- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ ﴿١٠﴾
تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (۱)
۱۰۔۱ عُسْرَى (تنگی) سے مراد کفر و معصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لیے خیر و سعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لیے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ (صحيح البخاری، تفسير سورة الليل)
تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (۱)
۱۰۔۱ عُسْرَى (تنگی) سے مراد کفر و معصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لیے خیر و سعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لیے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ (صحيح البخاری، تفسير سورة الليل)