الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فصل اوّل
شر کی پہلی قسم
استعاذہ من شر ما خلق :
ہر ایک قسم کا شر جو کسی مخلوق میں پایا جاتا ہے : مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کے مفہوم میں داخل ہے۔
ما خلق سے مراد:
’’کسی مخلوق‘‘ کا لفظ انسان، جن، جملہ حیوانات، حشرات الارض، آندھی، بجلی اور دیگر تمام آفاتِ سماوی اور ارضی پر...
باب ۲
تفسیر سورۃ الفلق
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ـ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ـ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ـ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ـ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّثَاتِ فِيْ الْعُقَدِ ـ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ـ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کہہ! میں روشنئ صبح کے مالک اللہ...
فصل ہشتم
خیر الکلام وخیر العبادۃ کا تنزیہـ ٔ تقدیس
ذاتِ باری تعالیٰ:
بعض عارفوں نے اس طرح اللہ تعالی کی شر سے تنزیہ بیان کی ہے کہ الشر لا يتقرب به اليك ’’شر کے ذریعہ کوئی شخص تیرا قرب حاصل نہیں کر سکتا‘‘ کسی اور عارف نے اس کے تقدس کا ان لفظوں میں اظہار کیا ہے کہ الشر لا يصعد اليك...
فصل ہفتم
شرورجن کا معوّذ تین میں ذکرہے
افعال اللہ خیر محض ہیں!
اب ہم ان شرور پر مفصل بحث کرتے ہیں جن کا ذکر سورئہ فلق اور سورئہ ناس میں ہے۔ پہلی آیت: مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ـ ’’میں پناہ مانگتا ہوں ہر ایک ایسی چیز کے شر سے جس کو اس نے پیدا کیا‘‘۔
اس میں عام شر کا ذکر ہے...
فصل ششم
اسبابِ شر ما مبداء ومنتہی
شر کی چار قسمیں:
چونکہ یہ ضروری ہے کہ شر کے لئے کوئی سبب ہو جس سے وہ پیدا ہوا، نیز اس کے لئے ایک ا نتہاء اور انجام ہو گا اور چونکہ سبب کا وجود یا تو خود انسان کی ذات میں ہو گا یا اس سے خارج کسی اور چیز میں اور اس کا انتہاء اور انجام بھی یا خود اس...
فصل پنجم
مستعاذ منہ کے اقسام
تفصیل:
جس شر سے پناہ مانگی جاتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔
۱۔ ایک موجود شر جس کا دُور کیا جانا مطلوب ہے۔
۲۔ دوسرے معدوم شر جس کا عدم پر باقی رہنا مطلوب ہے۔
اسی طرح اس کے بالمقابل خیر کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک موجود خیر جس کی بقا مطلوب ہے۔...
سرورِ کونین کا پہلا استعاذہ :
الغرض چونکہ شر کا مفہوم ’’درد و تکلیف‘‘ اور اسکے اسباب اور نتائج تک محدود ہے اس لئے کہ نبی ﷺ نے جب کبھی کسی چیز سے پناہ مانگی ہے وہ ضرور با تو بذاتِ خود ’’درد و تکلیف‘‘ہو گی یا اس کا موجب۔ چنانچہ نبی ﷺ کی عادت تھی کہ عموماً ہر نماز کے آخر میں چار چیزوں...
شر کا مفہوم :
خلاصۃالکلام یہ ہے کہ معاصی اور سیئات جو دنیا اور آخرت میںعقوبت اور عذاب کا موجب، عذاب کا سبب ہونے کے باعث شر کے مفہوم میں داخل ہو جانا بالکل ظاہر ہے کیونکہ اس کی عقوبت جسمانی اور روحانی دونوں قسم کے شدید ترین عذاب پر مشتمل ہے۔ روحانی عذاب سے مراد شرمندگی کااحساس، سخت...
شر اور اس کی حقیقت
شر کا اطلاق درد و تکلیف اور اس کے نتائج و اسباب پر ہوتا ہے، چنانچہ کفر و شرک، ظلم و بدعت اور ہر ایک قسم کے گناہ کو اگرچہ اس میں اس کے کرنے والے کی کچھ غرض مدّ نظر ہوتی اور اس کے ارتکاب سے اس کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے شر کہا جاتا ہے کہ ایسی باتوں کے مرتکب کو دنیا یا آخرت میں...
