الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
۴۔ جمہور علماء کا نکتہ نظر نسخ کے بارے میں یہ ہے کہ نسخ عقلاًنہ صرف جائز ہے بلکہ شرعاً بھی یہ بکثرت نصوص شرعیہ سے ثابت ہے۔ جیسے اللہ تعالی کا یہ ارشاد:{ماننسخ من آیۃ أو ننسہا۔۔۔} یا {وإذا بدلنا آیۃ مکان آیۃ۔۔} وغیرہ۔
۳۔ ابو مسلم الاصفہانی جو ائمہ معتزلہ میں سے ہیں اس رائے کے اولین قائل ہیں کہ عقلاً نسخ کا جواز ہے مگر شرعاً اس کا واقع ہونا ممتنع ہے۔ ان کی دلیل یہ آیت ہے:{لایأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید}۔یعنی قرآنی احکام کبھی غلط نہیں ہوسکتے۔رہی آیات نسخ تو وہ برائے تخصیص ہیں۔
اس کا...
۲۔ رافضہ نے نسخ کے اثبات پر اپنا غالی نکتہ نظر پیش کیا ہے بلکہ بداء کو اللہ تعالی کے لئے جائز قرار دیا ہے۔اپنے مذہب کی تائید کے لئے انہوں نے بہت سی احادیث گھڑ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرف منسوب بھی کی ہیں۔جیسے:
لَوْ لاَ الْبَدَائُ لَحَدَّثْتُکُمْ بِمَا ہُوَ کَائِنٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔...
نسخ کے بارے میں نکتہ ہائے نظر:
۱۔ علماء یہود نسخ کے منکر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نسخ سے اللہ تعالی پر بداء لازم آتا ہے۔بداء کا مطلب ہے کسی شے کا مخفی ہونے کے بعدظاہر ہونایا کسی جدید رائے کا سوجھنا جو پہلے نہ تھی۔اس لئے یہ نسخ اس علم کے تجدد کا نتیجہ ہے جو پہلے مجہول تھا۔اور یہ اللہ تعالی پر محال...
آغاز بحث:
پہلی صدی ہجری کے آخر میں نسخ کا مسئلہ اس وقت زیر بحث آیا جب امام شافعی ؒ نے اس کا آغاز کیا۔
نسخ کے مختلف انداز:
قرآن مجید میں سابق حکم کی نسبت کبھی نسخ زیادہ آسان اور نرم حکم سے ہوا۔اور کبھی پہلے سے بھی زیادہ مشکل حکم میں اور کبھی مساوی نسخ ہوا اور کبھی کسی اور انداز سے۔
پہلے سے...
۴۔ سنت کا نسخ سنت سے: اس کی چار اقسام ہیں:
٭ متواترکا نسخ متواتر سے ٭ آحاد کا نسخ آحاد سے ٭ آحاد کا نسخ متواتر سے ٭ متواتر کا نسخ آحاد سے پہلی تینوں اقسام علماء جمہور کے نزدیک جائز ہیں۔ آخری میں ویسا ہی اختلاف ذکر کیا جاتا ہے جیسا کہ نسخ قرآن از آحادمیں تھا اور جمہور علماء نے اس سے روکا...
۳۔ نسخ سنت از قرآن:
جمہور اسے جائز سمجھتے ہیں۔ اس کی مثال بیت المقدس کی طرف نماز میں رخ کرنا ہے جو سنت سے ثابت تھا مگر اس آیت نے اسے منسوخ کردیا
{فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ}(البقرۃ:۱۴۴)ِ
اسی طرح عاشوراء کا روزہ سنت سے ثابت تھا جسے اس آیت نے
{فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ...
۲۔ نسخ قرآن از سنت:
اس کی دواقسام ہیں:
٭ نسخ قرآن از سنت آحادیہ:
جمہور علماء اس کے عدم جواز کے قائل ہیں۔ کیونکہ قرآن متواتر اور یقین کا فائدہ دیتا ہے اور سنت آحادی(خبر واحد) ظنی ہوا کرتی ہے اس لئے اس سے حتمی یقین نہیں ہوتا۔مثلاً:
{ کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ...
٭ تلاوت منسوخ حکم موجود :
وہ نسخ جس میں حکم تو ابھی موجود ہے لیکن تلاوت منسوخ ہو گئی۔ مثلاً: موطأ امام مالک اور صحیح مسلم :کتا ب الحدود:۸"میں آیت رجم سیدنا عمر ؓ سے ان الفاظ میں مروی ہے:
قَالَ عُمَرُرَضِیَ اللہُ عَنْہُ:إِیَّاکُمْ أَنْ تَھْلِکُوْا مِنْ آیَۃِ الرَّجْمِ أَنْ یَقُولَ قَائِلٌ...
٭ حکم منسوخ تلاوت موجود:
اس سے مراد وہ نسخ ہے جس میں حکم اٹھ گیا لیکن تلاوت ثواب کے لئے اور مشقت کے اٹھ جانے کے بعد اخف نعمت کی یاددہانی کے لئے ابھی باقی ہے۔ مثلاً:
{ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْن۔۔}(البقرہ:۱۸۴)
اور جو لوگ اس (روزے) کی طاقت رکھتے ہوں وہ ایک مسکین...
