الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ابدال کی حقیقت !
علامہ غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
نقل از : اردو مجلس فورم
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ابدال کے بارے میں کچھ ثابت نہیں، جیسا کہ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (٥٠٨۔ ٥٩٧ھ) فرماتے ہیں : ولیس فی ہذہ الأحادیث شیء صحیح ۔ ''ان احادیث میں سے کوئی بھی ثابت نہیں۔''(الموضوعات...
896 - حدثنا أبو المغيرة، حدثنا صفوان، حدثني شريح يعني ابن عبيد، قال: ذكر أهل الشام عند علي بن أبي طالب، وهو بالعراق، فقالوا: العنهم يا أمير المؤمنين. قال: لا، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الأبدال يكونون بالشام، وهم أربعون رجلا، كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا، يسقى بهم الغيث،...
پاکستان کی ایک بریلوی ’’ سائیٹ ’‘الغزالی۔۔۔نے
اس موضوع پر مندرجہ مضمون شائع کیا :
’’ حضرت ابو کثیر النماری رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کہ جس کی نظر کسی اجنبی عورت پر پڑجانے اور دل سے اس کی طرف ملتفت ہو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے قربت کرے کیونکہ...
سنن ابن ماجہ ، باب : ذهاب القرآن والعلم
باب: قرآن اور علم (حدیث) کا دنیا سے اٹھ جانا قیامت کی نشانی ہے۔
حدیث نمبر: 4048
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، حدثنا الاعمش ، عن سالم بن ابي الجعد ، عن زياد بن لبيد ، قال: ذكر النبي صلى الله عليه وسلم شيئا ، فقال:"ذاك عند اوان ذهاب...
صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 3237
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"إذا دعا الرجل امراته إلى فراشه فابت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ...
ابن حَجَر الهَيْتَمي (909 - 974 هـ = 1504 - 1567 م)
أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري،
هو شهاب الدين مفتي الحجاز أبو الفضل أحمد بن محمد بدر الدين بن حجر السعدي الهيتمي نسبة لمحلة أبي الهيتم من أقاليم مصر الغربية ولد بها وهو بالتاء المثناة من فوق، المكي الشافعي المتوفى بمكة سنة...
پیارے نبی ﷺ کے مبارک دورمیں عرب میں زلزلہ نہیں آیا ؛
ایک روایت اس بارے امام ابن ابی الدنیا نے نقل کی ہے ،تاہم وہ ضعیف ہے
زلزلہ پہلی بار دور فاروقی میں آیا تھا جیسا درج ذیل تفصیل سے معلوم ہوتا ہے
تخريج حديث: زلزلة المدينة في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم،وعمر بن الخطاب،وشرح الحديث مع بيان...
اکٹھی تین طلاق کے مسئلہ میں صحابہ کے دور میں اجماع تو یہ تھا کہ ان میں ایک طلاق واقع ہوگی۔۔جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث سے واضح ہے ؛
’‘ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَعْلَمُ أَنَّمَا «كَانَتِ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ؛
یہ روایت ’’ صحیح و ضعیف تاریخ طبری ‘‘ کی آٹھویں جلد ۔۔جو کہ ’’ ضعیف تاریخ خلفاء الراشدین ‘‘ پر مشتمل ہے ،اس کے صفحہ ۱۵ پر موجود ہے
یعنی یہ ’’ ضعیف ‘‘ کے زمرہ میں درج کی گئی ہے ؛ااس کا سکین درج ذیل ہے ؛
اس ’‘ ویب سائیٹ ’‘ یعنی ۔۔فورم محدث ڈاٹ کام۔۔(http://forum.mohaddis.com/ )کے منتظمین بھی الحمد للہ مستند اہل علم ہیں ،
اور اس فورم پر کئی فاضل علماء حفظہم اللہ بطور رکن بھی موجود ہیں ،
آپ اپنا ہر سنجیدہ دینی مسئلہ پیش کریں ،ان شاء اللہ ہمارے اہل علم حضرات آپکی رہنمائی فرمائیں گے
سنن نسائی، کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل
باب : فضل غسل يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن کے غسل کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1382
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَهَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ:...
اس من گھڑت قصہ کا جواب اہل علم صدیوں سے دے رہے ہیں ؛
درج ذیل تحقیق دیکھیئے جس میں بڑے زوردار انداز میں اس واقعہ یا قصہ کا باطل اور من گھڑت ہونا ثابت کیا گیا ہے؛ (وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نَصُ القِصَّةِ ...
آپ دونوں محترمین ، مکرمین کیلئے کا اصل لنک پیش ہے ،کتاب ان شاء اللہ ضرور ڈاون لوڈ ہوگی:
https://ia801705.us.archive.org/23/items/TasihUlKhiyaal/tasih-ul-khiyaal.pdf
↑
لکھنوی مقلد کا کہنا ہے :کہ
میں صدقے اس فہم کے !
سفیان ؒ اسکو ۔۔ہذیان ۔۔نہیں کہہ رہے ،وہ تو صرف یہ بتا رہے ہیں ۔۔أهجر ۔۔میں (ھجر ) سے مراد (هذى )ہے ،اور جملہ ہے ’’أهذى ‘‘ اور یہی بات ہم پہلے بھی بتا چکے
ہیں ،
روایت کا متن دوبارہ دیکھ لیں ،اور حدیث کے کسی عالم پوچھ لیجیئے ۔کہ ہمارا ترجمہ یا مطلب...
کاش آپ نے قرآن حکیم پڑھا ہوتا ،تو یہ اعتراض نہ کرتے ‘‘
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ‘‘
وقال مفسر الكلام :
(وَما كُنْتَ) يا محمد (تَتْلُوا) يعني: تقرأ (مِنْ قَبْلِهِ) يعني: من قبل هذا الكتاب...