• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’خارجیت، سبائیت اورشیعیت‘‘ بجواب ’’رافضیت ، ناصبیت اوریزیدیت‘‘ (نقد وتبصرے)۔

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,528
پوائنٹ
304
محترم،
بات دلائل سے ہو تو اچھی لگتی ہے وگرنہ جذباتی تقاریر کا علمی حلقہ میں کوئی وزن نہیں ہوتا ہے۔جہاں تک اپ کی بات ہے کہ صرف مجھے خلافت کا درد ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نہیں تھا یہ اپ کی بھول ہے حسین رضی اللہ عنہ کا اٹھنا اسی قبیل سے تھا ابن زبیر رضی اللہ عنہ اسی مقصد سے اٹھے تھے اہل مدینہ نے یزید کی بیعت توڑی وہ بھی اس وجہ سے تھی اور مروان کے خلاف جماجم کے مقام پر 4 ہزار قاری اٹھ کھڑا ہوا اور عباسیوں کے خلاف حسن بن علی کی تحریک یہ سب حسین رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کی برکات تھی جو انہوں نے کربلا میں کیا تھا یہ سب واقعات موجود ہے یا نہیں اور پھر یاد دلا دوں یہ میں تاریخ سے نہیں کتب احادیث کی شروحات تفاسیر آئمہ کے حوالے سے بیان کر رہا ہوں یہ سب واقعات ہوئے کس لئے خلافت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے ہوئے اور مجھ سے ذیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین رحمہ اللہ کو اس کا دکھ تھا اسی لئے انہوں نے اس کے لئے جہاد بھی کیا ہے۔
دوسری بات اپ جو فرما رہے ہیں کہ میں ملک عضوض ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں محترم میں اس تھریڈ(30 سال خلافت)پر بھی آئمہ کے اقوال پیش کر رہا تھا اور یہاں ایک بار پھر یاد دلا دیتا ہوں صرف ابن کثیر رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کر دیتا ہوں باقی تو اپ اس تھریڈ پر پڑھ ہی چکے ہیں۔


