الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جمیعت نہیں بلکہ جماعت اشاعتہ التوحید والسنہ۔
آپ کا مذکورہ تنظیم شیخ عبدالسلام رستمی صاحب جو چند دن پہلے ہی وفات ہوگئے ۔کی تنظیم ہے جوتقریباً ہر لحاظ سے اہل حدیث ہی میں ضم ہے ۔
جمیعت اشاعتہ التوحیدوالسنہ علی منھاج سلف الصالحین ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !سلام کا بہتر جواب کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو آدمی آپ کو "السلام علیکم " کہے ،آپ اسے یوں جواب دیں " وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ" اگر کوئی آپ کو "السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہے " تو آپ اس کو جواب دیں...
لیکن اگر کوئی ایسا برائے نام اسلامی ملک(جس میں کفار کا قانون چلتا ہو ، ) جو حربی کفارکی رضا حاصل کرنے اور چند ڈالر حاصل کرنے کے لیے ان سے مل کر مسلمانوں کو قتل کرے ؟
اس باب میں میرا آپ کو یہ مشورہ ہے کہ ان شیوخ کے ساتھ ساتھ زیادہ توجہ شیخ زبیر علی زئی صاحب، شیخ عبدالسلام رستمی صاحب اور شیخ امین اللہ پشاوری صاحب پر دے دیں ۔
امام بیہقیؒ نے روایت مذکورہ کو امام ابوداؤد ؒ کی کتاب المراسیل (ح ۸۷) سے نقل کرنے سے پہلے اسے "حدیث منقطع" یعنی منقطع حدیث لکھا ہے ۔ (السنن الکبری ۲۲۳/۲) منقطع حدیث کے بارے میں اصول حدیث کی ایک جدید کتاب میں لکھا ہے کہ: ”المنقطع ضعیف بالإتفاق بین العلماء و ذلک للجھل بحال الراوي المحذوف“ علماء کا...
کلمہ گو بھی مشرک ہوسکتا ہے ۔لیکن اس کا کلمہ پڑھنا اس کے لیے آخرت میں کارگر ثابت نہیں ہوگا ۔ ممکن ہے کہ اللہ ج دنیا میں اس کو اس کلمہ پڑھنے کے بدلے چند دنیاوی فوائد دے دیں ۔
’الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ۔‘‘
وہ لوگ جو ایمان...
اس پر آپ نے کوئی دلیل نہیں دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مومن مسلمان کا کام ہی تو یہی ہے کہ وہ یا تو قرآن پڑھے گا یا نمازیا وضو، یا واعظ ونصیحت کرے گا یا تصنیف وتالیف کرے گا ۔
جب ایسے شخص پر سلام منع ہے تو پھر کیسے شخص پر سلام کہا جائے گا ۔
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ: )) ﺃَﻓْﺸُﻮﺍ...
یہ قیاس مع الفارق ہے ۔ اس لیے کہ مفلوج عضو ، جسم کا حصہ تھی لیکن ناکارہ ہونے کی صورت میں کاٹنا پڑ رہا ہے ، جبکہ شرک کے اڈے بنانا ہمارے دین کا کبھی بھی حصہ نہ رہا ہے ۔
اوران اڈوں کی تباہی ہمارے لیے " ویشف صدور قوم مومنین " کے درجے میں ہیں ۔ اس لیے خوبصورت ہے ۔