الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
کتاب: حکومت کے بیان میں
باب : خلیفہ قریش سے ہونا چاہیئے۔
1194: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ کام یعنی خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی یہاں تک کہ دنیا میں دو ہی آدمی رہ جائیں۔
1195: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حکومت میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں...
باب : نبیﷺ کے غزوات کی تعداد۔
1193: سیدنا ابو اسحٰق سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن یزید نمازِ استسقاء کے لئے نکلے اور لوگوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں، پھر پانی کے لئے دعا مانگی۔ کہتے ہیں کہ اس دن میں سیدنا زید بن ارقمؓ سے ملا اور میرے اور ان کے درمیان صرف ایک شخص تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ...
باب : غزوۂ طائف کے متعلق۔
1192: سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے طائف والوں کا محاصرہ کیا اور ان سے کچھ حاصل نہیں کیا (یعنی وہ زیر نہ ہوئے تھے )۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم لوٹ جائیں گے۔ صحابہؓ نے کہا کہ ہم بغیر فتح کے لوٹ جائیں گے ؟رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اچھا صبح...
باب : غزوۂ حنین۔
1189: سیدنا کثیر بن عباس بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ سیدنا عباسؓ نے کہا کہ میں حنین کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا اور میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب (آپ کے چچا زاد بھائی) دونوں آپﷺ کے ساتھ لپٹے رہے اور جدا نہیں ہوئے اور آپﷺ ایک سفید خچر پر سوار تھے جو فردہ بن نفاثہ...
باب : ہجرت کے بعد پھر جنگل میں رہنے کی اجازت۔
1188: سیدنا سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے کہ وہ حجاج کے پاس گئے ، تو وہ بولا کہ اے ابن الاکوع! تو مرتد ہو گیا ہے کہ پھر جنگل میں رہنے لگا ہے سیدنا سلمہؓ نے کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی۔
باب : جس پر ہجرت سخت محسوس ہو، اس کو عمل خیر (نیکی کرنے ) کا حکم کرنا۔
1187: سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، تو آپﷺ نے فرمایا کہ ہجرت بہت مشکل ہے (یعنی اپنا وطن چھوڑنا اور مدینہ میں میرے ساتھ رہنا اور یہ آپﷺ نے اس لئے فرمایا کہ کہیں اس سے...
باب : فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت (جہاد) باقی ہے۔
1186: اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد ہے اور نیت ہے اور جب تم سے جہاد کو نکلنے کے لئے کہا جائے تو نکلو۔
باب : فتح کے بعد اسلام، جہاد اور خیر (نیکی) پر بیعت۔
1185: سیدنا مجاشع بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی ابو معید کو فتح (مکہ) کے بعد رسول اللہﷺ کے پاس لایا اور میں نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ! اس سے ہجرت پر بیعت لیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ہجرت مہاجرین کے ساتھ ہو چکی۔ میں نے کہا کہ پھر آپﷺ اس سے کس...
باب : فتح کے بعد کوئی قریشی باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔
1184: سیدنا عبد اللہ بن مطیع اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے فتح مکہ کے دن نبیﷺ سے سنا، آپﷺ فرماتے تھے کہ آج کے بعد کوئی قریشی آدمی قیامت تک باندھ کر قتل نہ کیا جائے گا۔
باب : کعبہ کے اردگرد سے (موجود) بتوں کو نکالنا۔
1183: سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور وہاں کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپﷺ
انہیں اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی چبھوتے اور فرماتے جاتے تھے کہ" حق آیا اور جھوٹ مٹ گیا اور جھوٹ مٹنے والا ہے " (الاسرا:81) اور...
باب : فتح مکہ کے بیان میں اور مکہ میں داخلہ قتال کے ساتھ ہوا اور آپﷺ کا مکہ والوں پر احسان۔
1182: سیدنا عبد اللہ بن رباح سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے کہا کہ کئی جماعتیں سفر کر کے سیدنا معاویہؓ کے پاس رمضان کے مہینہ میں گئیں۔ عبد اللہ بن رباح نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے...
