• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہم اضافیت اور کائنات

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
خلاء میں فہیم اور شبانہ کی حالت پر واپس آتے ہیں.. شبانہ فہیم کی نسبت روشنی کی نوے فیصد 90% رفتار سے سفر کر رہی ہے.. ہم نے دیکھا کہ کس طرح یہ رفتار لمبائیوں پر اثر انداز ہوکر انہیں سکیڑ دیتی ہے، اور کمیت پر اثر انداز ہوکر اسے بڑھا دیتی ہے.. تو کیا یہ رفتار وقت پر بھی اثر انداز ہوگی؟ اور اگر اثر کرتی ہے تو اسے کس طرح ناپا جائے جبکہ ہم اس کا بعد ہی نہیں جانتے؟

در حقیقت ہمارے پاس یہ تصور کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ فریقین کے پاس انتہائی دقیق گھڑیاں ہیں، کیونکہ یہ بہرحال کوئی معینہ زمانی دورانیے تو بتاتی ہی ہیں، ہم فرض کرتے ہیں کہ فہیم اس سے، اس جنونی رفتار میں گزرتی ہوئی شبانہ کی رفتار ناپ سکتا ہے جبکہ شبانہ بھی اس سے گزرتے ہوئے فہیم کی رفتار ناپ سکتی ہے کہ دونوں باتیں ہی نسبتی ہیں.

اگر فہیم شبانہ کے خلائی جہاز میں لگی گھڑی پر نظر ڈالے تو وہ دیکھے گا کہ شبانہ کی گھڑی کی سوئیاں اس کی گھڑی کے مطابق حرکت نہیں کر رہیں، جہاں فہیم کی گھڑی میں دو سیکنڈ گزرتے وہاں شبانہ کی گھڑی صرف ایک سیکنڈ آگے بڑھتی ہے.. اس کا مطلب یہ ہے کہ فہیم کا ایک گھنٹہ شبانہ کے آدھے گھنٹے کے برابر ہے، اسی طرح فہیم کی عمر کا ایک سال شبانہ کی عمر کے چھ ماہ کے برابر ہے.

فہیم کو لگتا ہے کہ کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے، اس کے پاس موجود تمام گھڑیاں بالکل درست ہیں اور ایک ہی وقت بتا رہی ہیں، اس لیے ضرور شبانہ کی گھڑی میں کوئی خرابی ہے، چنانچہ وہ دور سے جو گفتگو کریں گے وہ کچھ یوں ہوسکتی ہے:

فہیم: شبانہ.. تمہارے ہاں ہر چیز میں گڑبڑ ہے.. وقت میں بھی!

شبانہ (حیرت سے): کیا مطلب؟ .. یہ بھی ضرور تمہارے ہی دماغ کی خرابی ہوگی.

فہیم: اس زمینی وضع داری کا شکریہ.. پھر بھی تمہاری گھڑی کا وقت میری گھڑی سے نہیں مل رہا حالانکہ زمین پر دونوں گھڑیاں بالکل ایک ہی وقت بتا رہی تھیں.. عجیب بات ہے.. تمہارے ہاں وقت بہت سست رو ہے!

شبانہ: میرے پاس تین گھڑیاں ہیں جو بالکل ایک ہی وقت بتا رہی ہیں.. ضرور تمہاری گھڑی میں کوئی خرابی ہوگی!

فہیم: ایسا نہیں ہوسکتا.. میری تمام گھڑیاں بالکل ٹھیک ہیں.. دیکھو.. یہ دیکھو میری گھڑیاں.

شبانہ: عجیب بات ہے؟ .. تم کہتے ہو کہ میرے ہاں وقت سست ہے، جبکہ تمہاری گھڑیاں دیکھ کر تو مجھے اپنے وقت کی نسبت تمہارا وقت سست لگ رہا ہے.. ضرور کوئی گڑبڑ ہے.

دراصل گڑبڑ حرکت میں ہے.. دو مختلف رفتاروں سے حرکت کرنے والوں کے درمیان وقت کا بہاؤ مختلف ہوتا ہے، مگر زمین پر ہم یہ نوٹ نہیں کر پاتے کیونکہ زمین پر کسی بھی چیز کی رفتار روشنی کی رفتار کے مقابلے میں بہت سست ہے.. زمین سے سات میل فی سیکنڈ کی رفتار (اب تک انسان کی انتہائی رفتار) سے چاند کے سفر پر نکلے خلائی جہاز کا وقت پورے دن میں سیکنڈ کے بیس ہزارویں حصے کے ایک حصے کے برابر سست ہوتا ہے.. یہ انتہائی کم زمانی دورانیہ ہے جسے ہم دقیق ترین گھڑیوں سے بھی نہیں ناپ سکتے.
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
یہاں کوئی پوچھ سکتا ہے کہ: یہاں کون سچ کہہ رہا ہے؟ .. کیا شبانہ کا وقت سست ہوا ہے یا فہیم کا؟

