• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ اُحد

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت تیزی سے چکر کاٹ کر اسلامی لشکر کی پشت پر جا پہنچے۔ اور چند لمحوں میں عبد اللہؓ بن جبیر اور ان کے ساتھیوں کا صفایا کر کے مسلمانوں پر پیچھے سے ٹوٹ پڑے۔ ان کے شہسواروں نے ایک نعرہ بلند کیا جس سے شکست خوردہ مشرکین کو اس نئی تبدیلی کا علم ہو گیا۔ اور وہ بھی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ ادھر قبیلہ بنو حارث کی ایک عورت عمرہ بنت علقمہ نے لپک کر زمین پر پڑا ہوا مشرکین کا جھنڈا اٹھا لیا، پھر کیا تھا، بکھرے ہوئے مشرکین اس کے گرد سمٹنے لگے اور ایک نے دوسرے کو آواز دی، جس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہو گئے اور جم کر لڑائی شروع کر دی۔ اب مسلمان آگے اور پیچھے دونوں طرف سے گھیرے میں آ چکے تھے۔ گویا چکی کے دو پاٹوں کے بیج میں پڑ گئے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کا پُر خطر فیصلہ اور دلیرانہ اقدام:
اس وقت رسول اللہ ﷺ صرف نو صحابہؓ (صحیح مسلم (۲/۱۰۷) میں روایت ہے کہ آپ ﷺ احد کے روز صرف سات انصار اور دو قریشی صحابہؓ کے درمیان رہ گئے تھے) کی ذرا سی نفری کے ہمراہ پیچھے (اس کی دلیل اللہ یہ کا ارشاد ہے: یعنی رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں بلا رہے تھے) تشریف فرما تھے اور مسلمانوں کی مار دھاڑ اور مشرکین کے کھدیڑے جانے کا منظر دیکھ رہے تھے کہ آپ ﷺ کو ایک دم اچانک خالد بن ولید کے شہسوار دکھائی پڑے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے سامنے دو ہی راستے تھے، یا تو آپ ﷺ اپنے نو رفقاء سمیت بھاگ کر کسی محفوظ جگہ چلے جاتے اور اپنے لشکر کو جو اب نرغے میں آیا ہی چاہتا تھا اس کی قسمت پر چھوڑ دیتے۔ یا اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے صحابہ کو بلاتے۔ اور ان کی معتد بہ تعداد اپنے پاس جمع کر کے ایک مضبوط محاذ تشکیل دیتے اور اس کے ذریعے مشرکین کا گھیرا توڑ کر اپنے لشکر کے لیے احد کی بلندی کی طرف جانے کا راستہ بناتے۔
آزمائش کے اس نازک ترین موقع پر رسول اللہ ﷺ کی عبقریت اور بے نظیر شجاعت نمایاں ہوئی کیونکہ آپ ﷺ نے جان بچا کر بھاگنے کے بجائے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جان بچانے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ آپ ﷺ نے خالد بن ولید کے شہسواروں کو دیکھتے ہی نہایت بلند آواز سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا: اللہ کے بندو! ادھر ...! حالانکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ آواز مسلمانوں سے پہلے مشرکین تک پہنچ جائے گی۔ اور یہی ہوا بھی۔ چنانچہ یہ آواز سن کر مشرکین کو معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ یہیں موجود ہیں۔ لہٰذا ان کا ایک دستہ مسلمانوں سے پہلے آپ ﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ اور باقی شہسواروں نے تیزی کے ساتھ مسلمانوں کو گھیرنا شروع کر دیا۔ اب ہم دونوں کی تفصیلات الگ الگ ذکرکر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مسلمانوں میں انتشار:
جب مسلمان نرغے میں آ گئے تو ایک گروہ تو ہوش کھو بیٹھا، اسے صرف اپنی جان کی پڑی تھی۔ چنانچہ اس نے میدان جنگ چھوڑ کر فرار کی راہ اختیار کی۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ پیچھے کیا ہو رہا ہے؟ ان میں سے کچھ تو بھاگ کر مدینے میں جا گھسے۔ اور کچھ پہاڑ کے اُوپر چڑھ گئے۔ ایک اور گروہ پیچھے کی طرف پلٹا تو مشرکین کے ساتھ مخلوط ہو گیا۔ دونوں لشکر گڈ مڈ ہو گئے۔ اور ایک دوسرے کا پتہ نہ چل سکا۔ اس کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں بعض مسلمان مار ڈالے گئے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ احد کے روز (پہلے) مشرکین کو شکست فاش ہوئی۔ اس کے بعد ابلیس نے آواز لگائی کہ اللہ کے بندو! پیچھے ... اس پر اگلی صف پلٹی اور پچھلی صف سے گتھ گئی۔ حذیفہ نے دیکھا کہ ان کے والد یمان پر حملہ ہو رہا ہے۔ وہ بولے: اللہ کے بندو! میرے والد ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم! لوگوں نے ان سے ہاتھ نہ روکا۔ یہاں تک کہ انہیں مار ہی ڈالا۔ حذیفہ نے کہا: اللہ آپ لوگوں کی مغفرت کرے۔ حضرت عروہ کا بیان ہے کہ واللہ حضرت حذیفہؓ میں ہمیشہ خیر کا بقیہ رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ (صحیح بخاری ۱/۵۳۹، ۲/۵۸۱ فتح الباری ۷/۳۵۱، ۳۶۲، ۳۶۳، بخاری کے علاوہ بعض روایات میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت دینی چاہی۔ لیکن حضرت حذیفہؓ نے کہا: میں نے ان کی دیت مسلمانوں پر صدقہ کر دی۔ اس کی وجہ سے نبی ﷺ کے نزدیک حضرت حذیفہؓ کے خیر میں مزید اضافہ ہو گیا)
غرض اس گروہ کی صفوں میں سخت انتشار اور بد نظمی پیدا ہو گئی تھی۔ بہت سے لوگ حیران و سرگرداں تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کدھر جائیں۔ اسی دوران ایک پکارنے والے کی پکار سنائی پڑی کہ محمد ﷺ قتل کر دیئے گئے ہیں۔ اس سے رہا سہا ہوش بھی جاتا رہا۔ اکثر لوگوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ بعض نے لڑائی سے ہاتھ روک لیا اور درماندہ ہو کر ہتھیار پھینک دیئے۔ کچھ اور لوگوں نے سوچا کہ رأس المنافقین عبد اللہ بن اُبی سے مل کر کہا جائے کہ وہ ابو سفیان سے ان کے لیے امان طلب کر دے۔
چند لمحے بعد ان لوگوں کے پاس حضرت انس بن نضرؓ کا گزر ہوا۔ دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے پڑے ہیں۔ پوچھا کاہے کا انتظار ہے؟ جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ قتل کر دیئے گئے۔ حضرت انس بن نضر نے کہا: تو اب آپ ﷺ کے بعد تم لوگ زندہ رہ کر کیا کرو گے؟ اُٹھو! اور جس چیز پر رسول اللہ ﷺ نے جان دی اسی پر تم بھی جان دیدو۔ اس کے بعد کہا: اے اللہ! ان لوگوں نے ـــــ یعنی مسلمانوں نے ـــــ جو کچھ کیا ہے اس پر میں تیرے حضور معذرت کرتا ہوں۔ اور ان لوگوں نے ـــــ یعنی مشرکین نے ـــــ جو کچھ کیا ہے اس سے براءت اختیار کرتا ہوں۔ اور یہ کہہ کر آگے بڑ ھ گئے۔ آگے حضرت سعدؓ بن معاذ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا: ابو عمر! کہاں جا رہے ہو؟ حضرت انسؓ نے جواب دیا: آہا، جنت کی خوشبو کا کیا کہنا۔ اے سعد! میں اسے احد کے پرے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
محسوس کر رہا ہوں۔ اس کے بعد اور آگے بڑھے اور مشرکین سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ خاتمہ جنگ کے بعد انہیں پہچانا نہ جاسکا حتیٰ کہ ان کی بہن نے انہیں محض انگلیوں کے پور سے پہچانا۔ ان کو نیزے، تلوار اور تیر کے اسی ۸۰ سے زیا دہ زخم آئے تھے۔ (زاد المعاد ۲/۹۳، ۹۶۔ صحیح بخاری ۲/۵۷۹)
اسی طرح ثابت بن دَحداحؓ نے اپنی قوم کو پکارکر کہا: اگر محمد ﷺ قتل کر دیئے گئے ہیں تو اللہ تو زندہ ہے۔ وہ تو نہیں مر سکتا۔ تم اپنے دین کے لیے لڑو۔ اللہ تمہیں فتح و مدد دے گا۔ اس پر انصار کی ایک جماعت اٹھ پڑی۔ اور حضرت ثابتؓ نے ان کی مدد سے خالد کے رسالے پر حملہ کر دیا۔ اور لڑتے لڑتے حضرت خالد کے ہاتھوں نیزے سے شہید ہو گئے، انہی کی طرح ان کے رفقاء نے بھی لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کیا۔ (السیرۃ الحلبیہ ۲/۲۲)
ایک مہاجر صحابی ایک انصاری صحابی کے پاس سے گزرے جو خون میں لت پت تھے۔ مہاجر نے کہا: بھئی فلاں! آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ محمد ﷺ قتل کر دیئے گئے۔ انصاری نے کہا: اگر محمد ﷺ قتل کر دیئے گئے تو وہ اللہ کا دین پہنچا چکے ہیں۔ اب تمہارا کام ہے کہ اس دین کی حفاظت کے لیے لڑو۔ (زاد المعاد ۲/۹۶)
