muddassirjamalra
رکن
- شمولیت
- دسمبر 21، 2017
- پیغامات
- 55
- ری ایکشن اسکور
- 4
- پوائنٹ
- 30
یہ بتاو تمہارے نزدیک ذکر کردہ افراد کی کیا حیثیت ہےآپ کے خیال میں کون قابل اعتبار ہے؟ البانی رحمہ اللہ یا یہ مذکورہ افراد؟
Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
یہ بتاو تمہارے نزدیک ذکر کردہ افراد کی کیا حیثیت ہےآپ کے خیال میں کون قابل اعتبار ہے؟ البانی رحمہ اللہ یا یہ مذکورہ افراد؟
بھائی یہی بات تو میں نے کہی۔ میں کہوں تو عقل کی کمی تم کہو تو عقلمند۔ عجیب طرفہ تماشا ہو۔یہ تمہاری عقل کی کمی ہے کیونکہ عدم ذکر نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوا کرتا
Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
آپ کے مسند علماء کہرہے ہے کہ امام سفیان ثوری مدلس ہے اور مدلس کی روایت بغیر تصریح سماع صحیح نہیں اب بتاو کس بنیاد پر اعتراض کر رہے ہوبھائی ایک مستند عالم کہہ رہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو آپ اس سے کس بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں؟
ایک حدیث میں کسی چیز کا ذکر ہے اور ایک میں نہیں تو بتاو یہاں کہنا کہاں تک درست ہے کہ اسکا وجود ہی نہیںبھائی یہی بات تو میں نے کہی۔ میں کہوں تو عقل کی کمی تم کہو تو عقلمند۔ عجیب طرفہ تماشا ہو۔
اگر میری تحریر کو غور سے پڑھا ہے تو میں نے یہی دلیل دی ہے کہ جن احادیث کو اہل حدیث اپنی دلیل بناتے ہیں اس میں بقیہ جگہ کی رفع ال یدین سے انکار نہیں ہے۔
لہٰذا اہل حدیث کی رفع الیدین کسی حدیث کے مطابق نہ رہی۔
بھائی اللہ کا واسطہ میرا سر کھانے کی بجائے پہلے میری تحاریر کو بغور پڑھو۔ اگر خود کو سمجھ نہیں آرہی تو کسی اپنے عقلمند عالم سے سمجھ لو پھر بات کرو۔یہ بتا کہ تیسری رکعات سے اٹھتے وقت کس جگہ اس حدیث میں انکار ہے یا پھر عقل کے اندھے ہو
Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
الحمداللہ عدم رفع یدین والی اس توایت پر محدثین کی بھی جرح مفسر ہے ایک بھی روایت حیح نہیںوہ احادیث جن میں تکبیر تحریمہ کی رفع الیدین کے علاوہ کا انکار ہےسنن الترمذي ت شاكر (2 / 40):
سنن أبي داود (1 / 200):
751 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو حُذَيْفَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ: «فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «مَرَّةً وَاحِدَةً»
[حكم الألباني] : صحيح
257 - حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» . وَفِي البَابِ عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. [ص:41] حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، [ص:42] وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ، [ص:43] وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ
[حكم الألباني] : صحيح
سنن النسائي (2 / 182):
1026 - أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يُعِدْ»
[حكم الألباني] صحيح
السنن الكبرى للنسائي (2 / 31):1100 - أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ»
یہ تمام احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ تکبیر تحریمہ کے سوا نماز میں رفع الیدین مشروع نہ رہی گو کہ احادیث میں دیگر جگہوں کی رفع الیدین کا اثبات ضرور ہے۔
جاری ہے
بقیہ جگہ کون سی ہے تفصیل سے بتائیے اور اپنے دعوے پر صحیح روایات پیش کریں ایک بھی روایت ضعیف نہ ہوجن حضرات نے جیسے بھی کمنٹ کیئے میں ان سب کا شکر گزار ہوں۔
میری صرف اتنی التجاء ہے کہ بات اگر سمجھ آتی ہے تو فبہا اگر نہیں تو زبردستی کوئی کسی سے منوا نہیں سکتا۔
اہل حدیث حضرات میری معلومات کے مطابق چار رکعت نماز میں رکوع جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت اور تیسری رکعت کو اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے ہیں۔
اس بیان میں کوئی غلطی ہو تو ضرور مطلع کریں۔
کیا اہل حدیث حضرات بتا سکتے ہیں کہ بقیہ جگہ (جہاں کا اثبات صحیح احادیث میں ہے) رفع الیدین کس دلیل سے نہیں کرتے؟
محترم جناب @ابن داود صاحب
محترم جناب @خضر حیات صاحب
اپنا دعوی ثابت تو کیجیے نابھائی اللہ کا واسطہ میرا سر کھانے کی بجائے پہلے میری تحاریر کو بغور پڑھو۔ اگر خود کو سمجھ نہیں آرہی تو کسی اپنے عقلمند عالم سے سمجھ لو پھر بات کرو۔
بھائی آپ بات کو سمجھ ہی نہیں رہے یا پھر سمجھنا نہیں چاہتے۔الحمداللہ اوپر بیان کردہ تیرے سارے اعتراض کا جواب اس حدیث میں موجود ہے لیکن تو منکرین حدیث کوفی مقلد بھلا اعتراض کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے
Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
آپ جو بتا رہے ہے ان روایتوں کو صحیح تو ثابت کیجیے جن میں ان کا ذکر آیا ہے جو آپ نے ذکر کی ہے مرشد جیبھائی آپ بات کو سمجھ ہی نہیں رہے یا پھر سمجھنا نہیں چاہتے۔
آپ کی مذکورہ حدیث میں سجدوں کے لئے جھکتے کی رفع الیدین، سجدوں کے درمیان کی رفع الیدین اور دوسری اور چوتھی رکعت کے لئے اٹھتے وقت کی رفع الیدین کی ممانعت ہے؟
میں یہی کہ رہا ہوں کہ آپ کی مذکورہ حدیث میں صرف بقیہ جگہ کی رفع الیدین کا ذکر موجود نہیں۔ اور اصول کہ عدم ذکر عدم کو مستلزم نہیں ہؤا کرتا کے تحت اہل حدیث حضرات وہ رفع الیدین کیوں نہیں کرتے؟
صرف یہ پوچھا ہے۔