الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
میرے محترم بھائی!
نصاب کا حصہ کتب مختلف چیزیں دیکھ کر بنائی جاتی ہیں. نور الانوار اصول فقہ میں کوئی بہت تحقیقی کتاب نہیں ہے لیکن ملا جیون رح کا سمجھانے کا انداز بہت عمدہ ہے اور وہ ایک موضوع پر آنے والی مختلف مثالوں کو بہت اچھے انداز سے لاتے ہیں.
اگر اس کے مقابلے میں کشف الاسرار یا التحبیر شرح...
مختصرا عرض ہے کہ:
اول: قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہدایت کی کتاب ہے. اس لیے قرآن نے اکثر چیزوں کو اسی طرح بیان کیا ہے جیسے وہ عمومی حالات میں نظر آتی ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر رہنمائی اور ہدایت حاصل کریں. قرآن کے اس انداز اور خصوصیت کو سمجھے بغیر اعتراض کرنا جہالت ہے.
دوم: زمین کے لیے "دحی" کا لفظ...
جزاک اللہ خیرا
شاید آپ نے اب بھی لنک تفصیلا نہیں دیکھا. احمد علی سہارنپوری رح دیوبندی عالم ہیں لیکن خلیل احمد سہارنپوری رح کی طرح نہ محقق ہیں فقہ میں اور نہ اتنے معتبر. آپ کا اصل میدان نسخ حدیث کی تحقیق تھا.
باقی رائی کو پہاڑ بنانا تو بہت آسان ہے. کسی بھی شخص کے آگے یہ لگا دیں کہ یہ فلاں فلاں...
عمدہ بات ہے.
ویسے اگر کسی عالم کی کہی ہوئی بات ہوتی تو میں تاویل کا سوچتا. اس کا تو قائل بھی نا معلوم ہے.
لیکن یہ حقیقت ہے کہ عربی شاعری اور اس کے مزاج سے اچھی طرح واقف شخص اس شعر میں قباحت محسوس نہیں کرتا. یہ تو ان کے شعراء کا طرز ہے.
لعنۃ ربنا عدد رمل... علی من رد قول ابی حنیفہ والے شعر کا...
قائل نے قرآن سے تشبیہ نسخ میں دی ہے جیسا کہ اصول ہے کہ غیر کامل چیز کو کامل سے تشبیہ دی جاتی ہے. اور مراد کتب فقہ حنفی ہیں. احادیث کے تعلق سے قائل نے نہیں کہا, نہ ہی یہ حدیث کی کتاب ہے.
یہ تو میں بھی نہیں کہہ رہا کہ کسی حنفی عالم نے بھی یہ اصول امام صاحب کی طرف منسوب نہیں کیا۔
لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ لنک میں موجود بحث کو پڑھ ہی نہیں رہے۔ بہرحال آپ کی اپنی مرضی ہے۔
والسلام
اس لنک میں یہ ہے کہ محققین احناف کا یہ اصول نہیں ہے.
اسحاق بھائی نے ایک اور بھائی کا کلام نقل کیا ہے بلاتحقیق. اس پر میں نے یہ عرض کیا تھا.
باقی ایک دوسرے پر طعن و اعتراضات وغیرہ یہاں چلتے رہتے ہیں. اگر آپ حصول علم کی غرض رکھتے ہیں تو خود کو معتدل رکھ کر جو جہاں سے ملے وہ نوٹ کرتے جائیے...
محترمی! کاپی پیسٹ کا ذکر میں نے کیا تھا اور وہاں دوسری جگہ کا لنک بھی دیا تھا. باقی اسحاق سلفی بھائی کا میں احترام کرتا ہوں.
وہ ایک پوسٹ تھی اور اس پر بات میری طرف سے ختم سے ختم ہو گئی تھی اور شاید اسحاق بھائی کی طرف سے بھی.
جزاک اللہ خیرا.
دو سوال ہیں. ذرا سی وضاحت فرما دیجیے گا.
1. آپ نے اس سے آخری عمل پر استدلال کیسے کیا ہے؟
2. فقیر الی اللہ بھائی کے اس نکتہ کا کیا جواب ہوگا؟
کہتے ہیں کہ اہل المکۃ ادری بما فیہا. اہل مکہ, مکہ میں موجود چیزوں کو زیادہ جانتے ہیں.
ایک جگہ سے دو مالکی علماء کے اقوال بحوالہ مواہب الجلیل اور مقدمات ابن رشد نقل کر رہا ہوں
قال الحطاب: « المدونة أشرف ما ألف في الفقه من الدواوين، وهي أصل المذهب وعمدته»، وقال أبو الوليد بن رشد (ت520ﻫ): «أصل...