اس طرح کی حوصلہ افزا اور ولولہ انگیز باتوں سے اسلامی فوج کے حوصلے بحال ہو گئے۔ اور ان کے ہوش و حواس اپنی جگہ آ گئے۔ چنانچہ اب انہوں نے ہتھیار ڈالنے یا ابن اُبی سے مل کر طلب امان کی بات سوچنے کے بجائے ہتھیار اٹھا لیے۔ اور مشرکین کے تند سیلاب سے ٹکر اکر ان کا گھیرا توڑنے اور مرکز قیادت تک راستہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ اسی دوران یہ بھی معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے قتل کی خبر محض جھوٹ اور گھڑنت ہے۔ اس سے ان کی قوت اور بڑھ گئی۔ اور ان کے حوصلوں اور ولولوں میں تازگی آ گئی۔ چنانچہ وہ ایک سخت اور خون ریز جنگ کے بعد گھیرا توڑ کر نرغے سے نکلنے اور ایک مضبوط مرکز کے گرد جمع ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اسلامی لشکر کا ایک تیسرا گروہ وہ تھا جسے صرف رسول اللہ ﷺ کی فکر تھی۔ یہ گروہ گھیراؤ کی کارروائی کا علم ہوتے ہی رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹا۔ ان میں سرِ فہرست ابو بکر صدیق، عمر بن الخطاب اور علی بن ابی طالب وغیرہم رضی اللہ عنہم تھے ۔یہ لوگ مقاتلین کی صف اول میں بھی سب سے آگے تھے لیکن جب نبی ﷺ کی ذات گرامی کے لیے خطرہ پیدا ہوا تو آپ ﷺ کی حفاظت اور دفاع کرنے والوں میں بھی سب سے آگے آگے آگئے۔
رسول اللہ ﷺ کے گرد خون ریز معرکہ:
عین اس وقت جبکہ اسلامی لشکر نرغے میں آ کر مشرکین کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے گردا گرد بھی خون ریز معرکہ آرائی جاری تھی۔ ہم بتا چکے ہیں کہ مشرکین نے گھیراؤ کی کارروائی شروع
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کی تو رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ محض نو آدمی تھے۔ اور جب آپ ﷺ نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر پکار اکہ میری طرف آؤ! میں اللہ کا رسول ہوں، تو آپ کی آواز مشرکین نے سن لی۔ اور آپ ﷺ کو پہچان لیا۔ (کیونکہ اس وقت وہ مسلمانوں سے بھی زیادہ آپ ﷺ کے قریب تھے) چنانچہ انہوں نے جھپٹ کر آپ ﷺ پر حملہ کر دیا اور کسی مسلمان کی آمد سے پہلے پہلے اپنا پورا بوجھ ڈال دیا۔ اس فوری حملے کے نتیجے میں ان مشرکین اور وہاں پر موجود نو صحابہ کے درمیان نہایت سخت معرکہ آرائی شروع ہو گئی۔ جس میں محبت و جان سپاری اور شجاعت و جان بازی کے بڑے بڑے نادر واقعات پیش آئے۔
صحیح مسلم میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اُحد کے روز رسول اللہ ﷺ سات انصار اور دو قریشی صحابہ کے ہمراہ الگ تھلگ رہ گئے تھے۔ جب حملہ آور آپ ﷺ کے بالکل قریب پہنچ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو انہیں ہم سے دفع کرے اور اس کے لیے جنت ہے؟ یا (یہ فرمایا کہ) وہ جنت میں میرا رفیق ہو گا؟ اس کے بعد ایک انصاری صحابی آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ اس کے بعد پھر مشرکین آپ ﷺ کے بالکل قریب آ گئے، اور پھر یہی ہوا۔ اس طرح باری باری ساتوں انصاری صحابی شہید ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دو باقی ماندہ ساتھیوں - یعنی قریشیوں- سے فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ (صحیح مسلم باب غزوۂ احد ۲/۱۰۷)
ان ساتوں میں سے آخری صحابی حضرت عمارہ بن یزید بن السکن تھے، وہ لڑتے رہے لڑتے رہے یہاں تک کہ زخموں سے چور ہو کر گر پڑے۔ (ایک لحظہ بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آ گئی۔ انہوں نے کفار کو حضرت عمارہ سے پیچھے دھکیلا۔ اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے قریب لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاؤں پر ٹیک لیا۔ اور انہوں نے اس حالت میں دم توڑ دیا۔ کہ ان کے رخسار رسول الل ہﷺ کے پاؤں پر تھا۔ (ابن ہشام ۲/۸۱) گویا یہ آرزو حقیقت بن گئی ؎
نکل جائے دم تیرے قدموں کے ''اوپر'' یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے)