قُلْتُ: وَالسُّنَّةُ أَنْ يُقَالَ لِمُعَاوِيَةَ مَلِكٌ، وَلَا يُقَالُ لَهُ خليفة لحديث «سفينة الْخِلَافَةُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَضُوضًا»
ابن کثیر فرماتے ہیں "سنت یہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بادشاہ کہا جائے اور ان کو خلیفہ نہ کہا جائے کیونکہ حدیث سفینہ ہے کہ خلافت میرے بعد تیس سال ہے اس کے بعد ملک عضوضا ہے۔
یہ میرا قول ہے اس میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو بادشاہ کہنا سنت قرار دیا ہے یہ میں نے لکھا اور ان کو خلیفہ نہ کہا جائے یہ میں نے لکھا ہے یہ ابن کثیر کا قول ہے اور انہوں نے کوئی اپنی توجہی نہیں پیش کی ہے حدیث سے دلیل دی ہےاور حدیث پیش کی اور اس ملک عضوض لکھا ہے حالانکہ سفینہ والی حدیث میں ملک عضوض کا لفظ نہیں ہے انہوں نے دوسری روایت کو بھی اس میں جمع کیا ہے آئمہ کے ان اقوال سے کیوں آنکھیں بند کرتے ہو مجھے ہدف طعن اور مورد الزام ٹھراتے ہوں ابن کثیر کو کیا کہو گے اور ایسے بے شمار اقوال ہیں جو آئمہ اکابرین نے نقل کیے ہیں تو یہ قول میری طرف منسوب کرنا انصاف کا تقاضہ نہیں ہے یہ ابن کثیر کا قول ہے کہ اپ جو دھڑلے سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کو خلافت فرما رہے ہیں تو اپ ابن کثیر کے بقول سنت توڑ رہے ہیں
اپ کی دوسری بات کہ سب نے رضا مندی سے بیعت کی تھی محترم کسی ایک آئمہ کا بھی قول پیش کر دو یہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت رضامندی سے کی گئی تھی عام الجماعت والے سال معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ارطاۃ کو مدینہ بھیجا اور وہاں اہل مدینہ کی بیعت بھی جبری لی گئی تھی مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ روایات موجود ہے۔ اور انہی روایات کو دیکھ کر آئمہ نے یہی نقل کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت رضا مندی کی نہیں تھی۔ اور یہ لکھنے والے کو معمولی لوگ نہیں ہے اکابرین امت ہیں۔
امام شاطبی
حافظ ابن حجر
امام ذہبی
ابو بکر جصاص
شاہ ولی اللہ
اگر ان کے اقوال چاہیں تو پیش کر دوں گا مگر میں جانتا ہوں یہ سب پڑھنے کے بعد بھی اپ مجھ پر ہی رافضیت کا الزام لگائے گے جبکہ اس میں میری اپنی کوئی بات نہیں میں صرف ناقل ہوں اور جن کے یہ اقوال ہے وہ اہل سنت ہی رہے گے ہاں میں اس سے خارج ہو جاؤں گا۔
اپ کی تیسری بات کہ حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت میں جہاد کرتے رہے نماز پڑھتے رہے امام ابن تیمیہ کی منھاج السنہ کا اب ترجمہ بھی ہو گیا ہے وہی پڑھ لو انہوں نے یہی لکھا ہے کہ آئمہ جور جو نیک کام کریں ان میں ان کا ساتھ دیا جائے گا برائی میں ان سے دور رہا جائے نماز بھی ان کے پیچھے پڑھی جائیں گی اور حج اور جہاد بھی کیا جائے گا نیکی کا کوئی بھی کام نہیں روکے گا اس سے یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ وہ ان سے راضی تھے اگر راضی ہوتے تو اہل مدینہ ابن زبیر اور حسین رضی اللہ عنہ حکومت کے خلاف جہاد کیوں کرتے وہ نماز پڑھنا مجبوری کا ہے جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے حکمران نماز مار دے گے تو تم وقت پر پڑھ لینا اور پھر ان کے پیچھے بھی پڑھ لینا محدثین نے ابواب قائم کئے ہیں آئمہ جور(ظالم حکمرانوں) کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے(سنن نسائی کتاب الصلاۃ) کیونکہ یہ مسئلہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد پیش آ گیا تھا وگرنہ پہلے امت کے چنےخلیفہ ہی نماز پڑھاتے تھے وہ نمازیں مجبوری کی تھی کہ جائے نماز یعنی امامت پر غاصب تھے اس لئے جب تک ان کو ہٹا نہیں دیا جاتا نماز پڑھنا پڑھتی تھی۔
آخری بات آپ نے لکھا کے معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کیوں نہیں کھڑے ہوئے اس کی وجہ حسن رضی اللہ عنہ کی وہ صلح تھی جو کی تھی اس کی وجہ سے حسین رضی اللہ عنہ خاموش تھے اور معاہدہ توڑنا نہیں چاہیئےاور اس معاہدہ کی یہ شرائط تھی۔
(1) قرآن سنت کو قائم کریں گے۔
(2) اپنے بعد کسی کو نامزد نہیں کریں گے۔
(3)اگر میں (حسن رضی اللہ عنہ) زندہ رہا تو میں دوبارہ خلیفہ بنو گا( انساب الاشرف للبلاذری باب صلح حسن و معاویہ رضی اللہ عنہم)
اور جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس صلح نامے کی مخالفت کرکے یزید کو خلیفہ نامزد کیا تو حسین رضی اللہ عنہ کا کھڑا ہونا لازمی تھا اس لئے وہ کھڑے ہوئے کہ یہ تو مسلمانوں کو ان کے طریقہ سے ہی ہٹایا جا رہا ہے کہ شوری ختم کردی ہے اور باپ کے بعد بیٹا حکومت سنبھالنے لگے گا۔
اب بھی میں جانتا ہوں اپ نے مجھ پر ھی رافضیت کا الزام لگانا ہے نہ اپ نے ابن کثیر کو کچھ کہنا ہے اور نا دیگرآئمہ کو مگر مجھ غریب پر سارا غباراترے گا جو صرف ناقل اقوال ہے۔اللہ ہدایت دے
محترم :

آپ کے پیش کردہ دلائل سے مزید ایسے سوالات کھڑے ہو جاتے جن کے نہ آپ کے پاس جوابات ہوتے ہیں نہ تاریخ کے پاس ان کے جواب ہوتے ہیں- پہلی بات تو یہ کہ اس حق و باطل کی جنگ کے لئے اپنے ساتھ عورتوں اور بچوں کو ساتھ لیجانا چہ معنی دارد؟؟- پھر یہ کہ حضرت حسین رضی الله عنہ سے افضل صحابہ کرام ابن عمر رضی الله عنہ ، ابن عباس رضی الله عنہ، حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ وغیرہ کا ایمان اس موقعہ پر کہاں گیا کہ ان انہوں نے یزید بن معاویہ کے خلاف حضرت حسین رضی الله عنہ کا ساتھ دینا تو دور کی بات ان کو اس مشن پر جانے سے منع کیا - ؟؟

