الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
سورة التوبۃ کی درج بالا آیت کریمہ میں سیدنا ابو بکر کی بہت بڑی فضیلت ذکر ہوئی ہے۔
لیکن یہاں وہ فضیلت یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کے بعد انہیں دوسرا قرار دیا ہے۔
بلکہ وہ فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک سفر میں نبی کریمﷺ کی ہمراہی اور خدمت کا شرف پوری اُمت میں سے انہیں بخشا اور...
ایک اور صاحب (م ا ب) نے کچھ دن پہلے رمضان المبارک میں ’محدث ویب سائٹس‘ کیلئے ایک لاکھ روپے دئیے ہیں۔
جزاه الله خيرا وبارك في أمواله وأولاده
ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم
یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے کہ اگرچہ خیر وشر دونوں کے خالق اللہ تعالیٰ ہیں: ﴿ قُل أَعوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ ١ مِن شَرِّ ما خَلَقَ ٢ ﴾ ۔۔۔ الفلق اور اللہ کی طرف دونوں کی نسبت کی جا سکتی ہے کیونکہ اختیار انہیں کا ہی دیا ہوا ہے لیکن ادب کا تقاضا یہ ہے کہ خیر کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے اور...
کفارِ مکہ بھی ارادۂ کونیہ اور شرعیہ میں تفریق نہ کرنے کے بناء پر بعض اوقات اپنے شرک اور گناہوں کی (اللہ کے ارادۂ کونیہ کی) یہ دلیل پیش کرتے کہ اس دنیا میں اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا لہٰذا اگر یہ شرک غلط ہوتا تو نہ ہم شرک کر سکتے نہ ہی ہمارے آباؤ اجداد:
﴿ وَقالَ الَّذينَ...
بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا ارادۂ کونیہ اور ارادۂ شرعیہ ایک ہی ہوتا ہے۔
بعض اوقات ایک شے اللہ کا ارادہ کونیہ تو ہوتا ہے، شرعیہ نہیں
اور بعض اوقات ایک شے اللہ کا ارادہ شرعیہ تو ہوتا ہے، ارادۂ کونیہ نہیں
اس کی مثال اوپر پیش کی گئی مثال ہی ہے، مثلاً
سیدنا آدم کا درخت کا پھل کھانا اللہ کا ارادۂ...
ارادۂ شرعیہ
’شرع‘ سے ہے، بمعنیٰ اللہ کی مرضی وخوشی (خواہ وہ پوری ہو یا نہیں۔) اللہ کی خوشی اور رضا کیا ہے؟ اس کا علم ہمیں انبیاء ورسل پر اُتاری گئی وحی (شریعت) سے ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو شریعت (اپنی مرضی یا دوسرے الفاظ میں ارادۂ شرعیہ) کا پابند نہیں کیا، فرمانِ باری...
ارادہ کونیہ
’کَون‘ بمعنیٰ ہونے سے ہے، یعنی ہر شے (خواہ وہ اللہ کو پسند ہے یا نہیں) جو قیامت تک ہونی ہے، وہ اللہ نے پہلے ہی اپنے ازلی ودائمی علم سے لکھ دی ہے جسے تقدیر کہا جاتا ہے۔
اس اعتبار سے سیدنا آدم کا اللہ کا نیک بندہ ہونا اللہ کا ’ارادہ کونیہ‘ ہے۔
اسی طرح شیطان کا اباء وتکبر بھی اللہ...
اگر اللہ تعالیٰ اپنی ہر مرضی (ارادۂ شرعیہ) کو ہم پر مسلط کردیں تو پھر اختیار ہی ختم ہوجائے اور ہم بھی دیگر مخلوقات کی طرح مجبورِ محض ہوجائیں۔
پھر (فرشتوں کی طرح) مجبوراً نیکی کرنے کی بنا پر ہم جنت کے مستحق بھی نہ ہوں گے اور گناہ ہم کر ہی نہ سکیں گے۔
البتہ اللہ کا ہر حکم (ارادۂ کونیہ) ضرور...
جزاکم اللہ خیرا!
بہت ہی اچھی بات کی طرف آپ نے توجہ دلائی۔
واقعی ہی قرآن کریم کو نازل کرنے کا اصل مقصد اس میں غور وفکر کرنا اور اپنی اصلاح کرنا ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ مُبَـٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَـٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ٢٩...