ابن السکن کے گرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ صرف دونوں قریشی صحابی رہ گئے تھے۔ چنانچہ صحیحین میں ابو عثمانؓ کا بیان مروی ہے کہ جن ایام میں آپ ﷺ نے معرکہ آرائیاں کیں ان میں سے ایک لڑائی میں آپ ﷺ کے ساتھ طلحہ بن عبید اللہ اور سعد (بن ابی وقاص) کے سوا کوئی نہ رہ گیا تھا۔ (صحیح بخاری ۱/۵۲۷، ۵۸۱) اور یہ لمحہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے لیے نہایت ہی نازک ترین لمحہ تھا۔ جبکہ مشرکین کے لیے انتہائی سنہری موقع تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مشرکین نے اس موقعے سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ انہوں نے اپنا تابڑ توڑ حملہ نبی ﷺ پر مرکوز رکھا۔ اور چاہا کہ آپ ﷺ کا کام تمام کر دیں۔ اسی حملے میں عُتبہ بن ابی وقاص نے آپ ﷺ کو پتھر مارا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جس سے آپ ﷺ پہلو کے بل گر گئے۔ آپ ﷺ کا داہنا نچلا رباعی (منہ کے بالکل بیچوں بیچ نیچے اُوپر کے دو دو دانت ثنایا کہلاتے ہیں۔ اور ان کے دائیں بائیں، نیچے اوپر کے ایک ایک دانت رباعی کہلاتے ہیں۔ جو کچلی کے نو کیلے دانت سے پہلے ہوتے ہیں) دانت ٹوٹ گیا۔ اور آپ ﷺ کا نچلا ہونٹ زخمی ہو گیا۔ عبد اللہ بن شہاب زہری نے آگے بڑھ کر آپ ﷺ کی پیشانی زخمی کر دی۔ ایک اور اڑیل سوار عبد اللہ بن قمئہ نے لپک کر آپ ﷺ کے کندھے پر ایسی سخت تلوار ماری کہ آپ ﷺ ایک مہینے سے زیادہ عرصے اس کی تکلیف محسوس کرتے رہے۔ البتہ آپ ﷺ کی دوہری زِرہ نہ کٹ سکی۔ اس کے بعد اس نے پہلے ہی کی طرح پھرایک زور دار تلوار ماری جو آنکھ سے نیچے کی اُبھری ہوئی ہڈی پر لگی اور اس کی وجہ سے خود (لوہے یا پتھر کی ٹوپی جسے جنگ میں سراور چہرے کی حفاظت کے لیے اوڑھا جاتا ہے) کی دو کڑیاں چہرے کے اندر دھنس گئیں۔ ساتھ ہی اس نے کہا: اسے لے، میں قمئہ (توڑنے والے) کا بیٹا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا: اللہ تجھے توڑ ڈالے۔ (اللہ نے آپ ﷺ کی یہ دعا سن۔ لی چنانچہ ابن عائذ سے روایت ہے کہ ابن قمئہ جنگ سے گھر واپس جانے کے بعد اپنی بکریاں دیکھنے کے لیے نکلا تو یہ بکریاں پہاڑ کی چوٹی پر ملیں۔ یہ شخص وہاں پہنچا تو ایک پہاڑی بکرے نے حملہ کر دیا۔ اور سینگ مار مار کر پہاڑ کی بلندی سے نیچے لڑھکا دیا۔ (فتح الباری ۷/۳۷۳) اور طبرانی کی روایت ہے کہ اللہ نے اس پر ایک پہاڑی بکرا مسلط کر دیا، جس نے سینگ مار مار کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ (فتح الباری ۷/۳۶۶)
صحیح بخاری میں مروی ہے کہ آپ ﷺ کا رباعی دانت توڑ دیا گیا اور سر زخمی کر دیا گیا۔ اس وقت آپ ﷺ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے، اور کہتے جا رہے تھے، وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کر دیا۔ اور اس کا دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:
''آپ کو کوئی اختیار نہیں اللہ چاہے توانہیں توبہ کی توفیق دے اور چاہے تو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں'' (۳: ۱۲۸) (صحیح بخاری ۲/۵۸۲۔ صحیح مسلم ۲/۱۰۸)
طبرانی کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اس روز فرمایا: اس قوم پر اللہ کا سخت عذاب ہو جس نے اپنے پیغمبر کا چہرہ خون آلود کر دیا۔ پھر تھوڑی دیر رک کر فرمایا:
اللہم اغفر لقومي فإنہم لا یعلمون
''اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، وہ نہیں جانتی۔'' (فتح الباری ۷/۳۷۳)
صحیح مسلم کی روایت میں بھی یہی ہے کہ آپ ﷺ بار بار کہہ رہے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رب اغفر لقومی فإنہم لا یعلمون
''اے پروردگار! میری قوم کو بخش دے وہ نہیں جانتی ۔'' (صحیح مسلم، باب غزوۂ احد ۲/۱۰۸)
قاضی عیاض کی شفا میں یہ الفاظ ہیں:
اللہم اہد قومي فإنہم لا یعلمون
''اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے۔ وہ نہیں جانتی۔'' (کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ۱/۸۱)