اور رافضی فکر رکھنے والے اہل سنّت کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ کے دور اسلام مردہ ہو چکا تھا جس کو حسین رضی الله عنہ نے اپنے غیر مسلح جہاد کے ذریے (عورتوں و بچوں کی سنگت میں جلیل و القدر صحابہ کرام رضوان الله اجمین کی غیر موجودگی میں ) زندہ کردیا ؟؟-

امام بخاری رحم الله کی صحیح روایت میں ہے کہ :

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ (صحیح بخاری)


نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی (یزید بن معاویہ) کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے-

اور اسی بغاوت کے خطرے کے پیش نظر حضرت ابن عمر رضی الله عنہ نے لوگوں کو نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم کا یہ فرمان سنایا کہ اللہ اور رسول کے نام پر کی گئی بیعت کو توڑنے اور بغاوت کرنے سے بڑھ کر کوئی معاہدے کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے-

مزید یہ کہ یہ بھی آپ کی غلط فہمی ہے کہ "جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس صلح نامے کی مخالفت کرکے یزید کو خلیفہ نامزد کیا تو حسین رضی اللہ عنہ کا کھڑا ہونا لازمی تھا اس لئے وہ کھڑے ہوئے کہ یہ تو مسلمانوں کو ان کے طریقہ سے ہی ہٹایا جا رہا ہے کہ شوری ختم کردی ہے اور باپ کے بعد بیٹا حکومت سنبھالنے لگے گا"

یزید بن معاویہ رحم الله کو ان کے والد امیر معاویہ رضی الله نے ملوکیت کے تحت نامزد نہیں کیا تھا تاریخ طبری اور تاریخ ابن سعد کی صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ یزید رح کو خلیفہ نامزد کرنے پہلے ان کے والد حضرت امیر معاویہ رضی عنہ نے متعدد جلیل القدر صحابہ کرام سے ان کی خلافت کے بارے میں مشورے لئے تھے - بلکہ اکثر روایت میں تو یہ بھی کہ یزید رح کی خلافت کا موقف سب سے پہلے جلیل القدر صحابی رسول حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے پیش کیا تھا- (طبری۔ 4/1-115) ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کے بڑی تعداد یزید رح کی خلافت پر متفق تھی اور ان کے اخلاق و کردار پرمطمئن تھی تب ہی تو ان کو خلیفہ نامزد کیا گیا -

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی نامزدگی کے بعد جمعہ کے خطبے میں منبر پر جو دعا کی، اس سے ان کے خلوص کا اندازہ ہوتا ہے:

اے اللہ! اگر آپ کے علم میں ہے کہ میں نے اسے (یزید) کو اس لیے نامزد کیا ہے کہ وہ میری رائے میں اس کا اہل ہے تو اس ولایت کو اس کے لیے پورا فرما دیجیے۔ اور اگر میں نے اس لیے اس کو محض اس لیے ولی عہد بنایا ہے کہ مجھے اس سے محبت ہے تو اس ولایت کو پورا نہ فرمایے۔ (ابن کثیر۔ 11/308)
اے اللہ! اگر میں نے یزید کو اس کی اہلیت دیکھ کر ولی عہد بنایا ہے تو اسے اس مقام تک پہنچا دیجیے جس کی میں نے اس کے لیے امید کی ہے اور اس کی مدد فرما۔ اگر مجھے اس کام پر صرف اس کی محبت نے آمادہ کیا ہے جو باپ کو بیٹے سے ہوتی ہے تو اس کے مقام خلافت تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی روح قبض فرما لیجیے۔ ( جلال الدین سیوطی۔ تاریخ الخلفاء۔ 164۔ باب یزید بن معاویہ۔ بیروت: دار ابن حزم۔)

غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ جس باپ کے دل میں چور ہو، کیا وہ عین نماز جمعہ میں اپنے بیٹے کے لیے یہ دعا کر سکتا ہے؟؟

آپ نے ابن کثیر رحم الله کی روایات بیان کیں اور سمجھا کہ آپ نے اہل بعیت کی محبّت کا حق ادا کردیا -تو ملاحظه ہو امام کثیر رحم اللہ کی ایک روایت جو یزید بن معاویہ رحم الله کی پاکبازی کی گواہی دیتی ہے -.

امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے امام مدائنى کی روایت مع سند نقل کرتے ہوئے کہا:
وقد رواه أبو الحسن على بن محمد بن عبد الله بن أبى سيف المدائنى عن صخر بن جويرية عن نافع ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولما رجع أهل المدينة من عند يزيد مشى عبد الله بن مطيع وأصحابه إلى محمد بن الحنفية فأرادوه على خلع يزيد فأبى عليهم فقال ابن مطيع إن يزيد يشرب الخمر ويترك الصلاة ويتعدى حكم الكتاب فقال لهم ما رأيت منه ما تذكرون وقد حضرته وأقمت عنده فرأيته مواضبا على الصلاة متحريا للخير يسأل عن الفقه ملازما للسنة قالوا فان ذلك كان منه تصنعا لك فقال وما الذى خاف منى أو رجا حتى يظهر إلى الخشوع أفأطلعكم على ما تذكرون من شرب الخمر فلئن كان أطلعكم على ذلك إنكم لشركاؤه وإن لم يطلعكم فما يحل لكم أن تشهدوا بما لم تعلموا قالوا إنه عندنا لحق وإن لم يكن رأيناه فقال لهم أبى الله ذلك على أهل الشهادة فقال : ’’ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ‘‘ ولست من أمركم فى شىء قالوا فلعلك تكره أن يتولى الأمر غيرك فنحن نوليك أمرنا قال ما أستحل القتال على ما تريدوننى عليه تابعا ولا متبوعا قالوا فقد قاتلت مع أبيك قال جيئونى بمثل أبى أقاتل على مثل ما قاتل عليه فقالوا فمر ابنيك أبا القاسم والقاسم بالقتال معنا قال لو أمرتهما قاتلت قالوا فقم معنا مقاما تحض الناس فيه على القتال قال سبحان الله آمر الناس بما لا أفعله ولا أرضاه إذا ما نصحت لله فى عباده قالوا إذا نكرهك قال إذا آمر الناس بتقوى الله ولا يرضون المخلوق بسخط الخالق (البداية والنهاية: 8/ 233 )


امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو مع سند نقل کرتے ہوئے کہا:
وَزَادَ فِيهِ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ: فَمَشَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ وَأَصْحَابُهُ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فَأَرَادُوهُ عَلَى خَلْعِ يَزِيدَ، فَأَبَى، وَقَالَ ابْنُ مُطِيعٍ: إِنَّ يَزِيدَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَيَتْرُكُ الصَّلاةَ، وَيَتَعَدَّى حُكْمَ الْكِتَابِ، قَالَ:مَا رَأَيْتُ مِنْهُ مَا تَذْكُرُونَ، وَقَدْ أَقَمْتُ عِنْدَهُ، فَرَأَيْتُهُ مُوَاظِبًا لِلصَّلاةِ، مُتَحَرِيًّا لِلْخَيْرِ، يَسْأَلُ عَنِ الْفِقْهِ [تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 5/ 274]


جب اہل مدینہ یزید کے پاس سے واپس آئے تو عبداللہ بن مطیع اوران کے ساتھی محمدبن حنفیہ کے پاس آئے اوریہ خواہش ظاہر کی کہ وہ یزید کی بیعت توڑدیں لیکن محمد بن حنفیہ (حضرت علی رضی الله عنہ کے فرزند) نے ان کی اس بات سے انکار کردیا ، تو عبداللہ بن مطیع نے کہا: یزید شراب پیتاہے ، نماز یں چھوڑتا ہے کتاب اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تو محمدبن حنفیہ نے کہا کہ میں نے تو اس کے اندر ایسا کچھ نہیں دیکھا جیسا تم کہہ رہے ہو ، جبکہ میں اس کے پاس جاچکا ہوں اوراس کے ساتھ قیام کرچکاہوں ، اس دوران میں نے تو اسے نماز کا پابند، خیر کا متلاشی ، علم دین کا طالب ، اورسنت کا ہمیشہ پاسدار پایا ۔ تولوگوں نے کہاکہ یزید ایسا آپ کو دکھانے کے لئے کررہاتھا ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اسے مجھ سے کیا خوف تھا یا مجھ سے کیا چاہتاتھا کہ اسے میرے سامنے نیکی ظاہرکرنے کی ضرورت پیش آتی؟؟ کیا تم لوگ شراب پینے کی جوبات کرتے ہو اس بات سے خود یزید نے تمہیں آگاہ کیا ؟ اگرایسا ہے تو تم سب بھی اس کے گناہ میں شریک ہو ، اوراگر خود یزید نے تمہیں یہ سب نہیں بتایا ہے تو تمہارے لئے جائز نہیں کہ ایسی بات کی گواہی دو جس کا تمہیں علم ہی نہیں ۔ لوگوں نے کہا: یہ بات ہمارے نزدیک سچ ہےا گرچہ ہم نے نہیں دیکھا ہے ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اللہ تعالی اس طرح کی گواہی تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ''جو حق بات کی گواہی دیں اورانہیں اس کا علم بھی ہو'' ، لہذا میں تمہاری ان سرگرمیوں میں کوئی شرکت نہیں کرسکتا-

