الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ہمارے محاورے اور داڑھی:
اسلامی معاشرے اور ماحول میں کی جانے والی روزمرہ گفتگو میں بھی داڑھی کا تذکرہ محاوروں کی صورت میں ہمیں سننے کو ملتا ہے اگرچہ داڑھی کے تقدس اور اہمیت کے پیش نظر یہ تذکرہ ذکر خیر یا اچھے معنوں میں ہونا چاہیے تھا لیکن مقام افسوس ہے کہ دین سے دوری اور داڑھی سے بے زاری کے باعث...
دشمنان طویل اللحیہ:
عوام الناس کے دلوں سے داڑھی کی عظمت اور اہمیت گھٹانے اور ختم کرنے کے لئے ہردور میں لمبی اور شرعی داڑھی سے خوفزدہ ایک مخصوص فکر و نظر رکھنے والے افراد کی جانب سے منظم پروپیگنڈا کیا گیا ہے۔ اس پروپیگنڈا کی کامیابی اور اسلامی معاشرے میں اس کی اثر پذیری کا ایک طویل عرصہ سے درد دل...
چھٹا جواب:
راقم السطور کے نزدیک نبی ﷺ کے حکم کےبرخلاف بعض صحابہ کے داڑھی ترشوانے کا یہ چھٹا اور آخری جواب، تاویل اور تطبیق ہی سب سے مضبوط اور قرین حق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم کچھ اور ہے جبکہ صحابہ کا داڑھی کاٹنے کا عمل کچھ اور ہےیعنی نبی ﷺ کے حکم اور صحابہ کے عمل کے دائرے علیحدہ علیحدہیں انہیں...
پانچواں جواب:
علم حدیث کا اصول ہے کہ جب راوی کا عمل اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف ہو تو اس کے عمل کو رد کردیا جائے گا اور اس کی روایت کو قبول کیا جائے گا مطلب روایت کا اعتبار کیا جائے گا راوی کے عمل کا اعتبار نہیں ہوگا۔لہٰذا اس اصول کی کسوٹی پر بھی عبداللہ بن عمر اور ان کے ہم نوا صحابہ کا عمل...
داڑھی نہ بڑھانے کا سبب اور رکاوٹ:
اکثر لوگوں کے لئے رسول اللہ ﷺ کے حکم داڑھی بڑھاؤ پر عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ چار صحابہ کا داڑھی کاٹنے کا فعل ہے۔لہٰذا مسئلہ کی درست تفہیم کے لئے اس پر بات کی جانااور اسکے ممکنہ جوابات فرہم کرناضروری ہے۔پس مذکورہ صحابہ کے داڑھی کاٹنے کی مجبوری ، وجہ ، سبب کیا...
سراپے میں تبدیلی کی جھجک وشرم:
انسان بنیادی طور پر خودپسند یعنی خودکو چاہنے ، سراہنے اور اپنی وضع قطع پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے والا واقع ہوا ہے۔ انسان کی اپنے سراپے ، وضع یعنی لک (Look) پر توجہ اتنی زیادہ اور مضبوط ہوتی ہے کہ وہ تبدیلی وضع پر کوئی رسک یا خطرہ مول لینے کے لئے آسانی اور جلدی سے...
ماڈرن اوردین سے بے رغبت خواتین:
مسلم معاشرے میں نوجوانوں کے داڑھی نہ رکھنے کا ایک بڑا سبب دین بے زار خواتین بھی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جنس مخالف کو متاثر کرنے کی دلی اور فطری خواہش ہر شخص کی ہوتی ہےلہٰذااس تمنا اور آرزو کی تکمیل کے لئےخود کو جاذب نظر بنانے اور خوبصورت نظر آنے کے لئے نوجوان ہر...
فکر معاش:
نوجوانوں کی اکثریت کے لئے داڑھی نہ رکھنے کی راہ میں محفوظ مستقبل کی فکر بھی رکاوٹ بنتی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں داڑھی کے ساتھ کیریئربنانا انتہائی کٹھن اور مشکل ہے۔دیکھا گیا ہے کہ کلین شیوڈ لوگوں کو ملازمت کے لئے ترجیح دی جاتی ہےاس وجہ سے نوجوان داڑھی سے بچتے ہیں تاکہ داڑھی کی وجہ سے...