اس میں شبہ نہیں کہ مشرکین آپ ﷺ کا کام تمام کر دینا چاہتے تھے مگر دونوں قریشی صحابہ، یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما نے نادر الوجود جانبازی اور بے مثال بہادری سے کام لے کر صرف دو ہوتے ہوئے مشرکین کی کامیابی ناممکن بنا دی۔ یہ دونوں عرب کے ماہر ترین تیر انداز تھے۔ انہوں نے تیر مار مار کر مشرکین حملہ آوروں کو رسول اللہ ﷺ سے پرے رکھا۔
جہاں تک سعد بن ابی وقاصؓ کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ترکش کے سارے تیر ان کے لیے بکھیر دیئے۔ اور فرمایا: چلاؤ۔ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ ان کی صلاحیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے سوا کسی اور کے لیے ماں باپ کے فدا ہونے کی بات نہیں کہی۔ (صحیح بخاری ۱/۴۰۷، ۲/۵۸۰، ۵۸۱)
اور جہاں تک حضرت طلحہؓ کا تعلق ہے تو ان کے کارنامے کا اندازہ نسائی کی ایک روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں حضرت جابرؓ نے رسول اللہ ﷺ پر مشرکین کے اس وقت کے حملے کا ذکر کیا ہے۔ جب آپ ﷺ انصار کی ذرا سی نفری کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو جا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ان سے نمٹے؟ حضر ت طلحہؓ نے کہا: میں۔ اس کے بعد حضرت جابرؓ نے انصار کے آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے شہید ہونے کی تفصیل ذکر کی ہے جسے ہم صحیح مسلم کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ سب شہید ہو گئے تو حضرت طلحہؓ آگے بڑھے۔ اور گیارہ آدمیوں کے برابر تنہا لڑائی کی۔ یہاں تک کہ ان کے ہاتھ پر تلوار کی ایک ایسی ضرب لگی جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔ اس پر ان کے منہ سے آواز نکلی حس (سی)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم بسم اللہ کہتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ پھر اللہ نے مشرکین کو پلٹا دیا۔ (فتح الباری ۷/۳۶۱ سنن النسائی ۲/۵۲، ۵۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اکلیل میں حاکم کی روایت ہے انہیں اُحد کے روز انتالیس تا پینتیس زخم آئے۔ اور ان کی بچلی اور شہادت کی انگلیاں شل ہو گئیں۔ (فتح الباری ۷/۳۶۱)
امام بخاری نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت طلحہؓ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل تھا۔ اس سے اُحد کے دن انہوں نے نبی ﷺ کو بچایا تھا۔ (صحیح البخاری ۱/۵۲۷، ۵۸۱)
ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں اس روز فرمایا: جو شخص کسی شہید کو روئے زمین پر چلتا ہوا دیکھنا چاہے وہ طلحہؓ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔ (ترمذی: مناقب، حدیث نمبر ۳۷۴۰، ابن ماجہ: مقدمہ حدیث نمبر ۱۲۵)
اور ابو داؤد طیالسی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ابو بکرؓ جب جنگ احد کا تذکرہ فرماتے تو کہتے کہ یہ جنگ کل کی کل طلحہؓ کے لیے تھی۔ (فتح الباری ۷/۳۶۱) (یعنی اس میں نبی ﷺ کے تحفظ کا اصل کا رنامہ انہیں نے انجام دیا تھا) حضرت ابو بکرؓ نے ان کے بارے میں یہ بھی کہا :
یا طلحۃ بن عبید اللہ قد وجبت
لک الجنان وبوأت المہا العینا
''اے طلحہ بن عبید اللہ تمہارے لیے جنتیں واجب ہو گئیں۔ اور تم نے اپنے یہاں حورعین کا ٹھکانا بنا لیا۔'' (مختصر تاریخ دمشق ۷/۸۲)
اسی نازک ترین لمحہ اور مشکل ترین وقت میں اللہ نے غیب سے اپنی مدد نازل فرمائی۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت سعدؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اُحد کے روز دیکھا آپ ﷺ کے ساتھ دو آدمی تھے۔ سفید کپڑے پہنے ہوئے۔ یہ دونوں آپ ﷺ کی طرف سے انتہائی زوردار لڑائی لڑ رہے تھے۔ میں نے اس پہلے اور اس کے بعد ان دونوں کو کبھی نہیں دیکھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دونوں حضرت جبریل و حضرت میکائیل تھے۔ (صحیح بخاری ۲/۵۸۰، مسلم: فضائل حدیث نمبر ۴۶، ۴۷ (۴/۱۸۰۲))
