الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
بیماری سے گناہ کم ہوتے ہیں:
تندرستی کے برقرار رہنے کے لیے ضروری ہے کہ انسانوں کا واسطہ چھوٹی موٹی بیماری سے پڑتا رہے، تاکہ اس کے جسم سے غیرضروری اجزا اور فضلات کا اخراج ہوتا رہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ گناہ کم ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ جس بندے سے خفا ہوتا ہے تو اسے...
عیادت سے مریض کی صحت کو تقویت ملتی ہے:
یہیں سے عیادت کی شرعی حیثیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مصیبت اوربیماری میں مبتلا ہوتو دوسرے بھائی کو چاہیے کہ وہ اس کی عیادت کے لیے پہنچے اور مریض کو تسلی بخش باتیں سناکر لوٹے۔ اس سے مریض کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس...
کیا انسان نے بعض بیماریوں کے علاج میں کامیابی حاصل نہیں کی ہے؟
باوجود اس کے بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا علاج اطبا ڈھونڈھنے میں اب تک ناکام ہیں۔ یہ انسانوں کی کم علمی ہے نہ کہ خالق کائنات کا نقص۔ اسی لیے تو قرآن میں متعدد مقام پر اہل ایمان کو مخاطب کیاگیا ہے کہ تم کائنات کی تخلیق پر غور نہیں...
چند مستثنیات کے ماسوا ہر بیماری کا علاج بندہ کے اختیار میں ہے:
علاج کے بعد بھی بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا کوئی علاج نہیں۔ اس میں ایک موت ہے اور دوسرا بڑھاپا۔ موت کسی کی واقع ہونے والی ہے تو کتنی ہی احتیاطی تدابیر اختیار کیوں نہ کرلی جائیں اسے کوئی روک نہیں سکتا اور وہ وقت معینہ پر آکر رہے...
زندگی خدا کی طرف سے عطا کی ہوئی ایک امانت ہے:
انسان دنیا میں آتا ہے تو پہلے اسے بڑے دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ نو ماہ مادر شکم میں رہتا ہے جو ایک طرح سے اس کی دنیا ہوتی ہے۔ پھر وہ ایک خاص وقت میں کٹھن مرحلہ سے گزر کر اس دنیا میں آتا ہے۔ اس وقت نوزائیدہ بچے پر کیا گزرتی ہے وہ وہی جانتا ہے،...
کیااسلام اس عمل کی اجازت دیتا ہے؟
لیکن اسلامی پہلو سے اس معاملہ پر اگر غور کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ اگراسلام میں اس کی اجازت ہوتی تو پھر وہ خودکشی جیسے اقدام کو ناجائز اورحرام نہ ٹھہراتا۔ خود اختیاری موت اور خود کشی کے مفاسد معاشرے پر ایک ہی جیسے مرتب ہوتے ہیں ۔ اس صورت میں مسلمانوں کو اس...
مغربی طریقہ علاج میں ایسے مریض کو مناسب طریقہ سے قبل از وقت مار دیا جائے تاکہ وہ اپنے لیے اور اپنے لواحقین کے لیے مزید پریشانی اور اذیت کا سبب نہ بنے۔اس کا آغاز بھی ایک انگریز ڈیرک ہپمرے نے ۱۸۸۰م میں کیا جب اس کی بیوی نے ایسے کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہو کر خود جان سے دی تھی اس کے بعد ڈیرک اس...
اس کے علاوہ ایک تیسری نوعیت جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ مریض پیدائشی طور پر یاوقتی طور پر کسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہے مثلاً دماغی بخار، پولیو، نمونیہ، کینسر، یا شید بڑھاپا یا اپاہج وغیرہ جو بذات خود مہلک اور تکلیف دہ بیماریاں ہیں، جن کا ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق کوئی علاج نہیں۔ ایسی صورت...
اس حوالے سے تو کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا لیکن اگر کوئی شخص کسی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہو یا عمر کے کسی بھی حصے میں لاعلاج اور مہلک بیماری میں مبتلا ہوجائے حتی کے اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو جاتا ہے اور تکلیف انتہا درجے کی ہو کہ مریض تو کجا لواحقین اور احباب دیکھ کر شدید اذیت میں...
زندگی کے مختلف مراحل میں جب کوئی شخص مختلف اقسام کے مصائب اور مشکلات میں گھر جاتا ہے یا مسائل و مصائب کا حل حسب منشا نہیں نکلتا تو شدید دکھ اور رنج کی کیفیت میں خود کشی جیسے انتہا ئی اقدام کے اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتاکہ وہ اپنے اندر مزید ناکامیوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں پاتا اس نامناسب...
یورپ میں ایسا مریض جو اپنی بیماری سے تنگ آ گیا ہو وہ اپنی مرضی سے موت اختیار کر لیتا ہے اور وہاں کے قانون بھی اسے تحفظ دیتے ہیں
کیا اسے خودکشی کہا جائے گا؟
ہائے اس معصومیت پر قربان نہ جائیں ایک طرف تو وزیر اعظم کو ہدایات اور دوسری طرف حمایت کا اعلان اور ہر ذی عقل و باشعور پاکستانی یہی کہہ رہا ہے کہ یہ آپریشن غیرملکی عناصر کے اشارے پر شروع کیا گیا ہے تو کیا حافظ سعید صاحب اتنے ہی لا علم ہیں کہ انہیں حقیقت حال کا علم نہیں ؟؟؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ: من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ ، یعنی جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتا
لہذا اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے میں آپ تمام ساتھیوں کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے والد محترم رحمہ اللہ کی مغفرت اور رفع...
راقم کا ایک طویل زمانے تک یہی خیال تھا کہ دینی مدارس کے نصاب میں ترمیم کرکے اس کو وقت کے تقاضوں کے مطابق کرلینا چاہیے ان میں عصری علوم کی بھی اس طرح آمیزش ہونی چاہیے کہ ہمارے مدارس کے فارغین دنیاوی میدان میں کسی کے دست نگر یا محتاج نہ ہوں اور معاشی اعتبار سے بھی خود کفیل ہوں،اور ہمارے فضلاء وقت...
روسی اور چینی ریاستوں کا اندلس کے علاقوں کے ساتھ اس تقابل سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے ان علاقوں میں اسلام کے احیاء میں ہمارے ان مدارس کا کس قدر بنیادی اوراہم کردار ہے اور عالم اسلام میں ہمیں اس وقت نظر آنے والے غیر متزلزل اور قابل رشک ایمان کی جھلکیاں ہمارے ان مدارس ہی کی بدولت نظر آرہی ہیں۔...
اقتباس مع ترمیم:
لیکن اس سوال نے مجھے ایک طویل عرصے تک بے چین کیے رکھا
اندلس یعنی موجود اسپین میں بھی 711ء سے 1492ء تک 781سال مسلسل مسلمان پوری آزادی سے وہاں حکومت کرتے رہے،
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روسی ریاستیں اور چینی علاقوں میں اس وقت یہاں کے مسلمانوں نے دینی تعلیم کے مدارس ومراکز...
مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کی کچھ اسی طرح کی داستان ماضی قریب میں سوویت یونین یعنی روس کی مسلم ریاستوں کی بھی رہی ہے ازبکستان، قزاقستان ، ترکستان ، تاجکستان، آذربائیجان اور کرغیزیا وغیرہ میں مسلم اکثریتی آبادی کے باوجود اسلام پر عمل پیرا ہونا تو درکنار غلطی سے نام لینا بھی اس ملک کے خلاف...