الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جہاں تک عذاب و ثواب قبر کے حوالے سے علاحدہ برزخی جسم یا برزخی قبر کا مسئلہ ہے تو یہ ایک بے بنیاد بات ہے جس کی شرع میں کوئی دلیل نہیں اور یہ ڈاکٹر عثمانی یا دیوبندیوں کے مماتی گروپ کا خود ساختہ تصور ہے۔
واضح رہے کہ بعد از وفات انبیا علیھم السلام کی حیات اور عذاب و ثواب قبر کے معاملے میں دیوبندیوں...
عذاب و ثواب قبر جسم اور روح دونوں کو ہوتا ہے۔
جسم سے مراد یہی دنیوی جسم ہے جو موجودہ زندگی میں حاصل ہے۔
سوال و جواب کے وقت اعادۂ روح برحق ہے اور وہ اسی جسم میں ہوتا ہے لیکن اس کی کیفیت نامعلوم ہے۔
البتہ یہ مسئلہ قابل بحث ہے کہ سوال و جواب کے بعد روح اور جسم بالکل الگ ہو جاتے ہیں یا ان میں کسی...
کیا آپ فقہی مسائل میں جمہور کی پیروی کے اصول کو درست سمجھتے ہیں؟؟
یا صرف اسی مسئلہ کی حد تک جمہور کا فہم آپ کو پسند ہے؟؟؟
میری نظر میں دلیل کی قوت کو دیکھا جائے گا نہ کہ جمہور کو؛اہل حدیث مسلک کی بنیاد اسی پر ہے۔
عام طور سے اہل حدیث علما کا یہی موقف ہے؛مولانا اقبال کیلانی نے فضائل قرآن مجید اور حافظ عمران ایوب لاہوری نے فضائل قرآن کی کتاب میں اسی کو اختیار کیا ہے ۔
شیخ ابن عثیمین مرحوم بھی مس مصحف کے لیے وضو کو واجب نہیں سمجھتے اور اس روایت میں لفظ طاہر کو محتمل قرار دیتے ہیں؛بہ ہر حال معاملے میں وسعت ہے اور وضو کو واجب قرار دینے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے البتہ یہ افضل اور بہتر ہے ،اس میں کوئی شبہہ نہیں۔
میں نے جو دلائل پیش کیے تھے وہ محتمل ہیں ؛یہ بات درست ہے لیکن وجوب کی بھی صریح دلیل کوئی نہیں۔
اس ضمن میں بنیادی دلیل أن لا يمس القران إلا طاہر ہی ہے لیکن اس میں بھی احتمالات موجود ہیں۔
1)نبی ﷺ نے ہرقل کو خط لکھا تھا جس میں قرآنی آیت
يَاأَهْلَ الْـكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ الآية
مرقوم تھی ۔
2) اسی طرح حدیث میں ہے کہ مومن ناپاک نہیں ہوتا: إن المؤمن لاينجس
3) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ بیت الخلا سے باہر آئے...
دلیل استصحاب؛یعنی ہر شے اپنے اصل پر باقی رہے گی الا یہ کہ اس کے خلاف دلیل آ جائے؛قرآن کی تلاوت کے لیے وضو کے وجوب کی دلیل چوں کہ موجود نہیں لہٰذا اصلاً یہ جائز اور مباح ہے۔
سوال یہ ہے کہ وضو کے وجوب کی صریح دلیل کیا ہے؟؟
کوئی بھی نہیں تو وجوب ثابت نہ ہوا؛باقی استحباب عمومی دلائل سے ثابت ہے کہ ہر وقت باوضو رہنا چاہیے ؛عدم وجوب کے قائلین ہر گز اس پر اصرار نہیں کرتے کہ بے وضو ہی قرآن پڑھا جائے؛صرف وجوب کا انکار ہے جس کی دلیل صریح موجود نہیں۔
لفظ طاہر مشترک ہے؛اس میں تین احتمال ہیں:
ایک مومن
دوسرے حدث اصغر اور اکبر سے پاک مغتسل اور با وضو
تیسرے عمومی نجاست سے پاک
اب یہاں ایک معنی کو متعین کرنے کے لیے علاحدہ سے قرینہ درکار ہے ۔
امام مالک اگر حدث اصغر سے پاک مراد لیتے ہیں تو امام حسن بصری کے نزدیک قرآن چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری...
دلیل تو اس کی چاہیے کہ قرآن چھونے سے پہلے باقاعدہ باوضو ہونا ضروری ہے اور ایسی کوئی صریح دلیل موجود ہی نہیں؛اگر ہے تو پیش کی جائے تاکہ اس پر غور کیا جاسکے۔
مجھے بہت ہی تعجب ہو رہا ہے محترم بھائی پر جو ایک شرعی مسئلے پر گفت گو کر رہے ہیں لیکن انھیں یہ معلوم نہیں کہ شریعت سے استدلال کا طریق کار کیا ہے؟
ابوالحکم کو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس امت کا فرعون قرار دیا ہے جو بالکل درست ہے اس سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی طرح عہد رسالت مآب میں اسے ابو...