الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی
مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص
حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے...
اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم
ہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہم
کیا پوچھتے ہو جھومتے آئے کہاں سے ہم
پی کر اٹھے ہیں خمکدۂ آسماں سے ہم
کیوں کر ہوا ہے فاش زمانہ پہ کیا کہیں
وہ راز دل جو کہہ نہ سکے راز داں سے ہم
ہمدم یہی ہے رہ گزر یار خوش خرام
گزرے ہیں لاکھ بار اسی کہکشاں سے ہم
کیا...
ظلمتِ شب میں بھٹکتے ہوئے راہی کے لیے
عزم محکم ہو تو راہیں بھی نکل آتی ہیں
اپنی منزل پہ وہ انسان پہنچ جاتا ہے
بجلیاں خود اسے قندیلیں سی دکھلاتی ہیں
*حسرت جے پوری*
واقعی عجیب ہیں یہ لوگ
سعودیہ کی بنائی ہوئی مسجدوں میں نماز پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں آل سلول۔
سعودیہ سے چھپے ہوئے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور کہتے ہیں آل سلول۔
پورے امن و امان کے ساتھ سعودیہ میں حج اور عمرہ کرتے ہیں۔ مسجد نبوی کی زیارت کرتے ہیں اور کہتے ہیں آل سلول۔
ہر چھوٹے بڑے مسئلے میں سعودیہ...
میں سلف صالحین کے عقیدے کی طرف دعوت دیتا ہوں. سلف صالحین کا عقیدہ قرآن و سنت اور جو خلفائے راشدین سے منقول ہے اس پر عمل پیرا ہونا ہے.
ترجمانی : حافظ عبد العزيز آزاد
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے
اے مدینے کے زائر خُدا کے لیے ، داستانِ سفر مُجھ کو یوں مت سُنا
بات بڑھ جائے گی ، دل تڑپ جائے گا ، میرے محتاط آنسُو چھلک جائیں گے
کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے
صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل
افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے
ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے
سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل
ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں تھے...
میرے ہمسفر
میرے ہمسفر تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ھے کسی دھوپ چھاﺅں کے کھیل سا
اُسے دیکھتے،اُسے جھیلتے
مری آنکھ گرد سے اٹ گئی
مرے خواب ریت میں کھو گئے
مرےہاتھ برف سے ہوگئے
میرے ہمسفر
میرے بے خبر تیرے نام پر
وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹ پر
وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر
وہ نہیں رہے
وہ نہیں رہے کہ جو اک ربط...