ لیجیے اور اگر سمجھ آجائے تو جواب بھی عنایت کردیجیے۔۔ بہت بہت شکریہ ہوگا۔
١
-رفع الیدین آپ کے ہاں سنت ہے یا حدیث؟
اگر سنت ہے تو دلیل پیش کردیں اور اگر حدیث ہے تو بھی دلیل پیش کریں اور ہماری جانب سے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ آپ کی دو دلیلیں ہیں یعنی قرآن اور حدیث۔ اسلئے امتیوں کے اقوال بلکل پیش نہیں کرنے۔
جب آپ یہ ثابت کرچکیں "دلیل" سے ،کہ رفع الیدین سنت ہے یا حدیث تو پھر یہ بھی بتادیجئے گا کہ کون سی سنت ہے یعنی
٢-فجر کی سنتوں کے جیسی یا پھر عصر کی سنتوں جیسی؟ اور اگر حدیث ہے تو بھی دلیل فراہم کردیں ۔
اور آخر میں جناب رفع الیدین کی گنتی کرکے ثابت فرمادیں کہ
٣-رفع الیدین کس کس رکن نماز کے ساتھ کرنا ہے اور کہاں کہاں نہیں کرنا یہ بھی گنتی کے ساتھ ۔
پہلے صفحہ سے یہ سوالات بار بار آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں ، لیکن مجال ہے کہ آپ ایک سوال کا بھی جواب دے سکے ہیں ۔ بلکہ میں نے "منکر" ہوتے ہوئے بھی آہ کے سوال کے جواب میں اہل سنت والجماعت احناف کی دلیلیں پیش کردیں اپنے عمل کے مطابق الحمدللہ۔
جنہیں مسٹر گڈ مسلم مردود کہہ چکے ہیں امتیوں کو اپنی دلیل مانتے ہوئے یعنی امتی نے کہا کہ یہ یہ روایت صحیح نہیں اور گڈ صاحب نے فورا مان لیا بغیر دلیل کا تقاضہ کئے ۔ اور مزکورہ روایت کو باطل کہہ دیا ۔ واہ کیا زبردست اصول ہیں فرقہ غیر مقلدین کے چشم و چراغ مسٹر گڈ مسلم کے ۔
دس جگہ کا اثبات ابھی تک نہیں دکھایا ، جلدی سے دکھائیے مسٹر گڈ ، تاکہ پھر ہم اگلے سوال کا رخ کریں ۔شکریہ
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
میں نے بھی بہت اچھی طرح پہلے بھی وضاحت کی تھی اور اب بھی کردی ہے۔ اس لیے آپ بار بار دیکھ لیجیے۔
نشان لگادیجئے اپنی وضاحت پر مسٹر گڈ مسلم تاکہ میں بار بار دیکھ سکوں ۔اور میں نے جو وضاحت کی تھی اسے پھر سے مختصرا پیش کردیتا ہوں تاکہ آپ کو یہ نہ کہنا پڑھے کہ نشان لگادو ۔
حاصل یہ کہ نماز میں داخل ہونے کے لئے تکبیر اور رفع یدین کرتے ہیں اور نماز میں داخل ہونے کے بعد کی تمام رفع یدین منع کردی گئیں کیوں کہ وہ فی الصلاۃ ہیں اور "سکون " کے خلاف ہیں۔(یاد رہے آپ اور ہم چار رکعت نماز کے بارے میں بات کر رہے ہیں )
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اس بحث میں پڑے بغیر کہ شافعی، حنبلی اور مالکیوں کا رفع الیدین کے بارے کیا مذہب ہے؟ آپ مجھے بس اس بات کا جواب دیں کہ شافعیوں کے پاس جو رفع الیدین کے مسنون ہونے پر دلائل ہیں وہ کیسے ہیں ؟ کہاں سے لائے گئے ہیں ؟ صحیح ہیں یا غلط؟ کیا وہ احادیث کی صورت میں ہیں؟ یا ان کے امام کے اقوالات ہیں؟ اور اگر ہوسکے تو شافعیوں کی دو چار دلیلیں بھی ذکر کردینا تاکہ ہمیں بھی تو پتہ چلے کہ ان مسئلہ پر شافعیوں کے پاس وہ کیسے دلائل ہیں؟ جو آپ کو بھی قابل قبول ہیں اور آپ ان کو بھی حق پر سمجھتے ہیں۔۔ شافعی بھی رفع الیدین کرتے ہیں ہم بھی رفع الیدین کرتے ہیں وہ درست اور ہم غلط ۔ذرا سمجھ نہ آنے والی بات ہے۔۔ آخر وہ کیسا رفع الیدین کرتے ہیں؟ یا ان کے پاس رفع الیدین کے کیسے دلائل ہیں؟ ان سے واقفیت ہمیں سہج صاحب کروائیں گے۔۔ اگر ہمت ہوئی ان میں تو۔۔
آسان الفاظ میں بتادیتا ہوں ، شافعی جو رفع الیدین کرتے ہیں وہ ان کے امام شافعی کا فیصلہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں ہے ۔
جبکہ آپ غیر مقلدین کسی امام کا فیصلہ ماننے کو شرک کہتے ہیں۔
مسٹڑ گڈ مسلم شافعی اور حنبلی رفع الیدین کریں تو بھی آپ کے ہاں مشرک اور نہ کریں جیسے حنفی اور مالکی ، تو نہ کرنے والے بھی مشرک ۔ تو مشرک شافعیوں کی دلیلوں کی فکر نہ کریں جناب ، اپنی دلیل پیش کریں جو کہ صریح ہو اور دس جگہ کی صراحت موجود ہو جسے آپ اپنے دروازے کے اوپر شان دار طریقے سے لٹکا سکیں اور شہر میں ڈھنڈورا پٹوا کر پیش کرسکیں کہ یہ ہے دلیل جس میں دس جگہ رفع یدین کرنے کا اثبات ہے اور اگر ایسی دلیل نہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مسٹر گڈ مسلم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کردیں کہ فلاں فلاں جگہ رفع الیدین کرنا سنت ہے اور فلاں فلاں جگہ چھوڑنا سنت ہے ۔ بس اتنا سا کام ہے اور آپ صرف اثبات کو ہی گسیٹتے جارہے ہو ۔ اب بتلائیے میں نے آپ سے آپ کی دلیلوں کے عین مطابق تقاضہ کیا ہے کہ نہیں ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
ہماری لیے لمحہ فکریہ نہیں اور نہ صحیح دلائل پر چلنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ کبھی ہوسکتا ہے۔۔ لمحہ فکریہ تو آپ جیسے تقلید پرستوں کےلیے ہے۔۔ اور مجھے معلوم ہے کہ آپ نے اس مسئلہ پر کس کس فورم پہ لکھا ہوا ہے اور آپ نے کیا کیا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔۔ ان شاءاللہ آپ کو دکھاؤں گا کہ آپ کا بھی اس مسئلہ پر ایک موقف نہیں بلکہ کسی جگہ کچھ اور کسی جگہ کچھ۔۔ اس لیے لمحہ فکریہ کے الفاظ کا رخ اپنی طرف ہی پھیر لیں تو مناسب ہوگا۔۔
جو تقلید اختلاف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہم اس تقلید کو گمراہی کہتے ہیں اور یہ تقلید ارباب من دون اللہ کے مترادف ہے۔۔
مسٹر گڈ مسلم میں نے آپ کو منع کیا ہے کہ میرے موقع پرستانہ موقف اور کس کس فورم پر لگائے ہوئے ہیں کو دکھانے سے ؟؟؟؟ دکھلائیے اور ضرور دکھائیے گا لنک سمیت لیکن الگ تھریڈ میں لیکن یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ۔ یہاں آپ رفع یدین کا اپنے عمل کے مطابق دس جگہ کا اثبات تو جناب دکھا نہیں پارہے اور دوسرو فورمز اور تقلید اور اغیرہ وغیرہ میں وقت برباد کر رہے ہیں ۔ ،سٹر گڈ مسلم دس جگہ کی رفع یدین کا اثبات دلکھلائیے اور اگلے سوال کا رخ کیجئے۔ مہربانی
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
ہم صحیح دلائل کے محتاج ہوتے ہیں جناب۔۔۔ اس بات کے محتاج نہیں کہ دلیل کہاں سے اور کس گروہ سے آرہی ہے۔۔ شافعیوں اور حنبلیوں نے دلائل اپنے گھر سے نہیں بنا لیے۔ جو وہ دلائل اس مسئلہ پر پیش کرتے ہیں اگر صحیح ہیں تو قابل تسلیم لیکن اگر صحیح نہیں تو پھر ان دلائل کو نہیں مانا جائے گا۔۔ چاہے وہ غیر صحیح دلائل اثبات میں ہی کیوں نہ ہوں۔۔ ہم لوگ آپ لوگوں کی طرح نہیں کہ اپنے مؤقف پر ہر طرح کی دلیل چاہے وہ ضعیف ہو یا موضوع تسلیم ہے لیکن مؤقف کے خلاف صحیح دلیل میں بھی تاویل پیدا کرکے ٹھکرا دیا جاتا ہے۔۔۔ ہمیں چاہے اثبات پر دلائل دیئے جائیں یا نفی پر ۔۔ شرط ہے کہ دلائل کا صحیح ہونا ضروری ہے۔۔
اصل بات یہ ہے کہ مقلد مشرکین کی دلیل آپ لیں ہی کیوں ؟ سہی ہونا دلیل کا تو دور کی بات ہے آپ تو مقلدین کو مکمل ایمان والا ہی نہیں مانتے ۔ کیوں ٹھیک ہے کہ نہیں ؟ جب آپ کو مقلدین کے ایمان پر ہی شک ہے تو پھر اس کی دلیل اگر صحیح بھی ہو تو اس کا آچار ڈالنا ہے آپ نے ؟ آپ صرف اپنی دلیل پیش کیجئے اور رفع یدین کو دس جگہ پر ثابت کیجئے ۔ شکریہ
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
باقی میں اپنے عمل پر ایسی حدیث پیش کرچکا ہوں جس کے بارے آپ کو اعلان کرنا پڑا کہ میں آپ کی دلیل کا انکاری نہیں
الحمد للہ میں غیر مقلدین کی طرح ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ، روایت کو مانتا ہوں بلکل مانتا ہوں ، اور آپ روایات کو مردود اور باطل قرار دیتے ہو ، وہ بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت جس کے بارے میں آثار موجود ہیں کہ وہ روایت صحیح اور حسن ہے ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اور اس دلیل میں ہی آپ کے چورے کیے گئے الفاظ کا عین جواب موجود ہے۔
چوری کئے گئے ؟ چلیں آپ خوش ہوجائیے ۔ لیکن یاد رکھئیے جناب آپ بھی اسی قبیل میں سے ہوچکے پھر تو ، کیونکہ آپ نے بھی وہی سوالات مجھ پر کئے جو میں نے آپ پر کئے ۔ تو چوری شدہ سامان استعمال کرنے والا بھی چور کا ساتھی ہی ہوتا ہے ۔ کیا خیال ہے ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ گڈمسلم صاحب یہ الفاظ '' دس جگہ کا اثبات اور اٹھارہ کی نفی '' آپ کے دعویٰ میں ہیں اور آپ کو عین دعویٰ کے مطابق دلیل دینا ہوگی تو جناب کےلیے عرض ہے میں نے اس طرح کے الفاظ نہیں لکھے۔۔بلکہ آپ کی ضدیت کو اچھی طرح توڑا ہے لیکن آپ کی طرف سے ہٹ دھرمی بھی شرما گئی ہے۔۔
اب تک آپ کر کیا رہے ہیں مسٹر گڈ مسلم ؟؟ بھول گئے جناب ؟ میں یاد کروا دوں ؟ دو جمع دو چار کون کر رہا ہے اپنے عمل کو ثابت کرنے کی کوشش میں ؟ کہہ دیجئے مسٹڑ گڈ مسلم کہ آپ نے ایسا بھی نہیں کیا ۔
آپ نے دو جمع دو چار دس کا اثبات دکھانے کو کیا تھا یہ ہے ثبوت آپ کے چھوٹے الزام کا ۔
گڈمسلم;65725 نے کہا ہے:
سہج بھائی کی خدمت میں ان کی پوسٹ نمبر10 پر بنا کچھ کہے (ٹائم کی قلت۔گزارشات ضرور پیش کرونگا) ابھی صرف ایک حدیث پیش کررہا ہوں۔ان کا مطالبہ ہے کہ دس بار کرنے کی اور اٹھارہ بار نہ کرنے کی دلیل دیں۔ اور یہ دو باتیں ہیں۔ ایک دس بار کرنے کی اور دوسری اٹھارہ بار نہ کرنے کی۔ اس لیے میں ابھی پہلی بات کو پیش کر رہا ہوں۔
فضول باتوں میں وقت خراب نہ کیجئے مسٹر ، دس کا اثبات دکھائیے تاکہ اگلی بات کی جاسکے
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
ہٹ دھرمی شرمائے کیوں ناں ؟ کیونکہ خود تسلیم کرلیا کہ گڈمسلم صاحب آپ نے چار کی تعداد تو حدیث سے دکھائی لیکن باقی چھ کی تعداد آپ نے قیاس سے دکھائی ہے۔۔ آپ قیاس کو نہیں مانتے اس لیے چھ کی تعداد بھی حدیث سے دکھائیں۔۔۔
بلکل ٹھیک ، آپ نے شروع نماز کے علاوہ رکوع جانے ،اٹھنے اور تیسری رکعت کے شروع کی رفع یدین دکھلائی ، اور پھر قیاس فرمایا جمع جمع برابر برابر کرکے ۔ یہ جو جمع اور برابر کیا ہے اسکی دلیل ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جوابی طور میں نے جب کہہ دیا کہ پہلی بات یہ قیاس ہے ہی نہیں (اگر قیاس ہے تو ثابت کیجیے ) بلکہ آپ کی طرح اگر گنتی پر آئیں تو چار کی طرح چھ بھی حدیث سے ثابت ہیں لیکن اگر آپ اس پر قیاس قیاس کا ہی نعرہ لگانے سے نہیں رکتے
ثابت شدہ بات ہے مسٹر گڈ مسلم کہ آپ نے جو جمع جمع اور برابر کیا ہے اسکی دلیل قرآن یا حدیث سے پیش نہیں کی ، اسلئے وہ قیاس ثابت ہوا آپ کا ۔اور پہلی بات یہ قیاس ہے ہی نہیں کی دلیل پیش کرنا آپ پر ہی لازم ہے مسٹر گڈ ۔کیونکہ اس جمع جمع برابر ککے قیاس ہونے کا انکار جو کر رہے ہیں ۔ اور یہ کیا ؟؟؟؟ آگے قیاس کو ہی ماننے کا اقرار۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
تو پھر سن لو قرآن وحدیث سے مستنبط قیاس کو میں مانتا ہوں۔
اب آپ ثابت کیجئے کہ آپ نے جو دو جمع دو چار وغیرہ کیا ہے وہ قرآن و حدیث سے مستنبط ہے اور آپ کے آباء اکابرین نے بھی قیاس کو حجت مانا ۔
بائی دی وے ، اگر مان لیا جائے کہ آپ کی تیسری دلیل قیاس شرعی ہے تو آپ اہل حدیث ہی رہیں گے ؟ یا اہل حدیث و قیاس کہلائیں گے ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اس لیے باقی چھ رفعیں بھی ثابت ہوگئی۔۔ اب بھی نہ ماننے کی وجہ مجھے سمجھ نہیں آئی۔۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کس وجہ سے آپ تسلیم کرنے پر راضی نہیں ؟؟؟
آپ کے قیاس کو ماننے کے دعوے سے اور دوجمع دو چار کرنے سے رفعیں ثابت نہیں ہوئیں جب تک آپ اپنا عقیدہ،اور اکابرین فرقہ غیر مقلدین کا اثر پیش نہیں کرتے قیاس کے بارے میں اور جب تک آپ قیاس کو حجت یعنی دلیل شرعی ماننا فرقہ جماعت اہل حدیث سے ثابت نہیں کرتے اس وقت تک سمجھ لیں کہ یہی وجہ ہے آپ کے کئے ہوئے قیاس کو نہ ماننے کی ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
سچ کہتے ہیں کہ جب جاہل لوگ بھی مسائل دینیہ میں گفت وشنید کرنے لگ پڑیں تو اس طرح کی بو العجبیاں سامنے آیا کرتی ہیں۔۔( جناب جاہل آپ خود اپنے آپ کو کہہ چکے ہیں اس لیے میرے الفاظ پہ غصہ مت کرنا) اب میں آپ کو ایسی صریح دلیل دوں کہ جس میں ہو نبی کریمﷺ نے فرمایا ہو کہ رفع الیدین پر اختلاف ہوگا یاد رکھو اختلافی رفع الیدین منسوخ نہیں۔۔ اگر میں آپ سے پوچھ لوں کہ آپ اپنے دعویٰ رفع الیدین منسوخ ہے صرف دعویٰ پر صریح دلیل پیش کریں تو کیا خیال ہے جناب کو سانپ تو نہیں سونگھ جائے گا ؟؟ بچے بھی ایسی حرکتیں اور باتیں نہیں کرتے جو آپ کرنا شروع ہوگئے ہیں۔۔ سب خیریت تو ہے ناں ؟؟
آپ کے دعوے پر ہی تو دلیل مانگی ہے ۔ اسمیں حیران ہونے کی یا جہالت ڈھونڈنے کی کیا وجہ؟ اور آپ نے جو دلیل پیش کی ہے اثبات دکھانے کے لئے وہ تو ہے ہی ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ۔ جو کہ ویسے ہی آپ کے لئے حجت نہیں ۔ پھر دس جگہ کا اثبات بھی موجود نہیں ۔ اسی لئے تو جناب کو قیاس کو حجت شرعیہ ماننے میں عافیت نظر آئی ۔ یہ الگ بات ہے کہ قیاس کو حجت شرعیہ یعنی اہل حدیث کی تیسری دلیل ثابت کرنا ابھی باقی ہے ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
ابتسامہ پر ابستامہ .... ایک طرف کہا جارہا ہے کہ دعویٰ پر دلیل صریح دو اور پھر اسی کی وضاحت میں کہا جارہا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے۔۔ واہ جی واہ ۔۔۔۔ یہ ہوئی ناں کمال کی بات۔۔۔ جناب بات بھی ختم ہوچکی ہے اور مبارک بھی وصول کر چکا ہوں کیونکہ میں اپنے عمل کے عین مطابق ( اگر آپ کی طرح گنتی پر آئیں تو دس کا اثبات اور اٹھارہ کی نفی بھی ثابت ہوتی ہے) ایسی دلیل پیش کرچکا ہوں جس کے بارے میں آپ نے خود کہہ دیا کہ میں انکاری نہیں۔۔ اب نہ ماننے میں کیا مجبوری ہے وہ آپ جانتے ہیں۔۔ اگر بیان کردیں تو ہوسکتا ہے میں یا کوئی اور قاری آپ کی کوئی ہیلپ کرسکیں۔۔ شرمائیے مت۔۔ اللہ سب بھلا کرے۔۔
مسٹر گڈ مسلم آپ اور آپ کی ساری جماعت اہل حدیث اولین اور آخرین مل کر بھی آپ کے الفاظ اختلافی رفع یدین منسوخ نہیں کے عین مطابق دلیل پیش نہیں کرسکتے ۔ اسی لئے آپ کو تھوڑا سا فری ہینڈ دیا تھا یہ کہہ کر "اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب آپ دس جگہ رفع یدین کا اثبات اور اٹھارہ جگہ کے نفی کی دلیل صریح پیش کردیں ،اب بات ختم کریں اور مبارک وصول کریں "۔ جسے آپ کمال کی بات کہہ رہے ہیں ۔ اب آپ شرمائیے گا مت اور اپنے سارے قاری جوکہ فرقہ جماعت اہل حدیث سے ہیں ، سے مدد مانگ دیکھئیے ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
آپ لوگ مغالطہ وچکرو چکر کو بھی درست عمل کہتے رہتے ہیں۔۔ جناب اگر آپ نے سیدھا سادھا بیچأرہ سوال اپنی طرف سے یا چوری کرکے پیش کیا ہے جو کہ میری طرف سے بیان ہوا ہی نہیں لیکن پھر بھی جواب میں میں نے بھی ایسی دلیل پیش کی ہے جس کو آپ تسلیم کرگئے ہیں۔
بار بار ایک جیسی باتیں کریں گے تو جواب میں بھی ویسی ہی باتیں بار بار دھرانا پڑیں گی جو پہلے لکھ چکا ہوں لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ آپ کی "مہارت" کا نمونہ ہے ۔
مسٹر گڈ ، سوال چوری کا بھی ہے تو کس کا ؟ فرقہ اہل حدیث کے معترضین کی طرح شیعوں سے چراکر تو سوال نہیں کیا ناں ؟ سوال کا جواب اگر آپ نے دیا ہی نہ ہوتا تو الگ بات تھی مگر آپ نے اپنے تئیں جواب میں دلیل بھی پیش کی جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل نکلا اور حتٰی لقی اللہ تعالٰی کے بارے میں بھی نہیں بتایا اب تک کہ وہ کس کا قول تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یا صحابی کا یا پھر کسی اور امتی کا ؟ اور رہی بات روایت تسلیم کرنے کی تو بھئی میں جاھل آدمی ہوں آپ کی طرح ماہر اہل حدیث نہیں جو سچی بات ہوتی ہے بول دیتا ہوں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کومانتا ہوں بلکل ویسے جیسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی لیکن عمل ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت پر کرتا ہوں کیونکہ میرے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فیصلہ جو ہے ۔
آپ سے اک بار پھر درخواست ہے کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کریں ،اپنے یعنی گڈ مسلم کے عمل کے مطابق ۔
اور آپ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو امتیوں کی تقلید کرتے ہوئے مردود وغیرہ مانتے ہو ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہی دیگر طریقے بھی احادیث میں مزکور ہیں انہیں چھوڑنے کی وجہ بتانا پسند کریں گے آپ؟
مثلا:
عن انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً کان یرفع یدیہ فی الرکوع والسجود۔
سندہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم(مصنف ابن ابی شیبہ جلد1 صفحہ266،مسند ابی یعلی جلد6صفحہ399،مجمع الزوائد جلد2صفحہ 220 وقال الھیثمی رواہ ابویعلی و رجال الصحیح، اتحاف الخیرۃ المھرۃ جلد2صفحہ325 وقال اسنادہ صحیح، المحلی بالآثار لابن حزم جلد3صفحہ 4-9 وقال صحیح، السنن الدارقطنی جلد1صفحہ393 و سند صحیح علی شرط البخاری و مسلم الاحادیث المختارہ جلد 6صفحہ 52وقال صحیح) وغیرہ
ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین کرتے تھے رکوع اور سجود میں۔
[/QUOTE]
اب آپ یہ وضاحت کردیجئے کہ اوپر پیش کردہ روایت کو مردود کہتے ہیں یا ضعیف؟ باطل کہتے ہیں یا صحیح ؟ اگر صحیح مانتے ہیں تو پھر اس روایت پر عمل کرتے ہیں ؟ نہیں ؟ تو کیوں ؟ یاد رہے زمانے کے فرق کی بات نہیں کرنی ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
۔اور ہاں در بدر ہم نہیں جھانکتے ہمیں صرف ایک در جھانکنے کی تعلیم دی گئی ہے یہ تو آپ لوگ ہیں کبھی امام ابوحنیفہ کے در جھکتے ہیں کبھی امام محمد کے در کبھی امام یوسف کے در تو کبھی امام زفر کے در۔۔ سچ کہا کہنے والوں نے کہ جو ایک در کو چھوڑتا ہے وہ در در کی ٹھوکری کھاتا ہے۔۔ اور یہی حال آپ لوگوں کا ہے۔۔۔
تو پھر جناب امتیوں کے اقوال کے ڈھیر کس خوشی میں لگارہے تھے ؟ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ دلیل پیش کیجئے دلیل ۔ امتیوں کے اقوال آپ کے ہاں حجت نہیں ہیں جناب ۔ ہماری تو دلیلوں میں سے اک ہے امام کا قول ۔ الحمدللہ ۔ اسی لئے ہم امام صاحب اور ان کے شاگردوں کے قول سینے سے لگاتے ہیں آپ جو امتیوں کے قول پیش کرتے ہیں وہ کس لئے ؟ مسٹر گڈ مسلم قرآن اور حدیث کا دروازہ پکڑئیے صرف کیونکہ آپ کی دلیلیں ہی دو ہیں ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جی الحمد للہ
پھر امتیوں کی تقلید کیوں ؟ اب ثابت کردینا آپ کہ تقلید کرنا بھی آپ کی دلیل شرعیہ ہے ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جی بالکل میں منسوخیت کا قائل نہیں
دلیل جناب دلیل پیش کیجئے رفع یدین منسوخ نہیں پر ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
مذاق بہت اچھی طرح کرلیتے ہیں۔۔ وہی صحابی رفع یدین کرتے تھے یا نہیں ؟ اس بارے مکمل تفصیل بیان کرچکا ہوں۔۔ جس کو دوبارہ یہاں پیش نہیں کرنا چاہتا۔۔۔سہولت کےلیے لنک پیش ہے۔۔پوسٹ نمبر46
آپ بھی وہیں پوسٹ نمبر چیالیس کے جواب میں دیکھ لیجئے گا اور سہولت کے لئے لنک بھی نہیں دیتا واپس جاکر غور سے پڑھ لیجئے
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
بعد کے زمانے کا عمل آپ صحیح صریح دلائل سے ثابت تو کریں جناب ۔۔۔ اور جس میں اس بات کی بھی وضاحت ہو کہ یہ پہلے زمانے کی بات ہے اور یہ آخری زمانے کی۔۔ اگر یہ صراحت نہ ہو تو دلائل پیش کرتے ہوئے آپ خود اس بات کو ثابت کرتے جانا کہ یہ حدیث پہلے زمانے کی ہے اور یہ آخری زمانے کی۔۔۔تب آپ کی زمانے والی بات تسلیم کی جائے گی۔ اور پھر آپ کو زمانہ کے حساب سے بھی دکھایا جائے گا کہ آخری فعل نبی کریمﷺ کا کونسا تھا۔ رفع کرنے والا یا نہ کرنے والا۔۔باللہ التوفیق۔۔
جس عمل یعنی صرف شروع نماز کی رفع یدین پر عامل ہوں اہل کوفہ سارے کے سارے ، جن میں صحابہ اور تابعین شامل ہوں وہ عمل بعد کا ہی کہلاتا ہے مسٹر گڈ مسلم ۔اور کون سی صراحت چاھئیے آپ کو ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
ہاں ایک بات کا جواب دیتے جانا کہ ایک کام نبی کریمﷺ سے ثابت ہو آپﷺ نے کیا آپ کی وفات کے بعد کوئی صحابی اس کام کو منسوخ کرسکتا ہے؟ ہاں یا ناں میں جواب
یہ سوال کرنے کی وجہ ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
نماز میں ہر اونچ نیچ پر رفع کا ہونا ، نماز میں باتیں کرنا، نماز میں پیر کے نیچے تھوک پھینکنا اس پر مفصل تحریر الگ پوسٹ میں کی جائے گی۔۔ انتظار کی تکلیف برداشت کرنا ہوگی۔
چلو ٹھیک ہے باتوں اور تھوک پر الگ پوسٹ میں نہیں بلکہ الگ تھریڈ میں ۔ کیوں کہ یہ موضوع جو نہیں یہاں کا۔ہاں اونچ نیچ پر رفع یدین تو یہیں کا موضوع ہے اسکے لئے تو نئی پوسٹ یا نئے تھریڈ کا بہانہ غلط ہے بھئی۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اس حدیث میں بھی وہ بات ہے جس کے بارے میں لکھ چکا ہوں، ان شاءاللہ بہت جلداس حدیث کے ساتھ باقی جن باتوں کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے الگ پوسٹ میں جواب لکھا جائے گا۔ ان شاءاللہ
یہ بات بھی الگ پوسٹ میں ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جی دیکھ لیا ہے۔ بلکہ صرف دیکھا نہیں عمل بھی کرتا ہوں۔۔الحمد للہ
ماشاء اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل پر عامل ہونے کا اقرار ، یاد رہے مزکورہ روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل یعنی صحابی کا عمل مزکور ہے
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
ہم م م م م ۔۔۔ آپ کی طرف سے پیش اثر کی مکمل تحقیق پیش کرنے کے باوجود آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں کہ آپ کے پیش اثر میں ایسا کون سا قرینہ ہے جس کی وجہ سے آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ بعد کے زمانے کی حدیث ہے اور آپ والی پہلے زمانے کی۔۔۔ (جس قرینہ کا آپ ذکر کریں گے الحمد للہ بخوبی اس سے واقف ہوں، لیکن ذرا آپ کے قلم سے بیان ہوجائے تو بہتر ہوگا)
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جناب زمانہ کی بات بہت کرتے چلے آرہے ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ صرف اتنا کہنے سے کہ یہ بعد کے زمانے کی حدیث ہے اور یہ پہلے زمانے کی تسلیم کرلیا جائے گا یا بادلائل ثابت بھی کرنا ہوگا کہ یہ حدیث پہلے زمانے کی ہے اور یہ بعد کے زمانے کی۔۔۔؟؟ عجیب بات ہے یار زمانہ زمانہ کی رٹ تو لگا رکھی ہے لیکن ثبوت پیش کرتے ہی نہیں ۔۔۔ چاہیے تو یہ تھا کہ زمانہ کی بات کرنے سے پہلے جو احادیث آپ پیش کرتے اس کو ثابت بھی کرتے کہ یہ بعد کے زمانہ کی ہیں۔۔
مسٹر گڈ مسلم سیدھی سادھی سی عام فہم بات کو ایسا بنا کر پیش کرنا کہ جس سے فضول قسم کا تاثر پیدہ ہوتا ہو ، ایسا کرنا آپ کے لئے ضرور ہوسکتا ہے کیوں کہ دس کا اثبات جو پیش نہیں کرپارہے ۔ کوشش جاری رکھئیے ۔
باقی رہا آپ کا فضول قسم کا اعتراض ۔ تو اس کا جواب یہی ہے جو پہلے سے لکھا ہوا موجود ہے ۔
اگر اول روایت کو دیکھیں تو اسمیں ہر اونچ نىچ اور رکوع و سجود، قیام وقعود بىن السجدتىن رفع الىدىن کرنے کا معلوم ہوتا ہے اور دوم روایت کو دیکھیں تو نماز شروع اور رکوع جاتے ،اٹھتے،اور تیسری رکعت کا پتا چلتا ہے کہ یہاں یہاں رفع یدین کیا جاتا تھا۔ٹھیک؟
یاد رہے اب عمر رضی اللہ عنہ کی پہلی پیش کردہ روایت میں ان کے ہر اونچ نیچ ہر ہر تکبیر پر یہاں تک کہ سجدوں کی رفع الیدین کا زکر موجود ہے
حضرت سىدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ ﷺ ہر اونچ نىچ اور رکوع و سجود، قیام وقعود بىن السجدتىن رفع الىدىن کرتے تھے۔
اور دوسری روایت دیکھئے
'' جب نماز کا آغاز فرماتے تو تکبیر کہتے اور رفع الیدین فرماتے، اور جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رفع الیدین کرتے، اور جب دو رکعتوں سے اُٹھتے تو پھر بھی رفع الیدین کرتے۔''
یہ مثال عام فہم ہونے کے باوجود آپ کی ضد کی نظر ہوگئی ، حالانکہ دوسری روایت میں سجدوں کا انکار موجود ہے جسے آپ بھی مانتے ہیں جبکہ پہلی روایت میں سجدوں کی رفع الیدین کو مرفوعا بیان کیا گیا ہے ۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ پہلی روایت پہلے زمانے کی ہے جب ہر ہر اونچ نیچ وغیرہ پر رفع یدین کیا جاتا تھا ، جبکہ دوسری روایت میں سجدوں کا انکار ہے اور( اس بات سے خوش ہونے کی بلکل بھی ضرورت نہیں مسٹر گڈ ! کیونکہ دوسری روایت میں آپ کے عمل کا ثبوت بھی نہیں ہے ) اب یہاں آپ سے سوال ہے ۔
سوال:-کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ سجدے کی رفع یدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر تک کرتے رہے ؟ اگر نہیں ؟ تو پھر سجدوں کی رفع یدین ترک ہونے کے بعد کون کون سی رفع یدین بچی ؟
ان شاء اللہ اس سوال کا جواب آنے پر آپ کے چکر باز اعتراض کا پول کھل جائے گا ۔کیسے ؟ ظاہر ہے جو رفع الیدین آپ بچائیں گے وہ بعد کی ثابت اور جسے ترک کریں گے وہ پہلے زمانے کی ثابت ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
یہ روایت آپ ایک بار نہیں کئی بار اس تھریڈ میں پیش کرچکے ہیں۔۔ اس کا مکمل جواب دے دیا گیا ہے۔۔پوسٹ نمبر47
الحمدللہ آپ کے جواب کا جواب دیا جاچکا ،خاطر جمع رکھئیے۔اور یاد رکھئیے گا اس بات کو !! منع سے پہلے کے عمل کو گھوڑے کی دم جیسا سمجھنا جہالت اور منع کے بعد گھوڑے کی دم جیسا نہ سمجھنا بھی جہالت۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کے مؤقف پر یہ دلیل بن سکتی ہے یا نہیں اس بارے لکھ چکا ہوں، کوئی علمی اعتراض ہو تو پیش کرنا
دوسری بات '' فی الصلاۃ '' کے بارے میں بھی مکمل وضاحت کرکے اس پر سوال طلب کیا گیا ہے اس کا جواب مطلوب ہے۔
وہیں دیکھئیے گا مسٹر گڈ ، جہاں آپ نے سوال کیا تھا ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
تیسری بات چلو کچھ دیر کےلیے اس بات کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ آپ کے مؤقف پر یہ دلیل بن سکتی ہے۔(حقیقت یہ ہے کہ قطعاً آپ کے مؤقف پر یہ دلیل نہیں بن سکتی۔تفصیل دیکھیں) آپ مجھے بادلیل بتائیں کہ میری پیش کردہ حدیث '' " كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال : سمع الله لمن حمده ، رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه " (صحيح البخاری، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين، حديث:‏739) '' اور آپ کی یہ پیش کردہ حدیث '' عن جابر بن سمرة قال خرج علينا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فقال مالی اراکم رفعی يديکم کانها اذناب خيل شمس اسکنوا فی الصلوٰة ۔۔الخ '' ان دونوں میں سے پہلے زمانے کی کونسی حدیث ہے اور بعد کے زمانے کی کونسی۔؟؟ صرف کہنا نہیں بلکہ اس پر ثبوت بھی پیش کرنا ہے۔
ماشاء اللہ کیا زبردست علمی سوال داغا ہے جناب نے !!!! شاباش
جواب آپ کے عمل و عقیدے کے مطابق پیش خدمت ہے جس کا آپ انکار نہیں کرسکتے ۔
آپ کا ماننا ھے کہ گھوڑے کی دموں جیسا فعل کہا گیا رفع یدین کو جس روایت میں وہ اشارے سے تعلق رکھتی ہے ؟ کیوں ٹھیک ہے ناں مسٹڑ گڈ؟
اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل والی روایت پر آپ عامل ہونے کے دعوے دار ہو ؟ کیوں ہو ناں مسٹر گڈ؟
اب یہ آپ خود ہی بتادو کہ آپ سلام کے وقت ہاتھوں سے گھوڑے کی دموں کی طرح اشارے کرتے ہو؟؟؟؟؟؟نہیں!!!!!!!!! تو پھر مان لو مسٹر گڈ مسلم گڈ مسلموں کی طرح کہ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت پہلے زمانے کی ہے ۔ مان لو گے تو زمانے کے فرق کا اقرار خود بخود ہوجائے گا آپ کو محنت نہیں کرنا پڑے گی ۔
رہی بات میرے عمل و عقیدے کی تو وہ صاف ظاہر ہے کہ مختلف فیہ رفع یدین کرنے کی تمام روایات پہلے زمانے کی ہیں اور نہ کرنے والی بعد کے زمانے کی ۔ کیونکہ آپ سلام کے وقت ہاتھوں کے اشارے کو ترک کئے ہوئے ہیں گھوڑوں کی دموں جیسا مان کر۔ اور ہم اہل سنت والجماعت حنفی شروع نماز کے بعد کی تمام رفعوں کو چھوڑتے ہیں گھوڑے کی دموں والی روایت کو مختلف فیہ رفع یدین کے بارے میں مان کر ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
یہ روایات بھی کئی بار صرف اس لیے پیش کی گئی ہیں تاکہ کم سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو یہ تأثر دیا جائے کہ سہج صاحب نے تو احادیث کے ڈھیر ہی لگا دیئے۔ حالانکہ اصول یہ ہوتا ہے کہ ایک بار جب حدیث پیش کردی جائے تو دوبارہ نئی دلیل کے طور پر اسے پیش نہ کیا جائے ہاں تائید میں اگر پیش کی جاسکتی ہیں۔۔یا اگر فریق مخالف نے جواب میں دھوکہ دہی کی ہے تو اس پر متنبہ کرنے کےلیے پیش کیا جاسکتا ہے۔۔ لیکن نئی دلیل کے طور پر پیش کرنا کم سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو دھوکے میں ڈالنا مقصود ہوتا ہے۔۔ کہ ہمارے پاس اتنے سارے دلائل ہیں۔۔ یہ روش آپ کی نئی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے۔۔ امید ہے مشورہ قبول کیا جائے گا۔۔
ان روایات کا جواب دیا جا چکا ہے۔۔ امید ہے تسلی ہوجائے گی۔۔ ان شاءاللہ
مسٹر گڈ صاحب ، ابھی تک تو ڈھیر نہیں لگایا روایات کا صرف چند روایات ہی پیش کی ہیں جن کا جواب دیتے دیتے آپ نڈحال ہوچکے ہیں اور ایک روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی پیش کی جسے مرفوع مان کر سارا دارومدار اسی پر بنالیا ۔ جبکہ وہ روایت مرفوع نہیں ۔ اسے مرفوع ثابت کیجئے اور اگر مان لیں کہ آپ اسے مرفوع ثابت کردوگے تو پھر بھی اگلی بات یہ کہ آپ کا عمل رفع یدین کے بارے میں مزکورہ روایت سمیت جتنی بھی روایات پیش فرمائی ہیں کسی ایک سے بھی مکمل ثابت نہیں ۔ ہاں دوجمع دوچار کرکے ثابت کرنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن وہ بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک آپ دوجمع دو چار کرنے کو اپنی دلیل شریعیہ ثابت نا کردیں جوکہ آپ کرنہیں سکتے ۔ اور الحمدللہ میں نے اپنے عمل کے عین مطابق مرفوع دلیل پیش کردیں ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ، جسے کثیر جماعت امت کی حمایت حاصل ہے ۔جس میں صحابہ رضوان اللہ علیہم کی بھی کثیر جماعت شامل ہے۔ الحمدللہ ثمہ الحمدللہ
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
پہلی بات حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اس مسئلہ پر عمل کیا تھا۔۔ اور آپ کے پیش کردہ اثر کی تحقیقی حیثیت کیا ہے۔۔ اس بارے تفصیل پیش کی جاچکی ہے۔۔ پوسٹ نمبر46
دوسری بات میں نے بھی ابن عمر کے حوالے سے حدیث پیش کی ہے اور آپ نے بھی ابن عمر کی طرف منسوب اثر پیش کیا ہے۔۔ دونوں روایتوں کی حیثیت کیا ہے۔ذرا اس پر بھی نظر کرم کرلیں۔۔ شاید حدیث پر کوئی ترس آجائے۔۔
پہلی بات؛پوسٹ نمبر فورٹی سکس کا جواب بھی دیاجاچکا اور امید ہے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پرھ لیا ہوگا ؟
قال ابو داود الصحيح قول ابن عمر وليس بمرفوع ‏.۔۔سنن ابوداود،أبواب تفريع استفتاح الصلاة‏
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں
دوسری بات: ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اپنے رفع یدین نہ کرنے کی روایات کے راویوں کی حیثیت الحمدللہ دکھادی گئی کہ وہ بخاری کے راویوں میں سے ہیں ۔اسکے لئے امید ہے آپ پوسٹ نمبر فورٹی ون دیکھ ہی چکے ہوں گے ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
تیسری بات سوال پہلے بھی کرچکا ہوں دوبارہ بھی کررہا ہوں کہ صحابی کاعمل نبی کریمﷺ کے عمل کو منسوخ کرسکتا ہے یا نہیں ؟؟
اسکا سیدھا سا جواب ہے کہ "نہیں"
اب آپ بھی جواب دیجئے اک سوال کا
کیا صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مخالف عمل کرتا ہے ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
محترم جناب اگر آپ نے زمانے کی ہی بات کرنی ہے تو پھر آپ کو ایسے آثار پیش ہی نہیں کرنا چاہیے جو نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد والےہوں۔۔
مسٹر گڈ مسلم شیعوں والا عقیدہ بول رہا ہے اب آپ کے اندر سے ۔ دیکھئے اوپر آپ سے پوچھا ہے اک سوال اسکے جواب کی روشنی میں خود ہی پرکھ لینا اپنے اس شیعی اعتراض کو۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ نے (معاذ اللہ) دین کو بدل دیا اور یہی انداز آپ کا ہے اس اعتراض میں کہ وہ بات پیش کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہو وصال کے بعد کا نہیں ہو ۔ اسکا مطلب ھے آپ اہل حدیثوں کا عقیدہ ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سنت کو بدل دیا تھا (معاذاللہ)
میں الحمدللہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عادل مانتا ہوں جنہوں نے جیسی سنت دیکھیں ویسی ہی آگے بیان فرمائی وصال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
آپ شارع سے ہی ثابت کریں کہ یہ رفع الیدین کرنے والا فعل نبی کریمﷺ کا پہلے والا تھا اور پھر آپ نے منع کردیا تھا اور خود بھی اس رفع سے رک گئے تھے۔۔ تب بنتی ہے بات۔
الحمدللہ ، اب مسٹر گڈ مسلم تھوڑے سے مختلف انداز میں تقریبا وہی بات ارشاد فرمارہے ہیں جس کا مطالبہ میں گڈ صاحب سے کرتا رہا ہوں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ
گڈ مسلم صاحب آپ فیصلہ پیش کردیجئے کیوں کہ آپ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی بات و عمل مانتے ہیں ۔کیوں ٹھیک؟ حالانکہ آپ کا طرز عمل اسکے خلاف ہے کیونکہ آپ صحابی کے عمل کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ الگ بات ہے کہ صحابی کا عمل بھی آپ کے عمل کو ثابت نہیں کرتا یعنی دس جگہ کا اثبات
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
لیکن آپ اتنے گزر گئے ہیں کہ اپنے غلط مؤقف پر ایک تو ڈٹے ہوئے ہیں حالانکہ دلائل آپ کا ساتھ نہیں دے رہے اور دوسرا نبی کریمﷺ کے عمل کے مقابلے میں صحابی کے ایسے عمل کو بار بار لائے جارہے ہیں جو صحابی سے ثابت بھی نہیں۔۔۔
پہلی بات:الحمدللہ ثمہ الحمد للہ جس عمل کو آپ غلط کہہ رہے ہیں اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی مہر تصدیق لگی ہوئی ہے اور ہم صحابہ کے عمل کو بھی ایز اے دلیل قبول کرتے ہیں ۔ اور آپ کے ہاں معاذللہ قول صحابی سے لے کر درایت صحابی تک حجت نیست ۔ اگر ہے تو پہلے اپنے اکابرین کا رد کیجئے پھر درایت و قول و عمل صحابی حجت است ثابت کیجئے ۔ اور ویسے بھی آپ کی دو ہی دلیلیں ہیں مسٹر گڈ ۔ ایک قرآن اور ایک حدیث ۔ بس ۔ آپ ناہی اجماع اور ناہی قیاس کو مانتے ہو ۔ اگر مانتے ہو تو لنک دئیے بغیر یہاں لکھو اور دلیل دے کر سمجھاؤ کہ آپ جماعت اہل حدیث والے اجماع اور قیاس کو اپنی تیسری اور چوتھی دلیل شریعہ مانتے ہو ۔
دوسری بات:مسٹر گڈ مسلم آپ نے جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل پیش فرمایا ہے اسکے بارے میں کیا خیال ہے ؟ کیونکہ آپ کو اعتراض یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں (معاذاللہ) صحابی کا عمل پیش کرتا ہوں۔ اور الحمدللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا صرف شروع نماز کی رفع یدین کا عمل بخاری کے راویوں کی گواہی کے ساتھ پیش کردیا اور الحمدللہ ثابت بھی ہے ۔ آپکی پوسٹ نمبر فورٹی سکس کے جواب میں ۔
محدث ابو عوانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ایوب مخزومی اور سعدان بن نصر اور شعیب بن عمرو تینوں نے حدیث بیان کی اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے سفیان بن عینة نے حدیث بیان کی انہوں نے زہری سے اور انہوں نے سالم سے اور وہ اپنے باپ ابن عمر سے روایت کی اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے کندھوں کے برابر اور جب ارادہ کرتے کہ رکوع کریں اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تو آپ رفع الیدین نہ کرتے اور بعض راویوں نے کہا ہے کہ آپ سجدتین میں بھی رفع یدین نہ کرتے مطلب سب راویوں کی روایت کا ایک ہی ہے ۔
(صحیح ابوعوانہ جلد دوئم صفحہ نوے)
مسٹر گڈ مسلم یہ ہے صحیح ابوعوانہ کی روایت اور اسے آپ نے رد کرنا ہے اور مردود قراردینا ہے کیونکہ آپ اہل حدیث جوہیں ۔ آپ کا کام یہی ہے ہر وہ حدیث جو اہل سنت والجماعت پیش کریں اپنے موقف پر اسے باطل قرار دو اور وہ بھی بے دلیل ، کیونکہ امتی کا قول آپ کے ہاں دلیل ہے ہی نہیں اور امتی ہی کسی بھی حدیث کو صحیح یا ضعیف وغیرہ قراردیتا ہے ۔امتی کی بات ہے اسی لئے آپ کی دلیل نہیں اور دلیل نہیں تو اسے پیش کرنا بھی بے دلیل ہوا کہ نہیں ؟
((بقیہ پوسٹ کا جواب اگلی پوسٹ میں))
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
(((پوسٹ نمبر 55 کا بقیہ جواب)))

گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جناب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ شارع کوہی نسخ کا اختیار ہوتا ہے۔۔
الحمدللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرز عمل بتاتا ہے کہ جس رفع یدین کو آپ بھی مختلف فیہ مانتے ہو وہ منسوخ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اسی لئے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتاتے ہوئے صرف شروع نماز کی رفع یدین بتاتے نظر آتے ہیں ۔اور ان صحابہ کے عمل پر تابعین کی گواہیاں موجود ہیں ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جب شارع نہ رہے تو نسخ بھی نہیں ہوتا۔۔
نسخ کا ثبوت صحابہ سے ہی صاف نظر آتا ہے
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جو جو اعمال شارع سے واقع ہوئے ہوتے ہیں وہ شریعت بن جایا کرتے ہیں۔
اسی لئے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے ہاں حجت ہیں کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی سنت پر عمل کرکے دکھاتے تھے
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
امید ہے اب زمانے کی جب بات کریں گے تو نبی کریمﷺ کی زندگی میں رہتے ہوئے کریں گے۔۔۔ان شاءاللہ
پھر وہی شیعیت کی ترجمانی ؟ مسٹر گڈ ، پھر تو آپ کو سب سے پہلے خلفہ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت کا بھی انکار کرنا ہوگا کیونکہ اس کی روایت بھی موجود ہے اب تیاری کیجئے اسے بھی مردود کہنے کی ۔
عن ابن مسعودصلیت خلف النبیﷺ وابی بکرؓ و عمرؓ فلم یرفعوایدیہم الا عند افتتاح الصلوٰة ۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازیں پڑھیں مگر یہ حضرات شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں فرماتے تھے ۔(بہقی شریف جلد دو صفحہ اسی)
اس روایت پر محمد بن جابر کی وجہ سے اعتراض کیا گیا مگر علامہ ماردینی متوفی پانچ سو سینتالیس ھجری نے آج سے چھ سو سال قبل محمدبن جابر کی توثیق فرمادی ہے ۔ملاحظہ ہو الجوہر النقی علی البیہقی،جلد دو صفحہ ستاسی
اب کیجئے اعتراض اور دکھائیے شیعی طرز عمل ابوبکر و عمر کے بارے میں ۔ کہو کہ ہمارے ہاں عمل صحابی حجت نیست ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جہاں آپ کی طرف سے زمانے کی وضاحت نہیں ہوگی، اعتراض کے ساتھ ثبوت بھی مانگا جائے گا۔۔ لیکن جہاں وضاحت ہوگی،وہاں اگر ایسی دلیل سے وضاحت ہوگی جو صحیح ہوگی وہ تسلیم کی جائے گی۔۔ ان شاءاللہ ۔۔ کیونکہ ہم اہل حدیث ہیں اور اہل حدیث کبھی بھی چور دروازے تلاش نہیں کیا کرتے۔۔۔ اس ڈھنگ کے پختہ کار عالم خاص طور مقلدین ابی حنیفہ ہیں۔۔۔ اللہ رحم کرے۔۔
صحیح بخاری کی روایت پر ایسا اعتراض ؟ حالانکہ بخاری آپ کے ہاں اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
واہ جی واہ آپ مولوی نہیں بلکہ مولبی لگتے ہیں۔۔ زمانے والی بات کو کیسے ثابت کیا ہے۔؟ بہت خوب۔۔ حضور سہج اللہ تیرا بھلا کرے کچھ غیرت نام کی بھی چیز ہے آپ میں۔۔ میں وضاحت کرتا ہوں
پہلے حدیث پر وضاحت کردوں کہ جناب یہاں اس مسئلہ کو بیان کیا جارہا ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کےلیے کیا حکم ہے؟ کہ وہ بھی امام کی اقتداء میں بیٹھ کر پڑھیں یا وہ کھڑے رہیں۔؟ آپﷺ نے اس بارے صحابہ کو پہلے نہیں بتایا ہوا تھا اس لیے جب آپ نے پہلی بار یہ عمل کیا تو صحابہ بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے مسئلہ بتا دیا کہ
‏"‏ إنما جعل الإمام ليؤتم به،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا صلى قائما فصلوا قياما،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا ركع فاركعوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا رفع فارفعوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا قال سمع الله لمن حمده‏.‏ فقولوا ربنا ولك الحمد‏.‏ وإذا صلى قائما فصلوا قياما،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون ‏"
جناب اس حدیث کا محل سمجھ آیا کہ نہیں ؟ یہ حدیث اس مسئلہ پر وضات کےلیے ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کےلیے کیا حکم ہے؟ کہ وہ بھی امام کی اقتداء میں بیٹھ کر پڑھیں یا وہ کھڑے رہیں۔؟
اگر اتنی بات سمجھ آگئی ہے تو سنیے
پہلی بات آپ نے اس مسئلہ پر تو حدیث پیش کردی کہ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر پڑھیں۔۔ اب ذرا وہ حدیث بھی پیش کردینا کہ جس میں آپﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو اور صحابہ کرام نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی ہو۔۔
دوسری بات اس حدیث میں امام صاحب کی صراحت ہے کہ دونوں عمل نبی کریمﷺ نے خود کیے ہیں۔ پہلے آپﷺ نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی، صحابہ کرام نے بھی بیٹھ کر پڑھی۔۔ پھر کسی وقت نبی کریمﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی لیکن صحابہ نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔۔ دونوں کام شارع نے ہی کیے ہیں۔۔ اس بات کو ایسا ذہن نشین کرلینا کہ کبھی بھولنے نہ پائے
تیسری بات امام حمیدی رحمہ اللہ کا بیان ہے نبی کریمﷺ کا فرمان نہیں۔۔۔ ہاں یہ بات مجھے بھی قبول ہے کہ امام صاحب دونوں طرح کی احادیث کو سامنے رکھ کر ہی یہ نتیجہ نکال رہے ہیں۔۔ آپ بھی نبی کریمﷺ کی دو اس طرح کی احادیث کو (ایک میں ہو کہ آپ نے رفع الیدین کیا دوسری میں ہو کہ آپ نے پہلی رفع کے علاوہ رفع الیدین کیا ہی نہیں۔۔شرط یہ ہے کہ احادیث صحیح ہوں۔ضعیف احادیث کی شریعت میں کوئی جگہ نہیں ہے) سامنے رکھ کر وضاحت پیش کریں۔۔ بغیر دلیل کے صرف کہتے جانا تسلیم نہیں کیاجائے گا۔۔ آپ کو اچھی طرح یاد کرلینا چاہیے۔۔۔ مولانا مفتی سہج صاحب دامت برکاتہم العالیہ
پہلی بات
مسٹر گڈ مسلم میں نا مولوی ہوں اور ناں ہی مولبی ،اللہ تعالٰی آپ کو مولویوں کی عزت کرنے والا بنائے ،انکے نام کو بری طرح ادا کرنے سے محفوظ رکھے ۔ لیکن افسوس آپ غیر مقلد ہو آپ کو تو دعا بھی کام نہیں آئے گی کیونکہ جو لوگ صحابہ کے عمل کو یہ کہہ کررد کرتے ہوں کہ حجت نیست۔ اور ائمہ اربعہ پر تعن کرنا جن کی عبادت ہو شیعوں کے تبررہ کی طرح،ان پر اللہ کا غضب ہی ہوسکتا ہے تاآں کہ آپ لوگ صحابہ کو حجت است مان لو اور ائمہ اربعہ کی توہین کرنے سے توبہ کرلو۔
دوسری بات
روایت جو پیش کی تھی اس میں دکھانا صرف وہی بات مقصود تھی جو زمانے سے متعلق تھی کیونکہ اس میں مطلق زمانے کا زکر ہے۔دیکھئے
اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ کا آخری ہو اس کو لینا چاہئے اور پھر جو اس سے آخری ہو۔
اب مسٹر گڈ فرمائیں گے کہ "یہ تو امام صاحب کے استاد کا قول ہے اور اہل حدیث کسی امتی کے قول کو نہیں مانتے"
باقی آپ نے جو بے جا محنت کرکے اپنا قیمتی وقت صرف کیا اس پر افسوس ہے ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
چوتھی بات آپ نے اب تک جتنی بھی حدیثیں پیش کی ہیں اور ان پر کہا ہے کہ یہ پہلے زمانے کی ہے اور یہ بعد کے زمانے کی۔۔ کیا آپ نے کوئی ایسی صراحت پیش کی ہے۔؟؟ اگر کی ہے تو مجھے اس پر مطلع کریں اور اگر نہیں کی تو برائے مہربانی پیش کریں۔۔ چاہے اپنے امام سے ہی کیوں نہ ہو۔۔
جس قسم کی صراحت آپ مجھ سے مانگ رہے ہیں ویسی ہی صراحت آپ کیوں نہیں دکھاسکے ابھی تک ؟ دوجمع دو برابر چار کے بغیر تو آپ کی دس جگہوں کی گنتی مکمل نہیں ہوپارہی اور مجھ سے مطالبہ کہ صراحت دکھادوں ؟ مسٹر گڈ ، اگر صراحت آپ اس کو مانتے ہو کہ ایسا کہا گیا ہو کہ یہ روایت پرانے زمانے کی ہے اور وہ روایت آخری زمانے کی تو ،الحمدللہ وہ میں نے امام بخاری کے استاد محترم کے قول سے دکھادیا ہے بس تعصب کی عینک اتارنے کی دیر ہے صاف نظر بھی آجائے گا اور بغض کا گندہ دھواں دماغ سے نکل جائے تو سمجھ بھی آجائے گا ۔اک بار پھر دیکھ لیجئے ۔
اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ کا آخری ہو اس کو لینا چاہئے اور پھر جو اس سے آخری ہو۔
صحیح بخاری،کتاب الاذان،باب: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں
آپ جس عمل یعنی مختلف فیہ رفع الیدین کو کرتے ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ ثابت کردو تو پھر وہ بھی آخری کہلائے گا اگر ہمیشہ کرنا نہیں دکھا سکتے اور نہیں دکھاسکوگے ، تو پھر یہی ہوگا جو آپ کے ساتھ ہورہا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت کو مرفوع کہوگے اور دو جمع دو چار کرکے اپنا عمل ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرو گے ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جناب جب فرق کو بادلیل صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو سمجھ کیوں نہ آتا۔۔؟ اور آپ سے بھی کئی بار کہا گیا کہ آپ بادلائل فرق ثابت تو کریں۔۔ کیا آپ نے ثابت کیا ؟ جو اب درس دینے چلے آئے کہ فرق سمجھ آگیا ہوگأ۔۔ واہ بہت خوب
مسٹر گڈ صاحب آپ کی ضد کا علاج میرے پاس ہے لیکن میں کروں گا نہیں ، اسلئے کہ دیکھنے والے دیکھیں کہ غیر مقلد کس پائے کا ضدی ہوتا ہے ۔ اور رہی بات زمانے کا فرق دکھانے کی بات تو الحمدللہ فرق صاف دکھاچکا ،جس پر آپ کا بھی عمل و یقین ہے، صرف چند سطریں اوپر توجہ کرلیں ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
مکمل طریقہ نبوت کے مطابق نماز پڑھنے کا سفید جھوٹ ہے۔ فقہ حنفی کی کتب کی روشنی میں آپ کی نماز کی کیا شکل بنتی ہے اسے جاننے کےلیے ایک مشہور واقعہ پیش کرنا دلچسپی سےخالی نہیں ہوگا۔۔ سنیے واقعہ
اہل سنت والجماعت احناف کی نماز کو طریقہ نبوت کے عین مطابق کہنے کو آپ جھوٹ ثابت کیجئے جناب گڈ مسلم ۔ اور دلچسپ واقعہ جسے کہہ رہے ہیں وہ واقعہ خود آپ غیر مقلدین کے اور خصوصا آپ مسٹر گڈ مسلم کے لئے بزات خود ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جس واقعہ کو آپ دلچسپ کہہ کر کوشش میں ہیں کہ اس کی وجہ سے آپ اہل سنت والجماعت حنفی مزھب کا مزاح بناسکیں گے ،یہ خواہش ان شاء اللہ کبھی پوری نہ ہوسکے گی ۔یاد رہے آپ اب تک دس جگہ کی رفع یدین ثابت کرنے میں ناکام ہیں اپنے عمل کے مطابق ۔ اور بجائے رفع یدین کو ثابت کرنے کے آپ بھاگے پھر رہے ہیں قفال مروزی سے منسوب طریقہ نماز کی جانب ۔ شاید مسٹر گڈ بھول گئے تھے کہ ان کی پیش کردہ واقعہ میں فاتح شافعی مزھب کو دکھلایا گیا ہے ۔ اور جناب گڈ مسلم صاحب ہیں غیر مقلد ؟؟؟؟ ہونا تو یہ چاھئے تھا کہ مسٹر گڈ مسلم اسی واقعہ کو بنیاد بناکر شافعی مزھب قبول کرلیتے ،لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ موصوف شافعیوں کی نماز کو عین سنت کے مطابق ثابت کرتے ہوئے احناف کا رد کررہے ہیں جبکہ موصوف خود غیر مقلد ہیں اور مقلدین امام ابوحنیفہ،امام مالک،امام احمد بن حنبل،اور امام شافعی کو مشرک قرار دیتے ہیں اور تو اور جناب نے اپنا سگنیچر بھی بنا رکھا ہے تقلید سے دور بھاگو کیونکہ یہ گمراہی ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ مقلد ہلاکت کی راہ پر گامزن ہے۔ اور اور اور مسٹر گڈ مسلم آپ ہلاک ہونے والے گمراہی کی راہ پر گامزن مقلد کی نماز کو عین سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مان رہے ہیں ؟یا کوئی اور بات ہے ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
'' سلطان محمود بادشاہ امام ابوحنیفہ کے مذہب پر تھا اور علم حدیث کی حرص رکھتا تھا۔ مشائخ سے حدیثیں سنتا اور استفسار کیا کرتاتھا۔ پس اکثر احادیث کو اس نے شافعی مذہب کے مطابق پایا۔ اس نے فقہاء کو جمع کیا اور ان سے ایک مذہب کے دوسرے مذہب پر ترجیح کا مطالبہ کیا تو اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں مذاہب کے موافق دو دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے اور اس نماز میں نظر اور فکر کرنے سے جو مذہب اچھا معلوم ہو اس کو اختیار کرنا چاہیے پس قفال مروزی نے نماز پڑھنے کےلیے پوری شرطوں سے وضوء کیا۔ صاف لباس پہنا اور استقبال قبلہ بھی بخوبی کیا اورنماز کے ارکان اور ہیئتیں اور فرض اور سنتیں اور آداب کو بوجہ کمال اداء کیا اور ایسی نماز اداء کی جس سےکمی کرنا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک درست نہیں۔ پھر دو رکعتیں اس طریقے سے اداء کیں جو امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہوں۔ پس کتے کی دباغت دی گئی کھال کو پہنا اور اسے چوتھائی نجاست سے آلود کیا کھجور کی نبیذ سے وضوء کیا چونکہ گرمی کا موسم تھا اس لیے مکھیاں اور مچھر اس پر جمع ہوگئے بغیر نیت کے وضوء کیا اوروہ بھی الٹا ( یعنی پہلے پاؤں اوراخیر میں ہاتھ دھوئے) پھر نماز م یں داخل ہوا اللہ اکبر کے بجائے فارسی میں ( خدائے بزرگ است ) کہا۔ پھر قراءت کی تو ( مدھامتان کی جبائے فارسی میں دو بزرگ است کہا۔پھر بجائے سجود کے مرغ کی طرح بغیر فرق کے دو ٹھونگیں مارلیں پھر تشہد پڑھ کر گوز ماردیا۔بغیر سلام کے نماز ختم کی۔ اور کہا ائے بادشاہ یہ نمام امام ابوحنیفہ کی ہے۔ بادشاہ نے کہا اگر اس طرح کی نماز ابوحنیفہ کی نہ ہوتی تو میں تجھے قتل کردونگا۔ اس لیے کہ ایسی نماز تو کوئی صاحب دین جائز نہیں سمجھتا۔ پس حنفیوں نے امام ابوحنیفہ کی اس طرح کی نماز سے انکار کردیا۔(جیسا اب بھی کرجاتے ہیں) تو قفال مروزی نے حنفی مذہب کی کتابیں طلب کیں۔ بادشاہ نےمنگوا دیں اور ایک نصرانی عالم کو بلایا اور اس کو شافعی اور حنفی مذہب کی کتابیں پڑھنے کا حکم دیا توابوحنیفہ کی نماز ویسی ہی پائی گئی جیسی کہ قفال مروزی نے پڑھ کر دکھائی تھی۔ پس بادشاہ نے امام ابوحنیفہ کے مذہب کو چھوڑ دیا اور امام شافعی کے مذہب کو اختیار کرلیا۔ ( حیاۃ الحیوان الکبریٰ ج2 ص214)
مسٹر گڈ مسلم آپ غیر مقلد ہیں اور تقلید کو شرک و گمراہی مانتے ہیں مانتے ہیں کہ نہیں ؟ تقلید کو گمراہی قرار دیتے ہیں تو پھر مقلدین بھی آپ کی نظر میں گمراہ ہی ٹھہرے۔آپ اپنی نماز ثابت نہیں کرسکتے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ آپ اپنے عمل کے مطابق رفع الیدین کو دس جگہ ثابت نہیں کرسکے ابھی تک اور حنفی متواتر نماز کے خلاف شوافع کی کتابوں سے بے سند جھوٹے قصے نقلکررہے ہیں اور یہ آپ کی شکست خوردہ ذہنیت ہے اور ثبوت ہے ۔
اس واقعہ کی پول کھولنے کے لئے آپ کا ہی قول کافی ہے ۔دیکھئیے
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
واقعہ کی اسنادی حالت کیا ہے؟
یعنی یہ مسٹر گڈ مسلم جانتے ہیں کہ اس واقعہ کی کیا حیثیت ہے پھر بھی دلچسپیاں ڈھونڈتے ہیں ؟ مسٹر گڈ مسلم ڈھونڈنا ہے تو یہ ڈھونڈیں۔
ایک
دس جگہ رفع یدین کرنے کی صریح دلیل ۔
دو
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ
مسٹر گڈ مسلم اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت بچائیے اور دلیل پیش کیجئے دلیل، آپ کے عمل کے مطابق ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
اس کی بحث میں پڑے بغیر حنفی مذہب کے مطابق نماز اداء کرتے ہوئے جو افعال کیے گئے ہیں۔ ان کے حوالہ جات بھی پیش ہیں۔
مسٹر گڈ مسلم سے گزارش ہے کہ آپ موضوع کے مطابق باتیں کریں تو بہتر ہوگا ورنہ اگر میں بھی آپ جیسا ہی طرز عمل اپنالوں تو؟ پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
محترم سہج صاحب اہل حدیث اور آپ حنفیوں کی نمازوں میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔۔ فقہ حنفی کی رو سے جو نماز کی کیفیت بنتی ہے۔ کیا صحابہ کرام میں سے بھی کسی نے ایسی نماز پڑھی تھی۔(نعوذباللہ) جو آپ کہے جارہے ہیں کہ آثار صحابہ اور تابعینؒ کی گواہی موجود ہے۔۔۔
اختلاف ہے اور یہ صرف اور صرف غیر مقلدین کی ضد پر مبنی ہیں ۔ اور الحمدللہ آثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین رحمہ اللہ ، اہل سنت والجماعت احناف کے حق میں ہیں ۔ اور رہے غیر مقلد جنہیں شوق ہے اپنے آپ کو اہل حدیث کہنے کا ، ان کے پاس تو دس جگہ رفع یدین کرنے کی دلیل بھی نہیں ، اور آپ پوری نماز کی بحث کھولنے کے چکر میں ہیں ؟ مسٹر گڈ اپنے اوپر اور اپنے مزھب پر مزید ظلم نہ کرو ۔ بس کردو بس۔ اوکے
آپ کے قفال مروزی نے جو نماز پڑھی احناف کے طریقے کے مطابق (بقول آپ کے جھوٹ کے) اور جسے آپ کی پیش کردہ روایت کے مطابق ایک نصرانی عالم نے فیصلہ کیا اور آپ نے اسی نصرانی عالم کا فیصلہ مان لیا ؟ کیا بات ہے آپ کی مسٹر گڈ مسلم ۔
جبکہ اسی روایت میں یہ بھی لکھا موجود ہے کہ پس حنفیوں نے امام ابوحنیفہ کی اس طرح کی نماز سے انکار کردیا۔ اور الحمدللہ آپ دنیا کے کسی بھی مقام پر قفال مروزی کی پیش کردہ نماز جیسی نماز نہیں دیکھ سکتے کیونکہ احناف ویسی نماز پڑھتے ہی نہیں۔ اگر پڑھتے تو آپ کو قفال مروزی کی اور نصرانی عالم کی تقلید کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
فقہ حنفی میں جو نماز ہے اس پر واقعہ بیان کردیا ہے اب اس واقعہ میں جو افعال کیے گئے ہیں ان کے حوالہ جات بھی پیش ہیں۔
آپ کے ہاں وضوء بلانیت1، بےترتیب2 اور نشہ آور3 نبیذ سے بھی کرنا جائز ہے۔
آپ کے ہاں باہم ننگے مردو عورت کی شرمگاہیں مل جانے سے4، اپنے ذَکر یا دوسرے کے ذَکر کو پکڑنے سے5، زندہ یا مردہ جانور یا کم عمر لڑکی سے جماع کرنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا 6۔
لیکن جناب آپ کے ہاں البتہ دکھتی آنکھوں سے آنسو نکلنے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔7
آپ کے ہاں پتلی نجاست ( پیشاب) ہتھیلی کی گہرائی کے برابر معاف ہے۔8
آپ کےہاں مغلظ نجاست یعنی پاخانہ، منی، مذی بقدر ساڑھے تین ماشہ کپڑے کو لگ جائے تو کپڑا پاک ہے۔9
آپ کے ہاں سور یا کتے کی پیٹھ پر غبار ہو تو تیمم جائز ہے۔(ابوحنیفہ) 10
آپ کے ہاں آذان فارسی وغیرہ ہرزبان میں جائز ہے۔11
آپ کے ہاں نماز کے سب اذکار، خطبہ اور ثناء وغیرہ ہر زبان میں درست ہے۔12
آپ کے ہاں امام قراءت شروع کرے تو مقتدی سبحانک اللہم پڑھ لے۔13 ( اب واذ قریء القرآن.... کا حکم کہاں گیا )
آپ کے ہاں امام کے پیچھے الحمد پڑہنے والے کے منہ میں پتھر اور انگارے ہیں۔14
آپ کے ہاں درود پڑھنا فرض نہیں۔15
آپ کے ہاں تشہد پڑھ کر قصداً گوز ماردیا جائے تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔ اور سلام پھیرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ 16
حوالہ جات
1۔ در مختار جلد1 ص49
2۔بہشتی زیور حصہ1 ص57
3۔فتاویٰ عالمگیری ج1 ص28
4۔ہدایہ ج1 ص47
5۔فتاویٰ عالمگیری ج1 ص16
6۔فتاویٰ عالمیگری ج1 ص83
7۔بہتشی زیور حصہ1 ص 63
8۔ہدایہ جلد1 ص226
9۔فتاویٰ عالمیگری ج1 ص61
10۔ ہدایہ جلد1 ص47
11۔درمختار ج1 ص225
12۔ہدایہ جلد1 ص349
13۔فتاویٰ عالمیگری ج1 ص123، منیۃ المصلی ص88
14۔ہدایہ جلد1 ص437
15۔ہدایہ جلد1 ص398
16۔قدوری ص28
حد کردی آپ نے بھی مسٹڑ گڈ مسلم ، صرف اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کررہے ہیں فضول بلکہ جھوٹ لکھ لکھ کر ۔دیکھو
آپ کا کہنا ہے اب اس واقعہ میں جو افعال کیے گئے ہیں ان کے حوالہ جات بھی پیش ہیں۔ اب آپ جناب مسٹر گڈ مسلم کی آسانی کے لئے آپ کی پیش کردہ کہانی میں سے وہ حصہ پیش خدمت ہے جس کے حوالہ جات آپ نے پیش کئے ہیں
پس کتے کی دباغت دی گئی کھال کو پہنا اور اسے چوتھائی نجاست سے آلود کیا کھجور کی نبیذ سے وضوء کیا چونکہ گرمی کا موسم تھا اس لیے مکھیاں اور مچھر اس پر جمع ہوگئے بغیر نیت کے وضوء کیا اوروہ بھی الٹا ( یعنی پہلے پاؤں اوراخیر میں ہاتھ دھوئے) پھر نماز م یں داخل ہوا اللہ اکبر کے بجائے فارسی میں ( خدائے بزرگ است ) کہا۔ پھر قراءت کی تو ( مدھامتان کی جبائے فارسی میں دو بزرگ است کہا۔پھر بجائے سجود کے مرغ کی طرح بغیر فرق کے دو ٹھونگیں مارلیں پھر تشہد پڑھ کر گوز ماردیا۔بغیر سلام کے نماز ختم کی۔
دیکھ لیجئے اس عبارت کو اور اوپر آپ کے پیش کردہ حوالہ جات کو ۔ اب پوری ایمان داری سے اپنے حوالہ جات کو ترتیب وار اس عبارت کے مطابق پیش کریں تاکہ آپ نے جو کہانی بنانے کی کوشش کی ہے اس کا جواب آپ کو دئیے جاسکیں ۔ ایسا اسلئے کہہ رہا ہوں کہ آپ کو معلوم ہو کم از کم کہ حوالہ جات ان ہی باتوں کے دئیے جاتے ہیں جو عبارت میں موجود ہوں چاھے جھوٹ ہی کیوں نہ ہو ۔ اب آپ نے ڈبل جھوٹا ہونے کا ثبوت دیا ہے
ایک تو کہانی کے کردار قفال مروزی جوکہ شافعی مزھب کا ہے اسی سے حنفی نماز پڑھوائی
دوئم یہ کہ آپ نے حوالہ جات میں یہ حوالہ بھی پیش کیا ہے دیکھو
آپ کے ہاں باہم ننگے مردو عورت کی شرمگاہیں مل جانے سے4، اپنے ذَکر یا دوسرے کے ذَکر کو پکڑنے سے5، زندہ یا مردہ جانور یا کم عمر لڑکی سے جماع کرنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا 6۔
مجھے اور باقی سب کو دکھاؤ مسٹر گڈ کہ یہ والی سطر میں جتنے بھی حوالہ جاٹ ہیں وہ قفال مروزی کی کہانی میں کس جگہ مزکور ہیں ؟ اگر نہیں دکھا سکتے تو یہ اک بار پھر سمجھ لو کہ الحمدللہ میں نے مسٹر گڈ مسلم جس کا مزھب ہے غیر مقلدیت لیکن وہ ایک نصرانی عالم کا مقلد بھی ہے کیونکہ اس کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کے باوجود اپنے آپ کو فرقہ جماعت اہل حدیث کہتا ہے ، کو جھوٹ کا سہارہ لینے والا بھی ثابت کردیا ہے کیونکہ جس واقعہ میں جو بات مزکور ہے ہی نہیں اسکے حوالہ جاٹ پیش کررہے ہیں اور جس بات کا زکر ہے اسکے حوالہ جاٹ بھی پورے نہیں پیش کئے۔ یعنی کانٹ چھانٹ کرکے صرف وہی الفاظ پیش کردئیے جن سے گڈ صاحب اپنا باطل نظریہ ثابت کر سکیں ۔
ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں مسٹر گڈ مسلم آپ کو ۔ آپ محنت کیجئے صرف دس جگہ رفع الیدین کا اثبات دکھانے کی ۔ قفال مروزی کو آپ اپنا امام مان چکے تو الگ بات ہے ، پھر مزید بھی اس کی کہانیاں پیش کرتے رئیے گا لیکن یہاں موضوع کیا ہے ؟ اور آپ نے اپنا کون سا دعوٰی ثابت کرنا ہے ؟ بھول نا جائیں اسلئے میں بتاتا ہوں
آپ کا دعوٰی ہے اختلافی رفع یدین منسوخ نہیں ۔
اور آپ اپنا دعوٰی ثابت کرنے میں ابھی تک ناکام و نامراد ہیں کیونکہ
آپ نے ابھی تک دس جگہ رفع یدین ثابت نہیں کیا
اور ناہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کیا ہے

