پر فضا قصر ہے، جس کے ہیں حسیں نقش ونگار
اس کی تعمیر میں پوشیدہ ہے فن معمار
بحر وبر، ارض و سما، دشت وجبل، لیل و نہار
ان کی تنظیم کا نگراں نہیں کوئی فنکار؟
نظمِ عالم سے ہے، خود عقل پہ دہشت طاری
کیسے جھٹلائے گی آثارِ وجودِ باری
یہ نباتات و جمادات، ومعادن کی حیات
بحر وبر میں جو ہیں ان گنت سبھی...