12- بَاب فِي ذِكْرِ الْخَوَارِجِ
۱۲- باب: خوارج کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: خلافت راشدہ کا زمانہ تیس سال ہے، علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں خوارج کا ظہور ہوا، گمراہ فرقوں میں سے سب سے پہلے اس فرقہ کا اسلام میں ظہور ہوا، ۳۸ھ میں نہروان کے مقام پر علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی، خلافت راشدہ کے دو سال باقی تھے، خوارج نو عمر اور غیر پختہ عقل کے لوگ تھے، پرفریب نعروں کا شکار ہو گئے، ان لوگوں نے جنگ صفین کے موقع پر تحکیم کے مسئلہ کو لے کر علی رضی اللہ عنہ کی جماعت سے خروج کیا، ان لوگوں نے عثمان اور علی رضی اللہ عنہما دونوں کی تکفیر کی، یہ لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو بھی کافر کہتے ہیں، اور امام اور حاکم کے خلاف خروج کو جائز کہتے ہیں۔
خوارج اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کریم کی بڑی تعظیم کرتے، اور قرآن کی طرف رجوع کا مطالبہ کرتے تھے، لیکن شاہراہِ سنت اور جماعت المسلمین سے دور نکل گئے، وہ ایسی احادیث پر عمل نہیں کرتے جو ان کی عقل کے مطابق ان کے اپنے اعتقاد سے قرآن کی مخالف ہو، جیسے شادی شدہ زانی کا رجم یا چوری کی سزا کا نصاب وغیرہ وغیرہ، ان کی گمراہی یہاں تک بڑھی کہ انہوں نے عثمان اور علی اور ان کے مؤیدین اور حامی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اس گمراہ فرقے اور دوسرے بدعتی فرقوں کے اس تکفیری رجحان کی اساس اور بنیاد دو باطل مقدمات پر ہے:
(۱) ایک ان کا یہ اعتقاد کہ فلاں کام قرآن کے مخالف ہے،
(۲) اور دوسرا یہ کہ جس نے قرآن کی مخالفت کی وہ کافر ہو گیا،
چاہے وہ غلطی کرنے والا ہو، یا گناہ کرنے والا ہو اور قرآن کے اوامر و منہیات پر اس کا اعتقاد ہو۔
خوارج کا نام خوارج اس لئے پڑا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ مسلمانوں کے مابین اختلاف کے وقت وہ ان کے خلاف خروج کریں گے، اور اس وجہ سے بھی ان کا یہ نام پڑا کہ انہوں نے مسلمان حکمرانوں کے خلاف خروج کیا، اور مسلمانوں کے خلاف عقائد رکھے اور ان کے خلاف تلوار اٹھائی، ان کے مختلف نام ہیں:
(۱) محکمہ: اس لئے کہ ان لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کی جماعت سے تحکیم کے مسئلے کی وجہ سے علیحدگی اختیار کی، اور یہ گمان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کو چھوڑ کر لوگوں کو حکم بنایا اور ان کی تحکیم کو قبول کیا، ان کا نعرہ تھا کہ حکم صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور علی رضی اللہ عنہ حکمین یعنی علی کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے طرف سے عمرو بن العاص اور وہ سب لوگ جنہوں نے تحکیم کو قبول کیا یا اس پر اپنی رضا مندی کا اظہار کیا، سب کے سب کافر ہیں، یہ ان کے ابتدائی قدیم گروہ کا نام ہے۔
(۲) حروریہ: یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عراق میں حروراء نامی مقام پر اکٹھا ہو کر علی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف خروج کیا۔
(۳) اہل نہروان: نہروان کی طرف ان کی نسبت اس واسطے ہے کہ اس مقام پر علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی، ان کو حروریہ محکمہ بھی کہتے ہیں۔
(۴) شراۃ: یہ اس وجہ سے شراۃ کہے جاتے ہیں کہ ان کا زعم یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں انہوں نے اللہ کو راضی کرنے کی غرض سے اپنے آپ کو فروخت کر دیا ہے، اوائل خارجیوں کے گروہوں پر اس لقب کا اطلاق ہوا، عہد حاضر کا اباضی فرقہ جو خوارج کا ایک فرقہ ہے کے خیال میں اگر شرائط موجود ہوں تو ایسا ممکن ہے، اور یہ ان کے اپنے اعتقاد کے مطابق دین کا ایک طریقہ ہے۔
(۵) مارقہ: ان کو مارقہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ دین سے نکل جائیں گے۔
(۶) مکفرّہ: ان کا نام مکفرّہ بھی ہے اس لئے کہ یہ لوگ گناہ کبیرہ کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کی تکفیر کرتے ہیں اور اپنے مخالف مسلمانوں کی بھی تکفیر کرتے ہیں، آج بھی اس طرح کے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کے افکار و عقائد کی گرفت میں ہیں۔
