الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اس تکلف کی کیا حاجت ہے بھائی؟لفظ خدا ممنوع نہیں ؛البتہ لفظ اللہ کا استعمال بہتر ہے؛مزید برآں اشعار یا ضرب الامثال میں یہ تصرف مناسب نہیں،انھیں اسی طرح استعمال کی جانا ہی درست ہے۔
جگر کی پیاس لہو سے بجھا کے آیاہوں
میں تیری راہ میں گردن کٹا کے آیا ہوں
جو تیرے وصل میں حائل تھے جیتے جی یا رب
تمام راہ کےپتھر ہٹا کے آیاہوں
تمام حور و ملائک ہیں محوِ استقبال
میں سر پہ تاجِ شہادت سجا کے آیا ہوں
مجھے نہ غسل دو پہنچاؤ، تحتہ الانھار
میں اپنے خون سے خود ہی نہا کے آیا ہوں
مجھے بھی...
عبدالرشید بھائی یا عمر فاروقی کے پاس ان پیج ہونی چاہیے؛میرے پاس موجود ہے لیکن فائل اوپن نہیں ہو رہی؛اصل میں ڈیٹا ڈیلیٹ ہو گیا تھا،دوباری سٹور ہوا تو فائل اوپن نہیں ہوتی۔
مقالہ کی پی ڈی ایف تو سائٹ پر موجود ہے:
تبدیلی حالات سے شرعی احکام کی تبدیلی کے تصورات
ان پیج فائل فی الحال موجود نہیں ہے؛اس کے تیسرے باب کی تیسری فصل میں اس کا جواب موجود ہے؛اس کی روشنی میں آپ اپنے طور پر اس سے متعلق کچھ لکھ سکیں تو بہتر ہو گا؛والسلام
اسی بات کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے:
میرے خیال میں بعض احباب نے عمران الٰہی صاحب کو اسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے؛ایسا نہیں ہے کہ وہ شیعہ کے غلط عقائد کی تصویب کرنا چاہتے ہیں یا انھیں مبنی بر حق سمجھتے ہیں؛اسی طرح جو شرکا اس تجویز کو ناپسند کر رہے ہیں ،یقیناً ان کی نیت بھی نیک ہے،فلہٰذا آپس...
آج روزنامہ دنیا میں میں اظہار الحق کا کالم بھی انتہائی غلط اور باطل استدلال پر مبنی ہے کہ شرعی قوانین میں تبدیلی ممکن ہے:
اگر جان کی امان ملے
اتفاق سے میرے ایم فل کے مقالے کا یہی موضوع تھا کہ احکام شریعت میں تغیر و تبدل ممکن نہیں،البتہ فتویٰ بدل جاتا ہے،لوگوں کی رعایت سے؛لیکن کالم کا اسلوب جدا...
کسی شرعی مسئلے سے متعلق جواز اور عدم جواز کی بحث اصولی طور پر نصوص کی روشنی میں ہوتی ہے،البتہ جب کسی معین شخص کو فتویٰ دیا جاتا ہے،تو اس کی صورت حال کو دیکھ کر راے دی جاتی ہے۔
بہ طور مثال قرآنی تعویذ جائز ہیں یا نہیں؟ یہ ایک اصولی سوال ہے،جس کا جواب نصوص کی روشنی میں دیا جائے گا۔
اب...
یہ مسئلہ اجتہادی ہے؛ہر ایک کے پاس دلائل موجود ہیں ،جو جس پر مطمئن ہو ،عمل کرے؛دوسروں پر طعن وتشنیع سے گریز کیا جائے،البتہ دلیل و برہان سے دوسری راے کی کم زوری یا خطا واضح کرنے میں کوئی حرج نہیں؛واللہ اعلم
مزید گزارش ہے کہ علمی مسائل پر عامی حضرات راے زنی سے باز ہی رہیں ،تو بہتر ہے؛یہ شرعاً...
سو خلاصہ یہ ہوا کہ قرآنی تعویذ شرک نہیں ہے،البتہ اس کے جواز و عدم جواز کے باب میں سلف ہی کے دور سے اختلاف چلا آرہاہے؛افضل اور محتاط یہی ہے کہ اس سےبھی اجتناب کیا جائے۔
قرآنی تعویذوں کا شرکیہ نہ ہونا ہی جواز کی واحد اور اصل دلیل نہیں ہے،بل کہ صحابہ کرام ؓ اور اسلاف کا طرز عمل ،شریعت سے صریح عدم ممانعت اور تجربات سے اس کی افادیت استدلال کی بنیاد ہیں۔
میری معلومات کے مطابق مجتہد زماں حافظ عبداللہ صاحب محدث روپڑیؒ تعویذ دیاکرتے تھے؛اسی طرح مولانا معین الدین لکھویؒ کا بھی یہی معمول تھا اور اب ان کے فرزند تعویذ لکھ کر خلق ِ خدا کی خدمت کر رہے ہیں؛اگر کسی کو اس راے پر اعتماد نہیں ،تو وہ اپنی راے رکھے،لیکن خدارا شرک کا فتویٰ لگا کر اپنی عاقبت...
قرآنی تعویذوں کے بارے میں اصل اختلاف جواز یا عدم جواز کا ہے؛اسے شرک کوئی بھی نہیں کہتا؛سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی نے بھی یہی راے اختیار کی ہے،بل کہ کمیٹی کے مطابق اگر کوئی تعویذوں کو محض اسباب سمجھتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے ،تو وہ شرک اصغر کا مرتکب...
مندرجہ بالا پوسٹ کے بعد مجھے شیخ موصوف کا ایک اور فتویٰ نظر آیا ،جس میں اس کے بر عکس قرآنی تعویذوں کو بھی حرام قرار دیا ہے؛ابھی یہ واضح نہیں کہ ان کی آخری راے کون سی ہے؛ بہ ہر حال اسے بھی ملاحظہ فرمائیں:
س :ما حكم تعليق التمائم ووضعها على الصدر أو تحت الوسادة ؟ مع العلم أن هذه التمائم...