بظاہر یہ سوال کافی منطقی اور معقول معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ ایک احمقانہ سوال ہے، بالکل اس طرح جیسے کوئی سوال کرے کہ: انسان حجم میں بڑا ہے یا چھوٹا؟ .. اس سوال کے جواب کا انحصار کسی دوسری شئے کی نسبت انسان کے حجم پر ہے.. ہم کہیں گے کہ کسی چیونٹی یا کاکروچ کی نسبت انسان کا حجم بہت بڑا ہے، مگر کسی ہاتھی یا ڈائناسار کی نسبت بہت چھوٹا ہے.

وقت کے بہاؤ کا انحصار نہ صرف سوال کرنے اور جواب دینے والے پر ہے، بلکہ ایک ماحول کی دوسرے ماحول کی نسبت حرکت پر بھی ہے.. جب فہیم شبانہ سے کہتا ہے کہ شبانہ کے ہاں اس کی نسبت وقت سست ہے، تو وہ درست کہہ رہا ہے، اور جب شبانہ بھی یہی بات کہتی ہے تو وہ بھی حق پر ہے! یہاں شاید ایک واضح تضاد نظر آرہا ہے مگر اس طرح سوچنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے.. ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ خلاء میں فہیم یہ نہیں جان سکتا کہ وہ حرکت میں ہے یا نہیں، کیونکہ اس کے گرد ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اسے حرکت کا احساس دلائے.. اسی طرح شبانہ بھی یہ سمجھتی ہے کہ وہ حرکت نہیں کر رہی بلکہ فہیم حرکت کرتا ہوا اس سے اس رفتار میں گزر رہا ہے، اسی لیے دونوں کو اپنا اپنا وقت منطقی اور معقول لگتا ہے (کیونکہ دونوں ہی اپنے آپ کی نسبت حرکت نہیں کر رہے)، لیکن اگر آپ اپنے ماحول کی نسبت کسی حرکت کرتے ہوئے ماحول کا وقت ریکارڈ کریں تو معاملہ مختلف ہوگا.. اور چونکہ ہر حرکت نسبتی ہے، چنانچہ لازم ہے کہ ہر زمان (وقت) نسبتی ہونا چاہیے.. کیونکہ دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہیں!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اگر فہیم اور شبانہ دونوں بالکل ایک ہی رفتار سے سفر کرتے تو وقت کے بھنور میں نہ پھنستے، کیونکہ اس حالت میں ان دونوں کی نسبتی رفتار صفر ہوتی، چنانچہ فہیم کو شبانہ کا وقت بالکل اپنے وقت کے مطابق لگتا، اسی طرح شبانہ کو بھی فہیم کا وقت اپنے وقت کے مطابق لگتا، یعنی دونوں وقت میں کوئی فرق محسوس نہ کرتے.

مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان دونوں کا وقت ہمارے زمینی وقت کے مطابق ہوگا، کیونکہ شبانہ (یا فہیم) ہم سے 163 ہزار میل فی سیکنڈ دور جا رہی ہے، اس پر کوئی الزام نہیں اگر وہ یہ کہے کہ زمین اس سے 163 ہزار میل فی سیکنڈ دور جا رہی ہے.. اس صورت میں لکم دینکم ولی دین.. یعنی اس کا وقت الگ اور ہمارا وقت الگ ہوگا.. اور چونکہ وہ ہم سے دور جاتے ہوئے حرکت کر رہی ہے اس لیے ہمیں اس کا وقت سست لگے گا، مگر وہ ہمیں یقین دلائے گی کہ اس کے وقت پر کوئی غبار نہیں اور وہ بالکل ٹھیک ہے.. بلکہ وہ ہمارے وقت کو سست قرار دے گی.. تو پھر دونوں "اوقات" میں کون سا وقت سست روی سے بہہ رہا ہے؟ .. ہمارا یا اس کا؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
ہم پھر کہیں گے کہ: چونکہ ہر حرکت نسبتی ہے، چنانچہ دونوں باتیں درست ہیں.. بالکل جیسے آپ کہیں کہ: کیا ملتان سے کراچی آتی ہوئی ٹرین کراچی سٹیشن کے قریب آرہی ہے یا کراچی کا سٹیشن اس کے قریب ہو رہا ہے؟ .. یہاں دونوں باتیں نسبتی ہیں، اور یہی بات وقت کے ساتھ صادق آتی ہے، کیونکہ اس کا انحصار اس ماحول پر ہے جس میں کھڑے ہوکر ہم اپنی نسبت دوسرے حرکت کرتے ہوئے ماحول کو دیکھتے ہیں.