باب : فتح کے بعد مہاجرین کا انصار کو عطیہ میں دی ہوئی چیزیں واپس کرنا۔
1181: سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ مہاجرین مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کو خالی ہاتھ آئے تھے اور انصار کے پاس زمین تھی اور درخت تھے (یعنی کھیت بھی تھے اور باغ بھی)، تو انصار نے مہاجرین کو اپنا مال اس طور سے بانٹ دیا کہ آدھا میوہ...
باب : غزوہ خیبر کا بیان۔
1180: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی، تو ہم نے سونا اور چاندی نہیں لوٹا (یعنی چاندی اور سونا ہاتھ نہیں آیا) بلکہ ہم نے اسباب، اناج اور کپڑے کا مال غنیمت حاصل کیا۔ پھر ہم وادی کی طرف چلے اور رسول اللہﷺ...
باب : حدیبیہ کا واقعہ اور قریش سے نبیﷺ کی صلح کا بیان۔
1178: سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ بیت اللہ کے قریب (وہاں جانے سے ) روکے گئے اور مکہ والوں نے آپﷺ سے اس شرط پر صلح کی کہ (آئندہ سال) آئیں اور تین دن تک مکہ میں رہیں اور ہتھیاروں کو غلاف میں رکھ کر لائیں اور کسی مکہ والے کو...
باب : غزوہ ذی قرد کا بیان۔
1177: سیدنا ایاس بن سلمہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع)ؓ نے بیان کیا، کہا ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں پہنچے اور ہم چودہ سو آدمی تھے (یہی مشہور روایت ہے اور ایک روایت میں تیرہ سو اور ایک روایت میں پندرہ سو ہیں) اور وہاں پچاس بکریاں تھیں جن کو...
باب : بنی قریظہ کا بیان۔
1176: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ جب آپﷺ غزوہ احزاب سے لوٹے ، تو آپﷺ نے منادی کی کہ کوئی ظہر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ کے محلہ میں۔بعض لوگ ڈرے کہ ایسا نہ ہو کہ نماز قضا ہو جائے۔ انہوں نے وہاں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھ لی اور بعض نے کہا کہ ہم نہیں پڑھیں گے مگر...
باب : غزوہ احزاب جو جنگ خندق کے نام سے مشہور ہے۔
1173: سیدنا ابراہیم التیمی اپنے والد (یزید بن شریک تیمی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص بولا: اگر میں رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں ہوتا، تو آپﷺ کے ساتھ جہاد کرتا اور لڑنے میں کوشش کرتا۔...
باب : غزوہ رقاع کا بیان۔
1172: سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ ایک لڑائی میں نکلے اور ہم چھ آدمیوں کے پاس صرف ایک اونٹ تھا۔ ہم باری باری اس پر سوار ہوتے تھے۔ ہمارے قدم چھلنی ہو گئے تھے اور میرے دونوں پیر پھٹ گئے اور ناخن بھی گر پڑے ، تو ہم نے اپنے پیروں پر پٹیاں باندھ لیں، اس لڑائی...
باب : کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ۔
1171: سیدنا جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف (کے قتل) کا کون ذمہ لیتا ہے ؟ اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو بڑی تکلیف دی ہے۔ سیدنا محمد بن مسلمہؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ کیا آپﷺ کو پسند ہے کہ میں اسے مار ڈالوں؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں؛ تو...
باب : ابو جہل کا قتل۔
1170: سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابو جہل کی خبر کون لاتا ہے ؟ یہ سن کر سیدنا ابن مسعودؓ گئے تو دیکھا کہ عفراء کے بیٹوں نے اسے ایسا مارا تھا کہ وہ زمین پر گرا ہوا تھا(یعنی قریب المرگ تھا) سیدنا ابن مسعودؓ نے اس کی ڈاڑھی پکڑی اور کہا کہ تو ابو جہل ہے...