نسخ کی اقسام :
۱۔ نسخ قرآن از قرآن :
علماء ایسے نسخ کے جائز ہونے اور واقع ہونے کے قائل ہیں۔مثلاً:
{وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًاجصلے وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاج} (البقرۃ: ۲۴۰)کو
{وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ...
آیات منسوخہ کی تعداد:
ابتدائی دور میں قریباً پانچ سو آیات کو منسوخ قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ اور علامہ سیوطیؒ کی تحقیق کے مطابق نسخ صرف اکیس آیات میں ہوا۔ (الاتقان ۲؍۳۵) ۔ ڈاکٹر صبحی صالح ؒ کے نزدیک ان کی تعداد صرف دس ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے پانچ آیات کو منسوخ...
حکمت نسخ :
علماء قرآن کے مطابق، قرآن مجید میں پائے جانے والے نسخ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ مثلاً:
٭ شریعت دیتے وقت تدریج کا اصول سامنے رکھا گیا تاکہ لوگ معاشرتی رسم و رواج ، اکابر کی تقلید کو آہستہ آہستہ ختم کر کے پیار و محبت سے دینی احکام کو سمجھیں اور انہیں قبول کر لیں۔نیز عام مسلمانوں کی...
نسخ کی شرائط:
علماء تفسیر وحدیث نے نسخ کے لئے درج ذیل شرائط بیان کی ہیں:
۱۔ منسوخ کی جانے والی چیز شرعی حکم ہو کوئی قصہ یا کہانی نہ ہو۔
۲۔ جس دلیل سے حکم شرعی کو اٹھایا جائے وہ بھی شرعی ہو۔
۳۔ دلیل شرعی زمانے کے اعتبار سے حکم شرعی کے بعد ہو۔
۴۔ حکم شرعی اور دلیل شرعی کے درمیان تعارض یعنی...
نسخ کی دلیل:
قرآن کریم میں ہے:
{ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَا اَوْ مِثْلِہَا۔۔۔} (البقرہ: ۱۰۶) ہم کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لاتے ہیں۔
اس آیت کی تین مختلف انداز سے قراء ت کی گئی ہے۔
۱۔ ما نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَوْ...
باب : 11
علمِ ناسخ ومنسوخ
ناسخ ومنسوخ کا مادہ(ن س خ) ہے۔ ناسخ ، نسخ سے فاعل کے وزن پر ہے جس کا مطلب ہے نسخ کرنے والا۔ جبکہ منسوخ مفعول کے وزن پر ہے۔ یعنی نسخ ہونے والا۔
لغت میں نسخ:
ازالہ کرنا، ایک چیز کو زائل کر کے اس کی جگہ دوسری چیز کو لانا، ایک شے کو دوسری جگہ منتقل کرنا۔نقل (Copy) کرنا...
مشہور کتب: علم ِ قراء ات پر بے شمار کتب لکھی گئیں۔ چند مشہور کتب کا تعارف مختصرا درج ذیل ہے۔
۱۔ التیسیر في القراء ات السبع اس کے مؤلف ابو عمر والدانیؒ (م ۴۴۴ھ) ہیں۔
۲۔ حرز الأمانی- یہ کتاب "التیسیر"کا منظوم مجموعہ ہے جواندلسی امام القاسم ؒبن فیرۃ (م۵۹۰ھ) نے لکھا۔
قراء ات عشرہ کے بارے...
متعدد قراء ا ت کے فوائد:قراء ت کا یہ اختلاف درحقیقت تنوع کا اختلاف ہے نہ کہ تضاد کا۔ یہ ناممکن ہے کہ کلام اللہ میں تضاد ہو۔{أفلا یتدبرون القرآن ، ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا} (۴، ۸۲) کیا بھلا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا...
مزید قراء تیں: بعض متاخر علماء نے ۔۔۔ جن میں دمیاطیؒ بطور خاص ہیں۔۔۔ان مذکورہ قراء پر چارمزید قراء کی قراءتوں کا اضافہ کیا جن کی قراءتیں بھی خاصی پسندیدہ اور مشہور تھیں ۔یوں یہ کل چودہ قراء تیں بن گئیں۔
۱۔ امام حسن بصری (م ۱۱۰ھ) :کبار تابعین سے میں سے تھے اور زہد وورع میں خاصے معروف۔ سن ۱۱۰ھ...
قراء عشرہ: مندرجہ بالا سات قراء توں کے علاوہ اور بھی کئی صحیح اور متواتر قراء ات موجود تھیں۔ متعدد علماء ۔ علامہ شذائی اور ابوبکر بن مہران وغیرہ۔ نے سات کی بجائے دس قراء تیں جمع کیں اور قراء ات عشرہ کی اصطلاح کو پروان چڑھایا۔ ان دس قراءتوں میں مندرجہ بالا قاریوں کے علاوہ تین اور قراء کی قراءتیں...