دراصل مساوات کا مضمون یہ ہے کہ جو چیز جتنی تیزی سے حرکت کرے گی اس کا وقت اتنا ہی سست ہوگا (کسی ساکن ماحول کی نسبت).. یعنی اگر شبانہ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے لگے تو اس کی عمر اہلِ زمین کے مقابلے میں کئی گنا لمبی ہوجائے گی.. کیونکہ اس کے ماحول میں (جیسا کہ ہمیں اپنی زمین سے لگے گا) ہر چیز اس جنونی رفتار سے متاثر ہوگی.. لمبائیاں، کمیتیں، وقت، اور اس کے جسم میں ہوتا کیمیائی اور حیاتیاتی تعامل بھی.. حتی کہ وہ ذرے (ایٹم) جو اسے اور اس کے ماحول کو تشکیل دیتے ہیں سست پڑجائیں گے یعنی ان کی ایٹمی سرگرمی بھی سست پڑ جائے گی، مگر شبانہ اپنے ماحول میں کوئی غیر معمولی بات نوٹ نہیں کر سکتی (کیونکہ اس کے ماحول میں جو کچھ بھی ہے وہ اپنی نسبت حرکت نہیں کر رہا).. اسے لگے گا کہ اس کا وقت بالکل اسی طرح چل رہا ہے گویا وہ زمین پر ہی رہ رہی ہو، اگرچہ اہلِ زمین کو اس کے برعکس نظر آرہا ہوگا.
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
مگر.. کیا ہو اگر شبانہ خلاء میں روشنی کی رفتار سے نکل کھڑی ہو؟

اگر ایسا ہوجائے، اور مساوات کے قاعدے لاگو کیے جائیں، تو ہم پر اور کائنات میں ہر مشاہدہ کرنے والے پر انکشاف ہوگا کہ شبانہ کا جو وقت ہم ریکارڈ کر رہے ہیں وہ صفر ہے، یا دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ: شبانہ کا وقت رک گیا ہے اور وہ کبھی بوڑھی نہیں ہوگی، اس کی جوانی - جب تک کہ وہ روشنی کی رفتار میں سفر کر رہی ہے - ہمیشہ قائم رہے گی.

تو کیا یہ ممکن ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
یقیناً نا ممکن ہے.. کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ شبانہ روشنی کی رفتار سے سفر کر سکے.. اور نا ہی کوئی بھی دوسری مادی شئے، چنانچہ وقت نہیں رکے گا، بلکہ انتہائی حد تک سست پڑجائے گا جب تک کہ وہ روشنی یا اس سے قریب رفتار میں سفر کرتی رہے گی.

چلیے ذرا معاملے کو کچھ اور واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں: اگر شبانہ (ہماری نسبت) منظم انداز میں روشنی کی نوے فیصد 90% رفتار سے سفر کرے تو ہمارے زمینی وقت کے حساب سے اس کا وقت پچاس فیصد 50% تک سست پڑجائے گا، اور اگر اس کی رفتار کچھ بڑھ جائے اور روشنی کی اٹھانوے فیصد 98% رفتار تک پہنچ جائے، تو ایک "شبانی" سال (شبانہ کی نسبت سے) زمین کے ساڑھے پانچ سالوں کے برابر ہوگا، اور اگر اسی تناسب سے اس کی رفتار بڑھتی ہی چلی جائے تو شبانہ کا ایک دن ہماری زمین کے سینکڑوں، ہزاروں یا شاید لاکھوں سالوں کے برابر ہوسکتا ہے.. اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ روشنی کی رفتار کے کتنا قریب پہنچتی ہے!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اس منظرنامہ کو ہم ایک اور دلچسب شکل میں بھی پیش کر سکتے ہیں.. وہ یوں کہ اگر ہم فرض کریں کہ شبانہ کی بدقسمتی سے فہیم کے ساتھ شادی ہوگئی، اور فہیم نے اپنی "فہامت" سے اسے اتنا تنگ کیا کہ وہ اسے اور اپنے دس سالہ بیٹے کو چھوڑ کر، ایک خلائی جہاز میں سوار ہوکر روشنی کی رفتار سے قریب رفتار میں کائناتی سفر پر نکل کھڑی ہوئی، اور قسم کھائی کہ وہ دو سال بعد ہی واپس آئے گی.. ایک سال جانے میں اور ایک سال واپس آنے میں، کہ شاید یہ سفر اس کے زمینی غم دور کر سکے.. اور پھر وقت بڑی آہستگی سے گزرتا ہے.. پھر اڑتی سی اک خبر پھیلتی ہے کہ شبانہ جو تیس سال کی عمر میں زمین چھوڑ کر گئی تھی، کچھ دنوں میں لوٹنے والی ہے.. اہلِ زمین - بشمول شبانہ کے رشتہ دار - اس کا استقبال کرنے جاتے ہیں، جب وہ اپنے خلائی جہاز سے اتر کر لوگوں کی بھیڑ پر نظر ڈالتی ہے، تو اسے اس بھیڑ میں کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آتا جسے وہ جانتی ہو.. نا تو فہیم ہوتا ہے، نہ اس کا بیٹا اور نا ہی اس کا بھائی اور نا ہی اسے الوداع کرنے والوں میں سے کوئی اور اس کا استقبال کرنے آتا ہے.. شبانہ کا استقبال کرنے والے لوگ اسے بالکل اسی طرح جوان دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں.