ادھر ادھر دوڑنے بھاگنے کی ضرورت نہیں مسٹر گڈ مسلم ۔ کیونکہ سبکی آپ ہی کی ہورہی ہے کہ پچپن مراسلے گزر گئے اور آپ کو ابھی تک اپنی دلیل ہی نہیں ملی ؟اگر کچھ روایات پیش بھی کیں تو ان سے آپ کے عمل اور دلیلوں کے مطابق ، گنتی پوری نہیں ہوتی ۔ جب ہی تو دو جمع دو برابر چار یعنی قیاس غیر حجت کا سہارہ لیتے ہیں ۔ اور یہ اسی لئے کرتے ہیں کہ
غیر مقلدین کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ موجود نہیں
غیر مقلدین کے پاس اپنے عمل کے مطابق دلیل موجود نہیں
غیر مقلدین کے پاس رفع یدین غیر منسوخہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کا عمل ثابت کرنے کی کوئی دلیل نہیں ۔

اگر ہوتی تو گڈ مسلم کب کی پیش کرچکے ہوتے ، اب بھی وقت ہے مسٹر گڈ ، پیش کردیجئے دلیل بمطابق اپنے عمل کے ۔ تاکہ پھر ہم اگلے سوالوں کا رخ کریں۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
تو تھا آپ لوگوں کی نماز کا سرسری جائزہ۔۔۔
کچھ جائزہ میں بھی پیش کردیتا ہوں مسٹر گڈ مسلم کے انداز میں ۔
آپ کے ہاں تو منی ، خون ، خمر ، خنزیر پاک ہے ۔1
تو کیا آپ خنزیر اٹھاکر اور باقی چیزوں سے جسم و کپڑوں کو لت پت کرکے جلسہ عام میں اپنی نماز کا نقشہ پیش کریں گے؟ قفال مروزی کی طرح؟
کتے کے علاوہ خنزیر کی کھال بھی دباغت سے پاک ہوجاتی ہے - کتے کی کھال کا ڈول اور مصلی بنانا جائز ہے ، کتے کو اٹھاکر نماز پڑھنا بھی جائز ہے ۔2
تو مسٹر گڈ آج تک کتنی بار کتے کو اٹھا کر نماز پڑھی آپ نے ؟ یا خنزیر کی کھال کی شال بناکر اوڑھکر ؟
کتے کا لعاب اور صحیح قول کے مطابق پیشاب اور پاخانہ بھی پاک ہے ۔3
یہ بھی آپ ہی بتادیں کتنی بار آپ نے کتے کے پیشاب سے غسل کیا ؟ بھئی پاک جوہے آپ کے ہاں ۔
ہاں ایک اور بات بھی یاد رہے کہ جو چیز ہمارے ہاں نجاست خفیفہ ہے وہ آپ کے ہاں نہ صرف پاک بلکہ حلال بھی ہے - مثلآ حلال جانوروں کا پیشاب ہمارے ہاں نجاست خفیفہ ہے اور آپ کے ہاں
پاک بھی ہے اور بوقت ضرورت اس کا پینا بھی جائز ہے ۔4
اگر آپ قفال کے زمانے میں ہوتے تو آپ ایک کلو گھوڑے کا پیشاب پی کر ، گائے کے پیشاب سے غسل کرکے ، بھینس کے پیشاب سے کپڑے دھو کر اور اونٹ کے پیشاب سے جائے نماز دھو کر مقابلہ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور ساتھ ہی نعرے لگاتے: "نہ حنفیہ نہ شافعیہ ،غیر مقلدیہ غیر مقلدیہ"
۔۔1نزل الابرار
۔۔2نزل الابرار ج1 ص30
۔۔3نزل الابرار ج1 ص49
۔۔4فتاوے ثنائیہ ، فتاوی ستاریہ
فلحال اتنا ہی کافی شافی ہوگا ؟ امید تو یہی ہے ۔ ویسے گڈ مسلم صاحب موضوع پر ہی رہیں گے تو ایسی مثالوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں آپ ۔ باقی آپ کی مرضی ۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
جناب کیا اب بھی آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ کی نماز طریقہ نبوت کے عین مطابق ہے؟؟؟
یہی سوال آپ سے بھی ہے مسٹر گڈ مسلم کہ کیا فرقہ اہل حدیث والے اوپر پیش کردہ کچھ جائزے کے مطابق نماز پڑھتے ہیں ؟ کیا ایسی نماز کو طریقہ نبوی مانتے ہیں ؟
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
مجھے معلوم ہے آپ کہتے رہیں گے لیکن قارئین خود سمجھ لیں گے۔۔ ان شاءاللہ
جی جی ضرور سمجھ لیں گے ۔ کہ کس کے ہاں کیا جائز ہے اور کس کے ہاں پاک ہے ۔ اور میرا مشورہ ہے اک بار پھر آپ کو کہ موضوع پر ہی رہیں ۔ باقی آپ کی مرضی۔
گڈمسلم;72933 نے کہا ہے:
نوٹ:
پوسٹ کے باقی حصے کے جواب اگلی پوسٹ میں دیا جائے گا۔۔۔ جب تک میرا جواب مکمل نہ ہوجائے میری پوسٹ کے آگے میری طرف سے آپ کو پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں۔ والسلام
اطمینان کے ساتھ پوسٹیں بڑھاتے رہیں مسٹر گڈ ، آپ کو فلحال پورا ٹائم دیا گیا ہے کہ ڈھونڈ لیں اپنی دلیل اپنے عمل کے مطابق ۔
شکریہ
(((پوسٹ نمبر 55 کا جواب مکمل ہوا)))
(((((((جاری ہے)))))))
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
گڈ مسلم کی پوسٹ نمبر56 کا جواب

