الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ امام بخاری ایک ہی روایت کو مختلف اسانید سے ذکر کرتے ہیں ۔ تاکہ اختلاف رواۃ کی وضاحت ہوجائے ۔ چونکہ ایک یا اسک سے زائد اسانید سے متن حدیث ثابت ہوجاتا ہے توپھر کسی غرض سے کسی کمزور سند کو ذکر کرنا قدح کا باعث نہیں ۔ بلکہ بعض دفعہ امام بخاری کسی سند کو معلق بیان ہی اس...
غلطی کی نفی مولاناجوناگڑھی کی عبارت سے ہے ۔ نہ آپ کی اس عبارت سے :
کیونکہ مولانا جونا گڑھی وہی کہنا چاہتے ہیں جس کی وضاحت ابن حزم کے حوالے سے اوپر گزر چکی ۔ جبکہ آپ اپنی مرضی کا اقتباس ظاہر کرکے مطلقا نفی ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں ۔
اسی لیے آپ سے گزارش کی تھی کہ اصل حوالہ دے دیں ۔ تاکہ سب کے...
کشف الستار میرے خیال میں اردو میں موجود نہیں ۔ البتہ یہ ایک کتاب ہے :
http://kitabosunnat.com/kutub-library/musannifeen/article/1-urdu-islami-kutub/2448-tableeghi-jamaat-ulma-e-arab-ki-nazar-mein.html
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ !
تقلید و عدم تقلید کا مسئلہ تو شرعی احکام میں ہوتا ہے ۔ علم حدیث یا دیگر علوم و فنون میں مثلا نحو و صرف اور ادب وغیرہ میں علماء کی بات کو ماننا تقلید نہیں کہلاتا ۔ واللہ اعلم ۔
ویسے بہتر یہ ہے کہ آپ یہ مسئلہ شیوخ مثلا رفیق طاھر صاحب ، کفایت اللہ صاحب سے یہ مسئلہ پوچھیں ۔
محترم حیدر آبادی صاحب ! ہم جیسے چھوٹوں کا دل رکھنے کے لیے دو صحیحوں میں سے اس ( ان شاء اللہ ) صحیح پر عمل کرلیا کریں ۔ مسکراہٹ ۔
ورنہ آپ کو اپنا بہت سارا قیمتی وقت آئے دن یہی کہنے میں ضائع کرنا پڑے گا کہ ’’ میں دونوں طرح لکھنے کوصحیح سمجھتا ہوں ‘‘ ۔
بھائی اشماریہ صاحب آپ کی محنت اللہ قبول فرمائے ۔ لیکن میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ
آپ نے دو نسخوں کی تصویریں چسپاں کی ہیں ۔ لیکن دونوں ہی محل نزاع میں مفید نہیں ۔
پہلا نسخہ
جس کے لیے رمز ( ع ) استعمال کی گئی ہے جوکہ شیخ عابد السندھی کی طرف منسوب ہے اس کے بارے میں آپ کے حنفی محقق محمد عوامہ کا یہ...
تو اس میں غلط کیا ہے ؟ صحابہ کامتفقہ فہم قابل حجت ہے ۔ باقی جہاں صحابہ کرام کا اختلاف ہوجائے پھر جس قول کی قرآن وسنت سے تائید ہو اس کو اخذ کیاجائے گا ۔ حافظ ابن حزم علیہ الرحمہ نے اس حوالے بڑی شاندار بحث کی ہے فرماتے ہیں :
أما قوله صلى الله عليه وسلم عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين فقد علمنا...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
ٹھیک ہے ۔ ہم آپ کی تحریر کے منتظر رہیں گے ۔ اس میں آپ ’’ تحریف ‘‘ کی تعریف بھی پیش کیجیے گا ۔
اور ہوسکے تو ترصیع الدرۃ کے محقق اور ادارۃ القرآن کے رئیس نور احمد صاحب کے صاحبزادے سے استفسار کرلیجیے گا کہ ان کے نزدیک ’’ تحریف ‘‘ کی کیا تعریف ہے ۔ کیونکہ انہوں نے...