رسول اللہ ﷺ کے پاس صحابہ کے اکٹھا ہونے کی ابتدا:
یہ سارا حادثہ چند لمحات کے اندر اندر بالکل اچانک اور نہایت تیز رفتاری سے پیش آ گیا۔ ورنہ نبی ﷺ کے منتخب صحابہ کرام جو لڑائی کے دوران صفِ اوّل میں تھے، جنگ کی صورت حال بدلتے ہی یا نبی ﷺ کی آواز سنتے ہی آپ کی طرف بے تحاشا دوڑ کر آئے کہ کہیں آپ ﷺ کو کوئی ناگوار حادثہ پیش نہ آ جائے۔ مگر یہ لوگ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ زخمی ہو چکے تھے۔ چھ انصاری شہید ہو چکے تھے ساتویں زخمی ہو کر گر چکے تھے۔ اور حضرت سعدؓ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اور حضرت طلحہؓ جان توڑ کر مدافعت کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے پہنچتے ہی اپنے جسموں اور ہتھیاروں سے نبی ﷺ کے گرد ایک باڑھ تیار کر دی۔ اور دشمن کے تابڑ توڑ حملے روکنے میں انتہائی بہادری سے کام لیا۔ لڑائی کی صف سے آپ ﷺ کے پاس پلٹ کر آنے والے سب سے پہلے صحابی آپ ﷺ کے یارِ غار حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے۔
ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ابو بکرؓ نے فرمایا: اُحد کے دن سارے لوگ نبی ﷺ سے پلٹ گئے تھے۔ (یعنی محافظین کے سوا تمام صحابہ آپ ﷺ کو آپ کی قیام گاہ میں چھوڑ کر لڑائی کے لیے اگلی صفوں میں چلے گئے تھے۔ پھر گھیراؤ کے حادثے کے بعد) میں پہلا شخص تھا جو نبی ﷺ کے پاس پلٹ کر آیا۔ دیکھا تو آپ کے سامنے ایک آدمی تھا۔ جو آپ ﷺ کی طرف سے لڑ رہا تھا۔ اور آپ ﷺ کو بچا رہا تھا۔ میں نے (جی ہی جی میں) کہا: تم طلحہؓ ہو۔ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ تم طلحہ ہو۔ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ (چونکہ مجھ سے یہ لمحہ فوت ہو گیا تھا، اس لیے میں نے کہا کہ میری قوم ایک آدمی ہو تو یہ زیادہ پسندیدہ بات ہے۔ ( تہذیب تاریخ دمشق ۷/۷۷ طلحہ بن عبید اللہ بھی حضرت ابو بکر کے قبیلہ بنو تیم سے تھے) اتنے میں ابو عبیدہ بن جراح میرے پاس آ گئے۔ وہ اس طرح دوڑ رہے تھے۔ گویا چڑیا (اُڑ رہی) ہے۔ یہاں تک کہ مجھ سے آ ملے۔ اب ہم دونوں نبی ﷺ کی طرف دوڑے۔ دیکھا تو آپ کے آگے طلحہ بچھے پڑے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کو سنبھالو اس نے (جنت) واجب کر لی۔ حضرت ابو بکرؓ کا بیان ہے کہ (ہم پہنچے تو) نبی ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہو چکا تھا۔ اور خُود کی دو کڑیاں آنکھ کے نیچے رخسار میں دھنس چکی تھیں۔ میں نے انہیں نکالنا چاہا تو ابو عبیدہ نے کہا: اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے نکالنے دیجیے۔ اس کے بعد انہوں نے منہ سے ایک کڑی پکڑی۔ اور آہستہ آہستہ نکالنی شروع کی تاکہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت نہ پہنچے۔ اور بالآخر ایک کڑی اپنے منہ سے کھینچ کر نکال دی لیکن (اس کوشش میں) ان کا ایک نچلا دانت گر گیا۔ اب دوسری میں نے کھینچنی چاہی تو ابو عبیدہ نے پھر کہا: ابو بکر! اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے کھینچنے دیجیے! اس کے بعد دوسری بھی آہستہ آہستہ کھینچی۔ لیکن ان کا دوسرا نچلا دانت بھی گر گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی طلحہؓ کو سنبھالو۔ (اس نے جنت) واجب کر لی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کہتے ہیں کہ اب ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور انہیں سنبھالا۔ ان کو دس سے زیادہ زخم آ چکے تھے۔ (زاد المعاد ۲/۹۵) (اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت طلحہؓ نے اس دن دفاع و قتال میں کیسی جانبازی اور بے جگری سے کام لیا تھا)
پھر ان ہی نازک ترین لمحات کے دوران رسول اللہ ﷺ کے گرد جانباز صحابہ کی ایک جماعت بھی آن پہنچی۔ جن کے نام یہ ہیں:
ابو دجانہ، مصعب بن عمیر، علی بن ابی طالب، سہل بن حُنیف، مالک بن سنان (ابو سعید خدری کے والد)،ام عمارہ نُسیبہ بنت کعب مازنیہ، قتادہ بن نعمان، عمر بن الخطاب، حاطب بن ابی بلتعہ اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
مشرکین کے دباؤ میں اضافہ:
ادھر مشرکین کی تعداد بھی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ جس کے نتیجے میں ان کے حملے سخت ہوتے جا رہے تھے اور ان کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ان چند گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جا گرے۔ جنہیں ابو عامر فاسق نے اسی قسم کی شرارت کے لیے کھود رکھا تھا۔ اور اس کے نتیجے میں آپ ﷺ کا گھُٹنا موچ کھا گیا۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے آپ ﷺ کا ہاتھ تھاما۔ اور طلحہ بن عبید اللہ نے (جو خود بھی زخموں سے چُور تھے) آپ ﷺ کو آغوش میں لیا۔ تب آپ ﷺ برابر کھڑے ہو سکے۔
نافع بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ایک مہاجر صحابی کو سنا فرما رہے تھے: میں جنگ اُحد میں حاضر تھا۔ میں نے دیکھا کہ ہر جانب سے رسول اللہ ﷺ پر تیر برس رہے ہیں۔ اور آپ ﷺ تیروں کے بیچ میں ہیں لیکن سارے تیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھیر دیے جاتے ہیں۔ (یعنی آگے گھیرا ڈالے ہوئے صحابہ انہیں روک لیتے تھے) اور میں نے دیکھا کہ عبد اللہ بن شہاب زہری کہہ رہا تھا: مجھے بتاؤ محمد کہاں ہے؟ اب یا تو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس کے قریب تھے، آپ ﷺ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ پھر وہ آپ ﷺ سے آگے نکل گیا۔ اس پر صفوان نے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسے ملامت کی۔ جواب میں اس نے کہا: واللہ ! میں نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ اللہ کی قسم! وہ ہم سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہم چار آدمی یہ عہد و پیمان کر کے نکلے کہ انہیں قتل کر دیں گے لیکن ان تک پہنچ نہ سکے۔ (زاد المعاد ۲/۹۷)
نادرۂ روزگار جانبازی:
بہرحال اس موقع پر مسلمانوں نے ایسی نادرۂ روزگار جانبازی اور تابناک قربانیوں سے کام لیا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ چنانچہ ابو طلحہؓ نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے آگے سپر بنا لیا۔ وہ اپنا سینہ اوپر اٹھا لیا کرتے تھے تاکہ آپ ﷺ کو دشمن کے تیروں سے محفوظ رکھ سکیں۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ اُحد کے روز لوگ (یعنی عام مسلمان) شکست کھا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس (آنے کے بجائے اِدھر اُدھر) بھاگ گئے۔ اور ابو طلحہؓ آپ ﷺ کے آگے اپنی ایک ڈھال لے کر سپر بن گئے۔ وہ ماہر تیر انداز تھے، بہت کھینچ کر تیر چلاتے تھے۔ چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں توڑ ڈالیں۔ نبی ﷺ کے پاس سے کوئی آدمی تیروں کا ترکش لیے گزرتا تو آپ فرماتے کہ انہیں ابو طلحہ کے لیے بکھیر دو۔ اور نبی ﷺ قوم کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے تو ابو طلحہ کہتے: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر نہ جھانکیں۔ آپ کو قوم کا کوئی تیر نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ہے۔ (صحیح بخاری ۲/۵۸۱)
حضرت انسؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت ابو طلحہؓ نبی ﷺ سمیت ایک ہی ڈھال سے بچاؤ کر رہے تھے اور ابو طلحہ بہت اچھے تیر انداز تھے۔ جب وہ تیر چلاتے تو نبی ﷺ گردن اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں گرا۔ (صحیح بخاری / ۴۰۶)
