• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    مفتی بدلتا رہے: شرعی مسائل کی صحیح معلومات کے لئے اور دوسرے علماء و فقہاء کے علم سے مستفید ہونے کے لئے سائل ضرور اپنے مسئلے کے بارے میں دو تین مفتی حضرات کی رائے لے لے۔ تا کہ کسی کے محدود علم میں خود محدود نہ ہو جائے۔ پہلے لوگ مفتی کیا مجتہد بھی بدل دیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام ؓ ہوں یا بعد کے...
  2. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    آج کے فتاویٰ: ہمارے یہاں ہر مسلک کے فتاوی میں مسلکی چھاپ نمایاں ہوتی ہے۔ اور اسی نقطہ نظر کی تائید کیلئے اپنے مسلک کی فقہی کتب سے اقتباسات ماخوذ ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں مسئلے کی مختلف صورتیں اور ان کے مختلف جوابات تحریر کئے جاتے ہیں۔ اور بعض فتاوی میں جواب کی علت بتانے کے لئے قیاس اور عقلی توجیہات...
  3. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    فتاویٰ کی تاریخی اہمیت : گو کتب فتاوی، فقہاء کے ہاں تیسرے درجے کی کتب شمار ہوتی ہیں۔مگر ان فتاوی کی بلاشبہ اہمیت غیر معمولی ہے۔ مثلاً: -- ماضی کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کے سماجی ، سیاسی ،تمدنی اور فکری حالات کا علم ہوتاہے۔ -- فتاویٰ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو کب اور کیسی مشکلات کا سامنا کرنا...
  4. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    فتویٰ کا دائرہ اور اس کی اہمیت: فتوی کی ہمارے دین میں غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس لئے کہ جس فتویٰ کو علم وصداقت سے صادر کیا جائے وہ ایک حجت ہے۔ جس کے بعد آدمی کے پاس کوئی عذر نہیں رہتا۔ مگر اسے قانوناً نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا دائرہ انتہائی محدود ہے۔اس لئے کہ فتوی شریعت کے جزئی یا غیرمنصوص...
  5. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    افتاء کی نوعیتیں: اسلاف میں افتاء کی نوعیتں-وقت ، زمانہ اور تحقیق کے اعتبار سے بدلتی رہیں۔ کہیں اجتہاد ہوا تو سابقہ مسائل نظر انداز کرنا پڑے۔ یا ان کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ کہیں دلیل ملی تو اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرنا پڑا اور کہیں اپنے محترم استاد کی رائے سے بھی مختلف رائے اس معذرت کے...
  6. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    زمانہ خیر کے بعد فتویٰ: دوسری صدی ہجری میں قرون اولیٰ کے اس منہج میں اہل علم کے درمیان کچھ اصولی اور عقلی بنیادوں پر اختلافات رونما ہوئے۔ اس طرح اصولی نقطہ نظر کی تبدیلی سے فقہاء کے درمیان دو گروہ ہو گئے۔  وہ گروہ جو استنباط مسائل میں یا افتاء میں احادیث وفتاوی صحابہ ؓ کی بنیاد پر فتوی دیتا...
  7. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    تابعین کے دور میں فتویٰ : اسی دوران تابعین کی ایک نسل تیار ہو کے اپنی علم وفضل سے دنیا کو نواز رہی تھی۔ ان میں انہی حضرات صحابہ ؓ کے شاگردوں میں سعید بن المسیب ، عروۃ بن الزبیر و دیگر فقہاء شامل ہیں۔ جنہیں فقہاء سبعہ کہا جاتا ہے۔ جن کو منظوماً کسی نے یوں پیش کیا گیا ہے۔ إِذَا قِیْلَ مَنْ فِی...
  8. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    فتویٰ نویسی کی ایک مختصر تاریخ: رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اہل اسلام کے لئے ایک ایسا سر چشمہ تھی جس سے وہ ہمہ وقت اپنی دینی ودنیاوی پیاس بجھاتے تھے۔ اچانک پیش آنے والا واقعہ ہو یا عرصہ بیشتر کا ، اس کا حل آپ ﷺسے ہی مانگا کرتے تھے۔ بعض اوقات آپ ؐ فوراً جواب عنایت فرما دیتے۔ اور اگر اس سلسلے میں...
  9. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    فتویٰ نویسی کا اسلوب: اسلاف میں فتوی نویسی یا افتاء کا اسلوب بہت سہل، مختصراور سادہ تھا۔واضح زبان اور تحریر میں گیرائی و گہرائی کے ساتھ جامعیت ہوتی تھی۔ مخاطب کی رعایت الدین یسر کی روشنی میں کی جاتی تھی۔ اولاً تو کوشش یہی ہوتی کہ صورت مسئولہ کی وضاحت کو قرآن مجید سے تلاش کر کے اسے حدیث رسول سے...
  10. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    قرآن وحدیث کا عالم ہو: قرآن وحدیث کے خلاف کسی کا قول ہو تو مفتی کو اس کی طرف مائل نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ اس قول کی وج حدیث کا نہ ملنا ہے یا اس سے صحیح و ضعیف کی پہچان میں غلطی ہو گئی ہو گی۔ یہی اسلاف کی خطائوں اور غلطیوں کا عذر ہے اور معتدل رائے ہے۔ حدیث خواہ حجازی ہو یا کوفی...