حضرت ابوبکر نے جواب دیاکہ :
میں نےرسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ نے فرمایا: ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔البتہ بات یہ ہے کہ محمدﷺ کی آل اس مال سے کھاتی پیتی رہے گی۔
ابوبکر نے یہ بھی فرمایا:
اللہ کی قسم میں نے رسول اللہﷺ کو جو کام کرتے دیکھا، میں اسے ضرور کروں گا، اُسے کبھی چھوڑنےکا نہیں ۔...
ارسلان بھائی کسی غلط بات کے رد میں یا مخالفت میں غلو کرنا بھی غلط ہے ۔ چونکہ یہ ’’ إن الہدایۃ کالقرآن ‘‘ والی عبارت عربی عبارت ہے ۔ اس کو کسی عالم دین سے سمجھ لیں ۔ مجھے نہیں لگتا کہ اہلحدیث کے کسی جیدعالم دین سےاس سے وہ مرادلیاہوجوعوام میں مشہور ہے ۔میں نے بھی اپنے بعض اساتذہ سےاسکا وہی...
میری معلومات کے مطابق اوپر پیش کردہ دونوں نسخے ہی غیر متعلقہ ہیں ۔ اور دونوں نسخے ہی اس ’’ تحریف ‘‘ کے انجام پذیر ہونے کے بعد وجود میں آئے ہیں ۔
تحریف کرتے ہوئے جس نسخہ میں ’’ تحت السرۃ ‘‘ کا اثبات کیا گیا وہ ادارۃ القرآن والعلوم الإسلامیہ کا شائع کردہ نسخہ ہے ۔ اور ادارۃ القرآن والوں نے جس...
اس سوال کا اس بحث سےکیا تعلق ۔۔۔؟؟ بہر صورت پھر بھی جواب لے لیجیے :
مالک الدار تابعین کے طبقہ سے ہیں اور کئی علماء نے اس کو مجہول قرار دیا ہے ۔
جبکہ مالک بن أنس تبع تابعین میں سے ایک جلیل القدر ثقہ ثبت امام ہیں یعنی : مالک بن أنس بن أبی عامر الأصبحی إمام دار الہجرۃ ۔
اس طرح کے سوال کر کےآپ اصل...
پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے شعوری یا لاشعوری طور پر آپ یہ ذہن میں بٹھائے ہوئےہیں کہ جب ہم کسی عالم دین کے ’’ مجتہد ‘‘ ہونے کی بات کرتے ہیں تو شاید اس سے مراد ہماری ’’ ان کی تقلید کرنا ‘‘ ہے ۔ حالانکہ میں واضح الفاظ میں گزارش کر چکا ہوں :
امام بخاری علیہ الرحمہ کے بھی طرز استدلال اور فقہی مسائل کے...
اولا :
اس ’’ لڑی ‘‘ کی شراکت نمبر 2 اور 4 میں اس روایت کے ضعف کو مختلف وجوہ سے مفصل بیان کیا گیا ہے ۔ جن میں سے آپ نے ایک کا بھی جواب دینے کی زحمت نہیں فرمائی ۔
کیا آپ کو یہ تمام وجوہ ضعف تسلیم ہیں ؟
ثانیا :
آپ نے چند علماء سے اس روایت کی تصحیح نقل کی ہے ۔ جس کا جواب پہلے گزر بھی چکا ہے اور...
چند ہفتے پہلے شاید آپ کے ہی توجہ دلانے پر حضرت کا خطاب سنا تھا ۔ ماشاء اللہ بہترین خطیب محسوس ہوئے ۔ ہاں علی الاطلاق افضلیت کا قول آپ پر اعتماد کرتے ہوئے کیا جاسکتا ہے ۔ بذات خود ان چیزوں میں اس قدر دلچسپی نہیں کہ اس طرح سے فرق نکالا جا سکے ۔