فصلِ چہارم
مستعاذمنہ
معانی و اقسامِ شر:
جن چیزوں سے پناہ مانگی جاتی ہے انہیں مستعاذمنہ کہتے ہیں۔ یہ سب کی سب شر کی قسمیں ہیں جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
۱۔ مثلاً گناہوں کی معافی مطلوب ہو تو غفور رحیم کا استعمال موزوں ہو گا رزق کی فراخی کا سوال ہو تو رزاق اور واسع علیم پکارنا مناسب...
کلام اللہ غیر مخلوق:
ایک حدیث میں نبی ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے : اعوذ بكلمات الله التامات ’’میںاللہ تعالیٰ کے ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں جو ہر طرح سے کامل ہیں‘‘۔ اہل سنت نے اس حدیث سے استدلال کر کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے کیونکہ نبی ﷺ...
فصلِ سوم
مستعاذبہ
معانی
جس کے ساتھ پناہ لی جاتی ہے اسے مستعاذبہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ واحد لاشریک ہے جس کی قدرت سے پو پھٹتی ہے اور وہ تمام لوگوں کا پرورش کرنے والا، ان کا بادشاہ اور معبود ہے اس کے بغیر اور کوئی جائے پناہ نہیں، پناہ مانگنے والوں کو وہی پناہ دیتا ہے اور ہر ایک...
ایک سوال:
یہ ایک معلوم بات ہے کہ جہاں کلامِ پاک میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ قُلِ الْحَمْدُ للهِ اس کی تعمیل الحمدللہ کہنے سے ہو گی نہ کہ قُلِ الْحَمْدُ للهِ کہنے سے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ معوّذتین قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ الخ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ الخ کی تعمیل کرتے ہوئے...
فصل دوم
استعاذہ
معانی
اس لفظ کا مادہ عوذ ہے جس کا مفہوم لغت میں یہ ہے کہ کوئی چیز جس کو تم پسند نہیں کرتے ہو اس سے بھاگ کر کوئی ایسی پناہ ڈھونڈھو جو اس کے شر سے تم کو بچائے۔
مثال:
ایک لڑکا چلا جا رہا ہے۔ سامنے سے کوئی دشمن اس کو مار ڈالنے کی غرض سے تلوار میان سے کھینچ...
تلخیصِ مضامین
بہرکیف یہاں پر مقصود ان دونوں سورتوں کا عظیم نفع
۱۔ ایک صحیح حدیث میں نبی ﷺ نے متوکلین کی بعض علامات بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں کراتے۔ چونکہ نبی ﷺ یقینا سید المتوکلین تھے اس لئے مصنف علیہ الرحمۃ اس سے آپ کو بَری قرار دینا چاہتے ہیں اور اس کے...
خواص:
صحیحین میں اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب سو جانا چاہتے تھے تو قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اور معوّذتین کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے تھے جس کے بعد اپنے منہ پر اور اپنے جسم پر پھیر لیتے تھے۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ بیمار...
فصلِ اوّل
مَا جَائَ فِيْ الْحَدِيْث
شان نزول
امام مسلم نے اپنی صحیح میں عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ’’کیا تم کو وہ آیتیں معلوم نہیں جو آج کی رات نازل ہوئیں اور جن کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔ وہ آیتیں یہ ہیں : قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور...
مقدمہ
اکابر امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن حکیم کی تفسیر میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے شاگردِ رشید حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح اصول و مبانی کو جس حد تک پیش نظر رکھا ہے اور ٹھیک ٹھیک استعمال کیا ہے اس کی نظیر گزشتہ چھ سات سو سال کی اسلامی تصانیف میں کہیں نہیں...
یہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ کی تصنیف لطیف ’’تفسیر المعوّذتین‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ موضوع کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ قرآن پاک کی آخری دو سورتوں کی تفسیر اور اس کے متعلقہ مباحث پر مشتمل ہے۔ کتاب کی علمی حیثیت اور اس کے تعارف کے لئے مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ کا...