الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی
سخن ہائے گفتنی
اللہ رب العزت نے اپنے بعض بندوں پر اپنی نعمتوں کا اتمام اس طرح کیا کہ انہیں علم و عمل سے بہرہ وافر دیا اورا نکے بعد ان کے خاندان میں علم کی تخم ریزی ہوئی اور دو تین پشتوں تک مسلسل اس خاندان کو عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔...
تقریظ
پروفیسر حکیم راحت نسیم سوہدروی
برصغیر(پاک و ہند)خصوصاً پنجاب میں علمائے غزنویہ (امرتسر) نے دین اسلام کی اشاعت ، کتاب و سنت کی ترقی و ترویج ، اور شرک و بدعت کی تردید و توبیخ میں جو کوششیں کیں وہ برصغیر کی اسلامی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔...
مقدمہ
1145ھ میں امام شاہ ولی اللہ دھلوی سفر حجاز سے واپس آئے تو انہوں نے اپنی زندگی برصغیر (پاک و ہند) میں اشاعت حدیث اور ترویج سنت میں صرف کر دی۔ درس و تدریس وعظ و تبلیغ اور تصنیف و تألیف کی طرف پوری توجہ کی آپ نے حدیث کی اول الکتب ’’موطا‘‘ امام مالک کی دو شرحیں بنام المسوی...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نقش آغاز
برصغیر (پاک و ہند)کے علمی و دینی خاندانوں میں خاندان غزنویہ (امرتسر) ایک عظیم الشان خاندان ہے۔ اس خاندان کی علمی و دینی اور سیاسی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس خاندان کی علمی و دینی خدمات کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔اور سیاسی خدمات بھی ایک سنگ میل...
عنوان
نقش آغاز
مقدمہ
تقریظ (پروفیسر حکیم راحت نسیم ہوہدروی )
سخن ہائے گفتنی (محمد تنزیل الصدیقی الحسینی )
مولانا سید عبداللہ غزنوی
نام نسب اور خاندان
ولادت
ابتدائی تعلیم
علامہ حبیب اللہ قندھاری کی خدمت میں
مولانا...
برصغیر (پاک وہند ) میں تالیفات شیخ الاسلام ابن تیمیہ
رحمۃ اللہ علیہ علمائے غزنویہ (امر تسر) کے ذریعہ آئیں ۔
مشہور اہلحدیث عالم اور محقق شہیر
مولانا محمد عطا ء اللہ حنیف بھوجیانی لکھتے ہیں کہ :
قریب قریب ان ہی ایام میں بمبئی کے بعض علم دوست عرب تاجروں کے ذریعہ حضرات علمائے غزنویہ (امر تسر) کا...
علمائے غزنویہ میں شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلویؒ کے شاگرد
مولانا سید عبداللہ غزنوی
مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی
مولانا عبدالجبار بن سید عبداللہ غزنوی
مولانا عبدالواحد بن سید عبداللہ غزنوی
مولانا عبدالقدوس بن سید عبداللہ غزنوی
مولانا سید عبدالاول بن محمد بن عبداللہ غزنوی
مولانا...
اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہُ
یہ تو نصیحت ہے جو چاہے اسے یاد کرے۔
غزنوی خاندان
تألیف: عبدالرشید عراقی
ناشر:
امام شمس الحق ڈیانوی رحمۃ اللہ علیہ پبلشرز کراچی
پوسٹ بکس نمبر 18130کراچی 74700
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
نام کتاب : غزنوی خاندان...
