• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جَزَاءً مِّن رَّ‌بِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ﴿٣٦﴾
(ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا) یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہو گا۔ (١)
٣٦۔١ عَطَاءً کے ساتھ حِسَابٌ مبالغے کے لیے آتا ہے، یعنی اللہ کی داد و دہش کی وہاں فراوانی ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رَّ‌بِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّ‌حْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا ﴿٣٧﴾
(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ (١)
٣٧۔١ یعنی اس کی عظمت، ہیبت اور جلالت اتنی ہو گی کہ ابتداءً اس سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہو گی، اسی لیے اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کے لیے بھی لب کشائی نہیں کر سکے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يَقُومُ الرُّ‌وحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ﴿٣٨﴾
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کھڑے ہوں گے (١) تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے۔ (۲)
٣٨۔١ یہاں جبرائیل عليہ السلام سمیت رُوحٌ کے کئی مفہوم بیان کیے گئے ہیں، امام ابن کثیر نے بنی آدم ( انسان) کو اشبہ (قرین قیاس) قرار دیا ہے۔
٣٨۔۲ یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گی حق و صواب ہی ہو گی، یا یہ مفہوم ہے کہ، اجازت صرف اسی کے بارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو۔ یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِ مَآبًا ﴿٣٩﴾
یہ دن حق ہے (١) اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنا لے۔ (۲)
٣٩۔١ یعنی لا محالہ آنے والا ہے۔
٣٩۔۲ یعنی اس آنے والے دن کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان و تقویٰ کی زندگی اختیار کرے تاکہ اس روز وہاں اس کو اچھا ٹھکانہ مل جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا أَنذَرْ‌نَاكُمْ عَذَابًا قَرِ‌يبًا يَوْمَ يَنظُرُ‌ الْمَرْ‌ءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ‌ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَ‌ابًا ﴿٤٠﴾
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے۔ (١) جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا (۲) اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا۔ (۳)
٤٠۔١ یعنی قیامت والے دن کے عذاب سے جو قریب ہی ہے۔ کیوں کہ اس کا آنا یقینی ہے اور ہر آنے والے چیز قریب ہی ہے، کیونکہ بہر صورت اسے آکر ہی رہنا ہے۔
٤٠۔١ یعنی اچھا یا برا، جو عمل بھی اس نے دنیا میں کیا وہ اللہ کے ہاں پہنچ گیا ہے، قیامت والے دن وہ اس کے سامنے آجائے گا اور اس کا مشاہدہ کر لے گا ﴿وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا﴾ (الكهف: ۴۹) ﴿يُنَبَّأُ الإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ﴾ ( القيامہ: ۱۳)
٤٠۔١ یعنی جب وہ اپنے لیے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بے سینگ کے جانور پر کوئی زیادتی کی ہو گی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہو جاو۔ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے۔ اس وقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے۔ (تفسیر ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة النازعات

(سورہ نازعات مکی ہے اور اس میں چھیالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالنَّازِعَاتِ غَرْ‌قًا ﴿١﴾
ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم! (١)
١۔١ نَزْعٌ کے معنی، سختی سے کھینچنا، غَرْقًا ڈوب کر۔ یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ﴿٢﴾
بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم! (١)
٢۔١ نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا ﴿٣﴾
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم! (١)
٣۔١ سَبْحٌ کے معنی، تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لیے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے غواص سمندر سے موتی نکالنے کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ کیونکہ تیز رو گھوڑے کو بھی سابح کہتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ﴿٤﴾
پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم! (١)
٤۔١ یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیاء تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی سن گن نہ ملے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا ﴿٥﴾
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم! (١)
٥۔١ یعنی اللہ تعالیٰ جو کام ان کے سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہہ دیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے پانچوں صفات فرشتوں کی ہیں اور ان فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے یعنی (لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ) "تم ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور تمہیں تمہارے عملوں کی بابت خبر دی جائے گی"۔ قرآن نے اس بعث و جزاء کے لیے کئی مواقع پر قسم کھائی ہے جیسے سورۂ تغابن:۷ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مذکورہ الفاظ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ یہ بعث و جزاء کب ہو گی؟ اس کی وضاحت آگے فرمائی۔
 
Top