قارئین کرام سہج صاحب کی پوسٹ نمبر33 میری پوسٹ نمبر28 کا جواب ہے۔اس پوسٹ کے کچھ حصے کا جواب پوسٹ نمبر54 اور پوسٹ نمبر55 میں پیش کیا تھا۔ کچھ مصروفیات کی وجہ سے باقی حصے کا جواب اب پوسٹ کیا جارہا ہے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جی جناب محترم مفتی سہج صاحب مجھے معلوم ہے۔۔ لیکن ساتھ یہ بھی معلوم ہے کہ کس خاص مسئلہ کی وضاحت کےلیے ہے۔۔ شاید اس بات سے آپ کلی طور ناواقف ہیں۔۔ تبھی تو اس سے زمانہ پر دلیل اخذ کررہے تھے۔۔ جناب اس میں تو خود ذکر ہے کہ یہ کام بعد کا ہے اور یہ کام پہلے کا ۔۔ لیکن جس میں ذکر ہی نہ ہو تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ یہ کام پہلے کا تھا اور اب یہ ہے ۔۔ اور شاید آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ دونوں کام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے تھے۔۔ اور حمیدی رحمہ ا للہ نے بھی دونوں احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہی استدلال کیا ہے۔۔ یہ استدلال ہوائی نہیں تھا جناب محترم۔۔ ذرا غور فرمالینا
اس فرق کو تسلیم کرنے کے ہی خاطر آپ سے دلیل طلب کی تھی۔۔ جب آپ دلائل سے ثابت کردیں گے کہ کہ رفع الیدین والی احادیث پہلے کے زمانے کی ہیں اور رفع الیدین نہ کرنے والی احادیث بعد کے زمانے کی ہیں۔ تب گڈمسلم صاحب ایک سیکنڈ انتظار کیے بنا آپ کی بات نہیں بلکہ احادیث کو تسلیم کرلے گا۔۔۔ ان شاءاللہ
گڈ مسلم صاحب ناجانے کس دلیل کو مانتے ہیں ؟ جبکہ دعوٰی کرتے ہیں صرف قرآن اور حدیث کو دلیل ماننے کا ۔حدیث پیش کرو تو کسی کو ضعیف کہتے ہیں یا مردود یا باطل ۔ قرآن کی تفسیر پیش کرو تو اسکے اوپر بھی اعتراض کہ اس کی سند میں فلاں فلاں کذاب ہیں ۔ یعنی تفسیر قرآن پر بھی اعتراض اور حدیث پر بھی اعتراض ؟ ماشاء اللہ پھر بھی رہیں اہل حدیث؟
اور جو روایات جناب نے پیش کیں ہیں ابھی تک اس میں اہل حدیث صاحب مسٹر گڈ کا رفع یدین کا عمل ثابت ہی نہیں ہو رہا ناہی کرپارہے ہیں سوائے دو جمع دو چار کرنے کے ۔ اب یہی دیکھ لیں کہ مزکورہ حدیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس پر سے گر پڑے۔ اس سے آپ کے دائیں پہلو پر زخم آئے۔ تو آپ نے کوئی نماز پڑھی۔ جسے آپ بیٹھ کر پڑھ رہے تھے۔ اس لیے ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ حمیدی نے آپ کے اس قول ’’ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ‘‘ کے متعلق کہا ہے کہ یہ ابتداء میں آپ کی پرانی بیماری کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد آخری بیماری میں آپ نے خود بیٹھ کر نماز پڑھی تھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے۔ آپ نے اس وقت لوگوں کو بیٹھنے کی ہدایت نہیں فرمائی اور اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ کا آخری ہو اس کو لینا چاہئے اور پھر جو اس سے آخری ہو۔
صحیح بخاری،کتاب الاذان،باب: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں
کی تشریح کرتے ہوئے امام بخاری کے استاد حمیدی رحمہ اللہ ایک قائدہ بیان فرماتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ کا آخری ہو اس کو لینا چاہئے اور پھر جو اس سے آخری ہو۔ یعنی ہر ہر عمل میں بعد کا آخری عمل جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا اور جس طرح کیا ویسے ہی عمل کیا جانا چاھئیے ۔
غیر اقراری طور پر مسٹر گڈ مسلم اور ان کے مزھب یعنی غیر مقلدیت یعنی فرقہ جماعت اہل حدیث کے ماننے والے بھی یہی مانتے اور کرتے ہیں لیکن بلا دلیل، یہ ایک چیلنج ہے مسٹر گڈ مسلم کو کہ وہ مختلف فیہ رفع یدین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کا عمل ثابت کریں ۔ اب دو عدد روایات پیش خدمت ہیں انہیں دیکھئیے اور دلیل کے ساتھ بتائیے کہ ان میں سے کس روایت کو آپ آخری عمل کے طور پر لیتے ہیں ، یاد رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ۔
عن انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً کان یرفع یدیہ فی الرکوع والسجود۔
سندہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم
(مصنف ابن ابی شیبہ جلد1 صفحہ266،مسند ابی یعلی جلد6صفحہ399،مجمع الزوائد جلد2صفحہ 220 وقال الھیثمی رواہ ابویعلی و رجال الصحیح، اتحاف الخیرۃ المھرۃ جلد2صفحہ325 وقال اسنادہ صحیح، المحلی بالآثار لابن حزم جلد3صفحہ 4-9 وقال صحیح، السنن الدارقطنی جلد1صفحہ393 و سند صحیح علی شرط البخاری و مسلم الاحادیث المختارہ جلد 6صفحہ 52وقال صحیح) وغیرہ
ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین کرتے تھے رکوع اور سجود میں۔
اور اب دوسری روایت دیکھیں
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ مرفوعاً و اذا اراد ان یرکع و بعد ما یرفع راسہ من الرکوع فلا یرفع ولا بین السجدتین و فی روایۃ اذا اراد ان یرکع و بعد ما یرفع راسہ من الرکوع لا یرفھما و فی روایۃ ترک رفع الیدین فی داخل الصلوٰۃ عند الرکوع و ثبت علٰی رفع الیدین فی بدء الصلوٰۃ۔
(مسند الحمیدی جلد2صفحہ277 حدیث نمبر 614 و سندہ صحیح علٰی شرط البخاری و مسلم ، صحیح ابوعوانہ جلد1صفحہ334 و سندہ صحیح علٰی شرط البخاری و مسلم، اخبار الفقہا و المحدثین لقیرانونی صفحہ 214 و سندہ صحیح)​
ترجمہ
حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم) جب رکوع کا ارادہ کرتے اور بعد رکوع کے سر اٹھاتے تو پس رفع الیدین نہ کرتے تھے اور نہ سجدوں کے درمیان میں رفع الیدین کرتے تھے۔اک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کا ارادہ کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین نہ کرتے، اک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کی رفع الیدین کو ترک کردیا یعنی چھوڑ دیا تھا اور ابتداء نماز کی رفع الیدین کرنے پر (ہمیشہ) ثابت قدم رہے۔
پہلی روایت
سجدوں کی رفع یدین جس روایت میں ہے وہ آخری ہے ؟یا پہلے دور کی ؟
دوسری روایت
یہ کس دور کی روایت ہے ؟ کیا اس وقت کی جب رفع یدین نہیں کی جاتی تھی ؟ کیا اس روایت کے عمل کے بعد رفع یدین شروع ہوئی ؟
مسٹر گڈ مسلم آپ کچھ بھی کرلو جتنا بھی زور لگالو کہ زمانے کا فرق کوئی حیثیت نہیں رکھتا یہ سارا زور سارے جتن باطل ہیں کیونکہ آپ خود اپنے عمل کا اقرار کرکے زمانے کا فرق مانتے ہو ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس پر یعنی اپنے عمل پر اپنے دعوے کے مطابق کوئی دلیل نہیں رکھتے ۔ اور دلیل ہے ہی نہیں تو پیش کیا کرو گے ؟ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ مختلف فیہ رفع یدین کرتے رہنا ۔
مسٹر گڈ مسلم اوپر جو روایت پیش کی ہے ناں دوسرے نمبر پر ، اسے غور سے پڑھو بار بار پڑھو تحقیق وغیرہ بھی کرلو بلکہ کروا لو۔ پھر بتاؤ کہ پہلے زمانے کا عمل کون ساہے اور ہمیشہ کیا جانے والا عمل کون سا ؟؟؟؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
سب سے پہلی بات آپ نے میری بات پوچھی گئی بات کا جواب ہی نہیں دیا اور جو کاٹم پيٹی کا الزام مجھے دیا تھا اس کا جواب میں نے کچھ یوں دیا تھا کہ ’’ کاٹم پیٹی مشغلہ متبع نہیں بلکہ وظیفہ مقلد ہے۔‘‘ عین درست جواب دیا تھا۔ جو کہ یہاں کے ساتھ کئی جگہوں پر ثابت بھی ہوچکا ہے۔۔دوسری بات یہ جان لیں نبی کریم کی اس سنت پر عمل ہمارے کھاتے میں ہے۔ اور ہم الحمدللہ اس سنت پر اسی طرح عمل کرتے ہیں جس طرح ہمارے پیارے نبی نے عمل کرکے دکھایا۔ اور صحابہ کرامنے بیان بھی کیا اور پریکٹیکلی عمل بھی کرکے دکھایا۔۔ اور جس طرح ہم عمل کرتے ہیں میں نے بھی اسی عمل پر بخاری سے حدیث پیش کی تھی، جس کا انکار آپ کیا پوری مقلدیت کرہی نہیں سکتی۔۔اپنے عمل کے مطابق وہ حدیث دوبارہ پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔۔ شاید غور کرنے کی توفیق مل جائے۔ اس حدیث کی تفصیلی وضاحت بھی پہلے پیش کرچکا ہوں۔دوبارہ یہاں پیش کرنے کے بجائے گزارش کرتا ہوں کہ اس پوسٹ کا چکر لگائیں۔
آپ اپنے کشکول سے جو الفاظ نکال کر عین انہی الفاظ پر دلیل کے طلب پر ضد پکڑے ہوئے ہیں۔ وہ بھی اس ایک ہی حدیث سے پوری ہورہی ہے۔۔ الحمد للہ ۔۔سمجھ تب آئے گی جب غور کروگے۔۔اور جو آپ نے اس حدیث کے خلاف ابن عمرکا اثر پیش کیا تھا۔ اس کی حقیقت کیا تھی؟ وہ بھی یہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
مسٹر گڈ مسلم آپ کی جو بات تھی وہ پہلے دیکھ لیں اور پھر میرا جو جواب تھا اسے بھی دیکھ لیں ، پھر اپنے اوپر والے کمنٹ کو دیکھئیے گا اور پھر بتائیے گا کہ کس نے جواب دیا اور کس نے چالاکی کھیلی ؟
مسٹر گڈ مسلم کا فرمان
گنتی کو تو یاد کرنے کے چکر میں آپ ہیں۔ اور پھر گنتی کرکے بتا بھی دیا ہے۔ لیکن کیا آپ اس طرح کی دلیل چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ نے فرمایا ہو کہ
1۔ نماز شروع کرتےہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
2۔ پہلی رکعت کے رکوع جاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
3۔ اسی رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
4۔ پھر دوسری رکعت کے رکوع جاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
5۔ اسی رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
6۔ دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
7۔ تیسری رکعت کے رکوع جاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
8۔ اسی رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
9۔ چوتھی رکعت کے رکوع جاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
10۔ اسی رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے ایک رفع کرنی ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے یا آپ نے فرمایا ہو کہ چار رکعتوں میں یہ کل دس بار رفع الیدین کرنا ہوگی.......آپ ذرا تصدیق فرمادیں کہ آپ کو اس قبیل کی حدیث مطلوب ہے۔ جس میں اس طرح بیان ہو؟ یا پھر آپ ہی تفصیل سے وضاحت فرمادیں کہ آپ کو کس طرح کی دلیل چاہیے۔ ؟
میرا یعنی ساھج کا جواب
آپ کی دلیل کیا ہے ؟ اللہ کا فرمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ۔ ٹھیک؟ بھئی آپ کہتے ہیں ناں کہ اہل حدیث کے دو اصول اطیعوا الله و اطیعوا الرسول ، تو آپ کو مجھ سے پوچھنے کی ضرورت کیا ہے ؟ گڈ مسلم صاحب آپ نے دس جگہ رفع یدین کرنے کی اور اٹھارہ جگہ نہ کرنے کی دلیل دکھانی ہے ۔ صریح دلیل۔ دو جمع دو برابر چار کرکے نہیں ۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ اوپر بنائی گئی ترتیب سے دکھائیں یا پھر مقامات کی نشاندھی دکھادیں چاروں رکعت میں ۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ آپ تین نمبر تک رفع یدین کرتے ہیں پھر چار پانچ چھ سات نمبر کو چھوڑتے ہیں پھر آٹھ اور نو کرتے ہیں پھر دس گیارہ بارہ تیرا کو چھوڑتے ہیں ، پھر چودہ نمبر رفع یدین کرکے ،پندرہ سولہ کرتے ہیں اور پھر سترہ اٹھارہ انیس اور بیس نہیں کرتے ، اکیس بائیس کرتے ہیں اور پھر تئیس نمبر رفع یدین سے لیکر اٹھائیس نمبر تک نہیں کرتے ۔ کیوں ایسا ہی ہے یا نہیں ؟ تو بھئی ایسے عمل کی دلیل بھی تو ہونی چاھئیے کہ نہیں ۔
یہ تو تھا نمونہ آپ کے سوال اور میرے جواب کا جس میں متبع صاحب کی چکر بازی صاف نظر آرہی ہے۔اب آتے ہیں آپ کے موجودہ "جواب" کی طرف
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
دوسری بات یہ جان لیں نبی کریم کی اس سنت پر عمل ہمارے کھاتے میں ہے۔ اور ہم الحمدللہ اس سنت پر اسی طرح عمل کرتے ہیں جس طرح ہمارے پیارے نبی نے عمل کرکے دکھایا۔ اور صحابہ کرامنے بیان بھی کیا اور پریکٹیکلی عمل بھی کرکے دکھایا۔۔ اور جس طرح ہم عمل کرتے ہیں میں نے بھی اسی عمل پر بخاری سے حدیث پیش کی تھی، جس کا انکار آپ کیا پوری مقلدیت کرہی نہیں سکتی
الحمد للہ ناپہلے انکار کیا تھا اور ناہی ابھی کیا اور ناہی قیامت تک انکار کریں گے ۔ الحمدللہ
مسٹر گڈ ،میں تو سجدوں کی رفع یدین والی روایات کو بھی مانتا ہو ۔ اس بارے میں ارشاد ورشاد ہوجائے کہ آپ سجدوں کی رفع الیدین والی روایات کو ماننے کا اقرار کرتے ہیں ؟ اگر اقرار ہے ماننے کا تو عمل کیوں نہیں ؟ ؟؟ اچھا اچھا زمانے کا فرق ہے ۔ اوکے
رہی بات مقلدیت کی تو یہ یقینا صرف حنفیوں پر اشارہ ہوگا آپ کا ؟ کیونکہ شافعی مالکی حنبلیوں کو اہل حدیث نامی غیر مقلدین متبع سنت مانتے ہیں ناں ؟ بتادیجئے گا مسٹر گڈ اگر میں نے غلط اندازہ لگایا ہو تو۔
اور ہم احناف الحمدللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ہی لیتے ہیں ،وہ رفع یدین جسے آپ غیر مقلدین بھی اختلافی مانتے ہیں اور ہم اہل سنت والجماعت بھی، اسے آپ عمل میں لاتے ہیں اور بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ اور بغیر ہمیشہ اسے کرنے کی دلیل کے۔جبکہ ہم اہل سنت والجماعت احناف صحیح بات کرتے ہیں اور اسے نہ چھپاتے ہیں اور نا ہی جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ ہم رفع یدین شروع نماز کے علاوہ نہیں کرتے ۔اور الحمدللہ شافعی اور حنبلی بھی مختلف فیہ رفع یدین کو رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں کہتے اور ناہی ہمیشہ کا عمل کہتے ہیں ۔ اب وہ کیوں رفع یدین "اختلافی" کرتے ہیں یہ آپ مجھے بتادینا امید ہے آپ جانتے ہوں گے کہ شافعیوں اور حنبلیوں کی کیا دلیل ہے رفع یدین کرنے کے بارے میں ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اپنے عمل کے مطابق وہ حدیث دوبارہ پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔۔ شاید غور کرنے کی توفیق مل جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
" كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال : سمع الله لمن حمده ، رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه " (صحيح البخاری، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين، حديث:‏739)​
’’ جب نماز کا آغاز فرماتے تو تکبیر کہتے اور رفع الیدین فرماتے، اور جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رفع الیدین کرتے، اور جب دو رکعتوں سے اُٹھتے تو پھر بھی رفع الیدین کرتے۔‘‘​
اس حدیث کی تفصیلی وضاحت بھی پہلے پیش کرچکا ہوں۔دوبارہ یہاں پیش کرنے کے بجائے گزارش کرتا ہوں کہ اس پوسٹ کا چکر لگائیں۔
آپ اپنے کشکول سے جو الفاظ نکال کر عین انہی الفاظ پر دلیل کے طلب پر ضد پکڑے ہوئے ہیں۔ وہ بھی اس ایک ہی حدیث سے پوری ہورہی ہے۔۔ الحمد للہ ۔۔سمجھ تب آئے گی جب غور کروگے۔۔اور جو آپ نے اس حدیث کے خلاف ابن عمرکا اثر پیش کیا تھا۔ اس کی حقیقت کیا تھی؟ وہ بھی یہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
سب سےپہلے تو جناب گڈ صاحب آپ کی پیش کردہ روایت جو کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کرتی ہے کے بارے میں ایک امتی کی گواہی دیکھ لیں جوکہ یقینا آپ کے ہاں بلند مقام رکھتے ہوں گے ؟ دیکھئے (پہلے بھی دکھا چکا )​
قال ابو داود الصحيح قول ابن عمر وليس بمرفوع ‏.۔۔سنن ابوداود،أبواب تفريع استفتاح الصلاة‏
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں
اور جہاں کا لنک آپ نے دیا ہے وہاں کا جواب آپ کو اسی پوسٹ کے اندر ملے گا جو اس کے جواب میں لکھی پڑی ہے واپس جاکر اک نظر دیکھ لیں ۔
یہ تھی آپ کی دلیل ؟ جسے آپ مرفوع مانتے ہیں اور وہ بھی مختلف فیہ نکلی ؟ یعنی کچھ امتی اسے مرفوع کہتے ہیں اور کچھ غیر مرفوع ؟ اور جناب نے کچھ امتیوں کی رائے کو "دلیل" بنایا ہوا ہے ؟ اگر بلفرض مزکورہ روایت کو مرفوع مان بھی لیں تو پھر بھی آپ کی دس جگہوں کی رفع یدین کی گنتی مکمل نہیں ہوتی بغیر دوجمع دو چار کئے۔ اور دوجمع دو چار کرنے کو آپ نے ابھی تک غیر مقلدین یعنی فرقہ جماعت اہل حدیث کی دلیل ثابت نہیں کیا ۔ پس جو دلیل آپ کی دلیل نیست اسے آپ کیسے اپنی دلیل است سمجھ کر پیش کرتے ہیں ؟؟؟؟ سمجھا دو یہ فسانہ مجھے مسٹر گڈ مسلم ۔پلیییییییز
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
آپ کیا کرتے ہیں یا کیا نہیں کرتے۔ اس بارے آپ کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ میں بھی اچھی طرج جانتا ہوں۔ محترم سہج صاحب ہمارا موضوع ہے اختلافی رفع منسوخ ہے یا نہیں؟
ویری گڈ مسٹر گڈ مسلم کہ آپ کو اب یہ یاد آگیا کہ ہمارا موضوع بلکہ آپ کا شروع کردہ موضوع ہے اختلافی رفع یدین منسوخ ہے یا نہیں؟بنام کیا مختلف فیہ رفع الیدین منسوخ ہے۔؟۔ اور آپ مختلف فیہ رفع یدین کو چار رکعت نماز میں دس جگہ ثابت کررہے ہیں اپنے عمل جاریہ کے مطابق اور میں اپنے عمل کو ثابت کر رہا ہوں یعنی شروع نماز کی رفع یدین کے علاوہ چاروں رکعت میں نہیں کرنا۔ کیوں مسٹر گڈ ایسا ہی ہے ناں؟ لیکن آگے جو آپ نے گیم کھیلا ہے وہ عجیب بلکل نہیں بلکہ اک اور ثبوت ہے غیر مقلدیت کے ضدی ہونے کا۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
پہلی بات آپ کے پاس کوئی ایسی دلیل ہے ہی نہیں جس میں صرف اختلافی رفع کا ذکر ہو۔ اگر ہے تو پیش کرو۔۔بلکہ آپ کے دلائل میں پہلی رفع کا بھی ذکر موجود ہوتا ہے۔ جو کہ اختلافی نہیں ہے۔
مسٹر گڈ مسلم ایسے موقع پر بہت کچھ کہہ سکتا ہوں الحمدللہ ۔ لیکن صرف یہ کہوں گا کہ آپ نے جو بخیال خویش روایات پیش کی ہیں ان میں بھی پہلی رفع یدین کا زکر خیر موجود ہے دیکھئے
عن ابن عمر رضي الله تعاليٰ عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم كان اذا افتتح الصلاة رفع يديه
ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے،
عن وائل بن حجر قال: قلت لانظرن الي صلاة رسول الله كيف يصلي فقام رسول الله فاستقبل القبلة فكبر فرفع يديه حتي حاذتا اذنيه
وائل بن حجر نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ کی نماز دیکھنے کاحتمی فیصلہ کیا کہ دیکھوں آپ نماز کس طرح پڑھتے ہیں۔ آپ رو بقبلہ کھڑے ہوگئے ۔ تکبیر ( تحریمہ) کہی اور کانوں تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے
اور اک بات
مسٹرگڈ مسلم سجدوں کی رفع الیدین کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ وہ بھی اختلافی نہیں آپ کے اور ہمارے بیچ ؟ یا ہے ؟ (یہ الگ بات ہے کہ" نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، علامہ ناصر الدین البانی، صفحہ 131 "پر سجدوں کے متعلق کچھ اور ہی لکھا ہوا ہے،اگر توفیق ہوتو خود دیکھ لینا)اور آپ اگر اختلافی نہیں مانتے تو پھر آپ کی پیش کردہ روایات میں بھی سجدوں کی رفع یدین کا زکر نہیں ہونا چاھئے کیوں کی آپ غیر مقلدین اور ہم اہل سنت والجماعت احناف میں اس پر کوئی اختلاف نہیں۔ تو پھر اب آپ سجدوں کی رفع یدین کے زکر کے بغیر اپنی رفع یدین یعنی رکوع جاتے اٹھتے اور تیسری رکعت شروع یعنی نوجگہ کی صراحت کے ساتھ دلیل پیش کردیں گے یا کر سکتے ہیں ؟؟؟؟
اب اپنے ہی چالاک اصول کو اپنی ہی پیش کردہ روایات پر لاگوں کرلیجئے مسٹر گڈ مسلم ۔تاکہ معلوم ہو کہ آپ جو کہتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں ۔ یعنی کوئی حد ہی موجود نہیں آپ کے لئے ؟ساری حدوں کو پار کرچکے ہیں ؟ صرف اپنی ضد کو ثابت کرنے کے لئے ؟ جبکہ آپ خود مجھ سے مطالبہ کرچکے ہیں ایک پوسٹ میں 4۔چار رکعت نماز میں شروع میں رفع کرتے ہیں باقی نو اختلافی جگہوں پر رفع نہیں کرتے۔ آپ دلیل پیش کریں جس میں بیان ہو کہ چار رکعت نماز میں ایک بار رفع کرنا چاہیے باقی نو جگہوں پر نہیں کرنا چاہیے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;65406[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
4۔چار رکعت نماز میں شروع میں رفع کرتے ہیں باقی نو اختلافی جگہوں پر رفع نہیں کرتے۔ آپ دلیل پیش کریں جس میں بیان ہو کہ چار رکعت نماز میں ایک بار رفع کرنا چاہیے باقی نو جگہوں پر نہیں کرنا چاہیے۔
اور جب میں نے الحمدللہ ثابت کردیا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے کہ دیکھ لیں ہمارے عمل کے عین مطابق دلیل ہے ، تو اب جناب غیر اختلافی رفع یدین کے بغیر دلیل مانگ رہے ہیں ؟؟؟ افسوس کی بات ہے دیکھنے پڑھنے والوں کے لئے جو غیر مقلدیت کو سہی سے سمجھتے نہیں ۔کہ پہلے مطالبہ کرتے ہیں پھر اسی مطالبہ کو جب پورا کردیا جائے تو اسے رد کردیتے ہیں ۔ مسٹر گڈ ، اب آپ سے گزارش ہے کہ ایسے مطالبات بلکل نہ کریں جس سے جناب کی مزید سبکی ہو ۔ سیدھا سیدھا آپ کا جو عمل ہے چار رکعت نماز میں اختلافی رفع یدین کے بارے میں یعنی دس جگہ کرنا اور اٹھارہ جگہ نہ کرنا ، کی دلیل صریح پیش کردیں جو قرآن سے ہو یا صرف قول فعل یا تقریر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ کیونکہ امتی کا عمل آپ کی دلیل نہیں اور ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ امتی ہی ہیں ۔ ان پر موقوف عمل کو اگر آپ دلیل مان بھی لیں تو اس میں آپ کے عمل کی صراحت نہیں ہے ۔جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں الحمدللہ ہم اہل سنت والجماعت احناف کا رفع یدین کے بارے میں مکمل عمل صاف نظر آرہا ہے ۔یعنی شروع نماز کی رفع یدین کرنا اور باقی ساری جگہوں کی چھوڑنا ۔
sahj;65911 نے کہا ہے:
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يُعِدْ
سنن النسائي
ترجمہ:ابن مسعود رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی اور تمام صحابہ سے فقہی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کیا میں تمہیں وہ نماز پڑھاؤں جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے؟ تو نماز پڑھائی اور رفع یدین نہیں کیا سوائے پہلی مرتبہ کے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اس وجہ سے جب آپ نے یہ کہا تھا کہ پہلی رفع غیر اختلافی ہے اس لیے آپ اس رفع کو کیوں بیچ میں لاتے ہیں؟ تو میں نے اچھی طرح وضاحت یہاں کردی تھی کہ ہم اس پہلی غیر مختلف فیہ رفع کا ذکر کیوں کرتے ہیں۔؟
مسٹر گڈ مسلم آپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ آپ پہلی رفع کو بھی اختلافی بناکر چھوڑیں گے ! مسٹر موضوع اختلافی رفع یدین ہے اور وہ کی جاتی ہے رکوع جاتے اٹھتے ،تیسری رکعت کے شروع ، اور سجدوں میں نہیں کرتے ۔ کیوں ٹھیک؟ تو جو اختلافی رفع یدین ہے اس کے بارے میں ہی توجہ ہونی چاھئیے کہ نہیں ؟ تو پھر پیش کریں دلیل آپ کے عمل کے مطابق بغیر دوجمع دو چار کئے ۔شاباش
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
دوسری بات جس طرح آپ مجھ سے اپنی طرف سے گھڑے گئے الفاظ کے عین مطابق دلیل طلب کررہے ہیں۔(یعنی ایسی دلیل دکھاؤں کہ جس میں دس کا اثبات ہو اور اٹھارہ کی نفی ہو اور وہ بھی گنتی کے ساتھ)​
مسٹڑ گڈ مسلم آپ نے جتنے بھی سوال مجھ سے کئے ہیں شروع تھریڈ سے ان تمام سوالوں کے الفاظ قرآن یا حدیث سے بادلیل پیش کردیں ۔ تاکہ ہم بھی دیکھیں کہ مسٹر گڈ مسلم اہل حدیث ہونے کا حق ادا کررہے ہیں اور سوال بھی کرتے ہیں تو بادلیل ۔ ویسے آپ کی اس بات پر بھی مجھے حیرت بلکل نہیں ہوئی۔( حیرت ہوگی تو اس وقت جب آپ اعتراض نہیں کرو گے )​
جناب سوال اپنے الفاظ میں ہی کیا جاتا ہے اور جواب دلیل کے ساتھ ہوسکتا ہے اگر مقلد ہو ، اور اگر سامنے ہو غیر مقلد جس کا دعوٰی ہو کہ وہ اہلحدیث ہے ، توپھر جواب صرف اور صرف دلیل صریح کے ساتھ ہونا چاھئے کیونکہ نعرہ ہے اطیعواللہ و اطیعوالرسول۔ امید ہے سمجھ آگئی ہوگی؟
اگر سمجھ آگئی ہے تو پھر دلیل پیش کیجئے ایسی جس میں نہ شروع نماز کی رفع یدین کا زکر خیر ہو اور ناہی سجدوں کی رفع یدین کرنے یا نہ کرنے کا زکر ۔
اور یہ بھی سمجھ لیں میں نے اپنے عمل کے مطابق سیدھی سادھی صاف الفاظ کے ساتھ دلیل پیش کی ہے جس میں ہماری پہلی رفع کا اثبات موجود ہے اور باقی کا انکار ۔ جبکہ آپ اب تک ناکام رہے ہیں آپ کے عمل کے مطابق دلیل پیش کرنے میں جس میں صاف صاف دکھاسکیں پہلی رفع سمیت باقی نو جگہوں کی رفع کا اثبات بغیر دو جمع دو چار کئے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
تو جناب ذرا غور فرمالیں یہ سودا آپ کو بہت مہنگا پڑے گا کیونکہ اس طرح جواب دینے کے فرسٹ مصداق آپ ہی ہیں۔۔ کیونکہ آپ کا رفع کو منسوخ کہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ رفع الیدین کو ایک وقت میں تسلیم کرتے ہیں۔ اور دوسرے وقت میں آکر منسوخ کہہ رہے ہیں۔
الحمدللہ ہم اہل سنت والجماعت احناف سچے ہیں اور سچ ہی بتاتے ہیں ۔ دیکھ لو مسٹر گڈ مسلم کہ ہم رفع الیدین کو تسلیم کرتے ہیں اسلئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شروع زمانے میں عمل رہا ، جیسے نماز میں باتیں کرنا ، سجدوں میں جاتے اٹھتے رفع یدین کرنا بھی صحیح روایات سے ثابت ہے اور الحمدللہ ان دونوں اعمال کو آپ بھی مانتے ہو یعنی نماز میں باتیں اور سجدوں کی رفع الیدین ، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ یہ بعد کے زمانے میں منسوخ ہوگیا یا ترک کردیا گیا یا منع ہوگیا جو مرضی کہہ لیں ۔ مطلب ایک ہی ہے کہ ان اعمال پر اب نہ آپ عمل کرتے ہیں اور ناہی ہم ۔
اب آپ کے سامنے اگر نماز میں باتیں کرنے کی روایت پیش کروں تو آپ کہیں گے کہ یہ صریح دلیل سے منسوخ ثابت ہے اور سجدوں کی رفع یدین کو جناب نے کس کے کہنے پر منسوخ مانا ؟؟؟ دلیل کوئی ہوتو ابھی پیش کردیں ورنہ پھر جب رفع یدین کہاں کہاں جہاں جہاں چھوڑنے کی بات چلے وہاں پیش پوش کردینا۔ جیسے آپ کو اچھا لگے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اب آپ احناف چار رکعات میں 28 رفعوں کے بجائے ایک رفع کرتے ہیں اور باقی ستائیس چھوڑتے ہیں۔۔
الحمدللہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اس لیے آپ مجھے ایسی دلیل پیش کریں کہ جس میں ہو کہ چار رکعات نماز میں ایک رفع کرنی ہے اور ستائیس چھوڑنی ہیں۔؟؟؟ کوئی ایک دلیل پیش فرما کر اس مسئلہ میں مجھے اپنی پارٹی میں شامل کرلیں۔۔شکریہ ۔
یہ لیجئے دلیل مسٹر گڈ مسلم لیکن مانیں گے آپ یا نہیں ؟ نہیں نہیں نہیں ۔۔۔کیونکہ اہل حدیث ہونے کے دعوے دار ہیں آپ۔
حدثنا عبداللہ بن ایوب المخرمی وسعد ان بن نصر و شعیب بن عمرو فی آخرین قالوا ثنا سفیان بن عیینة عن الزھری عن سالم عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم حذو منکبیہ واذا ارادان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع لا یرفعھما وقال بعضھم ولا یرفع بین السجتیدنوالمعنی واحد
ترجمہ
محدث ابو عوانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ایوب مخزومی اور سعدان بن نصر اور شعیب بن عمرو تینوں نے حدیث بیان کی اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے سفیان بن عینة نے حدیث بیان کی انہوں نے زہری سے اور انہوں نے سالم سے اور وہ اپنے باپ ابن عمر سے روایت کی اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ کو دیکھا آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے کندھوں کے برابر اور جب ارادہ کرتے کہ رکوع کریں اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تو آپ رفع الیدین نہ کرتے اور بعض راویوں نے کہا ہے کہ آپ سجدتین میں بھی رفع یدین نہ کرتے مطلب سب راویوں کی روایت کا ایک ہی ہے ۔
(صحیح ابوعوانہ جلد دوئم صفحہ نوے)
اب مسٹر گڈ مسلم کو دعوت خاص ہے کہ اعلان کردیں اہل سنت والجماعت حنفی ہونے کا کیونکہ جناب نے آگے فرمایا ہے کہ دلیل میں صحیح کی شرط بھی نہیں (اس بات سے یہ نہ سمجھنا کہ پیش کردہ روایت مردود ہے )لگے ہاتھوں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت مرفوع پھر سے پیش کرنے کی جسارت بھی کرتا ہوں۔
اخبرنا سوید بن نصر قال انبانا عبداللہ بن المبارک عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللہ
قال الا اخبرکم بصلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فقام فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد
سنن نسائی،جلد ایک ،باب: مونڈھوں تک ہاتھ نہ اٹھانا
ترجمہ: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتلادوں پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھائے پہلی مرتبہ (یعنی جب شروع کی نماز ) پھر ہاتھ نہ اٹھائے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔ ورنہ میرے دلائل کو تسلیم کرکے اس سنت صحیحہ ثابتہ پر عمل کرنا شروع کردیں۔یہی آپ کےلیے بہتری ہے۔سوال ایک بار دوبارہ پیش کردیتا ہوں کہ ایک کا اثبات، ستائیس کی نفی گنتی کے ساتھ بادلیل دلیل میں صحیح کی شرط بھی نہیں رکھتا۔ جاؤ موجیں کرو
ایک
سنت صحیحہ ثابتہ یہ سنت کی کون سی قسم ہے ؟ دلیل صریح سے جواب پیش کریں زاتی جمع خرچ اپنے پاس رکھئیے گا۔
دو
آپ کا جو عمل رفع یدین ہے اسے بھی بادلیل سنت صحیحہ ثابتہ ثابت کریں۔
تین
جب اوپر کے دونوں سوالوں کے جواب بھی دے لیں تو پھر مجھے دعوت دیجئے گا ۔یاد رہے "الفاظ " سنت صحیحہ ثابتہ دکھانے ہیں دلیل میں کہ رفع الیدین سنت صحیحہ ثابتہ ہے ۔
چار
ایک کا اثبات اور ستائیس کی نفی الحمد للہ کئی بار دکھائی ہے اک بار اور دیکھ لیں
عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعاً اخبر کم بصلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد و فی نسخۃ ثم لم یرفع و فی روایۃ الااصلی بکم صلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرۃ۔
(صحیح نسائی صفحہ 158،161 سندہ صحیح ، ترمزی جلد1صفحہ 59 سندہ صحیح ، ابن ابی شیبہ جلد1صفحہ267 سندہ صحیح)​
ترجمہ
حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ (فقیہ الامہ) سے مرفوعاً مروی ہے کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی خبر نہ دوں تو یہ کہا پس کھڑے ہوئے۔ پس رفع الیدین کیا اول میں اک مرتبہ پھر (پوری نماز میں) دوبارہ رفع یدین نہیں کیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا کہ کیا میں تمہیں صلوٰۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ پڑھاؤں۔ پس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز(صلوٰۃ) پڑھی۔ پس رفع الیدین نہیں کیا مگر ابتداء میں ایک مرتبہ۔
پانچ
اب موجیں کرنے دیں مسٹر گڈ مسلم کیونکہ آپ نے جیسی دلیلیں مانگی تھیں ویسی ہی پیش کردی ہیں ،ہاں ضد باقی تو بحث باقی
چھٹی بات بھی یاد کروادوں آپ کو کہ ہم اہل سنت والجماعت حنفی تمام عام نمازوں میں چاھے وہ دو رکعت ہو یا تین یا چار رکعت ہوں فرض ہو یا سنت یا نفل ، تمام کے اندر مختلف فیہ رفع الیدین نہیں کرتے یعنی ایک صرف شروع نماز کی رفع یدین کرتے ہیں اور باقی نہیں کرتے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
محترم جناب سہج صاحب الحمد للہ یہ حدیث بھی پہلے نظر میں تھی، اور جس کا تفصیلی جواب بھی عنایت کردیا گیا ہے۔ تکلیف کےلیے معذرت خواہ ہوں آپ اس پوسٹ کا چکر لگائیں۔
مسٹر گڈ مسلم پوسٹ نمبر اکیاون کا جواب دیا جاچکا وہاں جاکر دیکھ لیں یعنی چکر لگالیں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔لیکن اس تفصیل کے ساتھ یہاں بھی ایک نقطہ کا اضافہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔پہلی بات آپ نے اس حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے بریکیٹ میں(تکبیر تحریمہ کے وقت )کا اضافہ کیا ہے؟ یہ اضافہ کس بنیاد پہ کیا ہے آپ نے؟ ذرا مجھے اس سوال کا جواب دیتے جانا۔
مسٹر گڈ مسلم ، آپ بریکٹ ہٹا کر پڑھ لیتے ۔ اسمیں پریشان ہونے کی تو کوئی وجہ نہیں ۔ اگر آپ بریکٹ ہٹا کر ہی روایت دیکھنا چاھتے ہیں تو دیکھئے میں ہٹا دیتا ہوں بریکٹ۔
قال الا اصلی بکم صلوٰة رسول اللہ فصلی ولم یرفع یدیہ الا فی اول مرة
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایاکے میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاوں پھر آپ نے نماز پڑھی اور صرف پہلی مرتبہ رفع یدین فرمائی
اب آپ بتادیں کہ بریکٹ ہٹانے کے بعد پہلی مرتبہ کی رفع یدین آخری بن گئی ہے؟ یا رکوع والی بن گئی ہے؟ الحمدللہ اب آپ کے اعتراضات بھی بودے ترین ہوچکے ہیں کہ بریکٹ پر بھی اعتراض ؟ اللہ تعالٰی غیر مقلدیت سے محفوظ رکھے۔آمین
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
دوسری بات اسی حدیث میں ’’ فی ‘‘ کا لفظ ہے۔ اور آپ کا تو کہنا ہے کہ ’’ فی ‘‘ والی رفع تو منسوخ ہے؟ پھر یہاں اس حدیث سے کیوں دلیل پکڑ رہے ہیں جناب والا ؟ ۔۔
مسٹر گڈ مسلم فضول اعتراض کرنے کی بجائے اگر اپنے عمل کے مطابق دلیل پیش کرتے تو شاید آپ کے لئے آسانی ہوجاتی لیکن بودے اعتراضات اس بات کا ثبوت ہے کہ جناب کی بیٹری ڈاون ہوچکی ہے اور اب مرتے کیا نہ کرتے والی کہانی جاری ہے ۔ بھائی صاحب مزکورہ روایت میں
الا فی اول مرة آیا ہے یعنی فی کے آگے اول مرۃ ہے جبکہ جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ اسکنوا فی الصلاۃ ۔۔۔یعنی جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نماز کے اندر سے متعلق ہے جسے الحمدللہ آپ بھی مانتے تو ۔ اگر نہیں مانتے تو بتادیں؟ جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں صرف شروع نماز میں رفع یدین کرنے کا زکر ہے ۔ اتنی سی بات تھی مسٹر گڈ مسلم ۔ اس پر بھی اعتراض کہ فی آگیا ہے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ان دو باتوں کے جواب کے ساتھ لنک پر بیان تفصیل کا بھی جواب دیتے جانا۔۔
دوباتوں کا جواب بھی ہوگیا اور لنک پر بھی جواب ہوچکا ۔ نہیں ہوا تو آپ کی طرف سے پیش کردہ دلیل کا دیدار نہیں ہوا جس میں دس جگہ رفع یدین کا اثبات ہو بغیر دوجمع دو چار کئے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
صحابہکا عمل کیاتھا؟ اور کیا احناف بھی صحابہکے عمل کے مطابق عمل کرتے ہیں۔۔ یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ آپ کے دلائل کی حقیقت آشکارا ہونے پر یہ بات بھی بخوبی واضح ہوچکی ہے کہ آپ کا عمل صحابہکے عمل کے مطابق ہے یا نہیں؟
گڈ مسلم نے اپنی دلیل پیش کردی ہوئی ہے کہ یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے ۔ ماشاء اللہ مسٹر گڈ ، اب یہ بھی بتادیں کہ یہ دلیل ہے کہاں ؟ قرآن میں یا حدیث میں ؟ بتانا ضرور۔
آگے دیکھتے ہیں کیا کہتے ہیں

(((بقیہ جواب اگلی پوسٹ میں)))
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
((پوسٹ نمبر 56 کا بقیہ جواب))
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت بارے مکمل تفصیل پیش کی جاچکی ہے۔۔ صحابہ کا عمل کیا تھا۔ میں آپ کو دکھاتا ہوں۔
1۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت
2۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت
3۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت
4۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی شہادت
5۔ عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت
6۔ سیدنا عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی شہادت
گڈ مسلم صاحب ایسی باتیں کرتے ہوئے آپ اپنی اہل حدیثیت اور اپنی دلیلیں بھول جاتے ہیں ؟ یا اپنی دلیلیں صرف رعب شعب ڈالنے کے لئے رکھی ہوئی ہیں ؟ یا آسان الفاظ میں کذب بیانی کرتے ہیں آپ کہ آپ صرف قرآن و سنت کو دلیل مانتے ہیں ۔ ؟
مسٹر گڈ ، آپ کے پیش کردہ لنکس پر امتیوں کے اقوال ہی اقوال موجود ہیں اور وہ آپ کی دلیل ہیں ؟
مزید یہ کہ وہاں لنکس والے مراسلات کو آپ توجہ سے پڑھ لو وہی جاکر اور مجھے لنک دے کر بتاؤ اور وہ عبارت یہاں پیش کرو صرف ، کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ موجود ہو ۔اگر فیصلہ پیش نہیں کرسکتے اور نہیں کرسکتے ، تو پھر لفظ کان سے ہمیشگی کا مطلب لینا آپ غیر مقلدین کو سوٹ نہیں کرتا کیونکہ اوپر اک روایت پیش فرمائی تھی میں نے پھر پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں ۔دیکھئے
عن انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً کان یرفع یدیہ فی الرکوع والسجود۔
سندہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم
(مصنف ابن ابی شیبہ جلد1 صفحہ266،مسند ابی یعلی جلد6صفحہ399،مجمع الزوائد جلد2صفحہ 220 وقال الھیثمی رواہ ابویعلی و رجال الصحیح، اتحاف الخیرۃ المھرۃ جلد2صفحہ325 وقال اسنادہ صحیح، المحلی بالآثار لابن حزم جلد3صفحہ 4-9 وقال صحیح، السنن الدارقطنی جلد1صفحہ393 و سند صحیح علی شرط البخاری و مسلم الاحادیث المختارہ جلد 6صفحہ 52وقال صحیح) وغیرہ
ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین کرتے تھے رکوع اور سجود میں۔
اور اگر اسی کان کو ہمیشگی کی دلیل مانتے ہو تو پھر بھی بتادو تاکہ پھر آپ کو سجدے کی رفع یدین جوکہ اوپر پیش کی ہے پر بھی عمل کرنے کی آسانی ہوجائے ۔
اور اگر کان کو ہمیشگی کی دلیل نہیں مانتے تو پھر بھی بتادو تاکہ معلوم تو ہو کہ جناب نے جو لنکس پیش کئے تھے وہ سب جھوٹ کی بنیاد پر بنائے تھے ؟
اور اگر کان کو ہمیشگی پر دلیل آپ مقلدین کے قول سے مانتے ہو تو پھر بھی بتادو تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ غیر مقلدین صرف نام کے ہو ، سارے اصول و قول ہم مقلدین کے استعمال کرتے ہو۔ یاد رہے مقلدین کو آپ غیر مقلدین مشرک تک کہتے ہو ،اور مشرک کی بات ماننے اور اسی پر اپنے عمل کی بنیاد بنانا بھی آپ کو مشرک نہیں بناتا ؟ مشرک نہیں تو کم از کم مشرک کے مقلد بنے کے نہیں ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
دیکھ لیا جناب سہج صاحب؟ محترم ہم لوگ باتیں بنانے والے نہیں بلکہ عمل کرنے والے ہیں۔۔ آپ نے صرف بات کی ہم نے ثبوت بھی پیش کردیا۔۔ کیونکہ ہم اہل حدیث ہیں۔ امتیوں کے مقلد نہیں۔
اس بارے میں اوپر کش پیش پوش کیا ہے اسی کو دیکھ لیں اور جواب دیں کہ کون سا ثبوت پیش کیا ہے ؟قرآن یا حدیث؟ یا امتیوں کے ہی اقوال ؟ نمونہ دکھاؤں؟ دیکھو
اتفق علی روایتہا الخلفآء الاربعۃ ثم العشرۃ فمن بعدھم من اکابر الصحابۃ
کہ رفع الیدین مسنون ہونے پر خلفاء اربعہ، عشرہ مبشرہ اور دیگر تمام اکابر صحابہ کا اتفاق ہے۔ (تعلیق المغنی صفحہ 111)۔
اور روایات جو آپ کے پیش کردہ لنکس پر موجود ہیں الحمد للہ ان میں سے