حضرت ابو دجانہ نبی ﷺ کے آگے کھڑے ہو گئے۔ اور اپنی پیٹھ کو آپ ﷺ کے لیے ڈھال بنا دیا۔ ان پر تیر پڑ رہے تھے لیکن وہ ہلتے نہ تھے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے عُتبہ بن وقاص کا پیچھا کیا۔ جس نے نبی ﷺ کا دندان مبارک شہید کیا تھا۔ اور اسے اس زور کی تلوار ماری کہ اس کا سر چھٹک گیا۔ پھر اس کے گھوڑے اور تلوار پر قبضہ کر لیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بہت زیادہ خواہاں تھے کہ اپنے اس بھائی - عُتبہ - کو قتل کریں۔ مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ بلکہ یہ سعادت حضرت حاطبؓ کی قسمت میں تھی۔
حضرت سَہلؓ بن حُنیف بھی بڑے جانباز تیر انداز تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے موت پر بیعت کی اور اس کے بعد مشرکین کو نہایت زور شور سے دفع کیا۔
رسول اللہ ﷺ خود بھی تیر چلا رہے تھے۔ چنانچہ حضرت قتادہ بن نعمانؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نے اپنی کمان سے اتنے تیر چلائے کہ اس کا کنارہ ٹوٹ گیا۔ پھر اس کمان کو حضرت قتادہ بن نعمانؓ نے لے لیا، اور وہ انہیں کے پاس رہی۔ اس روز یہ واقعہ بھی ہوا کہ حضرت قتادہ کی آنکھ چوٹ کھا کر چہرے پر ڈھلک آئی۔ نبی ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے پپوٹے کے اندر داخل کر دی۔ اس کے بعد ان کی دونوں آنکھوں میں یہی زیادہ خوبصورت لگتی تھی۔ اور اسی کی بینائی زیادہ تیز تھی۔
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے لڑتے لڑتے منہ میں چوٹ کھائی، جس سے ان کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ اور انہیں بیس یا بیس سے زیادہ زخم آئے جن میں سے بعض زخم پاؤں میں لگے اور وہ لنگڑے ہو گئے۔
ابو سعید خدریؓ کے والد مالک بن سنانؓ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے خون چوس کر صاف کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے تھوک دو۔ انہوں نے کہا: واللہ اسے تو میں ہرگز نہ تھوکوں گا۔ اس کے بعد پلٹ کر لڑنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ انہیں دیکھے۔ اس کے بعد وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
ایک نادر کارنامہ خاتون صحابیہ حضرت ام عمارہ نسیبہ بنت کعب ؓ نے انجام دیا۔ وہ چند مسلمانوں کے درمیان لڑتی ہوئی ابن قمئہ کے سامنے اڑ گئیں۔ ابن قمئہ نے ان کے کندھے پر ایسی تلوار ماری کہ گہرا زخم ہو گیا۔ انہوں نے بھی ابن قمئہ کو اپنی تلوار کی کئی ضرب لگائی لیکن کمبخت دو زِرہیں پہنے ہوئے تھا، اس لیے بچ گیا۔ حضرت ام عمارہ ؓ نے لڑتے بھڑتے بارہ زخم کھائے۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ نے بھی انتہائی پامردی و جانبازی سے جنگ کی۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے ابن قمئہ اور اس کے ساتھیوں کے پے در پے حملوں کا دفاع کر رہے تھے۔ انہی کے ہاتھ میں اسلامی لشکر کا پھریرا تھا۔ ظالموں نے ان کے داہنے ہاتھ پر اس زور کی تلوار ماری کہ ہاتھ کٹ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا پکڑ لیا۔ اور کفار کے مد مقابل ڈٹے رہے بالآخر ان کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے جھنڈے پر گھٹنے ٹیک کر اسے سینے اور گردن کے سہارے لہرائے رکھا۔ اور اسی حالت میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کا قاتل ابن قمئہ تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ محمد ﷺ ہیں۔ کیونکہ حضرت مصعبؓ بن عمیر آپ ﷺ کے ہم شکل تھے۔ چنانچہ وہ حضرت مصعبؓ کو شہید کر کے مشرکین کی طرف واپس چلا گیا اور چلا چلا کر اعلان کیا کہ محمد ﷺ قتل کر دیئے گئے۔ (دیکھئے: ابن ہشام ۲/۷۳، ۸۰- ۸۳ زادالمعاد ۲/۹۷)
نبی ﷺ کی شہادت کی خبر اور معرکہ پر اس کا اثر:
اس کے اس اعلان سے نبی ﷺ کی شہادت کی خبر مسلمانوں اور مشرکین دونوں میں پھیل گئی۔ اور یہی وہ نازک ترین لمحہ تھا۔ جس میں رسول اللہ ﷺ سے الگ تھلگ نرغے کے اندر آئے ہوئے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
 
Top