الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اگر یہ دوباتیں واضح ہوجاتی ہیں یعنی یہ کہ(١) شرعاً یہ راستہ درست نہیں اور (٢) عملاً یہ ممکن نہیں تو پھر اس راستے کوبدلنے کی دعوت دی جانے پر یہ اعتراض بہرحال نہیں ہونا چاہیے کہ’ پھر آخر اسلامی حکومت کےسے قائم ہوگی؟‘
اسلامی حکومت قائم ہوتی ہے یا نہیں اور اگر ہوتی ہے تو کب قائم ہوتی ہے، سب کچھ...
یہاں یہ دو باتیں واضح ہوجاناضروری ہے کہ:
١۔ اس وقت کی جمہوری انتخابی سیاست میں جس انداز سے اسلام پسندوں کی شرکت ہوتی ہے اس میں بے شمار شرعی مفاسد لازم آتے ہیں۔ جن کی کچھ نشاندہی پیچھے ہم کر آئے ہیں۔اس کی بنیاد پر ’اسلامی حکومت‘ کے قیام کا لہذا یہ کوئی شرعی طریق کار نہیں۔
٢۔ پھر دوسری بات...
’متبادل ‘کی بحث
بہت سے مسلمانوں میں ایک غلط فہمی بڑی شدت کے ساتھ عام ہوچکی ہے اور وہ یہ کہ ’اسلامی حکومت‘ کاقیام ایک ایسا فرض ہے جو ہر حال میں اور ہر قیمت پر اور فوری طور پر ادا کردینا چاہیے خواہ اس مقصد کےلئے دین کے اور بے شمار فرائض اور مقاصد کوپس پشت ڈال دینا پڑے اور اس فرض کوجیسے کیسے...
قرآن مجید میں ایک آدمی کو جان بچانے کی غرض سے مردار یا سور کا گوشت اس حد تک کھالینے کی، جس سے اس کی جان بچ جائے، اجازت ہے اس چیز کو اضطرار کہتے ہیں۔
ہمارے اسلام پسند بھائی انتخابی سیاست میں حصہ لینے کو اسلام کا سیاسی تقاضا سمجھتے ہیں ایک ہی وقت میں متعدد بلکہ متعارض دلائل سے استدلال کرتے ہیں۔...
حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑی برائی کے سد باب کے لئے اس سے ایک کم تر برائی کو اختیار کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو ایسی کم تر برائی کو اختیار کرنا ایک شرعی اصول ہے۔ ہمیں یہ بات تسلیم ہے۔
فقہا ءکرام اس کی مثال یہ بیان کرتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ نے بطور ثالث یہود بنی قریظہ کے بالغ مردوں کو قتل اور...
یہ سوال بھی ہمارے ان دیندار بھائیوں کی جانب سے اکثر ہوتا ہے جو انتخابی سیاست میں شرکت کو خدمت اسلام کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
انتخابی سیاست اور اسمبلیوں میں شمولیت اسلام پسندوں سے ہر وقت ان کے اصولوں کی قربانی مانگتی ہے ۔سب جانتے ہیں کہ اس کوچے میں ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے اصول...
اس سے پہلے ہم یہ بیان کر نے کی کوشش کرچکے ہیں کہ ایک کافر نظام میں تمام قوانین اوراحکام کاالہی شریعت سے سو فیصد برعکس اور متصادم ہونا ضروری نہیں بلکہ شریعت کا پارلیمنٹ کی دہلیز سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی شرط ہی اس کے طاغوت ہونے کےلئے کافی ہے۔
جب ایسا ہے تو پھر اس نظام کے اچھا ہونے کےلئے یہ...
کہا جاتا ہے کہ اس نظام میں شرکت کےلئے اگر یہی دلیل کافی نہیں کہ پارلیمنٹ سب کچھ کرنے میں آزاد ہے۔ اگر وہ انگریز کے قانون کو سند جواز دے سکتی ہے تو اپنا یہ حق اسلام کےلئے بھی تو استعمال کرسکتی ہے۔ خصوصاً اگر دوتہائی اکثریت حاصل کرلی جائے تو دستور تک بدل سکتا ہے!
اولاً: سب سے پہلے تو یہ مقدمہ...
انتخابات میں شرکت کر نے والے بعض مخلص اسلام پسند بعض اوقات اس بات سے بھی استدلال فرماتے ہیں کہ یہ نظام باطل تسلیم، مگر کیا ایک باطل نظام کی سب جزئیات بھی باطل ہوا کرتی ہیں؟ اس نظام کی جو جزئیات باطل نہیں اور ہمارے دین سے ان کی اجازت ملتی ہے آخر ان کو اسلام اور مسلمانوں کے فائدے کے لئے اختیار...