(۷) سبئیہ: یہ سبئیہ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، اس لئے کہ یہ ابن سبأ یہودی کے فتنہ کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔
(۸) ناصبہ: ان کو ناصبہ یا نواصب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس لئے کہ ان لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، آپ سے دشمنی کی، اور آپ سے بغض و نفرت کی، اس لئے ان کو ناصبی کہا گیا۔
خوارج کے بنیادی اصول و مبادی اور افکار و نظریات مختصراً یہ ہیں:
(۱) گناہِ کبیرہ کی وجہ سے یہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، اور احکامِ شرعیہ، دار (یعنی دار الاسلام اور دار الکفر کا مسئلہ)، معاملات اور جنگ میں ان مسلمانوں کو کفار سے ملا دیتے ہیں۔
(۲) اعتقاد و عمل میں یا صرف اعتقاد یا عمل میں حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا۔
(۳) مسلمانوں کے خلاف خروج اور ان کے ساتھ دار اور احکام میں کفار کا معاملہ کرتے ہیں، اور ان سے براءت کا اعلان کرتے ہیں، اور ان کو آزمائش میں ڈالتے ہیں، اور ان کے خون کوحلال سمجھتے ہیں۔
(۴) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے کے شرعی نصوص کو ائمہ اسلام سے لڑنے اور ان کے خلاف خروج کرنے اور مخالفین سے جنگ کرنے سے خاص کر دیتے ہیں۔
(۵) ان کی اکثریت جاہل قراء کی ہوتی ہے، اور ان میں اکثر دیہاتی ہوتے ہیں، رسول اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: ''یہ نو عمر اور بیوقوف لوگ ہوں گے'' (گھٹیا سوچ رکھنے والے)۔
(۶) نیک لوگوں کی صفات و خصوصیات والی علامات ان کے اوپر ظاہر رہتی ہیں، یہ صوم و صلاۃ کے پابند ہوتے ہیں، سجدہ کے نشانات اور ظاہری ورع و تقویٰ اور زہد و اتقاء ان میں پایا جاتا ہے، دینی تشدد میں بھی ان کی شہرت ہوتی ہے، نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ''تم ان کے صوم و صلاۃ کے آگے اپنی عبادتوں کو حقیر سمجھو گے''۔
(۷) دینی تفقہ و بصیرت سے عاری اور شرعی علم سے کورے ہوتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ''یہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن یہ ان کے گلے کے نیچے نہیں اترتا''، (یعنی صرف تلاوت کرتے ہیں، ان میں تدبر اور اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے دور رہتے ہیں)۔
(۸) اس گروہ میں سے نہ تو کوئی صحابی تھا اور نہ ہی کوئی امامِ دین اور عالم و فقیہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ''تم میں سے (یعنی صحابہ میں سے) کوئی خارجی نہیں ہے''۔
(۹) جہالت اور دینی بصیرت سے دوری کے علی الرغم علماء کے سامنے کبر و غرور کا مظاہرہ کرنا اور اپنے کو ان سے بڑا عالم و فاضل سمجھنا اور اپنے کو ان سے اعلیٰ و افضل سمجھنا، حتی کہ یہ لوگ اس زعمِ باطل میں تھے کہ وہ علی، ابن عباس اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ علم والے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ کم عمر، جاہل اور کم علم سرداروں کے اِرد گرد یہ لوگ اکٹھا ہو گئے تھے۔
(۱۰) ان کے طریقہ استدلال میں خلل تھا، یہ وعید کی آیات کو تو مانتے تھے لیکن وعدہ والی آیات سے صرف نظر کرتے تھے، کفار و مشرکین کے بارے میں موجود آیات سے استدلال کرکے اپنے مخالف مسلمانوں پر فٹ کرتے تھے، جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے بارے میں فرمایا: ''ان لوگوں نے کفار کے بارے میں نازل شدہ آیات کو لے کر اس کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا''۔
(۱۱) یہ سنت سے بیگانہ ہوتے ہیں، اور اکثر صرف قرآن پر انحصار کرتے ہیں۔
(۱۲) اپنے افکار و نظریات میں بڑی تیزی سے اس واسطے رد و بدل اور الٹ پھیر کرتے ہیں کہ ان کے پاس علم و بصیرت کی جگہ صرف جذبات ہی جذبات ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے آپس میں اختلافات کافی رہتے ہیں، ان اختلافات کے ہوتے ہی علیحدگی اور باہم جنگ پر اتر آتے ہیں۔
(۱۳) احکام صادر کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مخالفین کے بارے میں موقف اختیار کرنے میں بھی سرعت سے کام لیتے ہیں، اور ایسا اس واسطے ہوتا ہے کہ تحقیق و تثبت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں، اور اپنے مخالف پر من مانی رائے زنی کرتے ہیں۔
