الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اسی طرح:
o امام یزید بن ہارون فرماتے ہیں: "لا يحل الرواية عنه، إنه كان يعطي أموال اليتامي مضاربة ويجعل الربح لنفسه" اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، یہ (ابو یوسف) یتیموں کے مال بطورِ مضاربت (تجارت میں) لگاتا اور اس کا نفع خود کھا جاتا تھا۔
(الضعفاء للعقیلی 4/440 وسندہ صحیح، تاریخ بغداد 14/258...
عبد اللہ بن ادریس الکوفی فرماتے ہیں: "كان....وأبو يوسف فاسقا من الفاسقين" اور ابو یوسف فاسقوں میں سے ایک فاسق تھا۔ (الضعفاء للعقیلی 4/440 وسندہ صحیح)
یہ عدالت پر جرح نہیں ہے؟ اس میں تضعیف کیسے نہیں ہے اور یہ فقہ سے متعلق کیسے ہے؟
عمومی حالات میں انہی لوگوں کو کہا جاتا ہے لیکن جب صاحب کلام نے قوسین میں وضاحت کر دی ہے کہ اس کی مراد کیا ہے تو پھر لا مشاحۃ فی الاصطلاح کے مطابق اس پر اتنے مضامین لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟
اس جملے کا کیا مطلب ہے؟ اور کیا یہ اہل حدیث, اسلاف اور محدثین کا عقیدہ نہیں ہے؟
اس جملے میں "مرادی یا حقیقی معنی" کی تفویض کا ذکر ہے. جسے امام مالک رح نے "کیفیۃ" کا نام دیا ہے. اس میں "لفظی معنی" کا ذکر نہیں کیا گیا.
کیا اہل حدیث حضرات یہ نہیں کہتے کہ ید, ساق وغیرہ کی کیفیت اللہ پاک کو ہی معلوم ہے؟
لولا إذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا أن نتكلم بهذا..... الآية
"کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب تم نے یہ سنا تو کہہ دیتے کہ ہمیں کوئی حق نہیں کہ اس پر بات کریں؟"
اپنی زبانوں اور سوچ کو محفوظ رکھیے. حقیقت حال نہ واضح ہے اور نہ عدالت میں ثابت.
اہل علم حضرات کی گفتگو میں دخل دینے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ ایک خیال عرض کرنا چاہتا ہوں۔
وہ چیزیں جو ہر وقت ظاہر ہوں یا اجتماعی ہوں ان پر صحابہ کرام کی خاموشی کم از کم اس کے جائز ہونے یا اس میں گنجائش ہونے کی تو تائید کرے گی۔ ورنہ یہ یامرون بالمعروف و ینہون عن المنکر کی خاصیت کے خلاف ہے۔
میرا مسلک ایک مشت کا ہی ہے لیکن فہم سلف کی وجہ سے.
باقی تکثیر کا معنی زیادہ کرنا. زیادہ کی لغت میں کوئی حد نہیں ہوتی.
ایفاء اور اتمام کا معنی پورا کرنا. ان کی حد تو ہوتی لیکن اختتام پر. یعنی داڑھی نکلتی رہے حتی کہ نکلنا رک جائے تو پوری ہو جائے گی.
اعفاء اور ارجاء کا معنی چھوڑ دینا, لٹکانا. ان کی...
محترمی عمران بھائی!
میرا خیال ہے کہ خضر بھائی کی بات لغت کے لحاظ سے درست ہے۔ اعفاء کا معنی لغتاً ترک ہے حتی کہ چیز کثیر ہو جائے۔
کتنی کثیر اور کتنا ترک؟ یہ فقہ کے موضوعات ہیں جو دیگر دلائل وغیرہ سے اخذ کیے جاتے ہیں۔
ظاہر حدیث، لغت سے وہی نکلتا ہے جو خضر بھائی فرما رہے ہیں۔
تمام محترم بھائی حضرات!
بجائے لڑنے کے اگر ایک دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش کریں تو کتنا اچھا ہوگا۔ جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے:
خضر بھائی فرماتے ہیں کہ حدیث میں "اعفاء" کا لفظ ہے اور اس کا مطلب چھوڑنا ہے۔ یعنی کبھی نہ کاٹو، ہمیشہ چھوڑے رکھو۔ اس لیے داڑھی کبھی نہیں کاٹیں گے۔
عمران بھائی فرماتے ہیں...
کافی عرصہ کے بعد اس تھریڈ کا لنک دوبارہ ملا ہے۔
میں نے اس تھریڈ میں لکھنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ میں نے کافی تحقیق کی تو مجھے اسلاف میں سے ایسا کوئی معتمد نام نہیں ملا جس نے یہ موقف اختیار کیا ہو۔ اور میں ایسی صورت میں اپنے فہم کو ناقص سمجھتا ہوں۔ ٹھیک ہے کہ مجھ پر لازم میری تحقیق ہے لیکن بصورت...
کمال ہے! حیرت بھی ہوئی اور ہنسی بھی آئی۔
اور کچھ ایسے حضرات بھی یاد آئے جو عالم و عاقل ہونے کے دعوے دار ہیں اور ان کی داڑھیاں اسی طرح ہیں اور ان سے عجیب و غریب غلطیاں صادر ہوتی ہیں۔
ابتداء کی منتظر ہے۔
محترم! کچھ ناسازی طبیعت، کچھ قلت فرصت اور کچھ غموم تعلیم۔ مجھے اضافی سرگرمیوں کا موقع نہیں ملتا۔
جب کبھی موقع ملے گا تو اس موضوع کو بھی دیکھوں گا۔