اب آیئے اس مسئلے پر جس کی وضاحت کے لئے یہ ساری اصولی بحث ہوئی ہے ۔ پارلیمان میں شرکت کی بابت شرعی اصول کیا کہتے ہیں؟جیت اور ہار کایہ اصول تسلیم کرنا کہ اکثریت جس پارٹی کے منشور کی تائید کردے اسے حکمرانی کا حق ہوگا! شریعت کی کسی نص کو قانون کا درجہ پانے کے لئے اکثریت کی موافقت سے مشروط ماننا ،...
اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ شریعت سے کسی ’مصلحت‘ کا ثبوت کیسے کیسے دیا جائیگا؟
اس کے جواب میں علماءاصول فقہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ثبوت کے لحاظ سے مصلحت کی تین قسمیں ہیں:
١۔ وہ چیز جس کا مصلحت ہونا شریعت (یعنی قرآن اور حدیث) کی کسی نص سے ثابت ہو۔ اس کومصلحت معتبرہ کہا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے شریعت کے سب...
مصلحت کا لفظ شرعی اصطلاح میں ایک خاص معنی رکھتا ہے جبکہ عام زبان میں، خصوصاً اردو میں اس لفظ سے جو مراد لی جاتی ہے وہ اس سے ذرا مختلف ہے ۔ چنانچہ ایک شرعی بحث کرتے وقت زبان کا یہ استعمال ایک بڑی الجھن کاباعث بن جاتا ہے ۔
اردو زبان میں جب کسی چیز کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ’مصلحت‘ کا تقاضا...
پارلیمان کے راستے سے شریعت کا نفا ذچا ہنے والے مذہبی طبقوں کے لئے اس سوال کا جواب دینا اب روز بروز مشکل تر ہو رہا ہے کہ اس راہ سے شریعت کا نفاذ اب تک کیونکر نہ ہوسکا؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اسلام ایک ہی دم نہیں بتدریج آئے گا اور اس کے لیے فی الحال جو پیش رفت ہوچکی وہ بھی کچھ ایسی بری نہیں۔...
اصولوں کی قربانی ایک سیڑھی کی طرح ہے ۔ آپ اصولوں کاایک زینہ اترتے ہیں تو نیچے کئی اور زینے آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔ بطور مثال بعض دینی جماعتیں جو کل یہ منشور لے کر میدان میں اتری تھیں کہ انتخاب کے راستے سے وہ دولت اسلامیہ کاقیام عمل میں لائیں گی اور یہ نعرہ بڑی دیر تک عوام کے دلوں کو گرماتا رہا، ان...
ہوسکتا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ انتخابی سیاست کے یہ سب قواعدو ضوابط اورجیت ہار کے یہ مغربی پیمانے آپ بظاہر قبول کرتے ہیں مگر دل سے نہیں مانتے۔ ہم بھی آپ سے یہی حسن ظن رکھیں گے کہ آپ ان کو دل سے تسلیم نہیں کرتے۔ مگر سیاست کے ان باطل ضابطوں اور ہار جیت کے ان جاہلی پیمانوں کو اگر آپ بظاہر بھی قبول...
اسلامی اصولوں کی حکمرانی بلا شبہ ہمارا نصب العین ہے ۔ مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ ہمارے یہ اصول انتخابات کے ان ضابطوں اور جیت ہارکے ان قوانین ہی سے متصادم ہیں جن کی راہ سے ہم اپنے ان اصولوں کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جان لینے کے بعد بھی اگر ہم انتخابات کے ان قاعدوں ضابطوں کو قبول کرتے ہوئے...
انتخابات میں شرکت فرمانے والے ہمارے بھائیوں کاکہنا ہے کہ ان کی اس انتخابی جدوجہد کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ ملک میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آجائے ۔ چونکہ رائج نظام کو بدلنے کے لئے بیلٹ بکس کا راستہ اپنانا ہی آج کل آسان اور موثر ترین جانا جاتا ہے اور پر امن راستوں میں یہی اس وقت معروف ترین ہے...
جیسا کہ محدث فورم پر مختلف ساتھیوں نے اس موضوع پر بحث کی ہے لیکن یہ بحث اس موضوع کو مزید آسان بنا رہی ہے اور
کیونکہ جب تک ہم اصل سوالات کا جواب تلاش نہیں کریں اس وقت تک جمہوریت ہمیں پریشان کرتی رہے گی اور پاٹتی رہے گی تقسیم در تقسیم کا عمل جاری و ساری
ہماری محبت اور نفرت کا معیار اللہ تعالی...
اور دوسری بات ہمارے اصحاب منبر کو چاہیے کہ روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ عصری موضوعات کو بھی بیان کریں ایک مرتبہ میں جمعہ کے خطبہ میں آداب گفتگو کے دوران موبائل اور فون پر گفتگو کے آداب بھی بیان کیے تو لوگ حیران ہو رہے تھے اسی طرح ٹریفک سگنل پر ایک درس دیا اور انجینئیرز کے ساتھ امور تعمیرات پر...