(۱۴) لوگوں کے دلوں کے بارے میں احکام صادر کرتے ہیں، اور ان پر تہمت گھڑتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اوھام و ظنون اور الزامی چیزوں کا حکم فریق مخالف پر لاگو کر دیتے ہیں۔
(۱۵) جنگ و جدال میں، لوگوں سے معاملات میں اور لوگوں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے میں سختی اور شدت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
(۱۶) تنگ نظر، بے صبرے، نیز جلد نتائج حاصل کرنے کے شیدائی ہوتے ہیں۔
(۱۷) مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتے اور ان کو قتل کرتے ہیں، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔
خوارج اور شیعہ میں باہم مشترک عقائد و نظریات:
خوارج کے بعد امت میں انہیں کی طرح گمراہ اور بے راہ رَو فرقہ روافض اور شیعہ کا ہے، یہ دونوں فرقے اہم افکار و نظریات میں باہم متفق ہیں:
(۱) دونوں میں غلو اور انتہا پسندی پائی جاتی ہے، خوارج کے یہاں دین اور احکام میں تشدد اور مخالفین کے بارے میں شدید نقطہ نظر اور اس کے نتیجے میں تکفیر، خروج اور جنگ و جدال وغیرہ چیزوں میں غلو اور مبالغہ آمیزی ہے، اور شیعہ و روافض کا غلو شخصیت پرستی میں ہے، حتی کہ علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے سلسلے میں ان کے غلو اور تشدد پر خود علی رضی اللہ عنہ نے سخت موقف اختیار کیا۔
(۲) اسی طرح سے یہ دونوں فرقے جہالت، حماقت، اور تنگ نظری میں باہم متفق ہیں، اس کی سب سے بڑی دلیل خوارج کا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں غلط نقطۂ نظر اور امام المسلمین اور جماعت المسلمین کے خلاف ناجائز خروج ہے، اور علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو شیعوں کی جہالت کا مظہر ہے، جب کہ علی رضی اللہ عنہ نے شیعوں کے اس غلو سے کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو معبود بنا لیا تھا، اپنی براءت کا اعلان کیا تھا، بعض لوگوں کو اس جرم کے پاداش میں زندہ جلا دیا۔
(۳) دینی بصیرت کا فقدان اور شرعی علم سے نابلد ہونا، ان دونوں فرقوں کا مابہ الامتیاز ہے، خوارج اپنی علمی پسماندگی اور کمزوری کے علی الرغم علمی غرور کا شکار تھے، اور حصول علم میں اور اس میں رسوخ پیدا کرنے کے سلسلے میں کوتاہ ہمت تھے، رہ گئے شیعہ اور روافض تو اہل علم سے وہ علم حاصل نہیں کرتے اور نہ ائمۂ سنت و حدیث سے استفادہ کرتے ہیں، ان کے علمی مآخذ کی بنیاد جھوٹے اور کذاب رواۃ اور مؤلفین ہیں، اور دونوں فرقے علی العموم حدیث اور سنت کا اہتمام نہیں کرتے، صرف ان کے اپنے عقائد و نظریات کے موافق مواد سے ان کو مطلب ہوتا ہے۔
(۴) اسی طرح سنت سے دوری اور جماعت المسلمین اور مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج اور شورش و بغاوت میں یہ دونوں فرقے متحد ہیں، خوارج نے اعتقاد و عمل میں جماعت المسلمین سے علیحدگی اختیار کی اور مسلم حکمرانوں کے خلاف تلوار اٹھائی اور ان سے جنگ و جدال کیا، شیعوں نے بھی اعتقاد و عمل میں جماعت المسلمین سے علیحدگی اختیار کی، اور ائمہ کے خلاف مشروط بغاوت کا نظریہ اپنایا کہ جب ان کا وہمی مہدی خروج کرے گا تو وہ تلوار لے کر میدان میں آجائیں گے، بایں ہمہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے ہر فتنے میں وہ آگے آگے رہتے ہیں۔
(۵) حدیث اور آثار سلف سے بے اعتنائی اور اس پر عمل نہ کرنے میں بھی دونوں فرقے یکساں رائے رکھتے ہیں، اور یہ احادیث صحیحہ یا اکثر احادیث پر اعتماد نہیں کرتے، اور آثار سلف سے دور رہتے ہیں، ہاں! اگر ان کے آراء و نظریات کی تائید کرنے والی احادیث ہوں تو اس کو قبول کر لیتے ہیں۔
(۶) دونوں فرقے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں بڑا خراب عقیدہ رکھتے ہیں، خوارج علی، عثمان، معاویہ، ابو موسی اشعری اور عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہم اور جنگ جمل اور صفین کے شرکاء یا ان کی اکثریت کی تکفیر کرتے ہیں، اور بعض سلف صالحین پر سبّ و شتم کرتے ہیں، رہ گئے روافض تو وہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر کہتے ہیں، صرف چند صحابہ کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور ائمہ دین اور سلف صالحین پر سب و شتم کرتے ہیں، اور سارے اہل سنت والجماعت کو برا بھلا کہتے ہیں۔
