الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
محترم بھائی! قرآنی آیات کی تفسیر شعروں سے نہیں بلکہ احادیث مبارکہ اور اقوال صحابہ وکبار تابعین وغیرہ سے کی جاتی ہے کہ تابعین عظام نے یہ تفسیر صحابہ کرام سے اور انہوں نے نبی کریمﷺ سے سیکھی۔ فرمان باری ہے:
﴿ وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دجال زمین میں ایک سال اور کچھ دن نہیں بلکہ چالیس دن رہے گا، جس کا ایک دن سال کے برابر، ایک دن مہینہ کے برابر، ایک دن ہفتہ کے برابر اور باقی 37 ایام ہمارے عام ایام کی طرح ہوں گے، جس طرح صحابہ کرام نے جو نبی کریمﷺ سے سنا اس کی تاویل کیے بغیر - خواہ وہ ان کے فہم...
حیدرآبادی بھائی! تصویر کے معاملے میں ایک تو شرعی رائے کا مسئلہ ہے، ہماری رائے اس سلسلے میں یہ ہے کہ تصویر کی حرمت انتہائی شدید ہے، البتہ کسی اشد مجبوری یا دعوتی ضرورت کی حد تک اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں محدث کے اس خاص نمبر کا مطالعہ مفید رہے گا۔...
ایک وقت تھا کہ جب بڑے بڑے علماء دین کی تشریح میں بغیر علم بات نہیں کرتے تھے اور انہیں اس بات سے ان کا تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان روکتا تھا:
﴿ وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۚ إِنَّ السَّمعَ وَالبَصَرَ وَالفُؤادَ كُلُّ أُولـٰئِكَ كانَ عَنهُ مَسـٔولًا ٣٦ ﴾ الإسراء
جس بات کی تجھے خبر...
حدیث وسنت مترادف الفاظ ہیں۔
اگر ان میں کوئی فرق ہے تو صرف اتنا کہ سنت نبی کریمﷺ کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں جبکہ حدیث اس کی روایت کو۔ گویا حدیث وسنت میں ہوبہو وہی فرق ہے جو قراءت وقرآن میں ہے۔
یعنی:
السنة: قول النبيﷺ وفعله وتقريره
أما الحديث: فهو ما أضيف إلى النبي ﷺ من قول أو فعل...
بھائی! آپ واضح بات کیوں نہیں کرتے؟؟؟
کیا دجال اور یاجوج ماجوج آچکے ہیں؟؟؟ اگر آچکے ہیں تو کب اور کہاں؟
اور اگر ابھی تک آئے نہیں کہ کب آئیں گے؟ اگر آپ ماہ وسال بیان کریں تو مجھے اس بارے میں آپ سے اختلاف ہے۔ اور اگر آپ کہیں کہ بس آئے کہ آئے تو میری بھی یہی رائے ہے کہ ان کا آنا بہت قریب ہے لیکن...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم بھائی! قرآن وسنت میں جس چیز کی مدت ماہ وسال وغیرہ میں بیان کر دی گئی ہے وہاں تک تو یہ بات ٹھیک ہے، مثلاً امام مہدی سات سال حکومت کریں گے۔ یا دجال دنیا میں 40 دن (جن میں ایک دن ایک سال، ایک دن ایک مہینہ اور ایک دن ایک ہفتہ کا ہوگا اور باقی دن عام دنوں کی...
اصل سوال یہ نہیں کہ امام مہدی، دجال، نزولِ مسیح اور یاجوج ماجوج کی آمد اب قریب ہے یا دور!!
اگر یہی سوال ہے تو اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ ان کی آمد بہت بہت قریب ہے۔ بلکہ ان سب سے آگے بڑھ کر یہ جس چیز کی نشانی ہیں (یعنی قیامت) وہ چیز بذات خود بہت قریب ہے۔ ﴿ وما يدريك لعل الساعة تكون قريبا...
اس کی حقیقی وجہ جو در اصل آج مسلمانوں کی پسماندگی اور تنزّلی کی اصل وجہ ہے وہ ہے:
غفلت
﴿ اقتَرَبَ لِلنّاسِ حِسابُهُم وَهُم فى غَفلَةٍ مُعرِضونَ ١ ما يَأتيهِم مِن ذِكرٍ مِن رَبِّهِم مُحدَثٍ إِلَّا استَمَعوهُ وَهُم يَلعَبونَ ٢ لاهِيَةً قُلوبُهُم ﴾ ۔۔۔ سورة الأنبياء
لوگوں کے حساب کا وقت...
سگے کزن سے شائد بلکہ یقیناً آپ کی مراد فرسٹ کزن (خالہ زاد، ماموں زاد، چچا وتایا زاد اور پھپھو زاد) ہے!
جس طرح فرسٹ کزنز سے نکاح جائز ہے اسی طرح ان کی اولاد سے بھی جائز ہے۔ یہ اس مقدس جوڑے کی کوئی خصوصیّت وغیرہ نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سات نسبی حرام رشتے (مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھپھیاں، خالائیں،...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ارسلان بھائی!
جو حکم چچا زاد بہن سے شادی کا ہے وہی حکم چچازاد بھائی کی بیٹی سے شادی کا ہے ۔ اس لئے سیدہ فاطمہ وسیدنا علی رضی اللہ عنہم اجمعین کی شادی کو کزن میرج ہی کہا جاتا ہے۔
جس طرح جو حکم خالہ سے شادی کا ہے وہی حکم ماں یا باپ کی خالہ سے شادی کا ہے۔
یا...
مفتی عبد اللہ صاحب نے اس کا صحیح جواب دیا ہے کہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے۔
اور جگہوں پر بھی ہمزہ گرا ہوا ہے:
مثلاً
﴿ وَقالَ اركَبوا فيها بِسمِ اللَّـهِ مَجر۪ىٰها وَمُرسىٰها ۚ إِنَّ رَبّى لَغَفورٌ رَحيمٌ ٤١ ﴾ ۔۔۔ هود
﴿ قالَت يـٰأَيُّهَا المَلَؤُا۟ إِنّى أُلقِىَ إِلَىَّ كِتـٰبٌ كَريمٌ ٢٩...
لا تبكُوا على الدِّينِ إذا وَلِيَهُ أهلُهُ ، ولكنِ ابكوا عليْهِ إذا ولِيَهُ غيرُ أهلِهِ
الراوي: أبو أيوب الأنصاري المحدث:الألباني - المصدر: السلسلة الضعيفة - الصفحة أو الرقم: 373
خلاصة حكم المحدث: ضعيف
لا تَبْكُوا على الدِّينِ إذا وَلِيَهُ أَهْلُهُ ، ولكِنِ ابْكُوا عليه إذا وَلِيَهُ...