الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
نعوذ باللہ من ذلک۔ ہمارے پاس کسی کا غلطی سے پین یا پنسل بھی رہ جائے تو اسے لوٹانے کی فکر ہوتی ہے، اور یہاں تو دینی کتابوں پر ہی ہاتھ صاف ہو رہے ہیں۔ اللہ ہدایت دے۔ آمین
وثقوہ کا مطلب ہے اس کو محدثین نے ثقہ کہا ہے۔
اور ثقہ کا مطلب ہے: وہ ثقہ ہے۔
پہلا قول محدثین یا علماء کے طرف منسوب ہے، جبکہ دوسرا قول جزما کہا جا رہا ہے۔
واللہ اعلم
صدوق جب کہا جائے تو راوی حسن الحدیث ہوتا لیکن ثقہ سے نیچے ہونے کی وجہ سے اس کا حافظہ اتنا تیز نہیں ہوتا اس لئے ینظر فیہ کا حکم ہے جس سے مراد یہ دیکھنا ہے کہ آیا اس نے کسی ثقہ راوی کی مخالفت تو نہیں کی، یا اس میں کوئی علت قادحہ تو نہیں، یا اس نے اضطراب تو نہیں کیا، یا اس نے متن میں نکارت تو نہیں...
وعلیکم السلام بھائی۔
نہ تو میں پاکستان میں ہوں۔
نہ ہی میرے کمپیوٹر میں اتنا سامان لوڈ ہے اور اگر ہو بھی تو سپیس بہت زیادہ ہے۔
نہ ہی کوئی فالتو فائل ہے۔
نہ ہی میں ہر ویب سائٹ کھولتا ہوں اور ویسے اینٹی رائرس بھی ہے۔
میرے خیال سے لائبریری میں ہی کوئی مسئلہ ہے کیونکہ دوسرے لوگ بھی یہی مسئلہ دیکھ رہے...
اسلام علیکم
جب سے محدث لائبریری کو اپڈیٹ کیا گیا ہے سائٹ ہر صفحے کو کھولنے میں بہت وقت لینے لگی ہے۔ اس سے سرچنگ وغیرہ میں بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں کچھ کریں۔ غالبا گرافکس وغیرہ کی وجہ سے زیادہ لوڈ پر رہا ہے۔
یہ کہنا کہ وہ صحیح نہیں۔۔۔۔۔ یہ صحیح نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ دونوں میں سے صحیح کیا ہے!؟
بھائی عبد اللہ بن ابی موسی جس کا ترجمہ آپ کو نہیں ملا اس کا صحیح نام دراصل "ابو عبد اللہ بن ابی موسی" ہے اور یہ وہی احمد بن عیسی المصری ہے جس کو آپ نے ایک الگ راوی کے طور پر لکھا ہے۔ مسند سعد...
ذہبی کے بقول، "الإِمَامُ، الحَافِظُ، النَّاقِدُ" الجورقانی رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: "هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ حَسَنٌ" (الاباطیل والمناکیر: ج 2 ص 82)
یہ تین راوی تین مختلف طبقات کے نہیں ہیں بلکہ محمد بن موسی نے پہلے اسے عون عن امہ (ام جعفر) سے روایت کیا، پھر عمارۃ عن ام جعفر سے نقل کیا۔ الغرض عون اور عمارہ اس روایت کو ام جعفر سے روایت کرنے میں ایک دوسرے کے متابع ہیں۔ اور اگر دونوں کو مقبول بھی تسلیم کیا جائے تو ایک مقبول کی روایت دوسرے مقبول...
اخي الكريم هل قرات مقالة الشيخ المفسر مولانا صلاح الدين يوسف حفظه الله المطبوع في مجلة الاعتصام
جی نہیں، اس مقالۃ کا نام کیا ہے۔ ابھی پڑھ لیتے ہیں۔ ان شاء اللہ۔