مظاہر امیر
مشہور رکن
- شمولیت
- جولائی 15، 2016
- پیغامات
- 1,427
- ری ایکشن اسکور
- 411
- پوائنٹ
- 190
اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ارسال بھی صحیح سند سے ثابت ہے ۔پھر اس سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ کلائی سے لیکر بازو تک کا کوئی بھی حصہ پکڑا جا سکتا ہے ۔
اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ارسال بھی صحیح سند سے ثابت ہے ۔پھر اس سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ کلائی سے لیکر بازو تک کا کوئی بھی حصہ پکڑا جا سکتا ہے ۔
جی محترم وہ حدیث بمع عربی متن و حوالہ لکھ دیں؟نسیم بھائی دیکھیں مسئلہ یہ ہے کہ جو صریح مرفوع حدیث ہے اس میں دائیں ذراع کو بائیں ذراع پر رکھنا آیا ہے ۔ ذراع بازو کو کہتے ہیں ۔ اب دائیں ذرع کو بائیں ذرع پر رکھیں تو ہاتھ کہاں آئیں گے ۔
رُسغ (کلائی ) اور ساعد(کلائی سے لیکر کہنی تک) بھی استعمال ہوا ہے ۔
جی محترم اس حدیث کو غیر مجروح ثابت کردیں جیسا کہ آپ ہم سے مطالبہ رکھتے ہیں۔ اس کے تمام راوی کیا ثقہ ہیں۔ترجیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو ہوگی ۔
جو کہ صحیح ابن خزیمہ کی حدیث 479 میں ہے :
نا أَبُو مُوسَى، نا مُؤَمَّلٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى صَدْرِهِ»
جرح پیش کی جائے گی تو اس جرح کو رفع کیا جائے گا! یا توضیح کی جائے گی!اس حدیث کو غیر مجروح ثابت کردیں جیسا کہ آپ ہم سے مطالبہ رکھتے ہیں۔
بالفرض کہ ایک راوی اگر مختلف فیہ ہو بھی تو احناف کا یہ ایک اصول پیش خدمت ہے:اس کے تمام راوی کیا ثقہ ہیں۔
علامہ نووی رحمۃ اللہ نے اس بات کی صراحت فرما دی ہے کہ فوق السرۃ سے مراد سینہ پر نہیں بلکہ سینہ سے نیچے۔ صحیح مسلم میں انہوں نے باب باندھا ہے؛سعید بن جبیر (تابعی) فرماتےہیں کہ نماز میں “فوق السرۃ” یعنی ناف سے اوپر (سینے پر ) ہاتھ باندھنے چاہئیں۔ (امالی عبدالرزاق / الفوائد لابن مندۃ ۲۳۴/۲ ح ۱۸۹۹ و سندہ صحیح )
محترم ابن داؤد بھائیالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جرح پیش کی جائے گی تو اس جرح کو رفع کیا جائے گا! یا توضیح کی جائے گی!
سوال یہ ہونا چاہیئے کہ توثیق ثابت کریں!
آپ راوی کا نام بتائیں ،کسی کی توثیق درکار ہے، ہم اس کی توثیق ثابت کردیں گے!
بالفرض کہ ایک راوی اگر مختلف فیہ ہو بھی تو احناف کا یہ ایک اصول پیش خدمت ہے:
إذا كان الحديثُ مختلَفاً فيه: صحَّحه أَو حسَّنه بعضُهم، وضعَّفه آخرون، فهو حسن، وكذا كان الراوي مختلَفاً فيه: وثَّقه بعضُهم، وضعَّفه بعضهم، فهو: حسَنُ الحديث.ملاحظہ فرمائیں:صفحه 266 جلد 01 شرح معاني الآثار – أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة بن عبد الملك بن سلمة الأزدي الحجري المصري المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321هـ) – عالم الكتب، بيروت
جب ایک حدیث مختلف فیہ ہو، بعض نے اسے صحیح یا حسن اور بعض نے اسے ضعیف کہا ہو تو وہ حسن ہوگی۔ اور اسی طرح جب راوی مختلف فیہ، بعض نے اسے ثقہ اور بعض نے ضعیف کہا ہو تو وہ حسن الحدیث ہے
ملاحظہ فرمائیں:صفحه 72 مقدمةاعلاء السنن مسمی به إنهاء السكن إلى من يطالع إعلاء السنن (نام نہادقواعد في علوم الحديث) – ظفر احمد تهانوي – إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي
اور مومل یعنی مومل بن اسماعیل کا ذکر کر کے ان کی سند کو حسن قرار دیا ہے!
750 – عن إبراهيم أن الربيع بن حثيم لقی علقمة فقال: ''إنه بدا لي أن أزيد في التشهد'' ومغفرته '' فقال له علقمة: ننتهی إلی ما علمناه'' اھ. رواه الطحاوي (1:151) بإسناده رجاله ثقات إلا مؤملا فقد تكلم فيه، ووثقه ابن معين وغيره، كذا في التهذيب (10:380)، فالسند حسن.
ملاحظہ فرمائیں:صفحه 117 – 118 جلد 03 اعلاء السنن مسمی به إنهاء السكن إلى من يطالع إعلاء السنن (نام نہادقواعد في علوم الحديث) – ظفر احمد تهانوي – إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي
طحاوی رحمہ اللہ نے روایت یوں درج کی ہے:
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ، قَالَ: ثنا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الرَّبِيعَ بْنَ خَيْثَمٍ، لَقِيَ عَلْقَمَةَ , فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ بَدَا لِي أَنْ أَزِيدَ فِي التَّشَهُّدِ وَمَغْفِرَتُهُ , فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: «نَنْتَهِي إِلَى مَا عُلِّمْنَاهُ».