الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ایک نظر ادھر بھی:
جامع ترمذی اور العلل الکبیر کے مابین تعارض ثابت کرنے والے ایک نگاہ إمام العلل ترمذی پر بھی ڈالیے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’و سألت أبا زرعۃ و محمدًا عن ہذا الحدیث، فقالا: لیس بصحیح، لأن ابن المبارک روی ہذا عن ثور عن رجاء۔ قال: حدثت عن کاتب المغیرۃ مرسل عن النبي رحمہ اللہ و لم...
دیگر مغالطات کا جائزہ:
…ندیم صاحب رقم طراز ہیں:
’’اگر یہ اب بھی گمشدہ ہی ہے تو ثابت کیوںکر ہو گئی!‘‘
(ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث، شمارہ: ۱۲۹-۱۳۲، ص، ۱۳۴)
بلاشبہ امام ترمذی کی اپنی تصنیف شدہ کتاب اب بھی مفقود کتب میں شمار ہوتی ہے، البتہ اس کی ترتیب موجود ہے جسے توسعاً ’’العلل الکبیر للترمذي‘‘ ہی کہا...
دونوں کتب میں ’’مقارب الحدیث‘‘ہے :
ندیم صاحب نے متصادم کی دوسری مثال یوں ذکر کی ہے:
’’سنن الترمذي (۱۷۲۶) میں سیف بن ہارون کو ’’مقارب الحدیث‘‘ لکھا ہے، جب کہ العلل الکبیر(۱/۲۶۳) میں اسے ’’لہ مناکیر‘‘ سے متصف کیا گیا ہے۔ اس طرح کی بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ والحمد للّٰہ۔‘‘ (ماہ نامہ اشاعۃ...
’’موافقت‘‘ کے نادر نمونے:
ندیم صاحب لکھتے ہیں:
’’آپ نے علمی دھونس جمانے کے لیے امام بیہقی سے لے کر اپنے معاصر تک حوالے نقل کر دیے جو بالکل بے سود ہیں، کیوں کہ ان میں سے اکثر کی بنیاد امام بیہقی ہیں۔ ‘‘
(ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث ،شمارہ: ۱۲۹-۱۳۲،ص: ۱۳۵)
اس فقیر پر علمی دھونس کی پھبتی موصوف کو...
نقلِ عبارت میں دیانت داری شرط ہے!
مولانا ندیم صاحب لکھتے ہیں :
’’خارجی قرائن میں پہلا قرینہ آپ نے یہ درج کیا کہ مولف کے زمانے میں اس کے معاصرین علماء اور تلامذہ میں کتاب معروف نہ ہو …اور یہ مسلّم حقیقت ہے کہ موجودہ العلل الکبیر مولف کے زمانے میں اس کے معاصرین علماء اور تلامذہ میں قطعاً معروف نہ...
مولانا زبیر کی’’بے اُصولی ‘‘:
مولانا ندیم لکھتے ہیں:
’’محض استدلال کو اصول شمار کرنا خود بے اُصولی ہے۔ جس طرح کسی محدث کا ضعیف روایت سے استدلال اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ اسی طرح کسی غیر ثابت کتاب سے استدلال یا حوالہ نقل کرنا اس کے ثابت ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔‘‘ (ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث، شمارہ...
الشیخ ابو عبیدہ کی رائے:
الشیخ ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان کی کتاب ’’کتب حذر منہا العلماء‘‘ اپنے موضوع پر ایک معرکہ آراء کتاب ہے جس میں اُنھوں نے ملحدین، مبتدعین اور زنادقہ وغیرہ کی کتب ذکر کرنے کے بعد جھوٹی، غلط منسوب، مسروقہ، موضوع اور ضعیف احادیث پر مشتمل، علمِ نجوم، شعبدہ بازی،...
روایت حدیث و کتاب کے بارے میں علامہ الحوینی کی رائے:
الشیخ ابو اسحاق الحوینی عالَمِ اسلام کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تالیفات و تحقیقات ایک صد چوالیس (۱۴۴) نا بہ نام مذکور ہیں۔ (مقدمہ نثل النبال: ۱/۵۵-۷۳۔طبع اول) جو اُن کے اس فن میں تبحر پر بہ خوبی دلالت کرتی ہیں (بلکہ نثل النبال کے...
کتاب الجہاد لعبد اللّٰہ بن المبارک:
مولانا ندیم صاحب رقم طرازہیں:
’’کتاب الجہاد لابن المبارک بہ سند صحیح ثابت نہ ہونے کی بنا پر متروک قرار پائی ہے۔ (دیکھیے تحریر علوم الحدیث: ۲/۸۷۹)۔‘‘
(ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث، شمارہ: ۱۲۹-۱۳۲ ،ص: ۱۳۳)
امام بن المبارک سے کتاب الجہاد کو روایت کرنے والا راوی سعید...
مسند الربیع کی کہانی شیخ زبیر کی زبانی:
مولانا ندیم لکھتے ہیں:
’’مسند الربیع بن حبیب بہ سند صحیح ثابت نہ ہونے کی بنا پر متروک قرار پائی ہے۔ ‘‘ (ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث، شمارہ: ۱۲۹-۱۳۲، ص: ۱۳۳۔ مئی تا اگست ۲۰۱۵ء )
اس مسند میں اور کیا کیا قباحتیں ہیں، مولانا زبیر مرحوم کے رشحات ِ قلم ملاحظہ فرمائیں...