کسی میں رکوع جاتے اٹھتے کا زکر نہیں
کسی میں تیسری رکعت کا زکر نہیں
کسی میں بھی دس کا اثبات مکمل نہیں
کسی میں بھی ہمیشگی اور دوام کا صراحت سے زکر نہیں
کسی میں بھی دس جگہ کا اثبات اور اٹھارہ کی نفی نہیں
اور سونے پر سہاگہ صرف امتیوں کی زاتی رائے کو اپنے عمل پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے
یہ اک مختصر سی" تحقیق " پیش پوش کی ہے مسٹر گڈ مسلم کے سامنے ، کیونکہ موضوع ہے یہاں مختلف فیہ رفع یدین کے متعلق ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
پہلی بات میں نے بھی بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کی ہے اور کررہا ہوں اور ان شاءاللہ کرتا رہونگا۔
مسٹر گڈ مسلم نے جو کچھ بھی سمجھایا ہے وہ ہیں امتیوں کے اقوال ، اور سمجھانا کیا تھا ؟؟رفع الیدین کے باب میں چار رکعت نماز میں دس جگہ کا اثبات اور اٹھارہ جگہ کی نفی ، اور اس کی دلیل پیش کرنے میں مسٹڑ گڈ ابھی تک ناکام و نامراد ہیں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
کیونکہ یہ تیرے میرے گھر کا مسئلہ نہیں بلکہ عمل رسول کا مسئلہ ہے۔
اسی لئے آپ سے درخواستیں کر رہا ہوں کہ جناب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کردیں یا پھر اقرار کرلیں کم از کم کہ آپ فیصلہ مانتے ہیں امتیوں کا ، مختلف فیہ رفع الیدین کے بارے میں آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ موجود ہی نہیں ۔اسی لئے آپ امتیوں کی زاتی رائے کے محتاج ہیں ، اور اسی لئے آپ دوجمع دو چار کا بھی سہارا لیتے ہیں ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔اور اگر میں بھی تفصیل دوبارہ یہاں نقل کردوں تو پوسٹ لمبی ہونے کے ساتھ آپ کےلیے پڑھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔۔دوسری بات آپ کی یہ بات میرے سوال کا جواب بھی نہیں۔۔ یاد رکھیئے گا۔۔
آپ کی اس بات کا جواب تو یہی ہے کہ آپ کی مشکل کی اصل وجہ بھی آپ خود ہیں یعنی آپکی ضد ۔ لیکن میں آپ کو سہی سے دکھاتا ہوں کیونکہ آپ غیر مقلدین کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ آپ زمانے کے فرق کے انکاری ہو ، اور اصل بات یہ بھی ہے کہ آپ غیر مقلدین زمانے کے فرق کو مانتے بھی ہو ، مگر اقراری نہیں ۔
دیکھو مسٹر گڈ مسلم ، ایسی روایات موجود ہیں جس میں کان يرفع يديہ فی کل خفض ورفع ورکوع وسجود وقیام وقعود بين السجدتين آیا ہے یعنی ہر تکبیر اور اونچ نیچ پر رفع الیدین کرنا اور ایسی بھی ہیں جن میں كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال : سمع الله لمن حمده ، رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه یعنی صرف شروع نماز ،رکوع جاتے اٹھتے اور تیسری رکعت شروع کی رفع یدین کرنا (یہ الگ بات ہے کہ اس سے آپ کا عمل ثابت نہیں ہوتا،کیونکہ صراحت نہیں۔۔۔۔۔)اور ایسی روایات بھی ہیں جن میں كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَمَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا۔ آیا ہے یعنی شروع نماز کے علاوہ رکوع جاتے اٹھتے کی رفع یدین کا زکر ہے ۔(یاد رہے یہ روایت بھی آپ کے عمل کے مطابق نہیں ) اور ایسی بھی ہیں جس میں كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ آیا ہے یعنی شروع نماز اور رکوع جاتے کی رفع یدین کا زکر ہے ۔
پہلی بات اگر آپ کے لنکس پر موجود تحریر جس میں کان کو ہمیشگی پر دوام سے تعبیر کیا گیا ہے پر مان لیا جائے تو اوپر موجود روایات میں ہر ایک میں کان آیا ہے ، تو اس کی رو سے آپ کون سی روایت کو قابل عمل مانیں گے ؟؟؟
ایک کو مانیں گے یا سب کو ؟
اگر ایک کو مانیں گے تو باقی کو کیوں چھوڑیں گے ؟
زمانے کے فرق پر ؟
یا کوئی اور تاویل ؟
اگر سب کو صحیح مانتے ہیں تو پھر عمل کیوں نہیں ، یعنی کبھی صرف شروع نماز کے ساتھ رکوع جاتے ہی رفع یدین کریں ،
کبھی شروع نماز اور رکوع جاتے اٹھتے کریں ،
اور کبھی شروع نماز اور رکوع جاتے اٹھتے اور تیسری رکعت میں کریں ،
اور کبھی کبھی یا ہمیشہ ہر اونچ نیچ اور تکبیر پر رفع یدین کریں
یاد رہے مزکورہ بالا تمام طریقوں پر بھی عمل کرلیں ، لیکن آپ کی جگہیں بھی پوری نہیں ہوتیں اور گنتی بھی نامکمل رہتی ہے یعنی دس جگہ کا اثبات اور اٹھارہ جگہ رفع یدین کی نفی۔
مزکورہ تفصیل کیوں پیش کی میں نے ؟اسلئے کہ مسٹر گڈ زمانے کے فرق کے انکاری ہیں وہ بھی بلادلیل اور مزے کی بات ہے کہ اوپر پیش کردہ چار طریقوں جو کہ روایات سے ظاھر ہورہے ہیں ، میں سے کسی ایک پر بھی پورا عمل نہیں اور چوائس کریں گے تو ایک پر عمل کا دعوٰی کریں گے اور باقی کو چھوڑدیں گے ۔ یہ جو چھوڑنے کی بات ہے ناں یہیں پر زمانے کے فرق کا راز رکھا پڑا ہے جسے گڈ مسلم صاحب استعمال تو کرنا چاھتے ہیں لیکن چوری چوری، بغیر اقرار کئے ۔ اور الحمد للہ ثمہ الحمد للہ ہم اہل سنت والجماعت احناف زمانے کے فرق کو بھی مانتے ہیں اور حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر آثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مکمل عمل کرتے ہیں اور اسے نہ ہی چھپاتے ہیں اور ناہی جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں کہ جہاں ہم رفع یدین کرتے ہیں اور جہاں چھوڑتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔بلکہ ہم سچ بولتے ہیں کہ رفع الیدین شروع نماز میں کرنا اور باقی مختلف فیہ رفع الیدین جس کے ساتھ زکر بھی موجود نہیں اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور یہ ہمارے امام صاحب امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ ہے جیسے امام مالک رحمہ اللہ کا بھی فیصلہ موجود ہے عدم رفع یدین کے بارے میں اور شافعی رحمہ اللہ اور حنبل رحمہ اللہ کا اثبات رفع یدین کے بارے میں فیصلہ ہے ۔ یعنی مقلدین اہل سنت والجماعت چاروں ائمہ کرام کے اپنے امام کی رائے پر رفع یدین کرتے اور چھوڑتے ہیں ۔(کیونکہ امام حضرات اپنے اجتہاد سے جوکہ کتاب و سنت کے زریعے سے ہی وجود رکھتا ہے، سے ہی مسئلہ نکالتے ہیں ) اور یہی سچ ہے ۔ جبکہ فرقہ جماعت اہل حدیث یعنی غیر مقلدین جھوٹ کہتے ہیں کہ اختلافی رفع یدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کا عمل ہے یا اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہے یعنی فیصلہ ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
تمام دلائل کی حقیقت واضح کردی گئی ہے۔۔ اور یہی مجھے اچھا لگا ہے۔۔ تاکہ آپ لوگ جو ایک سنت صحیحہ ثابتہ بلکہ ایسی سنت جو متواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس کو منسوخ کہتے رہتے ہیں۔۔ سب کو پتہ چل جائے کہ اس ٹولی کے دلائل کی کیا حقیقت ہے۔؟
آپکے تمال دلائل کی حقیقت یہ ہے کہ آپ ان میں سے کسی میں سے بھی ناہی اب تک دس دفہ رفع الیدین کا اثبات دکھاسکے ہیں اور نا ہی اٹھارہ جگہوں کی نفی صراحت کے ساتھ ، ہاں دوجمع دو چار کا قیاس غیر شرعی اور تاویل ضرور فرمائی ہے اگر اسے دلیل مانتے ہیں تو الگ بات ہوگی۔ مزید یہ کہ آپ سے سنت صحیحہ ثابتہ پر دلیل مانگی تھی پر یاد کرواتا ہوں ۔ اور متواتر کو پہنچی ایسی روایات جن پر آپ عمل کے دعوے دار ہیں اسے سنت کہا کس نے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کسی امتی نے ؟ سچی سچی بتانا مسٹر غیر مقلد صاحب کیوں کہ آپ تقلید کو گمراہی مانتے ہیں ۔ اسلئے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک پیش کریں کہ رفع الیدین شروع نماز اور رکوع جاتے اٹھتے اور تیسری رکعت میں کرنا سنت ہے، آپ کی دلیل ایسی احادیث ہونی چاھئیں لیکن آپ ہیں کہ بھاگتے ہیں امتیوں کے اقوال کی جانب ؟ ارے یہ تو وظیفہ مقلدین ہے بھئی آپ تو متبع ہو !! کیوں ہو کہ نہیں ؟ چلو اگر متبع ہو تو پھر پیش کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک اور اگر ہو جھوٹے اور چوری چوری تقلید کرنے والے نفسی مقلد تو پھر جو مرضی کرو ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
پہلی بات کوئی بھی صحابیجان بوجھ کر ایسا عمل کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ متبع رسول تھے جس طرح آج ہم ہیں۔ یہ حرکت خاص تو مقلدین ہی کیا کرتے ہیں۔۔جانتے بھی ہوتے ہیں کہ حق کسی اور طرف ہے لیکن پھر بھی یہ کہہ کر بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم فلاں کے مقلد ہیں اس لیے ہم پر تقلید واجب ہے۔۔۔ ہاں لاعلمی الگ بات ہے۔کتب کی چھان بین سے کئے مسائل ایسے مل جائیں گے جن پر لاعملی میں صحابیکا عمل خلاف سنت رہا ہوگا۔واللہ اعلم
مسٹر گڈ مسلم آپ سے سوال پوچھا تھا آپ کیا سمجھتے ہیں صحابی کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر ہوتا ہے ؟ اسکے جواب میں آپ نے صحابی کو لاعلم قرار دے دیا اور وہ بھی صرف مختلف فیہ رفع الیدین کے مسئلہ میں ، یا پھر بہت سارے مسائل میں لاعلم کہا ہے ؟ اسکی وضاحت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی آپ کو ؟ مسٹر گڈ مسلم شیعوں کے طرز عمل کو چھوڑیں کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین معاذللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف عمل کو سنت مانتے تھے ۔ ہم اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابی رضی اللہ عنہ جس عمل کو دیکھتا ہے اسی کو سنت بناتا ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ سنت بعد میں متروک و منسوخ ہوجائے اور مزکورہ صحابی کسی اور ملک یا شہر میں اسی سنت کو بیان کرتا رہے جسے ترک کردیا گیا ۔ کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسافر بھی ہوتے تھے اور دوسرے شہروں سے مدینہ تشریف لاتے اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد واپس اپنے شہروں یا ملکوں کو روانہ بھی ہوجاتے تھے تو وہ اسی سنت کو بیان کرتے جو دیکھتے تھے ۔ یہ ہے وضاحت آپ کی طرف سے صحابہ کو مسائل میں لاعلم کہنے کے بارے میں ۔ اور رہی بات مقلدین کا اپنے ہی امام کے قول پر عمل کا معاملہ تو جناب ہمارے امام کا قول اگر سہی ہے تو انہیں ملے دو اجر اور ہمیں بھی اور اگر خطا ہوئی کسی مسئلہ میں تو پھر بھی امام کو ایک اجر اور ہمیں بھی ایک اجر ملنا ہی ہے یاد رہے خطا ہوتو پھر بھی عذاب نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ جو موجود ہے دیکھئے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے
صحیح بخاری جلد دو
آپ کو منسوخ و متروک روایت پر عمل کرکے کیا ملے گا ؟ یہ ہے اصل سوال ۔ اس پر کچھ پیش پوش کردیجئے ۔
اور جنہیں آپ لاعلم صحابی سمجھتے ہیں انہیں انکے حال پر رہنے دیں اور جو صحابہ ہمیشہ ساتھ رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ، ان پر توجہ کریں ۔ شکریہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
دوسری بات میرے سوال کاجواب دیں سوال دوبارہ پیش ہے ’’ پھر آپ نے صحابیکا عمل پیش کردیا ؟ کیا آپ کے پاس نبی کریم کا عمل نہیں ہے ؟ ‘‘
الحمدللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک پیش کرچکا امید ہے دیکھ چکے ہوں گے ؟ اگر نظر نہیں آیا تو بتادینا پھر سے دکھادوں گا ۔یہ تو ہوچکا آپ کے سوال کا جواب اور اب میرا پوچھا گیا سوال پھر سے پیش خدمت ہے جواب عنایت کردیجئے۔
آپ کیا سمجھتے ہیں صحابی کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر ہوتا ہے ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
تیسری بات آپ کا دعویٰ نسخ کا ہے۔اور نسخ کی تعریف بھی آپ کو بتلاتا چلوں کہ
اور آپ کو معلوم ہے کہ شریعت کس پہ اترتی تھی ؟ محمد پہ یا صحابہ کرامپہ ؟
بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اگر شریعت محمد پہ اترتی تھی تو آپ کو رفع کی منسوخیت پہ محمد سے دکھانی ہوگی۔
اسکنوا فی الصلوٰۃ دیکھ لیا جناب ؟ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت تو یاد ہی ہوگی؟
اب آپ کو بھی یاد کروادوں کہ آپ نے عین اسی اصول کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فیصلہ پیش کرنا ہے ۔ یعنی ہمیشگی و دوام ثابت کرنا ہے دس جگہ اثاباتا اور اٹھارہ جگہ نفیا
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
نہ کہ ایک صحابی (واللہ صحابی کی طرف منسوب صاف جھوٹ ہے) کے عمل سے؟
یعنی آپ سمجھتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت جھوٹی ہے ؟ پہلے بھی ثابت کرنے کا کہا تھا اب بھی ثابت کرنے کا کہتا ہوں ۔ جھوٹ ثابت کیجئے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو ۔ چلیں شاباش ورنہ اپنے الفاظ واپس لیں ۔ یہ یاد رہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات مختلف کتابوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ مزکور ہیں ۔ تمام کا رد دکھائیں ۔ چاھے لنک ہی پیش کردیں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اس لیے میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ رفع کی منسوخیت پر نبی کریم کا عمل یا قول نہیں ہے آپ کے پاس ؟ جس پر آپ نے سوال داغ دیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ صحابی کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےمقابلے پر ہوتا ہے؟ ۔۔ جناب باتوں کو گھمایا پھرایا نہ کریں اور سیدھی طرح جواب دے دیا کریں۔۔شکریہ
اسکنوا فی الصلوٰہ کو آپ کس کا قول مانتے ہیں ؟ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت تو ہے ہی ، کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل نہیں مانتے ؟ جواب باقی ہے سوال کا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں صحابی کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر ہوتا ہے ؟ اسکا جواب سلیس اردو میں تحریر کیجئے گا ۔ تاکہ میں گھما پھرایا بغیر سمجھ سکوں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
عجیب فلسفہ ہے یار آپ لوگوں کا ؟ ایک طرف نبی کریم کا عمل میں نے آپ کو دکھایا دوسری طرف آپ نے صحابیکی طرف منسوب اثر پیش کیا۔ اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف بھی ہیں اور آپ کے اثر کی حقیقت بھی واضح کردی پھر بھی آپ کہی جارہےہیں کہ ہم توہین کرتے ہیں؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آپ نے دکھایا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ؟؟؟ اس بارے میں پہلے بھی ابوداؤد رحمہ اللہ کا فیصلہ پیش کرچکا ہوں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ان پر موقوف ہے مرفوع نہیں ۔ اور ماشاء اللہ آپ ہیں کہ اسی صحابی کے عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کہہ رہے ہیں اور ابن عمر کا اپنا فعل جب میں نے پیش کردیا بعد والا ، تو جناب معترض ہیں کہ میں نے نبی کے مقابلہ میں صحابی کا عمل پیش کیا ؟ ارے مسٹر گڈ ، دونوں کے عمل ہی صحابی والے ہیں ۔ اور آپ انکاری ہو صحابی کے عمل کے دلیل ہونے کے اسی لئے تو مجھ پر اعتراض کہ صحابی کے عمل کو نبی کے عمل کے مقابلہ میں پیش کرتا ہوں ؟ مسٹر گڈ مسلم آپ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کردیجئے جس میں دس جگہ کی رفع الیدین کا اثبات ہو اور اٹھارہ جگہوں کی نفی ۔ ٹھیک ؟ بھئی آپ فعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مانتے ہو اور فیصلہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی مانا کرو ۔
رہی بات توہین کی تو وہ آپ غیر مقلدین کرتے ہی رہتے ہو ، جیسے صحابی کے قول و فعل کو پیش کرنے پر اعتراض ۔ امید ہے سمجھ گئے ہوں گے ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب اس سے بڑی توہین اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک طرف نبی کریم کا عمل ہے اور دوسری طرف صحابیکی طرف غلط منسوب اثر۔۔ آپ نبی کریم کے عمل کے بجائے غیر ثابت شدہ اثر پر عمل کررہے ہیں۔ کیا یہ توہین وتنقیص کے ذمرے میں نہیں آتا ؟؟ ۔۔ کتنی ڈھٹائی سے کہا جارہا ہے کہ ہم توہین کرتے ہیں۔۔ فیااسفیٰ
حضور گڈ مسلم صاحب ، پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت کو مرفوع تو ثابت کرلیتے ، پھر فتوے بازی کرلیتے ۔ آپ کی نظر میں تمام اہل سنت والجماعت احناف جھوٹے ہیں ،یہ ڈھیٹائی نہیں؟ امت کی اکثریت کو گمراہ کہیں تو گڈ مسلم سچے ؟ موقوف کو مرفوع کہیں تو گڈ مسلم سچے؟ دو جمع دو چار کریں تو گڈ مسلم گمراہ نہیں سچے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بغیر فیصلہ کریں تو گڈ مسلم کا مزھب سچا ؟ یعنی نا قرآن پیش کیا نا ہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور گڈ مسلم سچے ان کا مزھب سچا ؟ امتیوں کے اقوال پیش کریں تو غیر مقلدیت سچی ؟ امتیوں کی رائے پر حدیث کو مردود کہیں تو بھی گڈ صاحب سچے ؟ اگر یہ سب مزھب گڈ مسلم کے اصول ہیں تو انہیں مبارک ہو ۔ میں نے تو سچی بات بتادی ہوئی ہے کہ صحابی جو بھی عمل بتاتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق ہوتا ہے اور سنت وہی عمل بنتا ہے جس پر دوام و ہمیشگی ثابت ہو اور یہ بات ہمیں تو ہمارا امام بتاتا ہے قرآن و سنت سے نکال کر ،اور رفع الیدین کے معاملہ میں مسٹر گڈ مسلم کے پاس نہ ہی انکے عمل کے مطابق حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ناہی فیصلہ ۔ بس دوجمع دو چار ہے۔
اور رہی بات غیر ثبات شدہ آثار کی تو اس بارے میں پہلے بتاچکا کہ مزکورہ آثار کے راوی بخاری والے ہیں جناب ۔ ان آثار کی نفی اب بخاری کے راویوں کی نفی کرنا سمجھ کر کیجئے گا ۔پہلے شاید ناسمجھی میں امتیوں کے اقوال کو پیش کردیا تھا ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جب آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کوئی بھی صحابینبی کریم کے عمل کے خلاف عمل کرہی نہیں سکتا۔ تو پھر آپ کو یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ابن عمرکی طرف منسوب اثر درست نہیں ہے۔ جس کی حقیقت گڈمسلم بھائی نے میرے سامنے پیش بھی کردی ہے۔۔اس لیے مجھے نبی کریم کے عمل کے مطابق رفع الیدین کرنا شروع کردینا چاہیے۔۔۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اثر کو پہلے اچھی طرح غلط تو ثابت کرلیجئے مسٹر گڈ مسلم ۔ پھر اچھل کود مچائیے گا ۔ ابھی تک تو آپ نے سوائے شروع نماز کی رفع یدین کو شک میں ڈالنے کے اور کچھ نہیں کیا ، ہاں دوجمع دوچار کیا تھا۔ جب وہ داؤ نہ چلا تو اب پینترا بدلتے چلے جارہے ہیں ۔ کوئی بات نہیں سارے گر آزمائیے میں بھی دیکھتا ہوں ۔
مزکورہ راوی جن پر آپ کا اعتراض ہے یعنی ابوبکر بن عیاش أبو حصين وغیرہ ان کو بخاری کا راوی بھی کہتے ہیں، کو آپ نے جو بھی ثابت کیا ہے کیا وہی حکم آپ بخاری والی روایت پر بھی لگائیں گے ؟یعنی باطل؟؟ یہ حقیقت بھی بتادیں مسٹر ، پھر اگلی بات کریں گے۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
محترم جناب نسخ کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ ناسخ اور منسوخ میں حقیقی تعارض ہو تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو۔
کس دلیل سے یہ شرط ثابت ہوتی ہے ؟ یہ بھی بتادیتے !!​
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
یہ شرط یاد کرلینے کے بعد اب آتے ہیں آپ کی پیش کردہ حدیث کی طرف۔سب سے پہلے تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی تھی یا چار رکعات ؟ اگر دو رکعات نماز پڑھی تھی تو پھر یہ حدیث میرے مؤقف کی تائید میں ہے۔ لیکن اگر آپ کہتے ہیں کہ چار رکعات پڑھی تھی تو پھر آپ کو بادلیل پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ نماز چار رکعات ہی تھی ؟ یہ تو آپ نے ثابت کرنا ہے۔ جب آپ ثابت کردیں گے پھر مجھے کہنا کہ یہاں زمانے کی بات ہے۔
(سب سے پہلے تو مسٹر گڈ مسلم کا انداز دیکھتے ہوئے بتادوں کہ پوسٹ نمبر ترپن میں دلیل نمبر دو کے تحت یہی روایت لاچکے ہیں اور وہاں گڈ صاحب نے بلکل نہیں بتایا کہ یہ دو رکعت یا چار رکعت نماز کے لئے ہے۔ اب آگے چلتے ہیں۔)
مسٹر گڈ مسلم ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے بارے میں آپ نے بتایا تھا کہ وہ کتنی رکعت والی نماز تھی ؟ وائل بن حجر کی روایت میں بھی نہیں بتایا ؟ اور مجھ پر یہ اعتراض کہ کتنی رکعت والی نماز تھی؟ اسی اصول کے مطابق ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں زیادہ سے زیادہ تین رکعت کا ثبوت ہے اور وایل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت میں دو رکعت کا یا چار کا کوئی زکر نہیں اور ہماری بات ہورہی ہے چار رکعت والی نماز میں آپ کی دس جگہ کی رفع یدین کا اثبات دکھانے اور اٹھارہ جگہ رفع الیدین کی نفی دکھانے کے بارے میں اور اب آپ نے نیا اعتراض داغ دیا ہے کہ رکعتوں کی صراحت بھی ہو روایت میں ۔ تو اگر یہی بات ہے تو پھر بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایات میں پہلی رفع یدین کے علاوہ باقی رفعوں کی نفی منقول ہے جو دو رکعت یا چار رکعت یا تین رکعت فرض یا سنت نماز ہو سب پر اپلائی ہوجاتی ہے جبکہ آپ فرقہ غیر مقلدین کے ہاں تو صراحت ضروری ہے ناں ؟ تو اب جناب گڈ مسلم صاحب آپ کو ایسی روایت پیش کرنا ہے جس میں چار رکعت کی بھی صراحت موجود ہو اور دس جگہوں کا اثبات اور اٹھارہ کا انکار بھی، خود آپ کے مطالبہ کے مطابق ۔ کیا خیال ہے ؟ اگر متفق ہیں تو بتادیں اور پیش کردیں روایت اور کھیل ختم کریں مجھ مقلد حنفی کا اور اگر متفق نہیں تو پھر ایسے فضول اعتراضات کرکے اپنا سر خود ہی نہ پھوڑیں ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
میں کہتا ہوں کہ پہلی بات اس روایت میں صراحت ہی نہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے کتنی رکعات نماز پڑھی تھی؟ چاہے دو پڑھی ہوں یا چار ۔ تیسری رکعت کے رفع کے عدم ذکر سے اس کا منسوخ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ یہ اصولی جواب ہے۔ اگر عدم ذکر سے بھی منسوخ ہونا لازم آتا ہے تو پھر اس حدیث میں کتنی باتوں کا ذکر نہیں ان کا نسخ بھی آپ کو تسلیم کرنا ہوگا۔۔
مسٹرگڈ مسلم موضوع ہے مختلف فیہ رفع الیدین کے بارے میں کیوں ہے کہ نہیں ؟ تو جوبھی روایت پیش کی جائے گی وہ اسی تناظر میں ۔ کیوں ٹھیک یا غلط؟ اب آپ پہلی یعنی شروع نماز کی رفع یدین کو اختلافی بناؤ یا نماز کے باقی اعمال کو ، یہ آپ کا چکر وکر یا کچھ اور تو ہوسکتا ہے دلیل وغیرہ نہیں یا یوں کہہ لیں کہ ایمان داری نہیں ۔ اگلی بات یہ ہے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت میں شروع نماز اور اسکے بعد رکوع جاتے اٹھتے کی رفع الیدین کا زکر موجود ہے بلکل اسی طرح جیسے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ۔دیکھو
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا۔ (صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع و اذا رفع، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام)​
وَائِلِ بْنِ حُجْرٍأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَيَدَيْهِ۔ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب وضع یدہ الیمنٰی علی الیسرٰی بعد تکبیرۃ الاحرام)​
اب آپ کو دکھانے کے لئے آپ کی طرح کے اعتراضات کرنے لگا ہوں تاکہ احساس نام کی کسی چیز کا احساس ہو کہ جیسے اعتراضات آپ کرسکتے ہیں اسی طرح کے دوسرے بھی ۔
مزکورہ روایات اور آپ کی طرف سے پیش کردہ باقی روایات میں مزکور نہیں۔
ـوضوء
ـثناء
ـتعوذ
ـتسمیہ
ـسورۃ فاتحہ
ـفاتحہ کے بعد کی سورۃ
ـرکوع میں کا زکر
ـرکوع کے بعد قیام کرنے کی مقدار
ـرکوع سے سجدے کی طرف جانے کا طریقہ
ـسجدے کا طریقہ
ـسجدے کا زکر
ـدونوں سجدوں کے درمیان جلسہ کی مقدار کتنی ہو
ـاس دوران کوئی زکر کریں یا نہیں
ـدوسرے سجدے سے اٹھنے یعنی قیام کی طرف جاتے ہوئے کیا کہیں
ـدوسری رکعت کے قیام میں پہنچ کر رفع الیدین کرنا ہے یا نہیں، کوئی زکر نہیں اور آپ یہاں عدم زکر سے نفی مراد لیتے ہیں کہ نہیں ؟
ـدوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنی ہے یا نہیں ؟ کوئی زکر نہیں
ـفاتحہ کے بعد کیا پڑھیں کوئی زکر نہیں
ـدوسری رکعت کے رکوع جاتے رکوع کریں یا نہیں ؟کوئی زکر نہیں ۔یہاں آپ عدم زکر کے باوجود اثبات مراد لیتے ہیں
ـدوسری رکعت رکوع سے اٹھتے ہوئے کی رفع یدین کا بھی زکر نہیں یہاں بھی آپ رفع یدین کا اثبات لیتے ہیں
ـدوسری رکعت کے سجدوں میں کیا زکر کرنا ہے وہ بھی مزکور نہیں
ـ قائدے میں کیا پڑھنا ہے وہ بھی زکر نہیں ۔۔وغیرہ
مسٹر گڈ مسلم کچھ سمجھ آئی ؟ یا پہلی بھی گئی؟ اعتراض کرنا مہارت نہیں جواب دینا دلیل کے مطابق اور عمل کے مطابق قابل قدر بات ہوتی ہے اور یقین رکھو آپ کہ نہ ہی آپ نے ابھی تک آپ کے عمل کے مطابق دلیل پیش کی ہے اور ناں ہی دلیل کے مطابق۔زمانے کے فرق کا انکار کرتے ہو آپ مگر سجدوں کی رفع یدین کو ہی لے لیں تو وہی ثبوت کافی ہے کہ آپ انہیں منسوخ مانتے ہو کیونکہ وہ پہلے عمل میں لائی جاتی تھیں بعد میں نہیں ، سلام کے وقت اشارے کو بھی آپ منسوخ مانتے ہو کیونکہ وہ پہلے زمانے کا عمل تھا ، جبکہ ہم اہل سنت والجماعت احناف رکوع جانے اٹھنے اور تیسری رکعت شروع وقت کی رفع الیدین سمیت ساری رفع الیدین کو منسوخ و متروک مانتے ہیں۔ اور الحمد للہ اس پر دلیل بھی رکھتے ہیں اور اپنے امام کا فیصلہ بھی ۔ جبکہ مسٹر گڈ مسلم فرقہ جماعت اہل حدیث کے اصول کے مطابق ایک دلیل بھی پیش نہیں کرسکے اور ناہی کرسکتے ہیں ، سوائے دو جمع دو چار کرنے کے ۔اور مزے کی بات یہ کہ عدم زکر سے منسوخیت کا تو انکار ہے جناب کو مگر عدم زکر کے باوجود اثبات مانتے ہیں ۔ اسے کہتے ہیں چٹ بھی اپنی اور پٹ بھی اپنی
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;73759[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
نوٹ:​
پوسٹ کے باقی حصے کے جواب اگلی پوسٹ میں دیا جائے گا۔۔۔ جب تک میرا جواب مکمل نہ ہوجائے میری پوسٹ کے آگے میری طرف سے آپ کو پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں۔ والسلام
نو کمنٹس
شکریہ


(((((((مزید پوسٹوں کے جواب ابھی آنے ہیں)))))))
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
(گڈمسلم کی پوسٹ نمبر 57 کا جواب)
قارئین کرام سہج صاحب کی پوسٹ نمبر33 میری پوسٹ نمبر28 کا جواب ہے۔اس پوسٹ کے کچھ حصے کا جواب پوسٹ نمبر54 ، 55 اور 56 میں پیش کیا تھا۔ باقی جواب اب پیش کیا جارہا ہے۔

