الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی
مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی شیخ عبداللہ غزنوی کے دوسرے صاحبزادے تھے سید عبداللہ غزنوی جب علمائے سوء اور حکومت کی طرف سے مصائب و آلام کا شکار ہوئے تو آپ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔
مولانا سید عبدالحی الحسنی آپ کے...
مولانا محمد حسین ہزاروی ؒ
مولانا محمد حسین کاتعلق ہزارہ سے تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے علماء سے حاصل کی۔ جب انہیں امام مولانا سید عبدالجبار غزنوی کے زہد و ورع، للہیت، تقویٰ و طہارت اور تبحر علمی کاپتہ چلا۔ اور اس کے ساتھ مدرسہ غزنویہ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوئیں تو آپ...
مولانا عبدالجبار غزنوی
مولانا سید عبداللہ غزنوی کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے مولانا عبداللہ بن عبداللہ غزنوی ان کے خلیفہ اور جانشین مقر ر ہوئے لیکن دو سال کے بعد انہوں نے سفر آخرت اختیار کیا تو مولانا سید عبدالجبار غزنوی (امام ثانی) ان کے جانشین ہوئے۔...
۔ تاریخ اہل حدیث:437-4381۔
مولانا عبداللہ بن عبداللہ غزنوی
مولانا عبداللہ بن عبداللہ غزنوی (امام اوّل) مولانا سید عبداللہ غزنوی کے انتقال کے بعد ان کے جانشین اور خلیفہ ہوئے مولانا عبداللہ بن عبداللہ نے حدیث کی تعلیم شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی سے حاصل کی تھی...
مولانا سید عبداللہ غزنوی کی اولاد و احفاد
مولانا سید عبداللہ غزنوی نے ایک صالحہ خاتون سے شادی کی تھی جن سے 27 اولاد ہوئی۔ 12لڑکے 15لڑکیاں۔
آپ کے صاحبزادوں کے نام یہ ہیں :
1۔ مولانا عبداللہ ۔
2۔مولانا احمد۔
3۔مولانا عبدالجبار۔
4۔مولانا محمد۔
5۔مولانا عبدالاحد۔
6۔مولانا...
حافظ محمد رمضان پشاوریؒ
مولانا حافظ محمد رمضان کا تعلق پشاور سے تھا غالباً پیدائشی نابینا تھے ۔ جب ہوش سنبھالا تو بغرض حفظ قرآن و دینی تعلیم پشاور سے امرتسر مولانا سید عبداللہ غزنوی کی خدمت میں حاضر ہوئے امرتسر میں آپ نے عارف باللہ عبداللہ غزنوی سے حفظ قرآن مجید، ترجمہقرآن مجید...
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ :
’’میری عمر بیس سال کی تھی جب جناب عبداللہ صاحب غزنوی نے مجھے امرتسر میں درس حدیث کی مسند پر بٹھایا۔(تاریخ اہل حدیث :437)
امر تسر میں کچھ مدت تدریس فرمائی اور اس کے بعد 1292ھ میں وزیر آباد کو اپنا مسکن...
فورم میں موجود اہل علم حضرات سے التماس ہے کہ اس میں اگر کوئی غلطی ہو تو ضرور تصحیح کی جائے
ان شاء اللہ جلد ہی ان تما م متون کی اسناد پر بھی بحث اسی تھریڈ میں شئیر کی جائے گی کہ اس پر کام جاری ہے
الحمدللہ رب العالمین
عصر حاضر میں تحقیق و تخریج حدیث کو کمپیوٹر کے آف لائن اور آن لائن مکتبات نے گو بہت سھل بنا دیا ہے لیکن اس کے باوجود استاد اور کتاب کا وجود اور اہمیت مسلم ہے کچھ دن قبل اسلامک سوفٹ وئیر کے استعمال کی ایک روزہ ورکشاپ کروائی جس میں کسی حدیث کی سند اور متن کے حوالے سے...
دہلی سے واپس آکر وطن موضع لکھوکے میں 1272ھ/1856ء میں ’’مدرسہ محمدیہ ‘‘ کے نام سے ایک دینی درسگاہ قائم کی اس درسگاہ سے ہزاروں علمائے کرام مستفیض ہوئے ۔آپ کے تلامذہ کی فہرست طویل ہے تاہم چند مشہور تلامذہ یہ تھے۔
(1)مولانا عبدالرحمن محی الدین لکھوی (آپ کے صاحبزادہ)
(2)مولانا غلام نبی الربانی...
مولانا سید عبدالجبار غزنوی
آ پ کے فرزند ارجمند مولاناسید عبدالجبار غزنوی فرماتے ہیں کہ :
’’وہ عبادت گزار ، بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے اس کے سامنے بہت جھکنے والے اور خشوع و خضوع کرنے والے تھے گناہوں سے بچنے والے اللہ کے حضور عاجزی کرنے والے سب سے کٹ...
پشاور جلا وطنی اور امر تسر میں مستقل سکونت
جب امیر محمد اعظم خان کا حکم جلا وطنی آپ کو ملا تو آپ مع اہل و عیال غزنی سے پشاور پہنچے چنانچہ پشاور میں آپ نے کچھ دن قیام کیا او راس کے بعد آپ مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر تشریف لے گئے۔ اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔...
وطن واپسی اور دوبارہ جلا وطنی
آپ یاغستان میں مقیم تھے کہ آپ کو اطلاع ملی کہ امیر دوست محمد خان کا ہرات میں انتقال ہوگیا ہے اور امیر شیر علی خان امیر کابل مقرر ہوا ہے تو آپ یاغستان سے واپس اپنے وطن غزنی تشریف لے آئے ۔ علمائے سوء نے امیر شیر علی خان کو بھی آپ کے خلاف بھڑکایا جب آپ...
دہلی سے وطن واپسی ، کتاب و سنت کی دعوت ،
شرک و بدعت کی تردید ، مخالفت اور جلا وطنی
1857ء کے ہنگامہ میں مولانا سید عبداللہ غزنوی واپس اپنے وطن غزنی تشریف لے گئے اور توحید و سنت کی تبلیغ اور شرک و بدعت کی تردید شروع کر دی اس وقت افغانستان میں شرک و بدعت اور جاہلانہ رسوم کا عام...
علامہ حبیب اللہ قندھاری کی خدمت میں
علامہ حبیب اللہ قندھاری اس وقت اپنے علاقہ کے جید عالم اور صاحب کمالات تھے ۔ 1213ھ میں قندھار میں پیدا ہوئے علمائے قندھار ، ایران، اور عرب سے استفادہ کیا 25سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے اور قندھارمیں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا 1241ھ میں جب حضرت سید احمد...
مولانا سید عبداللہ غزنوی
نام و نسب اور خاندان
مولانا سید عبداللہ غزنوی کا نام ’’محمد اعظم‘‘ تھا مگر آپ نے اپنا نام ’’عبداللہ‘‘ رکھ لیا۔ شجرئہ نسب یہ ہے۔ عبداللہ بن محمد بن محمد شریف غزنوی۔
آپ فرماتے تھے۔’’محمد کہ اعظم افضل از مخلوقات است ہماں رسول اللہ ہست تسمیہ بعبد اللہ خوب است‘‘۔ (اہل حدیث...