الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ویسے ایک بات سوچنے کی ہے.
اگر ہاتھ سے مراد اردو کا معروف ہاتھ لیں یعنی ہتھیلیاں اور انگلیاں تو اسے بازو پر رکھنے کا مطلب یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ "مکمل بازو" پر رکھا جائے. کیوں کہ ہاتھ بہر حال بازو سے چھوٹا ہوتا ہے.
اس لیے ہاتھ یا تو بازو کے شروع میں آئے گا یا درمیان میں اور یا آخر میں. صاحب کلام...
بہ ایں صورت پھر یہ معنی بھی ثابت نہیں ہوتا کہ داڑھی کو اس کے حال پر ہی چھوڑ دیا جائے. بلکہ تکثیر ثابت ہوتی ہے. اور تکثیر ایک "مجمل" لفظ ہے. مجملات کی تاویل کی جاتی ہے اس لیے اس کی حد (1) اجتہادا اور (2) نصا عن الراوی ایک مشت مقرر کی جا "سکتی" ہے.
آپ تکثیر کی کیا تحدید کریں گے اس صورت میں؟
حکم...
زغل العلم
http://waqfeya.com/book.php?bid=2692
زغل العلم و النصیحۃ بتحقیق الكوثریؒ
https://archive.org/details/ZaghluAl_Elm
اس لنك كو بهی دیكھ لیجیے گا۔ عمدہ کلام ہے۔
http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?p=120943#post120943
(اس وقت ملتقی اہل الحدیث کا سرور غالبا ڈاؤن ہے۔)
بہت سے علماء کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ زغل العلم اور النصیحۃ ایک ہی کتاب ہیں۔ حالانکہ یہ دو الگ الگ کتب ہیں۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے بعض علماء نے زغل العلم کی بھی امام ذہبی سے نفی کی ہے۔ یہ بات درست نہیں۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کتاب کا نام "زغل العلم" ہے۔ نیٹ پر اس کا مخطوطہ بھی دستیاب ہے اور مکتبۃ الصحوۃ کا مطبوعہ نسخہ بھی موجود ہے۔ اس کی نسبت ذہبیؒ کی طرف ابن حجرؒ نے بھی کی ہے۔
مذکورہ عبارت اس کتاب میں نہیں ہے بلکہ وہ غالبا علامہ ذہبیؒ کی طرف منسوب "النصیحۃ الذہبیۃ" میں ہے۔ لیکن اس...
خضر بھائی صرف علم میں اضافے کے لیے پوچھ رہا ہوں.
مجھے علم ہے کہ اس سے مستقبل کے کسی مکتب فکر کا نہ ثبوت ہو سکتا ہے نہ رد.
لیکن یہ قول کن کے بارے میں ہے؟ اگر ہم یہ جان لیں تو ان کے اور حضرت عمر رض کے طرز استنباط میں فرق ڈھونڈ سکیں گے. اس کا فائدہ ہوگا.
جزاك الله احسن الجزاء
سب سے پہلے تو معذرت کہ آج آپ کی یہ پوسٹ دیکھی۔
میرا مدعا یہ تھا (جو شاید میں سمجھا نہ پایا ہوں) کہ اسد بن موسی نے یہاں یحیی بن سعید سے آخر تک سند کا ذکر ہی غلط کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے بڑے بڑے رواۃ نے (سفیان وغیرہ) اس روایت کو دو راویوں سے نقل کیا ہے یعنی سعد اور...
بلکہ یوں کہیں کہ صحابہ کی اکثریت کم فقہ رکھتی ہوگی اور ہم لوگوں میں سے جس نے مکتبہ شاملہ کی کتب کی تمام حدیثیں پڑھ لیں وہ تو صحابہ سے.....
ہر کسی کی ہر بات قابل اعتناء نہیں ہوتی.
کفایت اللہ صاحب نے اس پر بالکل غور نہیں کیا کہ بہت سے صحابہ کے پاس بہت سی احادیث نہیں تھیں جیسا کہ عمر رض. وہ دوسروں سے پوچھتے تھے. ان کے اصول پر تو ابن خزیمہ اور حاکم وغیرہ بھی عمر, ابن مسعود, ابن عباس رض وغیرہ سے زیادہ فقیہ ثابت ہو جائیں گے