العلل الکبیر کا مسندِزید سے تقابل!
ندیم صاحب لکھتے ہیں:
’’مولانا ارشاد الحق اثری مسند امام زید کی سند پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت زید سے اس سند کا راوی تنہا عمرو بن خالد الواسطی ہے اور وہی محدثین کرام کے نزدیک بالاتفاق کذاب اور وضاع ہے۔ کوئی قابلِ اعتبار قول اس کی توثیق میں منقول نہیں۔...
صحت ِ نسبت کے لیے محض سند کسوٹی نہیں:
مولانا ندیم ظہیر رقم طراز ہیں:
’’جب بھی علماء نے کسی کتاب کو غیر ثابت قرار دیا، ہمیشہ سندہی کی بنیاد پر دیا ہے۔ یہ کون سا اُصول ہے کہ جب کتاب کو غیر ثابت کہنا مقصود ہو تو سند پر بحث کر دی جائے اورجب اسے قبول کرنا ہو تو سند کو درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا...
امام البانی کی ناقص ترجمانی :
راقم الحروف کو امام سفیان ثوری کی وہ روایات دیکھنے کا موقع ملا جنھیں شیخِ مکرم نے ثوری کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف قراردیا۔ تو نظروں سے درج ذیل روایت بھی گزری:
’’إن اللّٰہ ملائکتہ یصلون علی میامن الصفوف۔‘‘
’’اللہ اور اس کے فرشتے صفوں کی داہنی جانب پر درود بھیجتے ہیں ۔‘‘...
عجیب تناقض:
العلل الکبیر میں مذکور امام بخاری کے قول کا مقصد یہ ہے کہ سفیان ثوری تین نام زَد اور دیگر بہت سے شیوخ سے تدلیس نہیں کرتے، یعنی ان سے امام ثوری کی معنعن روایت قابلِ احتجاج ہے۔ وہ تین شیوخ حسب ذیل ہیں :
(۱)۔ حبیب بن ابی ثابت، (۲)۔ سلمہ بن کہیل،(۳) منصور۔
مولانا مرحوم امام بخاری کے اس...
اعتراضات کا جائزہ
العلل الکبیرکے انکار کا سبب:
راقم الحروف نے متقدمین محدثین سے قلت اور کثرتِ تدلیس کے اثبات کے لیے مولانا زبیر علی زئی مرحوم کے سامنے امام بخاری کا قول پیش کیا، جس میں اُنھوں نے امام سفیان ثوری کو قلیل التدلیس بلکہ نہایت کم ترین تدلیس کرنے والا قرار دیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں ...
(سند ِ کتاب کے بارے میں شیخ البانی کا منہج)
اس کے باوجود علماء کے ہاں کتاب کی شہرت، ان کا اس سے استفادہ اور اعتماد کرنا اس کی استنادی حیثیت سے بحث کرنے میں کفایت کرجاتا ہے۔ اگر سند صحیح ہو تو اس کی صحت ِ نسبت دو چند ہو جاتی ہے، بہ صورت دیگر اسے نقصان نہیں۔ بنابریں جس نے بھی اس موضوع (الصلاۃ علی...
۱۸۔ أخبار القضاۃ لوکیع:
مولانا زبیر مرحوم مقاتلیۃ اور جہمیۃ کی مذمت کے بارے میں قاضی ابویوسف حنفی کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’أخبار القضاۃ المنسوب إلی محمد بن خلف بن حیان :۳/۲۵۸۔ وسندہ صحیح۔‘‘
(تحقیقی مقالات: ۱/۵۴۷)
سوال صرف اتنا ہے کہ منسوب (غیر ثابت!) شدہ کتاب میں مذکور قاضی...
۱۶۔ الإقناع لابن المنذر:
شیخِ مکرم لکھتے ہیں:
’’ام سلمہ رضی اللہ عنہاکی یہ حدیث پیش کرکے امام ابن المنذر نے لکھا ہے: پس اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے قربانی واجب وفرض نہیں۔ کیوں کہ اگر یہ فرض ہوتی تو اسے قربانی کرنے والے کے ارادے پر موقوف نہ کیا جاتا۔ (الإقناع لابن المنذر: ۱/۳۷۶)۔‘‘
(تحقیقی...
۱۳۔ سؤالات أبي داود للإمام أحمد:
امام ابوداود نے امام احمد سے جوسوالات کیے اور امام احمد نے ان کے جو جو ابات دیے، نیز امام ابوداود نے جرح و تعدیل کے بارے میں امام احمد سے جو سنا، اُنھوں نے اس کتاب میں ذکر کر دیا ہے۔ اس مطبوع کتاب میں پانچ صد ستر (۵۷۰) فقرے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس کتاب کو...
۱۲۔ علل الدارقطني:
امام نسائی کے بعد علل الحدیث میں شہرت پانے والے امام دارقطنی ہیں۔ ان کی معروف کتاب العلل الواردۃ في الأحادیث النبویۃ ہے۔ یہ کتاب امام صاحب نے زبانی املا کروائی تھی۔ اور سولہ جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ آخری جلد میں فہارس ہیں۔ اس کی ابتدائی گیارہ جلدوں کی تحقیق ڈاکٹر محفوظ...