محترم آپ کو مخلصانہ مشوره ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر اگر روایت و تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہی صحیح صورت حال سامنے آے گی - الله سب کو ہدایت دے -
 
Last edited:

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
محترم،
میں پر امید ہوں کہ میں نے اسحاق سلفی صاحب کے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دے دیا ہے وگرنہ آپ جواب دینے نہ آتے کیونکہ اپ کے بقول میں اسحاق صاحب کے تسلی بخش جواب دوں گا اس کے بعد اپ مجھ سے اس بات پر بحث کریں گے کہ آیا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت تھی یا ملوکیت۔
دوسری بات اپ نے مجھ سے بحث یہ کرنی تھی کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت تھی یا ملوکیت اور اپ یزید کو لے کر آ گئے جب معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت بفرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظالم بادشاہت ہے تو اپ اس سے اگے پڑھ کر یزید کی ظالم حکومت کو خلافت ثابت کرنے میں لگے ہیں اور اس پر مجھ سے سوالات فرما رہے ہیں اور اشکالات نقل کر رہے ہیں اور یزید کی پارسائی ثابت کرنے میں لگے وہ بھی ایک ایسی روایت سے جس میں رواہ کا ایک دوسرے سے استاد شاگردی کا سلسلہ ثابت ہی نہیں اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے تو کیا صرف نماز پڑھنا نیک ہونے کی گارنٹی ہے تو پھر عبداللہ بن ابی کو اپ سب سے بڑا نیک مانتے ہوں گے کیونکہ وہ پانچ وقت کا نمازی تھا نمازی تو مروان(لعین) بھی تھا ابن زیاد بھی تھا اور ان کے نماز پڑھانے کی روایات تو کتب احادیث میں موجود ہیں یزید کے بارے میں تو ایک صحیح روایت کتب احادیث میں نہیں ہے جبکہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس کا دور تو نماز ضائع کرنے والے حکمرانوں کا دور ہو گا میں چیلنج کرتا ہوں یزید کے حمایتیوں جاؤ اور کتب احادیث سے ایک روایت پیش کر دو جس میں یزید نے امامت کروائی ہو اور لوگوں نے اس کی اقتداء میں نماز پڑھی ہو۔
برحال میرا کہنا صرف یہ ہے کہ کسی ایک اہل سنت آئمہ کا قول پیش کردیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے تو آگے یزید کے لئے گنجائش بنے گی کہ خلیفہ نے اپنے بیٹے کو نامزد کیا جب پہلا کو امت کے اکابرین نے خلیفہ نہیں مانا بلکہ اس کی بیعت ہی کو جبری مانا ہے تو اس کے بیٹے کو خلیفہ کیسے مانے گی اس لئے اہل سنت کے امام ابن تیمیہ نے یزید کو غاصب لکھا ہے تو پہلے کسی ایک آئمہ اہل سنت کا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ کہا ہو جب آپ قول پیش کر دیں گے تو پھر اپ فکر نہ کریں اپ کے تمام سوالات جو اپ نے اوپر کیے ہیں جواب دوں گا جو اپ لوگ سنابلی صاحب کی کتاب سے اٹھا لاتے ہیں اس کا بھی مفصل جواب انشاء اللہ جلد آ جائے گا فلحال میں ان کے جواب میں کئی بار دے چکا ہوں مگر اس بار بھی دے دوں گا مگر اپ نے قول پیش کرنا ہے کہیں مصروف نہیں ہو جانا کہ جواب ہی نہ دیں اللہ سب کو ہدایت دے
 