بھیڑ میں سے ایک بوڑھا آگے بڑھ کر اسے گلے لگا کر اس کا استقبال کرتے ہوئے کہتا ہے: واپسی مبارک ہو دادی اماں! .. آپ کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترس گئی تھیں.. پورے سو سال تک آپ کی واپسی کا انتظار کرنا پڑا..!

شبانہ کو لگتا ہے کہ اس سے گلے ملنے والا یہ بوڑھا شاید سٹیا گیا ہے، وہ حیرت سے لوگوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہتی ہے: شکریہ دادا جی شکریہ..

یہاں لوگ فوراً معاملے کو سدھارنے کے لیے دخل اندازی کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ آپ کا پوتا ہے.. یہ آپ کے بیٹے کا بیٹا ہے جسے آپ دس سال کی عمر میں چھوڑ کر چلی گئیں تھیں.. آپ جنہیں جانتی تھیں انہیں مرے ہوئے سینکڑوں سال گزر گئے ہیں.. اور شبانہ بے ہوش ہوجاتی ہے، صدمہ سے اس کے دل کی دھڑکن رک جاتی ہے اور وہ مرجاتی ہے.. جیسے موت نے اسے آرام دیا ہو، کیونکہ وہ ایسے زمانے میں نہیں رہ سکتی جو اس کا نہیں، گویا اہلِ کہف کی کہانی دوسری شکل میں ایک بار پھر دہرا دی گئی ہو.
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
شاید آپ کو یہاں ان سائنس فکشن کہانیوں کی بو آرہی ہوگی جو زمان کی اضافیت پر مبنی ہیں (جیسے ٹائم مشین یا پلینٹ آف دی ایپس).. ان کہانیوں کے مصنفین سائنسی بنیادوں پر کہانی لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتے ہوئے خلابازوں کا وقت تھم جاتا ہے، اور پھر جب وہ کئی سالوں بعد اپنی زمین پر واپس آتے ہیں تو وہ پہچان ہی نہیں پاتے کہ یہ زمین ان کی اپنی ہی زمین ہے (کیونکہ اس میں ہر چیز بدل چکی ہوتی ہے).. یا وہ کسی دوسرے سیارے پر آگئے ہیں..

یہاں مراد آکر کہتا ہے کہ: آئیڈیا؟! .. اگر یہ معاملہ ہے، تو سائنسدان جلدی سے ایسے بڑے خلائی جہاز کیوں نہیں بناتے جن میں ہم ٹولیوں کی شکل میں سوار ہوکر روشنی سے قریب رفتار میں نکل کھڑے ہوں، اس طرح ہمارا وقت سست ہوجائے گا اور ہماری عمریں دراز ہوجائیں گی، ساتھ ہی ہم اس زمین سے بھی دور ہوجائیں کے جو ہمیں دن بہ دن بڑھاپے کی طرف گھسیٹے چلی جا رہی ہے؟