(۷) اسی طرح سے دونوں فرقے اپنے مخالف مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، گرچہ تکفیر کے اصول و مبادی اور اسباب میں ہر فرقہ مختلف ہو، خوارج بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس وجہ سے تکفیر کرتے ہیں کہ انہوں نے تحکیم قبول کی، یعنی قرآن کو چھوڑ کر انسانوں کو حکم مانا، یا اس کو تسلیم کیا، ایسے ہی انہوں نے کبیرہ گناہوں کے مرتکب کی بھی تکفیر کی، اور ہر وہ شخص جس نے ان کی مخالفت کی، اور ان کی صف میں شامل نہیں ہوا ان کی بھی تکفیر کی، درجہ کفر میں اختلاف ہے کہ یہ شرک والا کفر ہے، یا کفرانِ نعمت ہے، اور روافض و شیعہ نے سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی اور انہیں مرتد قرار دیا، صرف ایک مختصر تعداد جو سات صحابہ کی ہے انہیں کو مسلمان مانا، بقیہ سارے ائمہ اور عام مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔
ان دونوں فرقوں میں بہت سارے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں، چند اہم اختلافات درج ذیل ہیں:
(۱) آل بیت اور ان کے تقدس کے سلسلے میں شیعوں نے غلو کا عقیدہ اختیار کیا، تو اوائل خارجیوں نے ان سے بغض کیا، اور ان کے خلاف دشمنی کا جھنڈا لہرایا، اسی لئے ان کو ناصبی کہا جاتا ہے۔
(۲) شیعہ اور روافض روایت حدیث اور دینی مآخذ و مصادر میں جھوٹ پر اعتماد کرتے ہیں، اور اپنے مخالفین بلکہ خود اپنے اوپر جھوٹ گھڑتے ہیں، جبکہ خوارج دین و عقیدہ اور روایت حدیث میں جھوٹ نہیں بولتے اور نہ اپنے مخالفین پر جھوٹ گھڑتے ہیں، اس لئے کہ جھوٹ ان کے نزدیک ایسا گناہ کبیرہ ہے، جس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے، لیکن دین سے جہالت اور علم سے دوری نے ان کو خواہشات نفس کی پیروی پر مجبور کیا۔
(۳) خوارج اپنے عقائد و اعمال، اقوال اور اپنے نقطۂ نظر کا برملا اعلان کرتے ہیں، جبکہ شیعہ اور روافض تقیہ اور نفاق کو دین سمجھ کر اپناتے ہیں، اور تقیہ اور نفاق کا یہ معاملہ اس وقت تک رہے گا جب تک کہ وہ مسلم معاشرے میں مغلوب رہیں گے اور ان کی حکومت اور ریاست نہیں قائم ہو گی۔
(۴) خوارج اکثر حالات میں اپنے مخالفین سے جنگ کو اپنے اوپر لازم قرار دیتے ہیں، جبکہ اکثر و بیشتر شیعہ و روافض صرف اپنے کسی مزعومہ امام کے ساتھ جنگ کے قائل ہیں، اور اپنے ان معصوموں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں جو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے لئے خاص ہیں، یعنی علم غیب، کائنات میں تصرف، بندوں اور ان کے دلوں پر قدرت، من دون اللہ شریعت سازی وغیرہ وغیرہ، اور ان تمام غلط عقائد کے ساتھ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے ہر فتنہ میں آگے آگے رہتے ہیں۔
(۵) خوارج کی اکثریت گنواروں اور دیہاتیوں پر مشتمل رہی ہے، جن کی طبیعت میں سختی اور تشدد اور بد مزاجی پائی جاتی تھی، جبکہ شیعوں کی اکثریت عجمیوں سے تھی اور یہ عامی اور بے شعور لوگ تھے۔
(۶) شیعوں کے مزاج اور فطرت میں اپنے دشمنوں یعنی اہل سنت کے خلاف خفیہ مکر و فریب، خیانت و غداری کوٹ کوٹ کر بھری ہے، اس کے برعکس خوارج میں اعلان اور صراحت ملتی ہے، وہ اپنے دشمنوں سے کھلم کھلا براءت کا اعلان کرتے ہیں، اور سختی و تشدد کے ساتھ اپنے اصول و مبادی اور دوسروں کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کا اعلان کرتے ہیں۔
(۷) خوارج کسی کی اطاعت نہیں کرتے، ان کو کسی دائرۂ انتظام میں لانا بہت مشکل بات ہے، جبکہ شیعہ اور روافض اندھی اطاعت والے لوگ ہیں، ہر نعرہ باز کی اتباع کرنے والے ہیں، اور جس نے بھی آل بیت سے محبت اور ان کی تائید کا نعرہ لگایا اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں، چاہے یہ نعرہ لگانے والے زندیق اور فاجر ہی کیوں نہ ہوں، یہی وجہ ہے کہ ان کی صف میں دجالوں، جھوٹوں، جھوٹے نبیوں اور فسق و فجور والوں کی کثرت رہی ہے۔