MD. Muqimkhan

رکن
شمولیت
اگست 04، 2015
پیغامات
245
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
56
یزید اور حسین رضی اللہ عنہ کی کوئی بات نہیں خلافت اور ملوکیت کی جنگ تھی ایک دین بچانے کے لئے کھڑے تھے اور دوسرا(یزید) اپنی دنیاوی حکومت کے لالچ میں تھا اس لئے پلٹو اس خلافت کی طرف جو دین کی اصل ہے جس میں اللہ کی زمین پر اللہ کا حکم چلتا ہے
بھائی آپ نے تو معاملہ بڑا سہل بنا دیا. میں سوچ رہا ہوں کہ معاملہ اگر اتنا ہی واضح اور صاف ہے تو اس سارے وقوعے نے بڑے بڑے صحابہ اکرام کو اس قدر آزمائش میں کیوں ڈال رکها تها.؟ حق و باطل کی اس جنگ میں انہوں نے حق کا ساته کیوں نہیں دیا. صرف چند نفوس کو کوفیوں کے رحم و کرم پر کیوں چهوڑ دیا. کیا یہ کوفی صحابہ سے زیادہ تفقہ فی الدین رکهتے تهے اور زیادہ ایمان والے اور حق کا ساته دینے میں جری تهے. ان صحابہ سے زیادہ جنهوں نے باطل کا سر کچلتے وقت کبهی باطل کی کثرت سے مرعوب نہیں ہوئے اور نہ اپنی قلت سے خائف.

علاوہ ازیں آپ کے نام کے ساتھ جو 786 ہے وہ اس شبہ میں ڈالتا ہے کہ آپ اہل سنت سے ہیں یا نہیں.
 

MD. Muqimkhan

رکن
شمولیت
اگست 04، 2015
پیغامات
245
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
56
ع
بس ختم ہو گئی ساری اہل حدیثیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے سامنے ابن عمر رضی اللہ کا قول پیش کر رہے ہیں
پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کا طریقہ کار اہل سنت والجماعت والا نہیں ہے. دوسری بات یہ ہے کہ

اسی لیے یہ متن سے وہ باتیں بهی نکال لیتے ہیں جو متن میں نہیں ہوتیں. غالباً یہ ہر متن کو معنی کی گذر گاہ سمجهتے ہیں اور اسی کے مطابق ہر متن کی تشریح قاری اساس نقطہ نظر سے کرتے ہیں.
 

MD. Muqimkhan

رکن
شمولیت
اگست 04، 2015
پیغامات
245
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
56
میرے پاس حسین رضی اللہ عنہ کی خود کی گواہی موجود ہے کہ ان کو حکمران مروانا چاہتے تھے اور اس کی دلیل وہ روایت ہے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حسین رضی اللہ عنہ کو روکنے کی کوشش کی کہ آپ وہاں نہ جائیں اس پر حسین رضی اللہ عنہ کا جواب یہ تھا۔
میں کعبہ کی حرمت پامال نہیں کرنا چاہتا حتی کہ مجھے وہاں شہید کیا جائے
اس روایت کے کس جملے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ مکہ میں ہی شہید کیے جاتے. اور شہید کرنے والے حکومت ہی کے لوگ ہوسکتے تهے دوسرا کوئی نہیں.

اور مکہ میں حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور کعبہ کی حرمت کی پامالی کے مابین تعلق کی نوعیت بهی واضح کردیجئیے.
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
ع


پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کا طریقہ کار اہل سنت والجماعت والا نہیں ہے. دوسری بات یہ ہے کہ

اسی لیے یہ متن سے وہ باتیں بهی نکال لیتے ہیں جو متن میں نہیں ہوتیں. غالباً یہ ہر متن کو معنی کی گذر گاہ سمجهتے ہیں اور اسی کے مطابق ہر متن کی تشریح قاری اساس نقطہ نظر سے کرتے ہیں.
محترم،
ذرا اہل سنت والجماعت کا طریقہ کار واضح کریں گے پھر آپ سے تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
بھائی آپ نے تو معاملہ بڑا سہل بنا دیا. میں سوچ رہا ہوں کہ معاملہ اگر اتنا ہی واضح اور صاف ہے تو اس سارے وقوعے نے بڑے بڑے صحابہ اکرام کو اس قدر آزمائش میں کیوں ڈال رکها تها.؟ حق و باطل کی اس جنگ میں انہوں نے حق کا ساته کیوں نہیں دیا. صرف چند نفوس کو کوفیوں کے رحم و کرم پر کیوں چهوڑ دیا. کیا یہ کوفی صحابہ سے زیادہ تفقہ فی الدین رکهتے تهے اور زیادہ ایمان والے اور حق کا ساته دینے میں جری تهے. ان صحابہ سے زیادہ جنهوں نے باطل کا سر کچلتے وقت کبهی باطل کی کثرت سے مرعوب نہیں ہوئے اور نہ اپنی قلت سے خائف.