داڑھی نہ رکھنا گوناگوں خرابیوں اور مختلف گناہوں کا مجموعہ ہے چناچہ راقم الحروف کےاس مسئلہ میں غور وفکر اور مسلم نوجوانوں کے احوال کےعمیق مشاہدے کے بعد داڑھی سے گریز کی کئی ایسی وجوہات سامنے آئی ہیں جو اپنے اندر عقل والوں کے لئے بے پناہ سامان عبرت سموئے ہوئے ہیں۔ یہ وجوہات اور اسباب کیا ہوسکتے...
۶۔ قابل نفرت چہرے والا:
نگاہ شریعت میں داڑھی منڈے کا چہرہ قابل نفرت ہےکیونکہ اللہ کے حبیب ﷺ نے داڑھی منڈے چہرے دیکھ کر اپنا رخ انور نفرت سے دوسری جانب پھیر لیا تھا۔لہٰذا کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ کسی ایسے چہرے کی خوبصورتی کی تعریف کرے جو داڑھی سے بے نیاز ہوکیونکہ ایسا چہرہ رسول اللہ ﷺ کے...
داڑھی سے اعراض نہ صرف مردانہ عزت اور وقار کے خلاف ہےبلکہ مردانگی کی توہین و تذلیل بھی ہےکیونکہ یہ ہیجڑا پن اور عورتوں سے مشابہت ہےجو باعزت اور غیرت مند مرد کو کسی صورت زیب نہیں دیتی اس پر مستزاد کہ یہ آخرت کی تباہی کا بھی باعث ہے۔ داڑھی نہ رکھنے کے بعض دینی اور دنیاوی نقصانات مندرجہ ذیل ہیں...
کیا داڑھی کے بڑھنے کی کوئی حد ہے؟:
پہلے پہل راقم الحروف کا خیال یہ تھا کہ چونکہ احناف کو علم اور عقل سے کوئی خاص علاقہ نہیں ہے اس لئے داڑھی کے متعلق یہ غلط نظریہ ان کا ہے کہ بال نہ کاٹنے کی صورت میں داڑھی مسلسل اور بغیر رکے بڑھتی جائے گی اسکے علاوہ یہ مذہب حمایت اور تعصب کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے...
مرد کی مردانگی سے بغاوت:
ماضی قریب میں اپنی مرادنگی کے نشانات مٹانے کا مرد پر ایسا بھوت سوار ہوا کہ اس نے عورتوں کی طرح لمبے بال بھی رکھناشروع کردئے جبکہ داڑھی پر تو پہلے ہی ہاتھ صاف کرچکا تھا۔اور حالت یہ ہوئی کہ عام شخص کے لئے مرد اور عورت کی پہچان ہی مشکل ہوگئی خاص طور پر پیچھے سے دیکھنے پر تو...
﷽
داڑھی نامہ
داڑھی کی تاریخ:
داڑھی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود ایک مرد کی۔پہلے نبی آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی محمدﷺ تک داڑھی تمام انبیاء کی سنت رہی ہے ۔گویا داڑھی کا آغاز دنیا کے پہلے مرد آدم علیہ السلام سے ہی ہوگیا تھا۔برسبیل تذکرہ عرض ہےکہ کچھ لوگ اپنی غلط عادات کو قبول عام...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ماشاءاللہ بہت جامع انداز میں صحیح مسئلہ کو واضح فرمایا ہے۔ اللہ قبول کرے۔ آمین
راقم الحروف نے بھی اس موضوع پر نہایت تفصیل سے ’’داڑھی نامہ‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد فورم پر اپنے مضمون کو شئیر کروں گا۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بے شک کسی نے کھل کر اس بات کی تردید نہیں کی ہوگی لیکن تائید بھی تو نہیں کی۔ ہوسکتا ہے کہ اس فضول بات کو علماء نے لائق توجہ ہی نہ سمجھا ہواس لئے اس کی تردید کرنا بھی ضروری نہ خیال کیا گیا ہو۔ بہرحال صحیح احادیث کی روشنی میں لمبی داڑھی پر تنقید غیر شرعی حرکت ہے۔
اس سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ آپ نے مضمون بالاستیعاب پڑھا ہے لیکن دانستہ تبصرے سے احتراز کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
اگر آپ تبصرے میں یہ بھی لکھ دیتے کہ ’’انتہائی فضول مضمون ہے‘‘ تو مجھے بے حد خوشی ہوتی کیونکہ مجھے تعریف سے زیادہ تنقید پسند ہے کیونکہ اس میں جھوٹ، رعایت اور دل رکھنے کا احتمال نہیں ہوتا۔