الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اصل شرعی حکم اپنی جگہ برقرار رہے گا لیکن مصلحت شرعی کے پیش نظر ایسا کرنا ایک اجتہادی راے ہے؛امام ابن تیمیہؓ نے فرمایا ہے کہ بدعتی سے ترک تعلق(ھجرالمبتدع)کا مسئلہ اصلاً حکمت و مصلحت پر اساس پذیر ہے؛یعنی اگر اس میں کوئی دینی مصلحت ہو یا اس کی اصلاح کی امید ہو یا اس سے اپنے دین کو بچانا مقصود...
عامی کے لیے عالم سے بلا تعیین شرعی حکم دریافت کرنا بالکل درست ہے۔اسے تقلید غیر شخصی بھی کہا جاتا ہے ۔اہل حدیث اسے اتباع کہتے ہیں۔یہ نزاع لفظی ہے۔اصل تقلید شخصی ہے اور وہ بھی عالم کے لیے۔اس کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آءی کہ ایک چھابڑی والا بھی تقلید کرے اور شیخ الہند بھی فیا للعجب
جی بالکل یہی اختلافی نکتہ ہے کہ امام بنانے کی ممانعت کا کیا لازمی مطلب یہی ہے کہ اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی؟؟مجھے اس سے اتفاق نہیں ؛اس پر اگر سلف میں سے کسی کا قول مل جائے تو بات ہو سکتی ہے کیوں کہ فہم نص کے حوالے سے ان کے اقوال اہمیت رکھتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگرکوئی مسلمان ہے لیکن اس کے...
آپ نے امام ابن تیمیہؓ کا جو قول نقل فرمایا ہے اس میں بھی کوئی دلیل نہیں ہے؛اس میں تکفیر نوع یا تکفیر مطلق کا ذکر ہے۔ہاں اگر کوئی نہیں پڑھتا تو یہ ایک الگ چیز ہے لیکن یہ نہ پڑھنا درست رویہ نہیں ہے میری نظرمیں؛باقی سلف کے جو اقوال ہیں ،وہ عموماً انھی لوگوں کے بارے میں ہیں جن کو وہ کافر ٹھیراتے...
ابن داود صاحب میں نے وضاحت کر دی تھی کہ
اولاً تو اس حدیث میں امام بنانے سے منع کیا گیا ہے،نہ یہ کہ اس کے پیچھے سرے سے نماز ہی نہیں ہوتی؛یہ بات آپ کی توجہ حاصل نہیں کر پائی؛آپ نے استدلال نہیں کیا لیکن میں نے اسی تناظر میں بات کی تھی؛پس اس پر اعتراض کیا ہے اب؟؟گویا میں اب بھی اسی پر قائم ہوں کہ...
میں نے فیس بک پر اسی موضوع پر بات کی تھی اسی واقعے کے تناظر میں لیکن وہ یاوہ گوئی ہوئی کہ الامان و الحفیظ؛ویسے کیا کویت کے سلفی علما نے یہ نہیں کہا کہ یا امیر یہ تو مترد ہیں ان کے پیچھے تو نماز ہی نہیں ہوتی؟؟؟!! انا للہ و انا الیہ راجعون
لیجیے ؛یہ تو اپ نے میرے ہی حق میں دلیل پیش کر دی؛اب آپ بتلائیے کہ کیا ہم یہاں بے نمازوں کے ساتھ یہی معاملہ کر رہے ہیں؟؟اور ان علما نے جب بے نمازی کو کافر کہا ہے تو اس پر کفر کے تمام احکامات لاگو کیے ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ جو عالم ان کی راے سے متفق ہی نہیں اور ان فرقوں کو کافر سمجھتا ہی نہیں...
یہ بھی غلط انداز ہے؛اگر وہ غلطی کر رہا ہے تو مجھے یہ حق کیسے حاصل ہو گیا کہ میں بھی وہی غلطی دہراؤں؛امام ابن تیمیہؓ نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ اگر بدعتی گروہ ہمیں کافر یا فاسق کہیں تو ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم انھیں صرف اس بنا پر کافر یا فاسق کہیں؛حوالہ پیش کر دیا جائے گا بہ وقت ضرورت یا عند...
ماشاءاللہ بڑی اچھی بات ہے کہ آپ نے حدیث پیش کر کے استدلال کی کوشش کی اور سوال اٹھایا؛اب دیکھیے یہاں دو باتیں ہیں:
پہلی یہ کہ امام بنانا اور بات ہے اور اس کے پیچھے پڑھی گئی نماز کا ہونا یا نہ ہونا بالکل ایک علاحدہ چیز؛اب دیوبندی یا بریلوی مسجد میں امام بنانا کیا اہل حدیث کے اختیار میں ہے؟؟
دوسری...
میں سمجھتا ہوں کہ مدارس میں طلبہ کو ان مسائل پر علمی طریقے سے دلائل دے کر سمجھانا چاہیے اور الصلاۃ خلف المبتدع کا مسئلہ معاشرے کے مختلف فرقوں پر ایپلائی کر کے ذہن نشین کرانا چاہیے جو کہ بدقسمتی سے نہیں ہورہا؛اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فارغ التحصیل نوجوان علما پاپولر موقف اختیار کرنے ہی میں عافیت...
اجمالی طور پر میرا موقف یہ ہے کہ ان فرقوں کے عوام کو جہالت کا عذر دیا جائے گا اور ان کے عالموں کو تاویل کا؛ہاں اگر آپ انھیں صریح کافر سمجھتے ہیں تو پھر نماز ہی نہیں بل کہ دیگر تمام احکام بھی کافروں والے لاگو ہوں گے؛مثلاً ان کا جنازہ نہیں پڑھا جائے گا؛نہ انھیں سلام کیا جائے گا؛نہ سلام کے جواب...
سلفی علما میں دو رائیں موجود ہیں کہ جو غیر اللہ سے استغاثہ کرتا ہے وہ معین طور پر کافر ہے یا اسے کافر قرار دینے کے لیے اتمام حجت کرنا ضروری ہے؛ابن باز بریلوی ٹائپ لوگوں کو معین کافر کہتے ہیں لیکن ابن عثیمین نہیں کہتے۔
اصل میں ہم نے اہل حدیث عوام کا جو زہریلا ذہن تیار کر دیا ہے ،اسی کا نتیجہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اب وہ علما کے اس موقف کع بھی ہضم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ دیوبندیوں کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے!!
سچی بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جو بہت زیادہ حیران کر دینے والے ہیں اور میں زمانۂ طالب...
@طاہر اسلام صاحب!
محترم پھر ان اہلِ حدیث علماء کے متعلق کیا خیال ہے جو ان مشہور واعظین مثلا طاہر القادری، طارق جمیل، جاوید غامدی یا الیاس قادری وغیرہ کے متعلق اپنی تقریر و تحریر میں بھرپور تنقید کرتے ہیں۔ میری پوسٹ نمبر 3 میں ایک بیان کا لنک ہے وہ بھی دیکھ لیجیے گا۔ جزاک اللہ خیر
اللہ آپ سے راضی...
بالکل طاہرالقادری کی دعوت سے بھی اگر کوئی مسلمان ہوتا ہے تو یہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کافر ہی رہتا ؛اب جو اس خیر کا باعث بنا ہے،وہ اس حد تک لائق ستایش ہے۔