الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
عامی کے سامنے حدیث بیان کرنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ تاکہ اس کو بتایا جائےکہ یہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ ہے اس پر عمل کرلو اور یہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے اس پر عمل نہیں کرنا ۔
ظاہر ہے ایسی صورت میں ’’ صحت یا ضعف کاحکم ‘‘ بتائے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ یہی وجہ ہے آج کل جتنی کتب حدیث اصل یا ترجمہ کے ساتھ شائع ہورہی...
عموما صحیح اور ضعیف احادیث کے بارےمیں صحت و ضعف کا حکم ’’ ظنی ‘‘ ہوتا ہے ۔البتہ صحیح میں ’’ صحت ‘‘ کا پہلو راجح ہوتا ہے ۔ جبکہ ضعیف میں ’’ ضعف ‘‘ کا ۔
البتہ جس طرح بہت ساری صحیح احادیث کو بالیقین ’’ صحیح ‘‘ کہا جاسکتا ہے اسی طرح کئی ضعیف احادیث کو بھی بالیقین ’’ ضعیف ‘‘ کہا جاسکتا ہے ۔
محترم...
شاید مراد اصطلاحی معنی ہے ۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی صرف لغوی تعریف ہوتی ہے ۔ کچھ کی لغوی کے ساتھ ساتھ اصطلاحی تعریف بھی ہوتی ہے ۔ کچھ ایسی ہیں جن کی لغوی ، اصطلاحی ، شرعی تینوں حقیقتیں ہوتی ہیں ۔
اصول حدیث ان علوم میں سے ہے جن کی اکثر اصطلاحات کی لغوی اور اصطلاحی تعریف ہی ہوتی ہے ۔
دین کیا ہے ؟ اور اس میں فساد کے اسباب
ایک مختصر مگر جامع تحریر
ماخوز از
مقالات محدث گوندلوی ( ص 329 تا 336)
دین :
دین عقائد ، اخلاق ، معاملات ، حدود ، کفارات اور قصاص وغیرہ کےمجموعے کا نام ہے ۔
عقائد میں مسئلہ توحید اصل ہے ، پھر نبوت ، پھر قیامت کے دن جزا و سزا کا مسئلہ ہے ، پھر فرشتوں کے وجود...
استاذ العلماء مولانا حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں اور ان کے’’مقالات ‘‘ بھی اہل علم کے ہاں مشہور و معروف ہیں ۔
انہی مقالات میں سے ایک گرانقدر مقالہ ’’ تنقید المسائل ‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں مولانا مودودی علیہ الرحمۃ کی فکری و علمی غلطیوں کی علمی و تحقیقی انداز میں...
مسلک اہلحدیث کے مایہ ناز عالم دین مولانا اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی ایک تحریر نظر سے گزری بعنوان
مسئلہ درایت و فقہ راوی کا تاریخی و تحقیقی جائزہ
اس تحریر میں رواں موضوع کے تعلق سے بیش قیمت معلومات موجود ہیں ۔
استفادہ کرنے کےلیے مولانا سلفی صاحب کا مجموعہ مقالات بعنوان ’’ مقالات حدیث ‘‘ ( ص 531 تا...
جناب کچھ تو پیش کردیں مقلدین ہی سہی ۔
ہم سے جو کچھ مطلوب ہے وہ آپ کی طرف سے شروع کی گئی ’’ لڑی ‘‘ میں موجود ہے ۔
مزید کچھ چاہیے تو وہیں جاکر مطالبہ کریں ۔
محترمہ بہن !
بالاختصار عرض ہے کہ روایات کے اسباب ضعف کی دو قسمیں ہیں :
قسم اول :
جن کا تعلق سند ہے یعنی سند میں انقطاع ہونا اور اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ غالبا یہ کل صورتیں 6 بنتی ہیں
قسم ثانی :
ضعف کا تعلق راوی کی ذات سے ہو ۔ پھر راوی سے متعلقہ اسباب ضعف ( جو کل 10 ہیں ) کی بھی دو قسمیں
کچھ کا...
جزاكم الله خيرا و بارك فيكم .
اس سے پہلے مولانا بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے بھی اس کی حقیقت خوب واضح کی ہے ۔
كحل العينين في تحقيق مناظرة أبي حنيفة مع الأوزاعي في رفع اليدين
یہ تحقیقی مضمون : مقالات راشدیہ ( جلد نمبر 5 ص 293 تا 350 ) پر موجود ہے ۔ جو مسئلہ سے متعلق اور بھی کئی فوائد اپنے...
اوپر جو کچھ ہو چکا ضرورت تو نہیں تھی کہ مزید کوئی بات کی جائے لیکن پھر بھی یہ بیان کرنا مناسب رہے گا کہ یہی کچھ جو مختصر شکل میں سہج صاحب نے پیش کیا ہے ، ان کے بزرگ بھی پیش کر چکے ہیں ۔
چنانچہ مولانا ابو محمد بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ نے خوب تسلی بخش جوابات عنایت فرمائے ہیں ۔
شوق رکھنے والے...
میں جہاں تک تلاش کرسکا ہوں مجھے تو ایسی کوئی روایت نہیں ملی ۔
البتہ یہ ضرور موجود ہے کہ امام بخاری سے بڑے بڑے مشائخ نے اس وقت سے علم لکھنا شروع کردیا تھا جب ابھی آپ کی داڑھی بھی نہیں آئی تھی ۔
تاریخ بغداد ( ج 2 ص 15 ط العلمیۃ ) کے اندر خطیب بغدادی نے اس طرح کی کچھ روایات کا تذکرہ کیا ہے :
حاشد...
موضوع کے تعلق سے بھی کوئی بات کہہ دیں اگر کہہ سکتے ہیں تو ۔
موضوع یہ ہے کہ سنی اور شیعی مصادر سے یہ بات ثابت ہے کہ اہل بیت اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی آپس میں رشتہ داریاں قائم تھیں پھر بعد میں ان کی اولاد میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا ۔
اگر صحابہ کرام بالخصوص ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے...
بھائی اشماریہ ایسا کرتے ہیں کہ آپ ایک دفعہ تفصیلی شیخ کے مضمون کا جائزہ لے لیں اور جہاں جہاں اختلاف ہے اس کو بیان فرمادیں ۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ آپ کو اس مضمون سے کس حدتک اختلاف یا اتفاق ہے ۔ اور اسی طرح آپ کی تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جواب دینا بھی بہتر رہے گا ۔
اگر آپ کو اس بات سے اتفاق...
اس سلسلے میں مختلف کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے اردو زبان میں فی الوقت دو کتابیں پیش خدمت ہیں :
تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی...
اب ایک دفعہ ذرا پھر اسی قول پر نظر کریں :
اور بتائیں کہ کیا حنابلہ اور مالکیہ اور ان کے علاوہ دیگر مسالک کے علماء کی ایک بڑی تعداد صرف انہیں علاقوں میں تھی ؟
اگر اہلحدیث سے مرادہ وہی ہوتی جو آپ نے وضاحت فرمائی تو یقینا عبد القاہر بغدادی صرف ان علاقوں کے ذکر پر اکتفا نہ کرتے ۔
بہرام صاحب ۔
سنن الترمذی میں آپ کی مزعومہ تحریف والا معاملہ آپ کسی اور جگہ بھی پیش کرچکے ہیں ۔ لہذا اس موضوع کو وہیں تک رکھیں ۔ اگر کسی جگہ آپ کو ضرورت ہے تو اس کا لنک دے دیں ۔ البتہ ایک ہی بات مختلف ’’ لڑیوں ‘‘ میں پیش کرنے کی اجازت نہیں ۔