الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آپ نے جو روایت پیش کی اس میں جہرا آمین کا تو ذکر ہی نہیں اور مطلقا آمین تو احناف بھی کہتے ہیں۔
پھر اگر جہرا آمین مراد ہو تو سری نمازوں میں جب یہود مساجد کے آس پاس بازاروں میں ہوتے ہیں تب بھی کہنی چاہیے۔ تب تو آپ بھی چڑتے ہیں۔
بہر حال اس کا تعلق موجودہ بحث سے نہیں۔ براہ کرم موضوع کی طرف آئیے۔
منکر سے مراد یہ ہوگا کہ بیت المقدس سے آگے معراج کو جسمانی نہیں مانتا۔
اور غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ بیت المقدس تک معراج قرآن سے ثابت ہے یعنی نص متواتر سے اور اس سے آگے اخبار آحاد سے۔
لیکن مجھے اس مسئلے کے بارے میں علم نہیں ہے۔ اور بغیر علم کے کچھ نہیں کہنا چاہیے۔
غیر متعلق
میں نے پوچھا ہے کہ آپ نے جو کہا ہے کہ صحیح حدیث پر عمل کیا جائے نہ کہ ضعیف احادیث پر تو ابو ہریرہ رض کے بارے میں کیا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی روایت کردہ حدیث کو کیوں چھوڑ دیا؟
محترم ان محدثین کی بات سر آنکھوں پر۔ لیکن تحقیق کا اصول یہ نہیں کہتا۔ ہمیں خود بھی دیکھنا چاہیے۔ ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔
ویسے بھی ان مسائل میں بعض جگہ مسلکی اختلاف بھی کارفرما ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ انہوں نے جو بات کی اس سے دوسرا فریق بھی مطمئن ہو۔ ممکن ہے وہ شعبہ کی بات کو اختیار کرتے ہوں اور...
عجیب بات ہے۔
اتنی بڑی غلطی کہ رفع یا مد کی جگہ خفض؟؟ بالکل مخالف؟؟
اس کے مقابل رفع صوت کی روایات اگر بتا دیں جن میں شعبہ کے علاوہ دیگر رواۃ یہی ہوں تو یہ بات میرے لیے واضح ہو جائے گی ان شاء اللہ۔
(میری اپنی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ دونوں روایات مین تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ نہ تو بہت زور سے آواز...
یوں تو آپ نے بھی کبھی کوئی کارنامہ نہیں کیا۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ میں تو امت کے ایک معتد بہ طبقے کے طرز فکر کی وضاحت کر رہا ہوتا ہوں اور آپ صرف اپنی ذاتی سوچ کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جیسا کہ فورم پر ہی تقلید، ابو حنیفہؒ وغیرہ کے بارے میں واضح ہو ہی چکا ہے کہ آپ کے اپنے علماء کی جو...
اب یہ کس نے کہہ دیا؟
محترم بھائی اگر آپ علمی بحث کرنا چاہتے ہیں کسی بھی موضوع پر تو سب سے پہلے دوسروں کے بارے میں آپ کو اپنے نظریات ختم کرنے ہوں گے۔
دیکھیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ تصوف (جاہلانہ چیزیں نکال کر) ایک درست عمل ہے۔ یہ اصلاح نفس کا ایک طریقہ ہے۔ اب کیا میں آپ کے کہنے پر یہ سمجھنا چھوڑ...
کیا عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں؟
لگتا ہے آپ کو یہی علم نہیں کہ ہم کیا کہتے ہیں اور کیا نہیں۔
یہ کس نے کہا ہے کہ مجدد الف ثانی وغیرہ کی سیرت نبی ﷺ کے مقابلے میں اسوہ حسنہ ہے؟
پتا نہیں کیا کیا سوچتے ہیں اور اس پر حکم لگانا شروع ہو جاتے ہیں۔ کرتے رہیے۔
حدیث ضعیف اور حدیث موضوع میں بہت فرق ہوتا ہے۔
ضعیف کا عموما مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند میں کوئی کمزور راوی ہے لیکن کیا اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ یہ حدیث یقینا جھوٹی ہے؟ امکانات کی بنیاد پر اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث کو یوں جھوٹا کون کہہ سکتا ہے۔
جزاک اللہ بھائی۔
ان شاء اللہ لولی بھائی اسے یونی کوڈ میں لگا دیں گے۔
ابو عبدالله بھائی اور لولی بھائی پہلے آپ کا اعتراض تو مکمل ہو جائے۔ جواب کی باری بعد میں آتی ہے۔