(۸) خوارج بغیر تفقہ اور بصیرت کے ظاہری نصوص پر عمل کرتے ہیں، اور مفہومِ مخالف کی دلالت کو غیر معتبر مانتے ہیں، ان کے یہاں استدلال کے قواعد نہیں ہیں، دلائل کے درمیان جمع و توفیق کے بھی یہ قائل نہیں، اور نہ علماء کے فہم کا ہی ان کے یہاں کوئی اعتبار ہے، یہی وجہ ہے کہ وعید اور خوف کے نصوص پر وہ عمل کرتے ہیں، اور وعدوں اور امیدوں والے نصوص کتاب و سنت سے صرف نظر کرتے ہیں، شیعہ و روافض ان کے بالکل برعکس نصوص کتاب و سنت کی تاویل کرتے ہیں، اور لغوی اور شرعی دلالت کو بھی نہیں مانتے، بلکہ ان نصوص کی حسب خواہش تاویل و تفسیر کرتے ہیں جس میں ان کا طریقہ باطنی اور اشاراتی ہوتا ہے، اور اپنے لیڈروں کی اندھی تقلید کرتے اور ان کو معصوم سمجھتے ہیں۔
(۹) خوارج میں نہ تو زنادقہ پائے جاتے ہیں، اور نہ ہی ان میں نفاق پایا جاتا ہے، لیکن روافض اور شیعہ میں اور ان کی صفوں کے اندر زنادقہ اور منافقین کی کثرت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ باطنی اور الحادی مذاہب ان سے نکلے اور نبوت اور مہدویت کے دعویداروں کی ان میں کثرت وبہتات ہوئی، تاریخی واقعات میں غور کرنے والوں کو یہ بات ملے گی کہ اکثر خبیث اور مہلک مذاہب والے رفض و تشیّع کے عقائد کو اپناتے ہیں۔
(۱۰) خوارج کے دینی مآخذ شیعوں کے دینی مآخذ سے بہتر ہیں، خوارج قرآن کی اتباع اپنی سمجھ سے چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، کے مطابق عمل کرتے ہیں، لیکن روافض اپنے معصوم ائمہ ہی سے اخذ کرتے ہیں، اور اپنے ان ائمہ وغیرہ بلکہ رسول اکرم ﷺ پر جھوٹ گھڑتے ہیں، پھر ان جھوٹی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔
(۱۱) شیعہ اور روافض کے اصول و مبادی، عبادات اور اکثر احکام کی بنیاد بدعات و محدثات اور شرکیات پر ہے، لیکن خوارج کے یہاں مشرکانہ بدعتیں یا عبادت والی بدعتیں، قبر پرستی اور تصوف بہت کم ہے۔
(۱۲) شیعہ اور روافض تاریخ اسلام کے اس طویل عہد میں امت اسلامیہ کے لئے سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے اور ان کے خلاف سازش کرنے والا فرقہ مانا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ اس کے دین اور اس کے رسول کے سنت اور اہل ایمان کے خلاف معاندانہ رویہ میں سب سے بڑھ چڑھ کر ہے، اس لئے کہ خروج کے اعتقاد اور اس پر عمل کرنے کے اعتبار سے اور مسلمانوں کی تکفیر کے اعتبار سے یہ بھی خوارج کے حکم میں ہیں، بلکہ خوارج سے بڑھ کر اور خاص کر کے اپنے باطل اصول ومبادی جیسے: امامت، عصمت، تقیہ، رفض، اور نفاق وغیرہ وغیرہ یہ چیزیں اپنی شناعت میں خوارج کے عقائد پر اضافہ ہیں، اہل علم نے ان دونوں فرقوں کے بارے میں دلائل کی روشنی میں اور تاریخی حوالے سے بڑا علمی مواد فراہم کیا ہے، اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتابوں بالخصوص فتاویٰ اور منہاج السنۃ قابل ذکرہیں۔
ہم نے ان معلومات کو ڈاکٹر ناصر بن عبدالکریم العقل استاذ جامعۃ الامام محمد بن سعود کے رسالہ ''الخوارج'' سے اخذ کیا ہے۔
167- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ -وَذَكَرَ الْخَوَارِجَ- فَقَالَ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَوْدُونُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، وَلَوْلا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَاللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ ﷺ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ ﷺ؟ قَالَ: إِي، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ -ثَلاثَ مَرَّاتٍ-۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۴۸ (۱۰۶۶)، د/السنۃ ۳۱ (۴۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۱۳، ۶۵،۸۳، ۹۵، ۱۱۳، ۱۲۲ ۱۴۴ ۱۴۵) (صحیح)
۱۶۷- عَبِیدہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا، اور ذکر کرتے ہوئے کہا: ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے۱؎ ، اور اگر مجھے ڈر نہ ہو تا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لئے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات محمد ﷺ سے سنی ہے؟ کہا: ہاں، کعبہ کے رب کی قسم! (ضرور سنی ہے )، اسے تین مرتبہ کہا۔
وضاحت۱؎: راوی کوشک ہے کہ
''مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَوْدُنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ'' میں سے کون سا لفظ استعمال کیا ہے، جب کہ ان سب کے معنی تقریباً برابر ہیں، یعنی ناقص ہاتھ ۔
168- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوبَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الأَسْنَانِ، سُفَهَائُ الأَحْلامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ، يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ، لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَمَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ عِنْدَاللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ >۔
* تخريج: ت/الفتن ۲۴ (۲۱۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۱، ۱۱۳) (صحیح)
۱۶۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اخیر زمانہ۱؎ میں کچھ نوعمر، بے وقوف اور کم عقل لوگ ظہور پذیر ہوں گے، لوگوں کی سب سے اچھی (دین کی) باتوں کو کہیں گے، قرآن پڑھیں گے، لیکن ان کے حلق سے نہ اترے گا، وہ اسلام سے ویسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، تو جو انہیں پائے قتل کر دے، اس لئے کہ ان کا قتل قاتل کے لئے اللہ تعالی کے نزدیک باعث اجرو ثواب ہے''۲؎ ۔
وضاحت۱؎: اخیر زمانہ سے مراد خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے اس لئے کہ خوارج کا ظہور اسی وقت ہوا، اور نہروان کا واقعہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۳۳ھ میں ہوا، اس وقت خلافت راشدہ کو اٹھائیس برس گزرے تھے، خلافت کے تیس سال کی مدت مکمل ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔
وضاحت۲؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لوگ نوعمر اور نو جوان ہوں گے، کم عمری کی وجہ سے سوج بوجھ میں پختگی نہ ہو گی، بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے، اور ان کی باتیں موافق شرع معلوم ہوں گی، مگر حقیقت میں خلاف شرع ہوں گی۔
169- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ: < يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاتَهُ مَعَ صَلاتِهِمْ، وَصَوْمَهُ مَعَ صَوْمِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَنَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لا >۔
* تخريج: خ/الأنبیاء ۶(۳۳۴۴)، المناقب ۲۵ (۳۶۱۰)، المغازي ۶۲ (۴۳۵۱)، تفسیر التوبہ ۱۰ (۴۶۶۷)، فضائل القرآن ۳۶ (۵۰۵۸)، الأدب ۹۵ (۶۱۶۳)، الاستتابۃ ۷ (۶۹۳۳)، التوحید ۲۳ (۷۴۳۲)، م/الزکاۃ ۴۷ (۱۰۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۲۱)، وقد أخرجہ: د/السنۃ ۳۱ (۴۷۶۴)، ن/الزکاۃ ۷۹ (۲۵۷۹)، التحریم ۲۲ (۴۱۰۶)، ط/القرآن ۴ (۱۰)، حم (۳/ ۵۶، ۶۰، ۶۵، ۶۸، ۷۲، ۷۳) (صحیح)
۱۶۹- ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو حروریہ۱؎ (خوارج) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہو گی، اس کی صلاۃ کے مقابلہ میں تم میں کا ہر ایک شخص اپنی صلاۃ کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ۲؎، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکارکے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے، تو اسے (خون وغیرہ) کچھ بھی نظر نہیں آتا، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظرنہیں آتا، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں۔
وضاحت۱؎: ''حروریہ'': حروراء کی طرف نسبت ہے جو کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام ہے اس سے مراد خوارج ہیں، انہیں حروریہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی بستی سے خروج کیا تھا۔
وضاحت۲؎: ظاہری عبادت و ریاضت اگر عقیدہ اسلام سے الگ ہو کر کی جا رہی ہے تو وہ بیکار محض ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ بدعت کی نحوست سے صوم و صلاۃ جیسی اہم عبادتیں بھی مقبول نہیں ہوتیں، تیر شکار سے پار نکل جانے میں جس قدر سرعت رکھتا ہے، اہل بدعت خصوصاً خوارج دین سے خارج ہونے میں سریع تر ہیں۔
170- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، قَوْماً يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ، لا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ>.
قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَقَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۴۷ (۱۰۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵،۵/۳۱، ۶۱)، دي/الجہاد ۴۰ (۲۴۳۹) (صحیح)
۱۷۰- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں'' ۱؎ ۔
عبد اللہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو الغفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
وضاحت۱؎ : ''خلق '' سے مراد لوگ، اور '' خلیقۃ'' سے چوپائے اور جانور ہیں، اس حدیث سے پتہ چلا کہ اہل بدعت جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ خوارج اہل بدعت ہی کا ایک فرقہ ہے۔
171- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۶) (صحیح) (سند میں سماک ضعیف ہیں، اوران کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن یہ حدیث دوسرے شواہد سے صحیح ہے، الصحیحہ: ۲۲۲۱)
۱۷۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت کے کچھ لوگ قرآن تو ضرور پڑھیں گے، مگر وہ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جنہوں نے اہل بدعت کی تکفیر میں توقف کیا ہے، اس لئے کہ نبی ﷺ نے ان کو اپنی امت میں شمار فرمایا، معلوم ہوا کہ وہ امت سے خارج نہیں، اگرچہ فاسق ہوں، اور اکثر سلف کا یہی مذہب ہے، چنانچہ خطابی رحمہ اللہ نے کہا کہ علماء اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ خوارج باوجود گمراہی کے مسلمانوں کے فرقوں میں سے ہیں، اور ان سے نکاح کرنا جائز ہے، ان کا ذبیحہ حلال ہے، اور ان کی گواہی مقبول ہے، اور علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا وہ کافر ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ''وہ کفر سے بھاگے ہیں''، یعنی وہ کافر نہیں ہیں، پھر پوچھا گیا: کیا وہ منافق ہیں؟ فرمایا: ''وہ اللہ کو صبح و شام یاد کرتے ہیں''، پھر پوچھا گیا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: ''وہ ایک ایسی قوم ہے جو فتنے کا شکار ہو گئی جس سے وہ اندھے اور بہرے ہو گئے''۔
172- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ، وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلالٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ! فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: <وَيْلَكَ! وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟>، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: « إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ، أَوْ أُصَيْحَابٍ لَهُ، يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۷۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵)، وقد أخرجہ: خ/فرض الخمس ۱۵ (۳۱۳۸)، م/الزکاۃ ۴۷ (۱۰۶۳)، حم (۳/۳۵۳) (صحیح)
۱۷۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت (لوگوں میں) تقسیم فرمارہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تیرا بُرا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟''، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ''جعرا نہ'': مکہ سے آٹھ نو میل پر ایک مقام کا نام ہے، جہاں پر نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے غنائم تقسیم کئے تھے، اس وقت جس شخص نے اعتراض کیا تھا وہ ذوالخویصرہ تھا، آپ ﷺ نے ازراہ مصلحت اس کی گردن مارنے کی اجازت نہ دی، ایسا نہ ہو کہ کہیں مشرکین میں یہ مشہور ہو جائے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔
173- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْخَوَارِجُ كِلابُ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۶۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۵) (صحیح) (اعمش کا سماع ابن أبی أوفی سے ثابت نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے،ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۳۵۵۴)
۱۷۳- ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''خوارج جہنم کے کتے ہیں''۔
174- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <يَنْشَأُ نَشْئٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ>، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ > أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً، < حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ >۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۵۸، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷ ) (حسن)
۱۷۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا''، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ختم کر دیا جائے گا، یعنی اس کا مستحق ہو گا کہ اس کا خاتمہ اور صفایا کر دیا جائے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اہل بدعت ہی سے دجال کا خروج ہو گا۔
175- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، أَوْ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ، يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ، لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، أَوْ حُلُوقَهُمْ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، أَوْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ، فَاقْتُلُوهُمْ >۔
* تخريج: د/السنۃ ۳۱ (۴۷۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۹۷) (صحیح)
۱۷۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آخری زمانہ (خلافت راشدہ کے اخیر) میں یا اس امت میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہ اترے گا، ان کی نشانی سر منڈانا ہے، جب تم انہیں دیکھو یا ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نشان سر منڈانا ہے، اور اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ بال منڈانا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، بعض اوقات سر منڈانا عبادت ہے، جیسا کہ حج اور عمرہ میں، اور پیدائش کے ساتویں روز بچے کا سر منڈانا سنت ہے۔
176- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَقُولُ: شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَائِ، وَخَيْرُ قَتِيلٍ مَنْ قَتَلُوا، كِلابُ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ كَانَ هَؤُلائِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! هَذَا شَيْئٌ تَقُولُهُ؟ قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۴ (۳۰۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/ ۲۵۳،۲۵۶)
(حسن صحیح)
۱۷۶- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ''یہ خوارج سب سے بد ترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں (خوارج) نے قتل کر دیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہوگئے''۱؎ ۔
ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوا مامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
وضاحت۱؎: یعنی اس قتل و غارت گری میں زمانہ جاہلیت کے کفار کی طرح ہو گئے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
''لا تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَاْبَ بَعْضٍ'': (اے مسلمانو! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو)، زمانہ جاہلیت میں عربوں میں قبائلی نظام کے تحت چھوٹے چھوٹے مسائل کے تحت آئے دن آپس میں خونریزی اور قتل و غارت گری کے واقعات پیش آتے تھے، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی، اسلام نے انسانی جانوں کا بڑا احترام کیا ،اور بلا کسی واقعی سبب کے خونریزی کو بہت بڑا گناہ اور جرم قرار دیا، اب نو مسلم معاشرہ ایک نظم و ضبط میں بندھ گیا تھا، جرائم پر حدود قصاص اور دیت کا ایک مستقل نظام تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو عہد جاہلیت کے غلط طریقے پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی، اور ایسے اسلوب میں خطاب کیا کہ حقیقی معنوں میں لوگ ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری اور خونریزی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ ﷺ نے اس طرح تربیت فرمائی تھی کہ دوبارہ وہ عہد جاہلیت کے کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں غایت درجہ کا لحاظ رکھتے تھے ، تاکہ ان کے اعمال اکارت اور بے کار نہ جائیں۔