[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
الحمد للہ یہ بات بھی سب کو نظر آجائے گی بلکہ نظر آہی گئی ہوگی کہ جو دلائل جناب کی طرف سے پیش پوش کیے گئ+ے تھے۔ ان کا معیار کیا تھا ؟
الحمد اللہ دیکھنے پڑھنے والے جان چکے ہیں کہ مسٹر گڈ مسلم نے ابھی تک کسی ایک بھی اس حدیث کو مانا تک نہیں جسے میں نے پیش کیا اور الحمدللہ میری پیش کردہ روایات میں سے ایک کو بھی ضعیف ثابت نہیں کرسکے(اپنی دلیلوں سے) ،اور ناہی ابھی تک مختلف فیہ رفع الیدین کو صریح دلیل سے ثابت کرسکے ہیں۔ہاں دوجمع دو چار کا زور دار قیاس ضرور دکھایا گیا ہے
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ضعیف احادیث وغیرہ کے کشکول تو فل ہیں کوئی صحیح حدیث بھی اس ضمن میں پیش کردو تاکہ سب کو پتہ چلے کہ جناب کے پاس ضعیف حدیث کے ساتھ صحیح حدیث بھی ہیں۔۔ اہل الحدیث کی کاوشوں سے الحمد للہ اب اس بات سے ہر عام وخاص تو مطلع ہوہی گیا ہے کہ ضعیف حدیث سے مسائل ثابت نہیں کیے جاتے۔ اور نہ دین میں ضعیف حدیث حجت ہوتی ہے۔۔ اس لیے آپ نے اب تک جتنی محنت کی سب کھوہ کھاتے ہوئی۔۔اس لیے گزارش یہ ہے کہ ضعیف احادیث کے انبار مت لگائیں اپنے مؤقف پہ صرف ایک صحیح صریح روایت پیش کردیں، جس طرح میں نے پیش کی ہوئی ہے۔۔
جھوٹ کی بھی حد ہوتی ہے لیکن فرقہ جماعت اہل حدیث کے ماننے والے مسٹر گڈ مسلم ضعیف ضعیف کا شور مچاکر سمجھتے ہیں کہ تمام میدان مارلیا ؟ مسٹر گڈ ، اگر کوئی خانہ ضد سے خالی رہ گیا ہے اور اسمیں سچ کی گنجائش موجود ہے تو دیکھ لیں جن ساری روایات کو آپ کشکول میں پڑی ضعیف احادیث کہہ رہے ہیں ان میں سے ایک کے بارے میں خود امام ترمذی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا ہوا ہے۔دیکھئے
حدثنا هناد حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة قال وفي الباب عن البراء بن عازب ۔۔قال أبو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن ۔۔وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ۔۔وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة
ترجمہ
ہناد ،وکیع،سفیان،عاصم ابن کلیب،عبدالرحمٰن بن اسود،علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھلاؤں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کیا اس باب میں براء بن عازب سے بھی روایت ہے امام ابو عیسٰی ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود حسن ہے اور یہی قول ہے صحابہ و تابعین میں سے اہل علم کا اور سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی یہی قول ہے ۔
غور کیجئے مسٹر گڈ ! امام صاحب نے کیا کہہ کر آپ جیسے ضعیف کہنے والوں کا منہ صدیوں پہلے بند کردیا ہوا ہے ۔قال أبو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن ۔اور اگلی بات اس بات کا ثبوت ہے کہ اس حدیث پر عمل کرنے والی جماعت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین رحمہ اللہ کی موجود رہی وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين
امید ہے بلکہ یقینا آپ کے جھوٹ کا پول کھل چکا کہ سب حدیثیں جو پیش کیں وہ ضعیف تھیں۔ اس بات کا یہ مطلب نہ سمجھنا کہ میں نے کچھ احادیث کو ضعیف مان لیا ہے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
میں نے پہلے بھی کہا اور اب دوبارہ بھی کہہ رہا ہوں کہ قبلہ اول کی مثال اگر آپ یہاں پر فٹ کررہے ہیں تو آپ کو قبلہ اول کی طرح دلیل بھی دینا ہوگی۔۔ شاید آپ اس بات سے لاعلم ہوں کہ ہم اہل حدیث ہیں۔ اور دین میں دلائل کے بغیر کوئی بات تسلیم نہیں کیا کرتے۔۔
مسٹر گڈ مسلم زمانے کے فرق کو مانتے بھی ہیں اور انکاری بھی ہیں ؟ کیوں ٹھیک ؟ کیونکہ جناب قبلہ اول کو پرانے زمانے اور کعبہ کی جانب رخ کرنے کو جاری عمل مانتے ہیں یہ اقرار ہے زمانے کے فرق کا اور رفع الیدین میں بھی یہی کھیل تماشہ ہے کہیں زمانے کا فرق مانتے ہیں اور کہیں نہیں ماننے کا شور مچاتے ہیں ۔ چلیں آپ سے اک سوال کرتا ہوں مسٹر گڈ۔
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ مرفوعاً کان يرفع يديہ فی کل خفض ورفع ورکوع وسجود وقیام وقعود بين السجدتين .... الخ

(شرح مشکل الاثار لطحاوی ج ۲ص ۰۲رقم الحديث ۴۲، وسندہ صحيح علی شرط البخاری و مسلم، بیان الوہم لابن القطان ج۵ص ۳۱۶وقال صحيح، طرح التثريب للعراقی ج۱ص۱۶۲)​
اوپر پیش کردہ روایت میں مرفوعا بھی ہے اور کان بھی ۔ ٹھیک؟ اور آپ کی پیش کردہ روایت میں
كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال : سمع الله لمن حمده ، رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه " (صحيح البخاری، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين، حديث:‏739)
بھی کان آیا ہے اور مرفوع بھی قرار دی گئی ہے ۔ اب آپ یہ بتادیں کہ ان دونوں میں سے پرانے زمانے کی کون سی روایت ہے ؟
دیکھتے ہیں آپ اسے بھی ضعیف کہتے ہیں یا پھر زمانے کے فرق کو "میں نہ مانوں" کی زد میں لاتے ہیں ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
میں نے اپنے مؤقف پر صریح دلیل پیش کردی اور پھر مزید دلائل بھی پیش کردیئے اور ان شاءاللہ مزید دلائل پیش بھی کرونگا
مسٹر گڈ مسلم جہاں کا لنک آپ نے پیش کرکے فرمایا ہے کہ میں نے اپنے مؤقف پر صریح دلیل پیش کردی ، وہی دیکھ لیں اور بتائیں کہ کس دلیل کو صریح فرمایا ہے ؟ اور وہیں پر ایک صریح دلیل میں نے بھی پیش کی تھی ۔ اسے اور اپنی پیش کردہ تمام دلیلوں کو کمپئیر کرلیجئے آپ کو اپنے اگلے سوال کا جواب اسی میں مل جائے گا بلکہ یہاں بھی پیش کردیتا ہوں ۔ آگے آپ نے پوچھا ہے
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔اس لیے آپ اپنے مؤقف کے مطابق ’’ یعنی ایک کا اثبات ستائیس کی نفی گنتی کے ساتھ ‘‘ صریح صحیح دلیل پیش کریں۔۔شکریہ ۔
دیکھ لیں مسٹر گڈ مسلم ایسی دلیل جس میں ایک کا اثبات موجود ہے اور ستائیس کی نفی موجود ہے الحمدللہ۔
حدثنا هناد حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة قال وفي الباب عن البراء بن عازب قال أبو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة
سنن الترمذي، كتاب الصلاة ، باب ما جاء أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع إلا في أول مرة
اس روایت میں فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة یہ عبارت دلیل ہے صرف پہلی مرتبہ رفع الیدین کرنے پر یعنی ایک کا اثبات اور یہی عبارت دلیل ہے باقی کی ستائیس ہوں یا ستائیس سو رفع الیدینیں سب کی نفی پر ۔
امید ہے ضعیف ضعیف کا شور بلند کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ؟ کیونکہ یہ حدیث ضعیف نہیں ہے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔یا پھر میری پیش کردہ دلیل کو قبول کرتے ہوئے چار جگہوں پر رفع کرنا شروع کردیں۔(ویسے تو آپ قولاً تسلیم کربھی چکے ہیں )۔نماز کے شروع میں۔۔رکوع جاتے ہوئے۔۔رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اور تیسری رکعت کے آغاز میں۔۔۔
مسٹر گڈ مسلم میں بے شمار ایسی حدیثیں مانتا ہوں جن پر امت کا عمل نہیں رہا یعنی وہ "سنت" کے طور پر نہیں لی جاتیں۔ جیسے سجدوں کی رفع الیدین ۔
سجدوں کی رفع الیدین صحیح روایات سے ثابت ہے جنہیں میں مانتا ہوں اور شاااااید آپ بھی مانتے ہوں ؟ مگر الحمد للہ میں ان روایات پر عمل نہیں کرتا جن میں سجدوں کی رفع الیدین کرنے کا زکر ہے بلکل ویسے ہی جیسے آپ کو بتایا تھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کو الحمدللہ مانتا ہوں اس میں جتنا مرفوعا عمل ثابت ہے اسے بھی اور جو عمل ابن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اسے بھی لیکن نہ میں رکوع جاتے اٹھتے کی رفع الیدین کرتا ہوں نہ ہی تیسری رکعت شروع کرنے پر ، کیونکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایات اور دیگر روایات سے معلوم ہوچکا کہ جیسے سجدوں کی رفع الیدین منسوخ ہوچکی ویسے ہی بقیہ مختلف فیہ رفع الیدین بھی منسوخ ہوچکیں اور الحمدللہ کوئی بھی اہل سنت والجماعت حنفی ہو یا شافعی ،مالکی،حنبلی مختلف فیہ رفع الیدین کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں کہتا کرنے کو بھی اور چھوڑنے کو بھی ۔ جبکہ آپ فرقہ جماعت اہل حدیث والے بضد ہیں کہ مختلف فیہ رفع الیدین کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کا عمل ہے تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرماگئے۔ اور یہ ضدی دعوٰی بغیر دلیل کے ہی چلا آرہا ہے اور ان شاء اللہ نا ہی آپ مختلف فیہ رفع الیدین کے حق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کرسکتے ہیں اور ناہی مختلف فیہ رفع الیدین کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کا عمل ثابت کرسکتے ہیں ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اوکے مجھے منظور ہے۔۔ لیکن تھریڈ شروع کرنے سے پہلے یہاں پر میرے سوال کا جواب ہاں یا ناں میں دے دو۔۔ کیا قرآن وحدیث نے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ نماز کی کیا شرائط ہیں ؟ کیا ارکان ہیں؟ فرائض واجبات سنن ومستحاب کیا ہیں؟ مکروہ اور حرام افعال کیا ہیں؟ جواب ۔۔۔ہاں ۔۔۔ ناں۔۔۔ باقی باتیں جب تھریڈ قائم کروگے، وہاں پر ہونگی۔۔ یا پھر اس سوال کا جواب بھی اگر یہاں نہیں دینا تو مجھے بتا دینا میں تھریڈ قائم کرلوں گا۔ اور اس سوال سے شروع کردیں گے۔۔ ان شاءاللہ
ماشاء اللہ کیا انداز ہے !! ہر سوال کے جواب میں سوال ؟ یہاں جناب گڈ صاحب کو اپنی صرف دوہی دلیلیں یاد آچکی ہیں یعنی قرآن اور حدیث ۔ جبکہ جناب گڈ صاحب اجماع اور قیاس کو بھی شرعی دلیلیں ماننے کے حوالے سے ایک تھریڈ کا لنک پیش کرچکے ہوئے ہیں اور یہاں وہ اجماع اور قیاس کو چھوڑ کر صرف قرآن اور حدیث کے ماننے والے بن گئے ہیں ۔ یاد رہے مسٹر گڈ مسلم جاری موضوع میں رفع الیدین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری سنت قرار دیتے ہیں جس پر جناب کے پاس کوئی صریح دلیل بھی نہیں کہ( مختلف فیہ) رفع الیدین رکوع جاتے اٹھتے اور تیسری رکعت میں کرنا سنت ہے۔ سنت کہا تو جناب نے کسی امتی کے کہنے کی تقلید میں ۔ نہ اللہ نے کہا کہ رکوع جاتے اٹھتے رفع الیدین کرنا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اسے ہمیشہ کرنا اور ناہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رکوع جاتے اٹھتے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع الیدین کرنا اور ہمیشہ کرنا تادم مرگ یہ میری( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ) سنت جاریہ ہے ۔ اگر کہا ہے تو گڈ مسلم صاحب کو قرآن اور حدیث یاد آچکا، اب آپ صرف قرآن یا حدیث ، بغیر امتیوں کی رائے کے پیش کردیں اور چھٹی کریں اس کلاس سے ۔ اور اگلی کلاس کا دروازہ کھولیں تاکہ وہاں آپ کا سبق سنا جاسکے کہ کتنا قرآن اور حدیث یاد ہے ۔ امید ہے صرف" سنت " کے بارے میں ہی لکھنے سے جناب کو مکروہ مباح واجب نفل شرائط وغیرہ کی سمجھ آگئی ہوگی کہ وہ مسائل کون بتاتا ہے ؟یعنی جیسے آپ نے رفع الیدین کو سنت مانا کسی امتی کے کہنے پر ویسے ہی نماز کی شرائط بھی امتی ہی متعین کریں گے اور یہ تعین قرآن و سنت سے ہی ہوتا ہے لیکن نام اور درجہ امتی نے بتایا کہ یہ عمل شرط ہے جیسے نیت ۔ یعنی گڈ مسلم بغیر نیت کے نماز شروع کرتے ہی ہوں گے کبھی ؟ کیونکہ شرائط نماز سے شاید انکار ہے ؟۔ اگر جناب کو نماز کی شرائط سے انکار ہے تو جواب نہیں میں دیں اور اقرار ہے تو جواب ہاں میں دیں ۔شکریہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
میرے ہاں ایڈوانس نہیں چلتا ہوتا نقدو نقد سودا کرتا ہوں۔۔ تھریڈ قائم کرو۔ یا مجھے بتا دو میں قائم کرلونگا۔۔ وہاں پر ایڈوانس بھی لیں دیں گے اور ادھار بھی چلتا رہے گا۔۔
چلیں بسم اللہ کریں گڈ صاحب نئے تھریڈ میں ہی سہی جواب دے دیں اس سوال کا
سوال:-اگر نمازی دوران رکوع سبحان ربی العظیم کی بجائے سبحان ربی العلی کا زکر کرلے تو کیسا ہے ؟ درست ہے تو دلیل ؟ غلط ہے تو دلیل؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
کس طرح کا راستہ دکھایا جاتا ہے؟ ہم اچھی طرح واقف ہیں۔۔لیکن ہم تو خود بھی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو کہتے بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق کی دعا بھی کرتے ہیں ۔۔ کہ ہمیں سیدھے راستے پہ چلائے۔۔اور آپ ان حقوق سے محروم ہوتے ہیں کیونکہ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی کے پیچھے چلتے ہیں۔۔اس لیے آپ کو اس بات کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ وہ جہاں مرضی لے جائے ہمیں کیا پرواہ ؟۔۔۔ مقلد کا لفظ آپ پر بہت فٹ آتا ہے۔۔۔
الحمدللہ ہم اہل سنت والجماعت ہیں اور اللہ سے سیدھا راستا مانگتے بھی ہیں اور سیدھے راستے پر چلنے والوں کے پیچھے بھی چلتے ہیں ۔جبکہ آپ پیچھے چلنے کو گمراہی کہتے ہو ۔ کیوں گڈ صاحب ٹھیک ہے کہ نہیں ؟ یعنی بقول آپ کے جس کے پیچھے چل رہے ہیں وہ جہاں مرضی لے جائے ؟؟جناب گڈ صاحب آپ چونکہ فرقہ غیر مقلد سے ہیں اسلئے پیچھے چلنے کو گمراہی کہتے ہیں ۔ (حقیقت میں جتنا زیادہ آپ "پیچھے" چلتے ہیں یعنی نفس کے انتا تو ہم مقلدین بھی نہیں چلتے کیونکہ یہاں پابندیاں ہیں اور آپ کے وہاں کوئی پابندی نہیں جس جگہ نفس ٹھک گیا وہیں جاپڑے)۔ جبکہ نماز کی ہر رکعت میں اللہ سے مانگتے بھی ہو کہ
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٲطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ (٦) صِرَٲطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ (٧)
بتلادیجیئےہم کو رستہ سیدها۔ (۶) رستہ اُن لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے۔ نہ(رستہ) ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا اور نہ ان لوگوں کا جو(رستہ سے)گم ہوگئے۔ (۷)​
تو جن چنیدہ افراد پر اللہ کا انعام ہوا ان میں سے کسی کے پیچھے چلنا آپ کی نظر میں گمراہی ٹھہری اور ہمارے لئے سعادت ۔ الحمدللہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
بہت خوب لطیفہ چھوڑا ہے۔ یعنی جس کے آپ مقلد ہیں اس سے آپ کچھ پوچھ ہی نہیں سکتے (شاید آپ کی پارٹی میں پوچھنا بھی گستاخی تصور کیا جاتا ہو)۔۔چاہے وہ جو مرضی کرواتا پھرے۔۔
لطیفہ مسٹر گڈ مسلم کے لئے اور ہمارے لئے اعتماد ۔ الحمدللہ ہمارا اعتماد غلط نہیں کیونکہ مجتہد اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرواتا بلکہ وہ صرف بتاتا ہے" منشاء" قرآن و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔کیونکہ مجتہد کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہے
إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اَصَابَ، فَلَه أَجْرَانِ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدُ ثُمَّ أَخْطَاءَ فَلَهُ أَجْرٌ.
’’جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے تو اس کے لئے دو اجر ہیں، اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی تو اس کے لئے ایک اجر ہے۔‘‘
بخاری، الصحيح، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنه، باب أجر الحاکم إذا اجتهد فأصاب أو أخطأ
الحمدللہ ہم اہل سنت والجماعت کے مجتہدین قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ اور ہم انہیں مان کر چلتے ہیں جبکہ آپ غیر مقلدین حضرات نے من مرضی کرنی ہوتی ہے اسی لئے ایک کی کبھی نہیں مانتے اس کا ثبوت آپ کے اکابرین کے اقوال سے دیکھ لیں ۔
صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں (صلوٰۃ الرسول)
رفع یدین شروع کردیں سنت موکدہ ہے۔“(صفحہ205)​
اور
فتاوٰی علماء الحدیث جلد 3،صفحہ160،161 میں لکھا ہے
رفعیدین اور چھوڑنا دونوں ثابت ہیں۔“​
ماشاء اللہ مسٹر گڈ مسلم کے اکابرین کیا فرماتے ہیں دیکھئے
پہلے کہتے ہیں رفع الیدین "سنت موکدہ " ہے
دوسرے کہتے ہیں "رفع الیدین " چھوڑنا بھی سنت ہے !!! یعنی ایک عمل ایک وقت میں سنت بھی ہے وہ بھی "موکدہ"۔ اور اسی وقت میں غیر سنت بھی ۔ یہ ہوتا ہے من مرضی کی تقلید کا نتیجہ ۔ اور فرقہ اہل حدیث میں ایسی باتوں کا مقام کیا ہے یہ مسٹر گڈ مسلم ہی بتائیں تو بہتر ہے ، اور ہم مقلدین میں الحمدللہ دونوں قسم کے طبقات موجود ہیں یعنی رفع الیدین کرنے والے بھی اور نہ کرنے والے بھی مثلا حنفی اور مالکی دونوں اہل سنت والجماعت مقلدین ہیں اور دونوں جماعتیں رفع الیدین( مختلف فیہ ) نہیں کرتے، اور شافعی اور حنبلی بھی اہل سنت والجماعت مقلدین ہیں وہ کرتے ہیں ۔اور الحمدللہ ہم حنفی اپنے آپ کو رفع الیدین کے معاملہ میں اجران کا مستحق سمجھتے ہیں اور رفع الیدین کرنے والے مقلدین کو اجر کا مستحق۔اب یہ آپ بتادیں مسٹر گڈ کہ آپ کے ہاں جو تفریق ہے رفع الیدین کرنے کو سنت بھی کہتے ہیں چھوڑنے کو بھی، یہ کون سا اصول ہے آپ کے فرقہ جماعت اہل حدیث کا ؟؟؟؟ کس حدیث سے دلیل لی گئی؟؟؟ کس آیت سے دلیل لی گئی ؟؟؟کچھ روشنی ڈالئے ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔ اچھا آپ اس حدیث سے واقف ہونگے
" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعَصْرِ ، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقَصُرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " ، فَقَالُوا : نَعَمْ . فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ صَلاتِهِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ وَهُوَ جَالِسٌ"
آپ مجھے بتائیں گے کہ کیا ذواليديناور مزید سب صحابہکو نعوذباللہ نبی کریم پر اعتماد نہیں تھا ؟ جو پوچھ لیا ؟۔۔۔کیا جس پر اعتماد ہوتا ہے اس سے کچھ نہیں پوچھا جاتا ؟۔۔ جناب تمہاری پارٹی میں اور ہماری پارٹی میں یہی تو فرق ہے۔۔ آپ لوگ اندھا دھند چلتے ہو۔ چاہے قرآن وحدیث کی صریح مخالفت ہی کیوں نہ ہو رہی ہو۔۔لیکن ہم لوگ الحمد للہ ایسے نہیں ہیں اور ایسی اندھا دھند پیروی کوشرک کہتے ہیں۔
مسٹر گڈ مسلم ، سب سے پہلے تو یہ دیکھ لیں کہ مسئلہ تھا کیا ، اور جناب چکر کیا دینا چاھتے تھے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ظہر کی نماز میں) دو رکعت پڑھ کر نماز ختم کر دی تو آپ سے ذوالیدین نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور لوگوں کی طرف دیکھ کر) پوچھا کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں! پھر آپ اٹھے اور دوسری دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر سلام پھیرا۔ پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پہلے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ۔
ترجمہ دیکھئے اور پھر بتائیے گا کہ ظہر کی چار رکعت کو جب دو کردیا جائے یعنی دین کا ثابت شدہ معاملہ ہے کہ ظہر کی چار ہی رکعت ہوتی ہیں تو صحابی کا پوچھنا کوئی عجیب بات بھی نہیں اور بے اعتباری و بداعتمادی بھی نہیں جوکہ آپ ثابت کرنا چاھتے تھے شاید کہ معاذاللہ صحابہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتماد نہیں کرتے تھے ۔ کیوں یہی مطلب تھا آپ کا ؟ یا یہ کہ اعتماد ہو پھر بھی پوچھتے رہو ؟ معاف کرنا مسٹر گڈ مسلم آپ کی پیش کردہ روایت سے یہ دونوں مطلب نہیں ظاہر ہوتے بلکہ نماز کے بارے میں تعلیم ہے کہ اگر امام نماز میں کچھ کم یا زیادہ کردے (بھول سے)تو امام کو بتادیا جائے ۔اسمیں اعتماد اور بداعتمادی کی کیا تلاش کرنا ؟؟؟ اعتماد تو وہاں کرنا ہے جہاں مسئلہ واضح نہ ہو صراحت کے ساتھ ، جیسے پینے کی چیز میں چیونٹی کا گرجانا !!! امید ہے سمجھ گئے ہوں گے ؟ اگر نہیں سمجھے تو پھر جواب دے دیجئے دلیل کے ساتھ بغیر تاویل و قیاس کے کہ کیا کیا جائے اس پینے کی چیز کے ساتھ جس میں چیونٹی گرپڑے؟اب دیکھنے والے دیکھیں کہ گڈ مسلم کس کس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اچھا جی ۔۔ بہت خوب ۔۔۔ اور اگر ہم اپنے علماء سے قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل پوچھ کر عمل کرتے ہیں تو ہم متبع قرآن وسنت نہیں بلکہ مقلد علماء ہوجاتے ہیں۔؟۔اور ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ تقلید آپ بھی کرتے ہیں۔ لیکن آپ لوگ شریعت کو من مانا مفہوم قسم وقسم کے مولویوں سے دلوا کر عمل کرتے ہیں اور اپنی نسبت اس لیے امام صاحب کی طرف کرتے ہیں کہ آپ مولوی امام ابوحنیفہ کی تشریحات کی روشنی میں مسائل بتاتے ہیں۔۔ماشاءاللہ
گڈ مسلم صاحب سب سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ متبع کا معنی کیا ہے اور مقلد کا بھی؟ اور مجھے بھی بتادیں کیونکہ میں ٹھرا جاہل بندہ ۔ کیوں ٹھیک ؟ یہاں صرف دو آیات اور ترجمہ دکھاتا ہوں آپ کی آسانی کے لئے۔
سُوۡرَةُ البَقَرَة

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُواْ بَلۡ نَتَّبِعُ مَآ أَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَآ‌ۗ أَوَلَوۡ كَانَ ءَابَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ شَيۡـًٔ۬ا وَلَا يَهۡتَدُونَ
(١٧٠)​
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو الله نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ پائی ہو ۔
سُوۡرَةُ الاٴعرَاف

ٱتَّبِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِۦۤ أَوۡلِيَآءَ‌ۗ قَلِيلاً۬ مَّا تَذَكَّرُونَ (٣)​
جو چیز تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتری ہے اس کا اتباع کرو اور الله کو چھوڑ کر دوسرے دوستوں کی تابعداری نہ کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو
اب یہ بتادیں آپ غیر مقلدین علماء سے پوچھ کر متبع کہلوانے پر زور کیوں دیتے ہیں ؟ اور ہم علماء سے پوچھنے پر اتباع کے منکر کیسے ؟
ایک جواب تو مجھ سے پڑھ لیں کہ غیر مقلدین علماء سے ان کا من مرضی کا جواب لے کر اپناتے ہیں اور جھوٹ یہ کہتے ہیں کہ ہم متبع قرآن و سنت ہیں جبکہ اصلیت یہ ہوتی ہے کہ مزکورہ مسئلہ نہ قرآن میں ہوتا ہے نہ ہی حدیث میں صراحت کے ساتھ بلکہ وہ خالص غیر مقلد مولوی کا زاتی قیاس ہوتا ہے جیسے اوپر پیش کیا تھا کہ
صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں (صلوٰۃ الرسول)
رفع یدین شروع کردیں سنت موکدہ ہے۔“(صفحہ205)​
اب اس "سنت موکدہ" کو دلیل سے دکھانے پر جان جائے گی مسٹر گڈ مسلم کی اور آپ مرتو سکتے ہیں اپنے اکابرین کی طرح لیکن کسی حدیث یا آیت سے دلیل صراحت کے ساتھ نہیں دکھا سکتے کہ "رفع الیدین سنت موکدہ ہے" کیونکہ یہ آپ کے مولوی کا زاتی فہم تھا جو آپ غیر مقلد عامی معاذللہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر قبول کرتے ہو اور جھوٹ اس پر یہ کہ اہل حدیث متبع سنت ہیں ؟؟ جبکہ ہم اہل سنت والجماعت احناف سچ کہتے ہیں اعلانیہ کہ ترک رفع الیدین ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اسے ہم مانتے ہیں جبکہ آپ جھوٹے ہیں ایسے کہ رفع الیدین کو( مختلف فیہ ) "سنت جاریہ" یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کا عمل کہتے ہو۔اب یہاں یہ نہ کہنا مسٹر گڈ کہ ہم نبی پر امام ابوحنیفہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔ نا نا نا ایسا نہ سمجھنا کیونکہ ہم سنت اسے کہتے ہیں جسے ہمارے مولوی سنت بتاتے ہیں اور ہمارے مولوی نبی نہیں ہیں امتی ہیں امتی اور ہم اپنے امتی مولویوں کی بات اپنے امام کی طرف اسلئے منسوب کرتے ہیں کہ ہمارے مولوی حضرات امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگردوں کی تشریحات سے مسئلہ لیتے ہیں یا ان ہی تشریحات و اصولوں کی مدد سے نئے پیش آمدہ مسائل کو جدید دور میں حل کرتے ہیں اور اسے استنباطی مسائل ہی کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولتے کہ ایسا ایسا یعنی رفع الیدین کرنا سنت موکدہ ہے اور ویسا ویسا کرنا یعنی رفع الیدین (مختلف فیہ )سنت جاریہ ہے ۔ وغیرہ ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ویسے اس بات کا تعلق تقلید سے ہے۔۔ کیا خیال ہے تقلید پر بھی بات کرلی جائے ؟۔۔ کرنی آپ سے ہے، کیونکہ آپ سے بات کرنے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔۔
ضرور بڑے شوق سے ۔ مگر پہلے رفع الیدین (مختلف فیہ) کا دس جگہ کا اثبات اور اٹھارہ جگہ کی نفی دکھادئیں صراحت کے ساتھ ۔۔۔وغیرہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
دلیل پیش کردی ہے۔۔اور آپ تسلیم بھی کرچکے ہیں۔۔۔اب آپ اپنے دعویٰ کے مطابق دلیل پیش کریں گے یعنی ’’ ستائیس کی نفی ایک کا اثبات گنتی کے ساتھ مع دلیل ‘‘
الحمدللہ آپ نے جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی اس کا انکار نہ پہلے کیا تھا نہ اب کرتا ہوں بلکہ الحمدللہ الحمدللہ صدق دل سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کو مانتا ہوں جبکہ آپ نہیں مانتے کیونکہ ابھی جو دلیل میں آپ کے مانگنے پر پھر سے پیش کررہا ہوں آپ اسے بھی یا تو اپنی ضد کے ہاتھو ں مجبورا رد کریں گے ضعیف کہہ کر یا کوئی اور تاویل کریں گے ان شا ء اللہ روایت کو ماننے کی توفیق بلکل نہیں ہوگی ۔ دیکھئیے
حدثنا عبداللہ بن ایوب المخرمی وسعد ان بن نصر و شعیب بن عمرو فی آخرین قالوا ثنا سفیان بن عیینة عن الزھری عن سالم عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم حذو منکبیہ واذا ارادان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع لا یرفعھما وقال بعضھم ولا یرفع بین السجدتین والمعنی واحد
محدث ابو عوانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ایوب مخزومی اور سعدان بن نصر اور شعیب بن عمرو تینوں نے حدیث بیان کی اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے سفیان بن عینة نے حدیث بیان کی انہوں نے زہری سے اور انہوں نے سالم سے اور وہ اپنے باپ ابن عمر سے روایت کی اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ کو دیکھا آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے کندھوں کے برابر اور جب ارادہ کرتے کہ رکوع کریں اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تو آپ رفع الیدین نہ کرتے اور بعض راویوں نے کہا ہے کہ آپ سجدتین میں بھی رفع یدین نہ کرتے مطلب سب راویوں کی روایت کا ایک ہی ہے ۔
(صحیح ابوعوانہ جلد دوئم صفحہ نوے)​
دیکھ لیا مسٹر گڈ ؟ ہم پہلی رکعت کے شروع میں رفع الیدین کرتے ہیں اور بعد کی ستائیس کی ستائیس نہیں کرتے اور اوپر جو روایت ہے اس میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی رکعت یعنی شروع نماز کی رفع الیدین ثابت ہوتی ہے اور بعد کی تمام کی تمام رفع الیدین جہاں جہاں آپ کرتے اور چھوڑتے ہیں ان کے نہ کرنے کا ثبوت موجود ہے ۔ الحمدللہ۔ آپ کی منہ مانگی دلیل دے دی آپ کو،عین ہمارے عمل کے مطابق۔ جبکہ آپ کو ابھی تک کوئی دلیل عین آپ کے عمل کے مطابق پیش کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوئی اگر ہے دلیل تو کہاں چھپاکر رکھا ہوا ہے پیش کیوں نہیں کرسکے ابھی تک ؟ کیوں صرف دوجمع دوچار پر زور ہے آپ کا؟ مسٹر گڈ مسلم آپ کا جو عمل ہے دس جگہ رفع الیدین کرنے کا اسکی دلیل پیش کریں اور اٹھارہ جگہ آپ نہیں کرتے اسکی دلیل پیش کریں صراحت کے ساتھ دوجمع دوچار نہیں ۔ امید ہے سمجھ گئے ہوں گے آپ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ہم کسی کے مقلد نہیں۔۔ فکر مقلدین کو رہتی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔۔۔مجھے بھی انتظا رہے گا کہ کب آپ پیش پوش کرنا پسند کریں گے۔۔۔ پیش پوش سے پہلے میری ایک بات یاد رکھ لینا کہ قرآن وحدیث کے دلائل پیش کرنا۔۔ اپنے یا ہمارے مولویوں کے اقوالات نہیں۔۔کیونکہ ہمارا کیا اصول ہے آپ واقف ہو ہی گئے ہونگے۔
آپ کا اک ہی اصول ہے کہ مخالف کی پیش کردہ تمام روایات کو ضعیف کہوں مردود کہوں اور اپنے موقف کی حمایت میں ڈٹ کر ان کی زاتی رائے کو قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح پیش کرتے جاؤ اور جب دیکھو کہ اب اپنی گردن پھنسنے لگی ہے امتیوں کے اقوال میں تو فورا شور مچادو کہ اہل حدیث کے دو اصول اطیعو اللہ و اطیعو الرسول ۔ آفرین ہے مسٹر گڈ مسلم اب تک آپ نے روایات کم اور امتیوں کے اقوال ہی اقوال پیش کرے ہیں اور مجھے نصیحت کہ کسی کے بھی مولویوں کے اقوال پیش نہ کرنا ؟ اور میں جو شروع سے کہہ رہا ہوں یہاں کہ
آپ کو یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ آپ کی دو دلیلیں ہیں یعنی قرآن اور حدیث۔ اسلئے امتیوں کے اقوال بلکل پیش نہیں کرنے۔(پوسٹ نمبر دو ،سطرنمبرےتین)
آپ تو رفع یدین کو سنت کہنے ماننے پر اپنی کوئی دلیل بھی پیش نہیں کرسکتے سوائے امتیوں کی طرف دیکھنے کے ،(پوسٹ نمبر تیرہ)
اور آپ ہیں کہ صرف امتیوں کے قول پیش فرمارہے ہیں وہ بھی آپ کے عمل کو ثابت نہیں کرتے بلکہ آپ کو دو جمع دو چار کا سہارہ لینا پڑتا ہے ۔(پوسٹ نمبر اکتالیس)
اور وہاں جہاں کے لنک پر بات کہی تھی وہی پر ان شاء اللہ بچی کچی جڑوں کا اپریشن کروں گا ۔فکر ناٹ مسٹر گڈ مسلم بس یہاں سے فارغ ہوجائیں ۔یا وقت کی فراوانی ہونیں دیں بس۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
پہلی بات یہ تو سب کو معلوم ہو ہی رہا ہے کہ جھوٹ بولنے کا سہارا کون لے رہا ہے؟ بتانے کی ضرورت نہیں۔۔ اور دوسرا جب آپ نے مجھ پر الزام لگایا کہ آپ قرآن وحدیث ہی مانتے ہیں تو اس پر میں نے تھریڈ بنام ’’ مقلدین کا الزام اور اس کا جواب ‘‘ کا لنک دے کر آپ کے اس الزام کو جھوٹا ثابت کردیا۔۔اور میرے لنک پیش کرنے اور وہاں پر موجود باتیں پڑھنے سے سب پر عیاں ہوہی گیا ہوگا کہ اصل جھوٹا کون تھا اور کون ہے؟۔۔۔ برائے مہربانی میں آپ سے پوچھوں یا آپ مجھ سے پوچھیں اور پھر اس بات کا باثبوت اظہار ہو، اچھا ہے کہ قارئین پر فیصلہ رکھ لیتے ہیں۔۔
یعنی مسٹر گڈ مسلم اس بات پر ناراض ہیں کہ انہیں اور ان کے فرقہ جماعت اہل حدیث کو صرف قرآن اور حدیث کا ماننے والا کہا ؟؟؟ کیوں بھئی گڈ صاحب ؟ کیا آپ اقراری ہیں پوری چار دلیلیں ماننے کے ؟؟ اگر مانتے ہیں تو پھر کہتا ہوں اپنا نام اہل حدیث سے ہٹا کر اہل سنت والجماعت حنفی رکھ لیں یا چلو حنبلی یا شافعی رکھ لو اور پھڈا ختم کرو۔ کیوں کیا خیال ہے آپ کا ؟ ہم چار دلیلیں ماننے کا اقرار کریں تو آپ لوگ ہمیں مشرک کہتے ہو اور خود آپ کو جب یہ کہا جائے کہ آپ کی دو ہی دلیلیں ہیں تو کہتے ہیں اور دوسرا جب آپ نے مجھ پر الزام لگایا کہ آپ قرآن وحدیث ہی مانتے ہیں ؟؟؟ ماشاء اللہ کیا خوب اسٹائل ہیں آپ کے گڈ مسلم صاحب۔ حضور گڈ صاحب اب آپ صاف صاف بتادیں کہ آپ قرآن و حدیث کے علاوہ قیاس اور اجماع کو بھی حجت مانتے ہیں تاکہ قارئین کو یہ بھی تو معلوم ہو جسے وہ صرف اطیعواللہ و اطیعو الرسول کا نعرے لگانے والا ہی سمجھتے تھے ، وہ بھی قیاس اور اجماع کو شرعی دلیل ماننے والے نکلے ، اور اس عقیدے کو انہوں نے تکیہ کے پردے میں چھپاکر رکھا ہوا تھا ۔ بتائیے مسٹر گڈ مسلم بتائیے کہ سچ کیا ہے ؟ آپ کی چار دلیلیں ہیں یا صرف دو؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
غلط سمجھے جناب چکر اور دھوکہ دینا کیا ہوتا ہے اس سے آب بھی واقف ہونگے۔۔اگر نہیں واقف تو میں بتا دونگا۔۔
گڈ مسلم صاحب کیا آپ ڈگری ہولڈر ہیں دھوکہ اور چکر بازی کرنے کے فن کے ؟یا استاد؟ اور الحمدللہ میں چکر بازی اور دھوکہ دینے والے گروپ کے جھانسے میں نہیں آیا کرتا بے فکر رہیں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔ اور میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت دلیل نہیں؟
اب قارئین دیکھیں اک اور نمونہ بلکہ ثبوت مسٹر گڈ مسلم کا کہ انہوں نے پوسٹ نمبر اٹھائیس میں کہا کیا تھا میری پیش کردہ دلیل یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کا حوالہ دینے پر
دلیل نہیں دی ۔۔ چکر دیا ہے سہج صاحب۔۔دلیل دیں دلیل
اب انکا خود کا لکھا دلیل نہیں دی اور چکر دیا ہے اور مطالبہ کہ دلیل دیں دلی کیا ثابت کرتا ہے ؟؟؟ قارئین دیکھیں پرکھیں اور فیصلہ اپنے دل و دماغ میں محفوظ کرلیں ۔ ان شاء اللہ وقت ضرورت کام آوے گا۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب یہ بات آپ کو سوچنی چاہیے کہ آیا آپ کے مؤقف پر یہ دلیل ہے بھی کہ نہیں۔؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يُعِدْ

