- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بَابٌ: اَلْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ
زندہ کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے
زندہ کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے
(466) عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَائِ الْحَيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا
سیدہ عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوںنے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا اور ان کے سامنے اس بات کا ذکر ہوا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مردے پر زندہ کے رونے سے عذاب ہوتا ہے تو ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ ابوعبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو بخشے، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا مگر بھول ہو گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت پر گزرے کہ لوگ اس پر رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ تو اس پر روتے ہیں حالانکہ اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔''
وضاحت: کسی مردے پر رونے والے کی وجہ سے اسے اس وقت عذاب ہو گا جب وہ اپنے گھر والوں کو منع کرنے والا نہ ہو۔ اگر وہ منع کیا کرتا تھا اور اس کے باوجود اس کے مرنے پر وہ اس پر بین کرتے ہیں اس میں اسے عذاب نہیں ہو گا (واﷲ اعلم) (محمود الحسن اسد)