علاوہ ازیں آپ کے نام کے ساتھ جو 786 ہے وہ اس شبہ میں ڈالتا ہے کہ آپ اہل سنت سے ہیں یا نہیں.
محترم،
اپ اپنا شبہ دور کریں میں الحمداللہ اہل سنت والجماعت سے ہوں۔
دوسری بات جو اپ نے لکھی ہے کہ اس حق و باطل کی جنگ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے حق کا ساتھ کیوں نہ دیا تو اس کے لئے کتب حدیث سے ہی چند روایات پڑھ لیں۔
ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

ilm.png
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
محترم ،
ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ جیسا صحابی اور جان کا خطرہ وہ بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے پرامن دور میں(بقول اپ لوگوں کے) تو وہ کیا حالات تھے کہ جن کا مقابلہ کرنے نہ کھڑے ہوئے اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتانے سے رک گئے معاویہ رضی اللہ دور میں ایسا کون سے لوگ تھے جو ان کے دشمن تھے اور جن کی شکایت لے کر وہ ان کے پاس بھی نہ جا سکے اور معاویہ رضی اللہ عنہ ان کو امان بھی نہیں دے پا رہے تھے اوپر شرح میں پڑھ لیں وہ جابر حکام کے بارے میں احادیث تھی جو وہ بتا نہیں پا رہے تھے۔


دوسری حدیث بھی بخاری سے پیش کردیتا ہوں۔

namaz.png

اور یہ کس وقت ہوا ہے جب ولید بن عقبہ گورنر تھا اس کی شروعات ہو گئی تھی پڑھ لیں

huzafa.png


یہ اس کی شروعات تھی اور پھر یہ بڑھتے بڑھتے کہاں تک گئی ہے یہ پڑھنا ہے تو
فتح الباری سے تاخیر الصلاۃ کے ابواب پڑھ لو جب حجاج جمعہ، عصر ،مغرب ایک ساتھ مغرب میں پڑھاتا تھا اور صحابہ کرام اور تابعین اشاروں سے نماز پڑھ لیتے تھے اور اگر کوئی کہتا کہ اٹھ کر پڑھ لیں تو جواب دیا جاتا کہ گردن کٹوانی ہے یہ سب فتح الباری میں تاخیر الصلاۃ کے باب میں موجود ہے جس میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اب اس دور میں (ولید بن عبدالملک کا دور) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی کوئی بات نظر نہیں آتی ہے تابعین نے کہا نماز تو ہے اس پر انہوں نے کہا یہ نماز ہے ظہر تم عصر میں عصر مغرب میں پڑھتے ہیں(بخاری باب تاخیر الصلاۃ)

اس کے علاوہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں غزوہ خندق سے نکال کے پڑھ لیں حافظ ابن حجر نے اس کی شرح میں لکھا انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ ، یزید اور عبدالملک کی بیعت فتنہ کے وجہ سے ہی کی تھی۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہ جب تک علی رضی اللہ عنہ حیات رہے وہ معاویہ رضی اللہ سے جنگ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دیتے رہے اس کے بعد جب ان کا لیڈر ہی چلا گیا اور ظلم اتنا بڑھ گیا تو انہوں نے معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا۔
یہ وہ کالی رات تھی جو چھا رہی تھی اور اس کے خلاف حسین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے مودودی صاحب رحمہ اللہ بالکل صحیح لکھا تھا کہ جس نے اس کالی رات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ کیا اس کی تحسین کرنے کے بجائے تنقید شروع کر دی کہ باقیوں نے یہ کیوں نہیں کیا۔ اللہ سب کو ہدایت دے
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
اور آپ کی اخری بات کا جواب کہ وہ حکومت کے لوگ تھے جو حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنا چاہتے تھے جلد ہی پیش کر دوں گا۔ وتوفیق باللہ
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top