سنن النسائي
الحمدللہ ایک کا اثبات اور ستائیس کی نفی اس دلیل میں موجود ہے ، ہے کہ نہیں مسٹر گڈ مسلم ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔۔۔ پھر اس کاجواب تو ماقبل دیا جاچکا ہے۔۔وہاں کا رجوع کریں۔۔
جی جی میں نے بھی وہی جواب پیش کیا ھوا ہے آپ بھی وہیں رجوع کیجئے ۔شکریہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب نہ میں نے توہین کی۔ نہ توہین کرتا ہوں اور نہ توہین کرنے کی مجھ میں جسارت ہے۔ اور نہ کر سکتا ہوں۔
اب پچھتاوے کیا ہووت ہے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!!!​
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
۔لیکن روایت کا سہارا لے کر جو آپ نے چکر اور دھونا دینے کی کوشش کی ہے۔۔ میں نے اس کی ضرور توہین بھی کہے۔۔ ٹھکرایا بھی ہے۔۔ مردود بھی کہتا ہوں۔۔۔ اگر آپ اس پر غصے ہوتے ہیں تو ضرور ہوں لیکن یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کریں کہ میں نعوذباللہ صحابہ کرامکی توہین کررہا ہوں۔۔کم از کم مجھ غریب پر یہ ظلم تو نہ کریں۔۔۔ باقی میرے الفاظ نعوذباللہ صحابیکے بارے میں نہیں تھے بلکہ جو آپ نے صحابیکی آڑ میں سادہ لوح عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے اس پر ہیں۔۔خوب سمجھ لیں۔۔ اورآئندہ اس طرح کی باتوں کی نسبت کرنے سے پہلے سوچ بھی لینا۔
جب میں نے اشارہ کیا تھا کہ
اوپر اک دلیل اور دی ہے اسے دیکھ لیجئے(لنک)
تو اسکے جواب میں جناب گڈ صاحب نے یہ کہا تھا
دلیل نہیں دی ۔۔ چکر دیا ہے سہج صاحب۔۔دلیل دیں دلیل(پوسٹ نمبر اٹھائیس دیکھیں)
یہ عبارت لکھ کر اور اب اس کی تاویلات فرمانا کہ ایسا نہیں اور ویسا کہا تھا ، یہ چکر پر چکر دینا کہلاتا ہے ۔ مسٹر گڈ مسلم آپ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے متعلق اپنا نقطہ نظر بیان کیا تھا اب اس سے دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ سوائے اس کے کہ آپ نے جو بغض کا اظہار کیا تھا روایت کے بارے میں اب اس کے اثرات سے بچنا چاھتے ہیں ۔ اور ایسا سوائے توبہ کے ممکن نہیں ، اسلئے روایات کا احترام کرنا سیکھیں اور ایسی جسارات سے اپنے نفس کو روکلیں تو آپ کے ہی لئے بہتر ہوگا۔روایات کو "مردود"کہنے کا شوق دبالیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ دیکھتے رہ جائے اور ایمان ثریا پر جاپہنچے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔شکریہ
((پوسٹ نمبر 57 کے جواب کی اگلی پوسٹ آنے والی ہے))
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
(گڈ مسلم کی پوسٹ نمبر 57 کے جواب کا دوسرا حصہ)
جناب مجھے معلوم ہے الحمد للہ اور میں نے صحابیکے بارے میں کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔لیکن آپ لوگ صحابہ کرامکے بارے میں کیا کہتے رہتے ہیں؟ یا کیا صحابہ کرامکی عزت کرتے ہیں۔ اور آپ کے مسلک میں صحابہ کرامکے اقوال وفعال کا کیا مقام ہے؟ بلکہ صحابہ کرامتو کیا نبی کریم کے اقوال وافعال کا کیا مقام ہے۔ یہ ہمیں معلوم ہے۔۔ اگر جاننا ہے تو پھر بناؤ تھریڈگستاخ صحابہ کون ؟ ‘‘ وہاں پتہ چل جائے گا کہ حب دار صحابہکون ہیں اور صحابہکے نام پر روٹیاں کھانے والے کون ہیں۔۔۔غیر فقیہ غیر فقیہ کی گردانیں آپ کی طرف سے سکھائی جاتی ہیں۔۔
گستاخ صحابہ کون؟ اچھا عنوان ہے ۔ ان شاء اللہ اس پر بھی تھریڈ کریں گے ۔ٹھیک؟ اور صحابہ میں سے کسی غیر فقیہ صحابی کو غیر فقیہ کہنا گستاخی ہے یا فقیہ صحابی کو ناقابل حجت کہنا گستاخی ہے؟ موٹے موٹے مسائل میں خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو غلطی کرنے والا کہنا تو ادب و احترام کی معراج کہلاتا ہے آپ کے فرقہ اہل حدیث میں ؟ اور چند مسائیل جیسے بیس رکعت تراویح اور تین طلاق والے معاملات میں صحابی کے فیصلہ کا انکار کردینا یہ بھی قابل احترام فعل ہے ؟؟؟؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
مسٹر مسٹر کہنا بذات خود بداخلاقی نہیں لیکن کہنے والے کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس رو میں آکر کہہ رہا ہے۔۔ جناب سچ بتائیں کہ اگر آپ تعصب، ضد اور کسی بھی طرح کی ہٹ دھرمی ودل میں نفرت کے بناء کہہ رہے تھے تو کہتے رہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔ لیکن جس انداز سے آپ کہہ رہے ہیں اس انداز سے بچہ بچہ بھی واقف ہوجائے گا کہ یہ کس وجہ سے کہا جارہا ہے۔۔ اگر میں کہنا شروع کر دوں تو معاملہ بگڑ جائے گا۔۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ تھریڈ انتظامیہ مقفل کرے۔۔کیونکہ آپ کے ہر پول کو کھوکھلا کرنے کا ادارہ ہے ۔۔ ان شاءاللہ
ضرور کھوکھلا کیجئے لیکن اپنی دلیل تو دکھائیے ؟ دس کا اثبات اور اٹھارہ کی نفی قرآن سے یا حدیث سے یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ۔
باقی رہا آپ کو مسٹر مسٹر کہنا تو مسٹر گڈ مسلم آپ کو اس بارے میں غلط فہمی ہے اگر آپ کی آئی ڈی عبداللہ ہوتا تو میں شاید کبھی کبھی مسٹر عبدللہ کہتا لیکن آپ کا نام ہی" گڈ" کے ساتھ "مسلم" ہے تو پھر گڈ سے پہلے مسٹر ہی جچتا ھے۔ اب آپ اگر عالم الغیب ہیں اور دلوں کے حال جان لیتے ہیں کہ میرا مسٹر کہتے ہوئے کیا ارادہ تھا تو جناب میں اس بارے میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی ۔ بس
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
یو آر پھنسنگ ان ایسی دلیل ۔۔ انکار ناٹ کرنگ۔۔چوری اور گھڑے الفاظ کا سہارا لےونگ۔۔بٹ گڈمسلم زیادہ دیر اس طرح کے الفاظ کاسہارا ناٹ لیونگ دیونگ۔۔اور پھر دلیل میں دو جمع دو چار بھی نہیں کیا جناب۔۔۔اس حدیث میں آپ کے چورے کیے گئے الفاظ کا عین جواب موجود ہے اور کیسے موجود ہے؟ آپ کو بتا دیا ہے۔۔۔ہاں یاد آیا آپ نے تو کہا تھا کہ آپ نے قیاس سے ثابت کیا ہے؟۔۔ یعنی چار دلیل سے اور چھ قیاس سے۔۔ تو جناب پہلی بات یہ قیاس کیسے ہے؟ یہ آپ نے سمجھانا ہے اور دوسرا اگر آپ کے بقول یہ قیاس ہی ہے تو میں قرآن وحدیث سے مستنبط قیاس کو مانتا ہوں۔۔ اگر میرا یہ قیاس قرآن وحدیث کی کسی دلیل کے خلاف ہے تو واضح کریں۔۔ ورنہ پھر قبول فرمائیں۔۔۔اور رفع الیدین شروع کریں۔۔جزاک اللہ ۔۔ اور اپنے دوسرے حنفیوں کو بھی اس عمل بارے بتائیں۔
مسٹر گڈ مسلم آپ کی پیش کردہ روایات میں شروع نماز،رکوع جاتے،اٹھتے رفع الیدین کا زکر ہے اور یہ صراحت بلکل بھی نہیں کہ کس کس رکعت میں کرنا ہے نا پہلی رکعت کے رکوع کی اور ناہی دوسری ،تیسری،اور چوتھی رکعت کی، مگر اسے آپ نے اپنے قیاس یعنی دوجمع دو چار کے زریعے سے تمام رکعتوں میں فٹ کرلیا کہ رکوع جانا اٹھنا تمام رکعتوں میں ہوتا ہے ۔حالانکہ کسی روایات میں ہر ہر رکعت میں رکوع جاتے اٹھتے رفع الیدین کرنے کی صراحت نہیں۔ ٹھیک؟
اسی طرح دورکعت کے بعد تیسری رکعت کو اٹھتے رفع الیدین کا زکر ہے اسے آپ نے قیاس سے دوسری اور چوتھی رکعت کے شروع پر فٹ بلکل بھی نہیں کیا ۔ ٹھیک؟
اور کئی صحیح روایات میں سجدوں کی رفع الیدین کا بھی زکر موجود ہے لیکن وہاں آپ قیاس سے کام لیتے ہیں یا کسی مولوی کی رائے پر عمل کرتے ہیں کہ انہیں چھوڑدو؟
یہ سب باتیں آپ کی جانب سے وضاحت کے لئے بے چین ہیں مسٹر گڈ مسلم۔ اور جناب سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ قیاس کرنے سے آپ مجتہد بن گئے ہیں یا پہلے مجتہد بنے پھر قیاس شروع کیا ؟ بھئی سیدھی سی بات ہے قیاس کرنے کا اہل یا تو اپنی آپ کو ثابت کیجئے کہ آپ مجتہد ہیں اور یا پھر اپنے مجتہد کا نام بمہ حوالہ پیش کردیں کہ فلاں مجتہد کی تقلید کی ہے آپ نے دوجمع دوچار کرنے کے لئے ۔ بس اتنی سی بات ہے مسٹر گڈ مسلم جسے آپ خواہ مخواہ گھماتے جارہے ہیں ۔ آخر آپ نے دوجمع دوچار ہی کرنا ہے تو پھر قرآن اور حدیث بھی پیش کریں جس سے "مستنبط قیاس" کے زریعے دوجمع دوچار کیا ۔ امید ہے سمجھ گئے ھوں گے؟کہ آپ نے کیا سمجھانا ہے یعنی دلیلوں میں زیادہ سے زیادہ چار جگہوں کی نشاندھی دکھائی ہے آپ نے یعنی شروع،رکوع جاتے،اٹھتے اور تشہد سے اٹھتے رفع الیدین کرنا ہے۔ باقی چھ عدد مقامات پر کرنا دوجمع دو برابر چار سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور چھوڑنے کو آپ نے بغیر صراحت کے تمام سجدوں پر اور دوسری چوتھی رکعتوں پر فٹ کیا ۔ ایساکرنا اگر آپ کی نظر میں قیاس ہے تو پھر اس کی وہ آیت یا حدیث بیان کریں جس پر آپ نے یا آپ کے مجتھد نے قیاس کیا اور اگر قیاس نہیں تو پھر وہ دلیل ابھی تک چھپاکر کیوں رکھی ہوئی ہے جس میں آپ کے عمل کے عین مطابق صراحت موجود ہے ؟؟ پیش کیجئے اور ختم کیجئے ۔ شکریہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جواب دیجیے جناب جواب ۔۔۔ جو پوچھا تھا دوبارہ پیش کررہا ہوں
’’ جن چیزوں کو آپ فرض، سنت، مستحب وغیرہ وغیرہ کہتے پھرتے ہو ان کو کس نے یہ درجہ ومقام دیا ہے ؟ نبی کریم نے یا کسی اور نے ؟


ایک
یہی سوال عین آپ کے ساتھ بھی ہے جناب گڈ مسلم صاحب اور آپ کس کے کہنے پر رفع الیدین کو سنت مانتے ہیں؟
دو
میرا جواب ہے کہ امتیوں نے سمجھایا کہ فرض کیا ہے ،واجب،سنت وغیرہ کیا ہیں ۔ اور الحمدللہ امتیوں کے سمجھانے پر ہم سمجھ جاتے ہیں ۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
اگر نبی کریم نے دیا ہے تو پھر آپ بھی ثابت کریں گے۔ لیکن اگر کسی اور نے دیا ہے تو کیا نبی کریم ان بارے تعلیم نہیں دےسکتے تھے جو کسی اور کو دینا پڑ گئی ؟
اول
بلکل یہی سوال آپ سے بھی ہے مسٹر گڈ مسلم
دوم
میراجواب یہ ہے کہ الحمدللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اعمال پر دوام فرمایا ان کے بارے میں فقہا کرام نے بتادیا کہ یہ یہ سنت وغیرہ ہیں ۔
احادیث میں مزکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"جب تو وضو کرے تو کلی کر"(ابوداؤد) اور "قبل امراۃ من النسائہ ثم خرج الصلاۃ"یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کا بوسہ لیا اور نماز کے لئے تشریف لے گئے(ابوداؤد) اب ان دونوں روایات میں سے کس روایت پر گڈ مسلم صاحب کا ہمیشہ عمل ہے ؟؟ ظاہر ہے کلی کرنے کی روایت پر ۔ اور مزکورہ روایت میں یہ صراحت موجود ہی نہیں کہ کلی کرنا سنت ہے جبکہ گڈ مسلم صاحب کلی کو یقینا سنت ہی سمجھتے ہوں گے ؟ اب یہ جو کلی کو سنت سمجھا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سنت سمجھا یا کسی اور امتی کے کہنے پر ؟اور ہم جو سنت مانتے ہیں کلی کرنے کو ہمیشہ ، وہ ایسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل یعنی کلی کرنے کی بے شمار روایات ہیں جن سے معلوم کیا فقیہ حضرات نے کہ یہ عمل ہمیشہ کا ہے اور اسے سنت کہا جبکہ بیوی کا بوسہ لینا ہمیشہ کا عمل نہیں بلکہ کہیں کسی کسی روایت میں موجود ہے اسلئے یہ عمل ہمیشہ کی سنت نہیں ۔ جبکہ گڈ مسلم صاحب کا اور انکے فرقہ جماعت اہل حدیث میں شاید سنت اور حدیث میں کوئی فرق نہیں ۔ کیوں مسٹر گڈ مسلم ؟ اسکا جواب بھی آپ نے دینا ہے۔
رہی بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے "اپنے اعمال مبارک کو سنت "کہا یا نہیں تو یہ بات تو خود آپ کے لئے لمحہ فکریہ ہے مسٹر گڈ مسلم !!!​
کیونکہ کلی آپ کرتے ہیں سنت مان کر لیکن اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت نہیں کہا ۔ اگر کہا ہے تو بتادیجئے؟
رفع الیدین آپ ہمیشہ کرتے ہیں سنت سمجھ کر ۔ لیکن اسے سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ۔ اگر کہا ہے تو بتادیجئے؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
کیا آپ کو ان کا علم نہیں تھا یا اللہ تعالیٰ نے آپ کو روک دیا تھا؟ کیا بعد میں جس نے بھی یہ تعلیم دی اس صاحب کا علم نبی کریم کے علم سے زیادہ ہوگیا تھا۔نعوذباللہ؟ ‘‘
گڈ مسلم صاحب اگر اس قسم کا اعتراض ہے آپ کو تو پھر بسم اللہ کیجئے اور آج بتادیجئے کہ آپ امتی کے کہنے پر رفع الیدین کو "سنت" مانتے ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک پر ۔ان شاء اللہ آپ کے جواب سے قارئین کو آپ کے اعتراض کا بودا پن سمجھ آجائے گا۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
باقی دس کا اثبات اور اٹھارہ کی نفی پر دلیل پیش کردی ہے۔لیکن ذہن شریف اور دماغ شریف کو ذرا اس پر غور کرنے کی تکلیف دے دینا کہ یہ نہ میرے الفاظ ہیں اور نہ میں نے اس طرح کوئی دعویٰ کیا ہے۔ اور نہ مجھے اس عمل پر گنتی کرنا اچھا لگتا ہے۔۔ کیونکہ گنتے کے چکروں میں اگر پھنسیں گے تو بات بہت لمبی ہوتی چلے جائے گی۔۔ جیسا کہ ہوبھی گئی ہے۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرا دعویٰ منسوخیت کا نہیں آپ کا منسوخیت کا ہے۔۔بجائے اس کے کہ آپ منسوخیت کی دلیل پیش کرتے۔لفظوں کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔۔جناب نہ اپنا ٹائم ضائع کریں اور نہ میرا۔۔پس اپنے دعویٰ پر دلیل پیش کردییجے۔۔اگر آپ نے گنتی کی طرف ہی آنا ہے تو پھر منسوخیت کے قائل آپ ہیں۔۔ آپ چار رکعات میں ایک دفعہ کرتے ہیں باقی ستائیس دفعہ نہیں کرتے۔۔ اس لیے ’’ ایک کا اثبات ستائیس کی نفی گنتی کے ساتھ مع دلیل‘‘
مزے کی بات ہے ہی یہ کہ فرقہ جماعت اہلحدیث کے ماننے والے جناب گڈ مسلم صاحب اپنا مکمل عمل مختلف فیہ رفع الیدین کے بارے میں ثابت نہیں کرسکے ناہی حدیث سے اور ناہی قرآن سے اور گنتی کروانے کو "غیر اچھا" عمل قرار دیتے ہیں ۔ ماشاء اللہ
مسٹر گڈ مسلم ، گنتی کا چکر آپ کو ابھی اور بھی لمبا کرے گا ان شاء اللہ ۔ کیونکہ آپ جب رفع الیدین کرتے اور چھوڑتے ہیں تو گنتی کا چکر شروع ہوجاتا ہے۔ اور یقین مانو مسٹر گڈ ، نماز کو جاتے اور نماز میں گنتی ہی گنتی ہے
جیسے
وضو میں
ہاتھ دھونا ایک بار سےتین بار تک
کلی ایک بار سے تین بار
ناک میں پانی ڈالنا ایک سے تین بار
منہ دھونا ایک سے تین بار
کہنیوں تک بازو دھونا ایک سے تین بار تک
مسح سر کا ایک بار
پاؤں دھونا ایک سے تین بار
حدثنا مسدد،‏‏‏‏ حدثنا يحيى،‏‏‏‏ عن سفيان،‏‏‏‏ حدثني زيد بن اسلم،‏‏‏‏ عن عطاء بن يسار،‏‏‏‏ عن ابن عباس،‏‏‏‏ قال الا اخبركم بوضوء،‏‏‏‏ رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوضا مرة مرة ‏.‏
ابوداؤد
جناب عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ بتاؤں؟ چنانچہ انہوں نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني،‏‏‏‏ حدثنا عبد الرزاق،‏‏‏‏ اخبرنا معمر،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ عن عطاء بن يزيد الليثي،‏‏‏‏ عن حمران بن ابان،‏‏‏‏ مولى عثمان بن عفان قال رايت عثمان بن عفان توضا فافرغ على يديه ثلاثا فغسلهما ثم تمضمض واستنثر ثم غسل وجهه ثلاثا وغسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاثا ثم اليسرى مثل ذلك ثم مسح راسه ثم غسل قدمه اليمنى ثلاثا ثم اليسرى مثل ذلك ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا مثل وضوئي هذا ثم قال "‏من توضا مثل وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر الله له ما تقدم من ذنبه "‏‏.‏
ابوداؤد
جناب حمران بن ابان، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے (پہلے) اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار، پھر بایاں اسی طرح، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا تین بار، پھر بایاں اسی طرح۔ اس کے بعد کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی مانند وضو کیا پھر فرمایا: ”جو کوئی میرے اس وضو کی مانند وضو کرے، پھر دو رکعت نماز پڑھے ایسے کہ ادھر ادھر کے خیالات میں مشغول نہ ہو تو اللہ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیتا ہے۔“​
مزید بھی مثالیں دے سکتا ہوں بادلیل ۔ ان شاء اللہ ۔ گنتی سے متعلق۔ لیکن صرف یہ کہہ کر بات ختم کرتا ہوں کہ جناب کا رفع الیدین والا عمل بھی گنتی والا ہی ہے اور اسی لئے جناب سے تقاضہ ہے کہ اپنے عمل کی مکمل گنتی دکھائیے کرنے کی بھی اور چھوڑنے کی بھی ، ڈو ناٹ فرار فرام دس ۔ تھینکس
اور ہاں ایک رفع الیدین کے اثبات اور ستائیس کی نفی والی دلیل کئی پیش کرچکا ہوں انہیں یہاں دھراتا نہیں ۔ ہاں ان شاء اللہ آپ کی پوسٹوں کے جوابات کے بعد ایک عدد پوسٹ میں میری پیش کردہ تمام دلیلوں کا جائزہ ضرور پیش کروں گا۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
يأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن جاءَكُم فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنوا أَن تُصيبوا قَومًا بِجَهلَةٍ فَتُصبِحوا عَلىٰ ما فَعَلتُم ندِمينَ .............. فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون
جناب کا یہ جواب جس میں صرف قرآن کی آیات ہی پیش کرکے فارغ ہوگئے ۔لیکن ناہی مقلدین کو فاسق ثابت کیا اور ناہی دلیل پیش کی کہ اس دلیل سے فاسق کو فاسق کہیں گے ۔ارے اچھا اہل الذکر کی تقلید فرماتے ہیں جناب گڈ صاحب ؟ مقلدین کو فاسق ماننے میں ؟ معاف کیجئے گا مسٹر گڈ مسلم ، آپ جس کو اہل الزکر سمجھ کر اس کے پاس جاتے ہیں وہ اگر کہتا ہے کہ مقلدین فاسق ہیں تو اسکی مان کر آپ مقلد ہی کہلائیں گے کیونکہ آپ اس معاملہ میں لا تعلمون جو ہوئے ۔ اب اگر آپ کے علامہ صاحب جب کے پاس آپ معلوم کرنے جائیں گے تو اگر تو وہ آپ کے فرقہ کا ہی ہے تو پھر آپ اسکے مقلد ہوئے اور اگر وہ کبھی ادلتا بدلتا رہتا ہے یعنی کبھی آپ گئے شافعی کے پاس اور کبھی آپ گئے حنفی کے پاس کبھی آپ گئے مالکی اور کبھی حنبلی کے پاس اور کبھی گئے شیعہ یا بریلوی یا اپنے فرقہ والے علامہ کے پاس تو پھر آپ کو حق ہے کہ آپ کہیں کہ گڈ مسلم غیر مقلد ہے ۔ امید ہے سمجھ شریف میں آیا ہوگا؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جھوٹ ہے۔۔۔ ہمارا اصل واصول یہ ہے کہ ہم ہر اس امتی کی ہر اس بات کو نہیں مانتے جو ذات باری تعالیٰ اور فرمان رسول کے خلاف ہو۔۔۔سیدھا سادھ سا اصول ۔۔اس کو ہمیشہ کےلیے ذہن میں بھی بٹھالیجیے۔۔شکریہ
ماشاء اللہ کیسا زبردست اصول ہے ۔ اچھا یہ تو بتادیجئے کہ جو امتی قرآن و حدیث کے مطابق بتاتا ہے اسے کیسے پرکھتے ہیں ؟ یعنی یہ کیسے جانتے ہیں کہ فلاں دلیل جو اس امتی نے بتاکر مسئلہ بتایا ہے جسے آپ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا فرمان خدا مان رہے ہیں وہ قرآ یا حدیث میں موجود ہے بھی ۔ یعنی آپ رفع الیدین اختلافی جگہوں پر بھی کرتے ہو ،کرتے ہو ناں ؟ اور اسے سنت جاریہ بھی مانتے ہو یعنی ہمیشہ کیا جانے والا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ کیوں مانتے ہو کہ نہیں؟ اب یہ بتادو مسٹر گڈ مسلم کہ یہ جو آپ نے رفع الیدین اختلافی جگہوں پر کی اسے" سنت " کس نے کہا ؟ اللہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ؟ بس اتنا بتادو کہ معلوم ہوسکے کہ آپ کتنا امتیوں کی تقلید کرتے ہو اور کتنا قرآن و حدیث کی ۔ جلدی بتائیے تاکہ اسے ہم ہمیشہ کے لئے زہن نشین کرسکیں۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب جب دلائل سے ایسی صورت ثابت ہو تو ہم بھی بعد کے زمانے کی بات کو مانتے ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن دلائل کی شرط پر ۔۔۔ بغیر دلائل کے کسی عمل کو پہلے وآخری زمانے کاعمل کرکے جان چھڑا لینا آپ کو مبارک ہو۔۔۔ اگر دلائل کی وجہ سے آپ منسوخیت کو بعد کے زمانے کا عمل سمجھتے ہیں تو پیش کیجیے ۔۔چھپا کر کیوں رکھے ہیں۔؟
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مرفوع عمل،جوکہ کوفہ کا ہے اور کوفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر آباد ہوا تھا جوکہ صاف طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا عمل بتاتا ہے اور پورے کوفہ میں صحابہ کی ایک جماعت بھی موجود تھی اور سب کا عمل عدم رفع الیدین تھا مختلف فیہ مقامات پر۔ اسکی تائید ترمزی کی روایت میں موجود یہ عبارت کرتی ہے

وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين
اہل علم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم و تابعین میں سے بہت سے حضرات اسی کے قائل ہیں ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ "[/QUOTE]​

