الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
میرے بھائی! یہ تھریڈ تو فہم اصول حدیث کے حوالے سے تھا، اب اجماع کی بات شروع ہوگئی، اس طرح تو یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا ۔۔۔
حدیث کے متعلق اب تک جو معلومات آپ کو ملیں، اب آپ کا اس ساری صورتحال میں کیا موقف ہے؟؟؟
میری ناقص رائے میں سورۃ النساء کی آیت نمبر 3 یا سیدنا ابن عباس کے صحیح بخاری میں موجود اثر سے تعدّد ازواج کی مشروعیت کا علم تو ہوتا ہے، لیکن ان سے تعدد ازواج کی فضیلت بہرحال ثابت نہیں ہوتی۔
البتہ اس کیلئے دیگر نصوص پر غور ضرور کیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم!
ہمارے پاس نبی کریمﷺ کی سنتِ ترکیہ موجود ہے کہ آپﷺ نے اپنی پوری نبوی زندگی میں کبھی کسی مردے کو قبر میں کلمہ کی تلقین نہ کی، نہ ہی کسی صحابی نے اور نہ ہی کسی تابعی نے۔
ویسے بھی احادیث مبارکہ میں صراحت موجود ہے کہ حدیث مبارکہ لقنوا موتاكم لا إله إلا الله میں موتاکم سے مراد قریب المرگ لوگ ہیں۔...