مراد جیسا چاہے سوچ سکتا ہے، مگر اسے سمجھنا چاہیے کہ ایسے خلائی جہاز بنانے ممکن نہیں، کیونکہ ان کا روشنی کی رفتار کے قریب ہی سفر کرنا تقریباً نا ممکن ہے، اس معاملے میں ہماری تمام تر زمینی ترقی ہمارا مداوا نہیں کرے گی.. اور پھر مراد کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جو شخص روشنی کی رفتار سے یا اس رفتار کے قریب سفر کرے گا وہ اس زمین پر پھر کبھی واپس نہیں آسکے گا.. کیونکہ نظریہ اضافیت کی کچھ شرطیں ہیں جن کا پورا ہونا لازمی ہے، وقت تب ہی سست ہوگا اگر خلائی جہاز ایک منظم رفتار سے خطِ مستقیم پر سفر کرے.. اگر یہ شرطیں پوری نہ ہوئیں تو وقت کے سست ہونے کا موقع آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور آپ کی زندگی زمین سے کہیں دور خلاء کی اتھاہ گہرایوں میں ہی کہیں ختم ہوجائے گی.
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب درست بھی ہے؟ .. کیا کوئی ایسی ایک بھی مشاہداتی دلیل ہے جو ثابت کرے کہ رفتار کے بڑھنے سے وقت سست پڑجاتا ہے؟

جی ہاں.. اس بات کے بھی کئی مشاہداتی ثبوت موجود ہیں.. اس کا ثبوت سائنسدانوں کو ان کائناتی جسیموں میں ملا ہے جو ہماری زمین کی طرف انتہائی تیزی سے بڑھتے ہیں، جنہیں ہم کائناتی شعاعوں کا نام دیتے ہیں کیونکہ یہ شعاعیں کائنات کی اتاہ گہرائیوں سے ہماری طرف آتی ہیں.. ان جسیموں میں سے بعض ہمارے کرہ ہوائی کی اوپری تہہ سے ٹکرا کر تباہ ہوجاتے ہیں جن سے ایک اور جسیمے پیدا ہوکر تیزی سے زمین کی طرف بڑھتے ہیں.. جو بات سائنسدانوں کو ایک عرصہ تک پریشان کرتی رہی وہ یہ تھی کہ یہ جسیمے انتہائی کم عمر تھے.. ان میں سے بعض سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے سے بھی کم زندہ رہ پاتے ہیں اور بعض اس سے بھی انتہائی کم.. چنانچہ کرہ ہوائی کی اوپری تہہ سے انہیں ہم تک پہنچنے کے لیے درکار وقت ان کی عمر سے کہیں زیادہ ہوتا ہے.. چنانچہ دلائل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ہماری زمین تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے، انہیں وہیں پیدا ہونا اور وہیں مرنا ہوگا.

جب سائنسدانوں نے زمان کی سست روی سے متعلق اضافیت کی مساوات استعمال کر کے ہماری زمین کی نسبت ان جسیموں کی رفتار ناپی تو انہوں نے پایا کہ ان کے لیے وقت سست پڑجاتا ہے اس لیے وہ زمین تک پہنچنے کے لیے زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں کیونکہ ان کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہی ہوتی ہے.

سائنسدان بھی ایٹمی ری ایکٹروں میں اس کا مشاہدہ کرتے ہیں، کوئی جسیمہ جتنا تیزی سے حرکت کرتا ہے وہ اس جسیمے سے زیادہ عرصہ زندہ رہتا ہے جو ساکن ہوتا ہے.. بالکل جس طرح نظریہ اضافیت پیشین گوئی کرتا ہے!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
یہاں فہیم ہمیں ٹوکتے ہوئے کہتا ہے: ان ایٹمی دلیلوں سے ہمیں کیا لینا دینا؟ .. ہمیں تو اپنی ارد گرد کی دنیا سے ثبوت چاہیے.. ہم اپنی عمریں لمبی ہوتی دیکھنا چاہتے ہیں.. ہم چاہتے ہیں کہ وقت ہمارے لیے سست ہو نا کہ ایٹمی جسیموں کے لیے.

فہیم کو ہمارا جواب یہ ہے کہ: فی الوقت زمین پر ایسا کوئی انسان نہیں ہے کہ جو عمر کو دراز کرنے کا تجربہ کر سکے، ما سوائے اگر وہ ایک ایسا خلائی جہاز تیار کر سکے جو روشنی نما رفتار سے کائنات میں خطِ مستقیم پر سفر کر سکے مگر کبھی نا واپس آنے کے لیے.

مگر چونکہ ذرات کی حد تک اضافیت کی پیشین گوئیاں درست پائی گئی ہیں چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاید یہ کبھی خلیوں اور جاندار مخلوقات پر بھی صادق آسکیں.. اس کا انحصار آنے والی نسلوں کی نئی نئی دریافتوں پر ہے.. اس میں شک نہیں کہ آنے والی نسلیں اس نظریے کو ترقی دیں گی، جس طرح آئن سٹائن نے نیوٹن اور گلیلیو اور ان کے بعد دیگر بہت سے سائنسدانوں کے کام کو ترقی دی.
 
Top