اور
ابن عمر رضی اللہ عنہ کا مرفوع عمل
حدثنا عبداللہ بن ایوب المخرمی وسعد ان بن نصر و شعیب بن عمرو فی آخرین قالوا ثنا سفیان بن عیینة عن الزھری عن سالم عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم حذو منکبیہ واذا ارادان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع لا یرفعھما وقال بعضھم ولا یرفع بین السجدتین والمعنی واحد
محدث ابو عوانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ایوب مخزومی اور سعدان بن نصر اور شعیب بن عمرو تینوں نے حدیث بیان کی اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے سفیان بن عینة نے حدیث بیان کی انہوں نے زہری سے اور انہوں نے سالم سے اور وہ اپنے باپ ابن عمر سے روایت کی اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ کو دیکھا آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے کندھوں کے برابر اور جب ارادہ کرتے کہ رکوع کریں اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تو آپ رفع الیدین نہ کرتے اور بعض راویوں نے کہا ہے کہ آپ سجدتین میں بھی رفع یدین نہ کرتے مطلب سب راویوں کی روایت کا ایک ہی ہے ۔
(صحیح ابوعوانہ جلد دوئم صفحہ نوے)​
گڈ مسلم صاحب دلائل پیش خدمت کرچکا ہوں اور الحمدللہ میں نے اپنا عمل صحیح روایات سے ثابت بھی کردیا ہے یہ آپ ہیں جو آپ کے عمل کے مطابق کوئی ایک بھی روایت پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔ آپ سے اک بار پھر مطالبہ ہے کہ دلیل پیش کیجئے ایسی جس میں دس جگہ رفع الیدین کا اثبات ہو اور اٹھارہ جگہوں کی نفی۔ شکریہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
پہلی میری جس بات کی وجہ سے آپ کہہ رہے ہیں کہ میں نے آپ پر الزام لگایا ہے، اس کا تفصیلی جواب یہاں ملاحظہ کریں۔ اور یہ بھی دیکھیں کہ آپ نے دینی مسئلہ میں کیسی خیانت کا مظاہرہ کیا ہے۔
دوسری بات میں نے بھی ماقبل ’’ فی ‘‘ بارے تفصیلی گفتگو کی ہے، اس کو ملاحظہ کرلینا۔۔صرف ملاحظہ نہیں کرنا بلکہ اس پر کچھ پیش پوش بھی کرنا ہے۔
الحمدللہ جہاں کا لنک آپ نے دیا وہیں پر جواب پیش کرچکا اور "فی" کے بارے میں بھی گزارشات پیش پوش کرچکا۔
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
مزاحیہ بننے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔؟ جناب پہلی بات رفع کی منسوخیت پر جو دلائل آپ نے دیئے اس میں کسی رفع کی تخصیص ہی نہیں۔ اگر اس سے پہلی رفع کے علاوہ باقی رفعوں کو منسوخ ثابت کیا جاسکتا ہے تو پھر پہلی رفع کا استثنیٰ کس وجہ سے ؟۔۔کیا ان دلائل سے پہلی رفع کا انکار نہیں لیا جاسکتا ؟۔ مجھ سے دلیل کیا لینی ہے آپ اپنی دلیلوں پر غور کرلیں۔۔
دوسری بات اگر آپ’’ آغاز ‘‘ اور ’’ میں ‘‘ کی بات کرنے لگ جائیں میری پیش کردہ حدیث ’’ دخل فی الصلاۃ ‘‘ اور اپنی پیش کردہ حدیث ’’ اسکنوا فی الصلاۃ ‘‘ کو بھی اچھی طرح دیکھ لینا۔ اس بارے ماقبل پوسٹ میں بھی لکھ چکا ہوں۔
تیسری بات آپ مجھ سے صاف انکار کی دلیل طلب کررہے ہیں تو کیا آپ جو رفع ہم کرتے ہیں اس کے انکار کی صاف اور واضح دلیل جو کہ ضعیف نہ ہو دکھاسکتے ہیں؟۔چوتھی بات اگر ہماری رفع کی نہیں دکھانی تو پھر اپنی رفع کی صاف اور واضح دلیل ہی پیش کردیجیے یعنی ’’ ایک کا اثبات، ستائیس کی نفی گنتی کے ساتھ مع دلیل صحیح ‘‘
آپ سے اگر گنتی پوچھی جائے تو اس سے پوچھنے والا مزاحیہ بن جاتا ہے ؟ اور جو گنتی نہ دکھاسکے وہ ؟ بحرحال چھوڑیں اس بات کو قارئین پر کہ وہ کسے مزاحیہ سمجھتے ہیں اور کسے غیر مزاحیہ۔ٹھیک؟
اور دخل فی الصلاۃ میں جو دخل آیا ہے یہ کس لئے ہے مسٹر گڈ؟ الحمدللہ دخل بتارہا ہے کہ یہ نماز سے باہر والے کو نماز میں داخل کرنے کے لئے ہے اور نماز میں داخل ہونے کے لئے رفع الیدین ہم کرتے ہیں جبکہ اسکنوا فی الصلاۃ میں تاکید ہے نماز میں داخل ہونے کے بعد سکون اختیار کرنے کی ۔ اور نماز میں داخل ہونے کے بعد ہاتھ اٹھانا بار بار سکون کے منافی ہوتا ہے ۔ کیوں ہوتا ہے کہ نہیں ؟ جواب میں صرف ہاں یا ناں سے بھی کام چلے گا ۔ اور رہی بات مختلف فیہ رفع الیدین کے انکار کی بات تو دیکھئے ۔
فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ (نسائی)
واذا ارادان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع لا یرفعھما (صحیح ابوعونہ)
كَانَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ لا يَرْفَعُ حَتَّى يَنْصَرِفَ " .(مسند أبي يعلى الموصلي ، مُسْنَدُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ )
حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ "(سنن أبي داود۔)
مصنف ابن أبي شيبة،كتاب الصلاة،باب:من كان يرفع يديه في أول تكبيرة ثم لا يعود مصنف ابن ابی شیبہ میں پورا باب اس بارے میں موجود ہے دیگر کتب احادیث کی طرح۔
ان سب پہلی مرتبہ یعنی شروع نماز کی رفع الیدین کا اثبات ہے اور آخر تک باقی تمام رفع الیدین کا انکار ، کیوں ہے کہ نہیں؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب حضور بغل بجانے کی ضرورت نہیں۔۔ ہماری جس مسئلہ پر بات ہے، وہ نماز سے متعلق ہے۔ اور میں نے اپنے ان الفاظ میں نماز بارے ہی کہا ہوا ہے دیکھیے میرے ان الفاظ کو
’’ آپ نے یہ تسلیم کرلیا کہ اہل حدیث جو قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں عمل بھی کرتے ہیں اور دعوت بھی دیتے ہیں وہ نماز وغیرہ کے تمام احکامات دلائل سے ثابت نہیں کرسکتے لیکن احناف نے ایسے اصول بنا رکھے ہیں کہ ان اصول کی روشنی میں تمام مسائل ثابت ہوجاتے ہیں۔‘‘
اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو ٹھیک ہے سمجھتے رہیں اور تو پھر آپ کو بتادینا چاھئیے کہ کسی بھی عمل کو "سنت" کون قرار دیتا ہے ؟ یا یوں کرلیں کہ موضوع کے مطابق یہ ہی بتادیں کہ "مختلف فیہ رفع الیدین کو سنت کس نے قرار دیا"؟؟؟؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
دیکھ لیا جناب مسٹر سہج صاحب میں نے کس بارے بات کی تھی۔؟ ۔ ہماری بات نماز سے متعلق ایک مسئلہ پر ہے۔ اس لیے میں نے بھی آیت سے اسی مسئلہ کو ہی مراد لیا۔۔آپ ماقبل پوسٹ پڑھیں شاید سمجھ بھی آجائے۔؟ اس لیے آپ کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا کیونکہ وہ ہماری جاری بحث سے متعلق تھا ہی نہیں۔۔ لیکن جب آپ یہ کہیں گے کہ اس آیت کے بعد رفع الیدین منسوخ ہوئی ہے تو پھر یہ بحث آئے گی کہ اس آیت کے بعد کے افعال کی شرعی حیثیت کیا ہے؟۔۔۔ جناب میں نے گول مگول نہیں کیا آپ بات کو گول مگول کرکے کسی اور چکروں میں ہیں۔۔
گڈ مسلم صاحب سے عرض کی تھی
الحمدللہ اہل سنت والجماعت حنفی دیوبندی پورے دین پر عمل کرتے ہیں اور یہ اور ’’ الیوم اکملت لکم دینکم ‘‘ کی بات کی ہے آپ نے تو جناب اسے آپ کن معنوں میں لیتے ہیں یہ بھی بتادیتے ؟ کیا اس آیت کے آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اعمال نہیں کئے ؟ اگر کئے تو ان کو آپ کیا کہیں گے ؟ کیا مقام دیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو جو اس آیت کے بعد کیا گیا ۔ ؟ کیا وہ دین نہیں ؟ اہل سنت والجماعت اس آیت کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول فعل کو دین مانتے ہیں آپ اپنی فکر کیجئے ۔ (پوسٹ نمبر تینتیس)
یہ سوالات دیکھ کر مسٹر گڈ مسلم کو موضوع یاد آگیا ؟ ٹھیک ہے یاد بھی ہونا چاھئیے اور یہ بھی سمجھ ہونی چاھئے کہ الیوم اکملت لکم دینکم[/BRA] نماز کو بھی شامل ہے ۔ اور اسی مناسبت سے میں نے کچھ سوالات پوچھ لئے تھے جنہیں گڈ صاحب گول کرگئے ۔ چلیں کوئی بات نہیں نہ دیں جواب ۔ ٹھیک؟

[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
یہ بات موضوع سے خارج ہے۔ اور ویسے بھی اس کا اصولی جواب اس سے اوپر دے دیا ہے۔۔ اگر زیادہ شوق ہے اس آیت پر بات کرنے کا تو کوئی بات نہیں جلدی کس بات کی ہے۔۔ کرلیں گے۔۔ ان شاءاللہ ۔۔ اگر آپ یہ کہیں کہ نبی کریم نے اس آیت کے بعد رفع الیدین نہ کرنے کا کہا تو پھر ہماری اس پر بات ہوگی کہ اس حکم کے بعد کے احکام کی شرعی حیثیت ہمارے لیے کیا ہے؟۔۔فی الحال اس پر زیادہ جوش دکھانے کی ضرورت نہیں۔۔ موضوع پر رہیں۔۔شکریہ
میں اوپر بتاچکا ہوں کہ الیوم اکملت لکم دینکم[/BRA] نماز کو بھی شامل ہے اسلئے یہ آف ٹاپک نہیں ۔ ہاں جلدی مجھے بھی نہیں جب آپ کا دل چاھے میرے اٹھائے گئے سوالات کے جواب دے دیجئے گا۔ شکریہ

[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
بہت خوب۔۔ میں نے یہ کب کہا کہ اس آیت کے بعد رفع یدین کو شریر گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دی گئی ہے؟۔۔
گڈ مسلم صاحب کو ان ہی کا لکھا مراسلہ دکھاتا ہوں جو انہوں نے پوسٹ نمبر اٹھائیس میں لکھا تھا
ہمیں اس مسئلہ پر بات کرنی چاہیے جس مسئلہ پر ہماری بحث ہے۔ تو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد رفع الیدین آپ کرنا شروع کیا اور پھر بعد میں شریر گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ بھی دے دی ؟
ماشاء اللہ خود ہی پوچھتے ہیں اور پھر خود ہی منکر بھی ہوتے ہیں ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب کن سوچوں میں مگن ہیں۔۔ شاید آپ کو پتہ نہ ہو کہ آپ جو رفع کرتے ہیں وہ پہلے آتی ہے۔۔اور پھر شاید آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارا موضوع منسوخ اور غیر منسوخ کا ہے۔۔اگر سنت یا حدیث کی ہی بات کرنی ہے تو پھر میں نے پہلے بھی دریا دلی دکھائی اور اب دوبارہ وہی الفاظ نقل کررہا ہوں۔
’’ اور یہی سمجھ آپ کو بھی نہیں آتی کہ جس رفع کو آپ کرتے ہیں وہ فجر کی سنتوں کی طرح ہے یا عصر کی سنتوں کی طرح۔ اور میں نے دریا دلی سے کہہ بھی دیا کہ جو آپ کا جواب وہی میرا جواب۔ ‘‘
جو آپ جواب دیں گے وہی جواب میرا ہوگا۔۔ جناب ۔۔۔لیکن آپ کو پوچھ گوچھ سے گزرنا ہوگا۔۔ اگر پاس ہوگئے تو پھر میرا جواب بھی وہی ہوگا جو آپ نے دیا ہوگا۔لیکن اگر فیل ہوگئے تو پھر نیو جواب لانا ہوگا۔۔
مسٹر گڈ مسلم میں ایک عام سا جاہل آدمی ہوں میرا جواب آپ فرقہ جماعت اہل حدیث کے معیار کا ہوسکتا ہے بھلا؟ آپ بھی مزاق فرماتے ہیں ۔ بھئی جو رفع الیدین ہم کرتے ہیں وہ پہلے ہی آتی ہے ، میں نے کب کہا کہ آخری میں آتی ہے؟ اسی پہلی رفع الیدین پر کسی بھی فرقے کا کوئی اختلاف نہیں کرنے نہ کرنے کے بارے میں ۔ اور آپ اسی رفع الیدین کو جو مختلف فیہ نہیں اپنی مختلف فیہ رفع الیدین کے ساتھ گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جناب پہلی رفع الیدین کا اثبات آپ کو بھی ہے ہمیں بھی ۔ کیوں ٹھیک؟ اب جو بات اتفاقی ہے اثباتا ۔ اس کو خوہ مخوہ اجاگر کر کے بیچ میں لانا ؟؟ کیا معنی رکھتا ہے ؟ بھئی جو موضوع ہے یعنی مختلف فیہ رفع الیدین اس پر ہی بات ہونی چاھئے ناں ؟ آپ مختلف فیہ رفع الیدین کو سنت جاریہ مانتے ہو اور اس پر عمل کرتے ہو لیکن بے دلیل ، کیونکہ ابھی تک آپ نے اپنے عمل کے مطابق دلیل پیش ہی نہیں کی ۔ اور چل پڑے ہیں شروع نماز کی رفع الیدین کی جانب جو کہ مختلف فیہ ہے ہی نہیں ۔اب یہ بھی بلکل نہ کہنا کہ شروع نماز کی رفع الیدین کو گڈ مسلم نے نہیں کھینچا موضوع میں کیونکہ یہ ہوگا صریح جھوٹ اور مومن کو جھوٹ سے دور رہنا چاھئے ۔ تو بچیں جھوٹ سے ۔امید ہے سمجھ گئے ھوں گے؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
مجھے کوئی پاپڑ نہیں بیلنے پڑیں گے اور نہ اب تک اہل الحدیث کو پاپڑ بیلنے کی ضرورت پڑی ہے۔۔ یہ خوش کن فعل تو آپ کے کھاتے میں ہمیشہ کےلیے رکھا گیا ہے۔۔آپ کی ہی نظر سے اگر دیکھا جائے تو جو حدیث میں نے پیش کی ہے۔ اس میں جس کا اثبات بھی ہے اٹھارہ کی نفی بھی ہے۔۔ اور حدیث بھی ایسی ہے جس کا آپ نے بھی اقرار کرلیا ہوا ہے۔۔۔
گڈ مسلم صاحب ، جس جس روایت کا میں نے اقرار کیا ہے میں اب بھی اس پر قائم ہوں الحمدللہ روایات کے منکر تو آپ ہیں جو فورا امتیوں کا منہ دیکھتے ہیں کہ شاید کسی نے اس روایت کو جھوٹا یا وغیرہ وغیرہ کہا ہو تو اسے اپنے موقف پر دلیل بناکر پیش کردیا جائے ۔ ہم اہل سنت والجماعت الحمدللہ کھری بات کرتے ہیں کہ آپ کی پیش کردہ روایات میں
ایک
آپ کے عمل کے مطابق دس جگہوں کا مکمل اثبات موجود نہیں
دو
اٹھارہ جگہوں کا مکمل انکار موجود نہیں
تین
مختلف فیہ رفع الیدین سنت ہے یا حدیث اسکا بھی زکر نہیں
چار
مختلف فیہ رفع الیدین سنت موکدہ ہے اس کا بھی کوئی زکر نہیں
پانچ
مختلف فیہ رفع الیدین فرض ہے ، کا بھی کوئی زکر نہیں
چھ
مختلف فیہ رفع الیدین واجب ہے کا بھی کوئی زکر نہیں
سات
جو مختلف فیہ رفع الیدین کبھی نہ کرے اسکی نماز کا حکم موجود نہیں
آٹھ
جو مختلف فیہ رفع الیدین ہمیشہ کرے اسکی نماز کا بھی حکم نہیں
نو
سب سے بڑھ کر آپ کی پیش کردہ روایات میں یا آپ کے عمل میں مختلف فیہ رفع الیدین کے ساتھ کیا جانے والا زکر موجود نہیں جبکہ نماز کی ہر ہر حرکت کے ساتھ زکر موجود ہے
نو نمبر بات پر خوب غور کرلینا مسٹر گڈ، اور مجھے اسپیشلی بتانا کہ آپ جو رکوع جاتے اٹھتے تکبیر و سمیع اللہ کہتے ہو وہ رفع الیدین کے لئے ہوتی ہے یا رکوع جانے اٹھنے کی حرکت کے لئے ؟ تشہد سے اٹھتے وقت جو اللہ اکبر کہا جاتا ہے وہ اٹھنے کے لئے ہوتا ہے یا رفع الیدین کے لئے ؟؟؟
الحمدللہ ثمہ الحمدللہ ہم اور آپ جو شروع نماز کی رفع الیدین کرتے ہیں اس کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ہیں ۔ دیکھو رفع الیدین بھی کی اور زکر بھی کیا ۔ جوکہ اللہ کے حکم کے عین مطابق ہے دیکھو
سُوۡرَةُ طٰه

إِنَّنِىٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۟ فَٱعۡبُدۡنِى وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِڪۡرِىٓ (١٤)​
بے شک میں ہی الله ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی بندگی کر اور میری ہی یاد کے لیے نماز پڑھا کر
سُوۡرَةُ العَنکبوت

ٱتۡلُ مَآ أُوحِىَ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَـٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ‌ۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ‌ۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَڪۡبَرُ‌ۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ (٤٥)​
جو کتاب تیری طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو بے شک نماز بے حیائی اوربری بات سے روکتی ہے اور الله کی یاد بہت بڑی چیز ہے اور الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو
مسٹر گڈ مسلم میں اہل سنت والجماعت ہوں اور الحمدللہ نماز کی ہر حرکت پر زکر کرتا ہوں یعنی اللہ کو یاد کرتا ہوں اور اللہ کے حکم کے عین مطابق شروع نماز کی رفع الیدین کے ساتھ اللہ اکبر کہتا ہوں اور آپ بھی کہتے ہیں لیکن رکوع جاتے اٹھتے آپ جو اللہ اکبر کہتے ہیں وہ کس حرکت کے لئے ہے ؟رفع الیدین کے لئے یا رکوع جانے اٹھنے کے لئے ؟ جواب کا منتظر حسین ساھج۔شکریہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
جناب دو جمع دو چار بھی اگر کہا ہے تو نہ ذاتی رائے سے اور نہ آپ کے کہنے پہ۔۔ یہ بھی اس دلیل سے ثابت ہے۔ جو میں نے پیش کردی ہے۔۔الحمد للہ ۔۔ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ دو جمع دو جمع حدیث کے الفاظ نہیں بلکہ قیاس ہے تو قیاس بارے بھی اپنا مؤقف بتا چکا ہوں۔۔دوبارہ بھی سن لیں ’’ قرآن وحدیث سے مستنبط قیاس کو میں مانتا ہوں ‘‘ اب اگر تو یہ قیاس قرآن وحدیث سے مستنبط نہیں بلکہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے تو مجھے بتائیں، ورنہ پھر تسلیم کرنے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔
مسٹر گڈ مسلم تسلیم تو آپ کرچکے کہ آپ نے جو دوجمع دوچار کیا تھا وہ “قیاس“ تھا جسے آپ قرآن اور حدیث سے “مستنبط“ فرمارہے ہیں ۔ اس ساری بات میں اصل بات یہ ہے کہ “مختلف فیہ رفع الیدین “ کو آپ نے اقراری طور پر “قیاسی مسئلہ“ مان لیا ہے اور الحمد للہ ثابت ہوچکا کہ آپ کے پاس آپ کے عمل کے مطابق کوئی دلیل نہیں۔ ثمہ الحمدللہ
اور یقینا فیصلہ ہوچکا کہ مسٹر گڈ مسلم اختلافی رفع الیدین کو اپنے عمل کے مطابق دونوں “ دلیلوں “ سے ثابت نہیں کرسکے بلکہ جناب نے “قیاس“ کو اپنی تیسری دلیل بنالیا ہے اور بضد ہیں کہ مسٹر گڈ مسلم نے جو دوجمع دو چار یعنی قیاس فرمایا ہے وہ قرآن اور حدیث کے مطابق ہے ۔ ماشاء اللہ
اور مسٹر گڈ مسلم آپ کا پیش کردہ قیاس قرآن اور حدیث کے خلاف ہے یا نہیں یہ بات آپ کے ہی جواب پر منحصر ہے ، مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ فیصلہ آپ ہی کے ہاتھ سے آچکا یعنی آپ کا اقرار ۔دیکھیں​
اور یہ ہی اقرار ثابت کرچکا ہے کہ الحمد للہ مختلف فیہ رفع الیدین کرنے کا فیصلہ نہ قرآن کا ہے اور ناہی حدیث کا بلکہ قیاس کا ہے
اب چند سوالات پیش خدمت ہیں غور سے پڑھئے اور سیدھے سادھے الفاظ میں جواب دیجئے
اول
اچھی بات ہے کہ آپ نے مان لیا کہ دوجمع دو چار آپ کی زاتی رائے نہیں ہے بلکہ "قیاس" ہے اور یہ قیاس کن مجتہد صاحب کا ہے ؟اور جن مجتہد صاحب کا یہ "قیاس" ہے اس مبارک شخصیت کا حوالہ بھی درکار ہے۔
دوم
مسٹر گڈ مسلم آپ مجتہد ہیں ؟ صرف ہاں یا ناں
سوم
قیاس کے بارے میں آپ کا موقف ناکارہ ہے کیونکہ آپ کا فرقہ جماعت اہل حدیث سے تعلق ہے ، اور آپ کو اپنے فرقہ میں رہتے ہوئے ہی بتانا ہوگا اور دلیل دینی ہوگی قیاس کو حجت ماننے کے لئے۔ اور اور اور اگر آپ صرف دو دلیلوں سے آگے نکل گئے ہیں یعنی قیاس کو بھی شرعی دلیل بناتے ہیں تو اس بارے میں صریح عبارت کے ساتھ اپنے اکابرین میں سے کسی کی لکھی عبارت پیش کردیجئے، تاکہ آپ کے مزھب یعنی فرقہ جماعت اہل حدیث کا موقف معلوم ہوسکے۔( ایسا کرنا آپ کے لئے اسلئے ضروری ہے کہ قیاس یقینا تیسری دلیل شمار ہوگی جبکہ پہلے دعوٰی تھا صرف قرآن اور حدیث کو ہی دلیل بنانے کا )
چہارم
قرآن و حدیث سے مستنبط قیاس جو آپ مانتے ہیں اسکی وضاحت کردیں کہ کیسے آپ نے روایات میں غیر مزکور کو مزکور علت پر قیاس کرلیا یا سمجھ لیا؟ اور علت تھی کون سی جس پر ہر ہر رکوع اور ہر ہر کوع سے اٹھنے کو شامل کیا اور کیا وجہ ہے کہ آپ نے صرف تیسری رکعت کے شروع میں ہی رفع الیدین کرنے کو چنا؟ اور دوسری اور چوتھی رکعت کے شروع کے رفع الیدین کو چھوڑ دیا ؟ اور کیا وجہ ہے کہ آپ نے ہر ہر سجدے کی صراحت نہ ہوتے ہوئے بھی ہر ہر سجدے میں رفع الیدین ترک کردی جبکہ کئی احادیث میں صراحت کے ساتھ سجدے جاتے اٹھتے رفع الیدین کا زکر موجود ہے؟
پنجم
جب آپ مان چکے کہ آپ نے قیاس فرمایا دو جمع دو برابر چار کرکے اور رفع الیدین کی گنتی کو دس تک پہنچایا اور اور اور ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوا کہ مزکورہ مختلف فیہ مسئلہ نا حدیث کا ہے اور ناہی قرآن کا یہ ایک قیاسی ظنی مسئلہ ہے جسے مسٹر گڈ مسلم نے اپنے یا کسی مجتہد کے قیاس سے حل کیا ہے کیونکہ اس بارے میں کوئی صریح حدیث موجود نہیں ۔ الحمدللہ
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
میری پیش کردہ عبارت کا جواب نہیں۔ جناب عبارت دوبارہ پیش کررہا ہوں۔ اس لیے عبارت پر ہی لکھیں۔۔ادھر ادھر کی باتیں بیچ میں داخل نہ کریں
’’ یعنی شافعی حق پر ہیں ۔۔ کیونکہ ان کے پاس رفع الیدین کرنے کے دلائل ہیں۔۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شافعیوں کے پاس ہمارے پیش کردہ دلائل کے علاوہ کوئی اور دلائل ہیں یا یہی ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں ؟ اگر یہی ہیں تو پھر وہ کیسے حق پہ ہم کیسے گمراہ ؟ اور اگر کوئی اور ہیں تو پھر آپ ان کو حق پہ سمجھتے ہوئے بھی ان کے دلائل کیوں نہیں قبول کرلیتے۔؟آپ نے کہا کہ شافعی چار دلیلیں مانتے ہیں۔ ہم باقی مسائل کے بارے میں نہیں پس آپ مجھے رفع کے بارے میں بتا دیں کہ شافعی رفع الیدین کے اثبات کےلیے اجماع سے دلیل پیش کرتے ہیں یا قیاس سے ؟ یا دونوں سے ؟ قرآن وحدیث کی بات نہیں کرنی۔ کیونکہ قرآن وحدیث سے تو دلائل ہم بھی پیش کرتے ہیں۔ ‘‘
جناب کی اسی عبارت کے جواب میں لکھا تھا
پہلی بات یہ کہ آپ قرآن اور حدیث کا صرف دعوٰی کرتے ہیں اس سے دلیل پیش کرتے ہی نہیں بس دو جمع دو برابر چار کرتے ہیں ،دوسرے یہ کہ شافعی الحمدللہ اہل سنت والجماعت ہیں اور چاروں دلیلیں مانتے ہیں ۔ اور سیدھی سی بات ہے وہ امام کا قیاس مانتے ہیں ،جو امام شافعی نے قرآن و سنت اور اجماع کی تحقیق کر کے کیا ۔اور اس کا انہیں حق حاصل تھا کیونکہ امام شافعی مجتہد تھے ۔
اس میں ہی آپ کی بات کا جواب موجود ہے غور سے پڑھئے اور سمجھئے۔صرف ایک بات کی وضاحت کردیتا ہوں
شافعی حق پر ایسے اور فرقہ جماعت اہل حدیث گمراہ ایسے کہ شافعی قیاس و اجماع سمیت قرآن اور سنت رسول اللہ کو دلیل شرعی مانتے ہیں اور مقلدین امام شافعی ہیں اور یہی سچ تمام شافعی بیان کرتے ہیں اور آپ گڈ مسلم کی نظر میں مقلدین گمراہ ہیں ۔ کیوں ہیں کہ نہیں ؟ اب وہی گمراہ شافعی بھی رفع الیدین کرتے ہیں اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ وہ آپ کے فرقہ کے وجود سے پہلے سے چلے آرہے ہیں یعنی مسلک شافعی ۔ ٹھیک؟ اور رفع الیدین مختلف فیہ جگہوں پر کرنے کا فیصلہ امام شافعی کا ہے حدیث کا نہیں۔ ٹھیک؟ اور اب تو آپ بھی مان چکے ہیں کہ دلیل آپ کے پاس نہیں بلکہ آپ نے دوجمع دو چار کرکے رفع الیدین (مختلف فیہ ) کو ثابت کیا ہے اور آپ اپنے قیاس کو حجت بھی مانتے ہی ہوگے؟
(کتنے افسوس کی بات ہے کہ قرون اولٰی کے مجتہدین پر تبرہ کرتے ہیں اور اس فتنہ والے دور میں خود مجتہد بن کر قرآن و حدیث پر قیاس کرنے کے دعوٰی کرتے ہیں یعنی وہ دور جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت والا قرار دیا تھا اس دور کے ائمہ گمراہ اور مشرک قراردئیے جاتے ہیں اور موجودہ دور کے فرقہ جدید والے مجتہد بن بیٹھے ہیں ۔بہت خوب۔۔۔ارے حوش کے ناخن لو بھئی اگر قیاس ہی ماننا تھا تو قرون اولٰی والوں کا مانتے جن پر امت کا بھی اجماع ہے )
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
ہاں یا ناں میں کیوں پڑتے ہیں دامت برکاتہم العالیہ۔۔ اس کا تفصیلی جواب ملاحظہ کریں
’’ محترم میں کسی مذہب کو نہیں بلکہ ہر اس آدمی کو حق پہ سمجھتا ہوں جو انہی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزار رہا ہے جو تعلیم نبی کریم نےصحابہ کو دی تھی۔چاہے وہ اپنے آپ کو جس بھی نام سے پکارے۔ ناموں سےمجھے کوئی واسطہ نہیں .... آگئی ناں سمجھ سہج صاحب میرے موقف کی ؟ ‘‘
ایسے ڈر ڈر کر نہیں مسٹر گڈ مسلم صاف صاف کہئیے کہ آپ شافعیوں کو حق پر مانتے ہیں یا نہیں ؟ چونکہ آپ کا ایمان ہے کہ مقلدین گمراہ ہیں مشرک ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ تو آپ مرتو سکتے ہو شافعیوں کو حق پر نہیں کہو گے اگر کہو گے تو آپ کے عقیدے کی موت ہے ۔ الحمدللہ
اسی لئے کہتے ہیں چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں ، اور جناب کہتے ہیں کہ چاہے وہ اپنے آپ کو جس بھی نام سے پکارے ماشاء اللہ کیا خوب عقیدہ ہے ۔ مسٹر گڈ مسلم کیا شیعوں کو بھی حق پر سمجھتے ہیں آپ کبھی کبھی ؟ کیونکہ وہ بھی تو آپ کی طرح رکوع جاتے اٹھتے رفع الیدین کرتے ہیں ناں اور پہلی اور تیسری رکعت کے شروع میں بھی کرتے ہی ہیں ؟ پورا ناسہی آدھا تو مانتے ہیں ہوگے ؟آدھا نہ سہی پاؤ بھر تو مانتے ہی ہوگے؟ عجیب مقام ہے بھئی ۔۔۔۔ کہ شافعی ہیں گمراہ مقلد ہونے کے جرم میں اور گمراہ ہونے کے بعد بھی ان کی کوئی ناکوئی ادا جناب کو بھاتی ضرور ہوگی اور یقینا وہ رفع الیدین ہی ہوگی کیونکہ اور تو شاہد کوئی ادا مشترک ہے ہی نہیں ۔ کیوں ٹھیک کہا ناں ؟
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
پہلے آپ ثابت کریں کہ میں نے قیاس کیا ہے ؟۔۔مزید باتیں بعد میں۔۔
اوپر چند سطر پہلے نظر اٹھا کر دیکھ لیں وہاں آپ کا اقبال موجود ہے ۔یہاں بھی دیکھ لیجئے
[FONT=Arial نے کہا ہے:
گڈمسلم;75020[/FONT]]
[FONT=Arial نے کہا ہے:
’’ قرآن وحدیث سے مستنبط قیاس کو میں مانتا ہوں ‘‘ اب اگر تو یہ قیاس قرآن وحدیث سے مستنبط نہیں بلکہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے تو مجھے بتائیں،
اب آپ باقی باتوں میں سب سے پہلے دس جگہ رفع الیدین کے اثبات کی دلیل دکھائیے اور اگر نہیں دکھاسکتے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ دکھائیے اگر وہ بھی نہیں تو چھوڑئیے ایسی رفع الیدین کو جس کی دلیل دکھانے کے لئے آپ کو دنیا چھوڑ کر چاند پر جانا پڑے یا گمراہ مشرک مقلدین کے نقش قدم پر چلنا پڑے بھئی قیاس کو حجت ماننا پڑے اور کیا ۔

(((پوسٹ نمبر 57 کے جواب کا آخری حصہ اگلی پوسٹ میں)))


 
Top