الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
لوگوںکی دلجوئی کرنا،اجتماعیت پیداکرنا اورناراض لوگوںمیں صلح کروانا دین کےبڑے قواعدہیں جن پردین کی بنیادہے
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
( مجموع الفتاوى : ٥١/٢٨ )
غیراللہ سےجُڑاہواشخص،اس آدمی کی مانندہےجوسردی یاگرمی سے بچنے کیلئے مکڑی کےجالے سے بنے گھرکا سہارا لیتاہے
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ
مدارج السالکین(458/1)
قال شيخ الإسلام : . فَمَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . .
[ مجموع الفتاوى ٢ / ٣٦٢ ]
جس نے خلفاےراشدینؓ کی سنت سےتمسک کیا یقیناً اس نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی
امام ابن تیمیہؒ
قال الإمام ابن القيم رحمه الله: " السرُّ في استجابة دعوة المظلوم والمسافر و الصائم الكسْرة التي في قلب كُلِّ واحد منهم ".
مدارج السالكين (1 / 307)
امام ابن قیم رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں :
” مظلوم ، مسافر اور روزے دار کی دعا کی قبولیت کا راز یہ ہے کہ یہ سب شکستہ دل ہوتے ہیں ۔ “
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” سلف صالحین تقویٰ کے باوجود روتے تھے اور تو گناہ کر کے بھی ہنستا پھرتا ہے ۔“
قال ابن الجوزي رحمه الله : "كانوا يبكون مع التّقوى،وأنت تضحك مع الذنوب " ( الخواتيم : 245 )
کونسا آسمان مجھے اپنے زیر سایہ رکھےگا اور کونسی زمین مجھے اٹھائے رکھےگی جبکہ کتاب اللہ میں اپنی رائےسے کچھ کہوں
حضرت ابوبکر صدیق ؓ
[أعلام الموقعين : ٨٧/١]
سئل الأحنف بن قيس : '' ما المروءة ؟
قال : كتمان السر والبعد عن الشر ''
( سير اعلام النبلاء : 4 / 93 )
احنف بن قیس رحمہ اللّٰہ سے پوچھا گیا:
کمالِ آدمیت کیا ہے؟
کہا : راز کو چھپانا اور شر سے دور رہنا !
سلف صالحین اس بات کی وصیت و نصیحت کرتے تھے کہ اپنے عمل میں پختگی اور (تقوی) کی خوبصورتی لاؤ بجائے اس کے کہ عمل کی کثرت ہو ۔۔ بے شک پختگی و تقوی کے ساتھ تھوڑا عمل بہتر ہے غفلت اور عدم پختگی والے کثیر عمل سے ۔۔ بعض سلف نے یہ بھی کہا کہ جماعت کی صف میں کھڑے دو افراد کی نمازوں میں زمین و آسمان کا...
« وكن في الجانب الذي يكون فيه الله ورسوله، وإن كان الناس كلهم في الجانب الآخر ». [ الفوائد : ١٦٧/١ ]
اور اس طرف ہو جاؤ جس طرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں, اگرچہ لوگ سارے ہی دوسری طرف ہوں ! (ابن القيم رحمه الله)
يقول شيخ الإسلام ابن تيمية : أن الله أنزل مائة كتاب وأربعة كتب جمع علمها في الكتب الأربعة وجمع الكتب الأربعة في القرآن وجمع علم القرآن في فاتحة الكتاب وجمع علم فاتحة الكتاب في قوله تعالى: { إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ } .
مجموع الفتاوى(22|607).
اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں...
قال مجاهد رحمهُ الله: ليلة القدر ليلة سالمة لا يحدث فيه داء ولا يرسل فيها شيطان
لطائف المعارف ١٨٢.
شبِ قدر بڑی محفوظ رات ہے، اس میں کوئی بیماری پھوٹتی ہے اور نہ شیطان کھلے پھرتے ہیں!
امام مجاہد رحمہ اللہ
قال امام احمد بن حنبل "إِذَا رَأَيْتَ رَجُلاً يَذْكُرُ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ بِسُوءٍ فَاتَّهِمْهُ عَلَى الإِسْلامِ"
(البداية والنهاية لابن كثير)
جب تم کسی بھی شخص کو دیکھو وہ کسی بھی ایک صحابی کاذکر بھی برے انداز میں کررہا ہوتو اسکے اسلام میں شک کرنا
امام احمد بن حنبل رحمہ..
قال الإمام ابن الجوزيؒ:الليالي والأيام الفاضلة لا يصلح أن يغفل عنهنّ ، لأنه إذا غفل التاجر عن موسم الربح فمتى يربح ؟
منهاج القاصدين:(٣٤٣/١)
فضیلت والے دنوں اور راتوں میں غفلت مناسب نہیں!
اگر تاجر نفع والے سیزن میں غافل ہو جائے تو منافع کب کمائے گا؟
حافظ ابن الجوزیؒ
"إعانة الفقراء بالإطعام في شهر رمضان، هو من سنن الإسلام"
[ مجموع الفتاوى : ٢۹۸/۲٥ ]
رمضان میں فقراء کی کھانے کے ذریعے مدد کرنا (فقراء کو کھانا کھلانا) اسلام کی سنتوں میں سے ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