• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِن كَانُوا لَيَقُولُونَ ﴿١٦٧﴾
کفار تو کہا کرتے تھے۔

لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرً‌ا مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿١٦٨﴾
کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا۔

لَكُنَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ ﴿١٦٩﴾
تو ہم بھی اللہ کے چیدہ بندے بن جاتے۔ (١)
١٦٩۔١ ذکر سے مراد کوئی کتاب الٰہی یا پیغمبر ہے۔ یعنی یہ کفار نزول قرآن سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی کوئی آسمانی کتاب ہوتی، جس طرح پہلے لوگوں پر تورات وغیرہ نازل ہوئیں۔ یا کوئی ہادی اور منذر ہمیں وعظ و نصیحت کرنے والا ہوتا، تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے بن جاتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكَفَرُ‌وا بِهِ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿١٧٠﴾
لیکن پھر اس قرآن کے ساتھ کفر کر گئے، (٢) عنقریب جان لیں گے۔ (١)
١٧٠۔١ یعنی ان کی آرزو کے مطابق جب رسول اللہ ﷺ ہادی بن کر آ گئے، قرآن مجید بھی نازل کر دیا گیا تو ان پر ایمان لانے کے بجائے، ان کا انکار کر دیا۔
١٧٠۔٢ یہ تہدید و وعید ہے کہ اس تکذیب کا انجام عنقریب ان کو معلوم ہو جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿١٧١﴾
اور البتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لیے صادر ہو چکا ہے۔

إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُ‌ونَ ﴿١٧٢﴾
کہ یقیناً وہ ہی مدد کیے جائیں گے۔

وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ ﴿١٧٣﴾
اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا۔ (١)
١٧٣۔١ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿كَتَبَ اللَّهُ لأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي﴾ (المجادلہ: ۲۱)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿١٧٤﴾
اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منہ پھیر لیجئے۔ (١)
١٧٤۔١ یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَبْصِرْ‌هُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُ‌ونَ ﴿١٧٥﴾
اور انہیں دیکھتے رہیئے، (١) اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے۔ (١)
١٧٥۔١ کہ کب ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ﴿١٧٦﴾
کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟

فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِ‌ينَ ﴿١٧٧﴾
سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا (١) بڑی بری صبح ہو گی۔
١٧٧۔١ مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو یہودی انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، جس پر نبی ﷺ نے بھی اللہ اکبر کہہ کر فرمایا تھا [خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحِةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ] (صحيح بخاري، كتاب الصلاة، باب ما يذكر في الفخذ، مسلم ، كتاب الجهاد باب غزوة خيبر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿١٧٨﴾
آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے۔

وَأَبْصِرْ‌ فَسَوْفَ يُبْصِرُ‌ونَ ﴿١٧٩﴾
اور دیکھتے رہیئے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ (١)
١٧٩۔١ یہ بطور تاکید دوبارہ فرمایا۔ یا پہلے جملے سے مراد دنیا کا وہ عذاب ہے جو اہل مکہ پر بدر و احد اور دیگر جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کے قتل و سلب کی صورت میں آیا۔ اور دوسرے جملے میں اس عذاب کا ذکر ہے جس سے یہ کفار و مشرکین آخرت میں دوچار ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سُبْحَانَ رَ‌بِّكَ رَ‌بِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٨٠﴾
پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ (١)
١٨٠۔١ اس میں عیوب و نقائص سے اللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہے جو مشرکین اللہ کے لیے بیان کرتے ہیں، مثلاً اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کوتاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج ہی نہیں ہے کہ اسے اولاد کی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿١٨١﴾
پیغمبروں پر سلام ہے۔ (١)
١٨١۔١ کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اہل دنیا کی طرف پہنچایا، جس پر یقیناً وہ سلام و تبریک کے مستحق ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٨٢﴾
اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ (١)
١٨٢۔١ یہ بندوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اورپیغمبروں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا، اس لیے تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کو ہلاک کرکے اہل ایمان اور پیغمبروں کو بچایا، اس پر شکر الٰہی کرو۔ حمد کے معنی ہیں بہ قصد تعظیم ثناء جمیل، ذکر خیر اور عظمت شان بیان کرنا۔
 
Top