کیا یہ ممکن ہے کہ اراکین کے نام سے باقاعدہ فولڈرز بنا دئیے جائیں جہاں ان کی تمام نگارشات یا اپنی تحریرات شئیر کر سکیں جیسا کہ ایک فولڈر انٹرویو ز کا بنایا ہوا ہے اسی طرح کا ایک فولڈر بنا دیا جائے اور جو رکن چاہے اس میں اپنا ایک ضمنی فولڈر بنا لے اور اپنی پسندیدہ تحریرات اس میں شئیر کر سکے
باقی سب باتیں ایک طرف رہیں صرف یہ دیکھیں کہ ان خرافات کو کس وقت منظر عام پر لایا گیا ہے
میں نواز شریف کا حمایتی نہیں ہوں اور نہ ہی اس کا دفاع کرتا ہوں لیکن ایک بات ضرور ہے کہ یہ تمام داخلی اور خارجی عناصر اس کے خلاف جس طرح اکٹھے ہو کر میدان میں اترے ہوئے ہیں وہ اس معاملہ کو مشکوک بنا رہے ہیں
جواب۵: اس سوال سے اگر یہ غرض ہے کہ بارہ بجے دن کے دوسرے شہر سے خبر آئی کہ وہاں کل گزشتہ مغرب کوچاند دیکھا گیا تواس کاجواب نمبرایک میں آچکاہے کہ بعد تحقیق وثبوت متفق المطالع شہر سے خبر آنے پر بعد دوپہر بھی روزہ افطار کیاجائے ،اوراگر یہ غرض ہے کہ بارہ بجے دن کے کسی نے اپنے شہر میں چاند دیکھا...
جواب۔ ۴:۔ ریڈیو بھی اسی قسم سے ہے اگر اس کاحال معلوم ہے کہ ثقہ خبر دیناکرتا ہے اورآواز بھی اس کی پہچانتے ہیں تومعتبر ہے ورنہ نہیں اور تمام ہندوستان کوریڈیو کی خبر پرعید کرنے کاجواب(۱)اور(۲) میںآچکا ہے کہ صرف متفق المطالع شہر اس پر عمل کریںگے مختلف المطالع اس پر عمل نہ کریں گے مولانا نے اخبار...
جواب: (۳) تار کی خبر عموما علماء کرام اوراساتذہ تسلیم نہیںکرتے اس لئے کہ تار کے کارکن اکثر بالکل کافر غیرمسلم ہوتے ہیں اورکافر کی خبر دیانات میںمقبول نہیں ۔ (درمختاروغیرہ) نیز یہ کہ رویت ہلال محض خبر نہیں اس میں شہادت اورنصاب شہادت اورمجلس قضا بھی ہے اوریہ خبر غائب ہے اس میں معرفت مخبر کی...
جواب: (۲) کاجواب (۱) کے جواب میںآگیا کہ دہلی اورمدراس کے طلوع وغروب میں چونکہ نصف گھنٹے کافرق ہے جوتین گھنٹے سے کم ہے لہٰذا انکو ایک دوسرے کی رویت ہلال کا اعتبارنہ ہوگا،
جواب: دوسرے شہرکی رویت ہلال کے اعتبار میںمسافت یعنی میلوں کی تعین کی کتاب وسنت میں کوئی نص صریح نہیں اسی لئے علماء کرام کے اجتہاد ی اقوال اورمذاہب اس امر میںمختلف ہیں اورسوائے قول اختلاف مطلع کے جس کی تحقیق آگے آتی ہے کوئی قول قابل وثوق نہیں ، کریب کی روایت سے ابن عباس کے مجمل قول کذا امرنا سے...
(۱) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ رویت ہلال کے لئے شرع شریف میںکوئی مسافت متعین نہیں ہے ؟ اگر ہے توکتنے میل کی ؟
(۲) کیامدراس کے مسلمان دہلی کی رویت کا اعتبارکرسکتے ہیں جب کہ دہلی ایک ہزار سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے نیز دہلی اورمدراس کے غروب کے وقت میں نصف گھنٹہ کافرق...
سچ تو یہ ہے کہ مصروفیات نے اس کام کو پس پشت ہی ڈال دیا اور آج فورم کی اپڈیٹ نے ایک پرانی پوسٹ سامنے لا کھڑی کی
رابطہ کرتے ہیں اس طالب علم سے کہ اس نے مزید کیا کیا ہے ؟
جزاکم اللہ خیرا
اور ہاں میں اپنا پتا لکھ رہا ہوں یہ کتاب جس پر آپ نے فتوی لینا ہے وہ مجھے اس کے تقریبا 5 نسخے بھجوا دیں تاکہ میں دیگر مشائخ سے بھی رابطہ کر وں اور ان سے ان کی آراء بھی لے لوں اور آپ کو بھرپور جواب دے سکوں