  11. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    غیر متعصب ہو: تعصب اگر حق کے لئے ہو تو ایسا تعصب ممدوح ہے ورنہ باطل کا ساتھ دینے کے لئے ہو تو یہ باطل ہے۔حق کا میزان قرآن وصحیح حدیث وسنت ہے یاجو بھی ان کے موافق ہو۔ مگرجو ان کے مخالف ہے وہ باطل تعصب ہے۔اس لئے مفتی متعصب وتنگ نظر نہ ہو او ر نہ ہی محدود علم وسوچ کا مالک ہو۔ وہ صحیح فتوی دیتے وقت...
  12. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    فہم و فراست: صحیح اور سچا فتوی وہی مفتی دے سکتا ہے جو صاحب فراست ہو۔ مسئلہ کو صحیح ادراک کرنا مفتی کی فراست کا امتحان ہوتا ہے۔ اس لئے وہ سب سے پہلے مسئلہ کی تہہ تک پہنچے اور پھر اس کا حکم کتاب اللہ وسنت رسول اللہ میں تلاش کرے۔ پھر اپنے فہم اور حکم کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھے۔ مطابقت ہو تو پھر...
  13. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    اخلاق و کردار: مفتی اپنے معاملات میں درستی وراستی اختیار کرے۔ اندر ، باہر ، کھلے چھپے ہر حال میں دل کو زبان کے مطابق اور ظاہر وباطن کویکساں رکھنے والا بنے۔ اگر حکومت کا ایک نمائندہ بڑی قدر سے دیکھا جا سکتا ہے اور اسے عزت واکرام کے لائق سمجھا جاتا ہے۔ تو خالق کائنات کا یہ پیغامبر کتنے بلند مرتبہ...
  14. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    مفتی کی خصوصیات علم وصداقت: علم اور مسئلے کا صحیح حل پیش کرنا مفتی کی اولین خصوصیات میں سے ہے۔ مفتی بننے کا مقام ایک طویل علمی وتحقیقی تجربہ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اور وسعت نظری کا بھی۔ وہ شخص مفتی کہلانے کا کبھی مستحق ہی نہیں رہا جو مذہبیت کا شکار ہوکر صرف اپنے ہی خول میں محدود رہا اور دیگر فقہاء...
  15. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    مفتی اور اس کی شرائط: مفتی ایک ایسا عالم دین ہو جو احکام شریعت میں بصیرت رکھنے والا ، معتدل مزاج اور مسئلہ کی نوعیت وباریکی کو سمجھتے ہوئے دین کی تمام تر آسانیوں اور گنجائشوں کو مدنظر رکھ کر، تعصب و مسلکی عناد و حب شخصیات سے بالاتر ہو کر مسئلہ کا حل شرعی دلائل کی روشنی میں پیش کرے۔فتوی دینے کا...
  16. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    فتویٰ اور مفتی فتویٰ: فتویٰ کسی بھی مسئلے کے شرعی حل کو طلب کرنا ہوتا ہے۔ یہ حل زبانی طور پر بھی مانگا جاسکتا ہے اور تحریراً بھی۔ فتویٰ اپنی لاعلمی کو دور کرنے یا علم کو پختہ کرنے کیلئے اپنے سے بڑے عالم یا عالم دین سے مانگا جاتا ہے۔ چاہے اس کا تعلق عقائد و عبادات سے ہو یا اخلاق و معاملات سے یا...
  17. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    تخریج سے اجتناب: کتب فقہ کے مطالعہ کے دوران یہ بکثرت محسوس کیا گیا ہے کہ فقہی مسائل میں ایک امام، ان کے شاگرد، پھر ان کے بعد تقریباً ہر صدی میں ظاہر ہونے والے فقہاء کرام کا فقہی نقطہ نظر کافی پھیلتا چلا گیا ہے۔ جب کہ مذہب کے امام نے اس قدر مسائل لکھے نہ بیان کئے۔ مسائل کی یہ وسعت عجیبہ اپنے اندر...
  18. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    جرح وتعدیل: محدثین نے جرح وتعدیل کے جو اصول، تابعین ، تبع تابعین اور بعد کے علماء کے بارے میں بنائے یہ صرف حدیث کے راویوں کے لئے نہیں تھے بلکہ یہ ہر فقیہ، محدث، مفسراور متکلم کے لئے تھے۔ سبھی کو ان اصولوں کے تحت پرکھنا ہوگا کہ وہ کیا علمی ، عملی اور ذہنی معیار رکھتا ہے۔ صرف الصحابۃ کلہم عدول...
  19. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    استنباط : اس لفظ کے مفہوم کو بھی سمجھنا جاہئے۔کنویں سے پانی کے ڈول کو نکالنا استنباط کہلاتا ہے۔ گویا ایک فقیہ، اپنے علم اور خداداد بصیرت کی بناء پر کسی بھی نئے واقعے یا حادثے کا حکم قرآن وحدیث کے الفاظ سے نکالتا ہے جو دوسرے پر مخفی رہا ہو۔ یہی اجتہاد بھی کہلاتا ہے۔ صرف لفظ کو سمجھ لینا استنباط...
  20. محمد نعیم یونس

    فقہی تقسیم اور تناؤ

    اجتہاد کی ضرورت: عام لوگوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ ائمہ اربعہ نے جو اجتہاد کرنا تھے کر لئے اور جو کچھ کہنا تھا کہہ گئے۔اس لئے موجود فقہ کافی ہے۔ وہی مجتہد مطلق تھے انہی کی بتائی فقہ کا پابند رہ کر ایک مسلمان کو زندگی گذارنی چاہئے نہ کہ وہ اجتہادی کوششیں شروع کردے۔ کیونکہ اجتہاد کی کنجی گم...
Top