الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
عن ابی ھریرۃ ان النبی ﷺ قال اذا جلس بین شعبھا الاربع ثم جھدھا وجب علیہ الغسل وان لم ینزل (مسلم ج۱، ص۴۸۵)
ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب مرد عورت کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر زور لگانا شروع کردے تو اس کے لیے نہانا ضروری...
غلط فہمی
چار نامحرم آنکھیں حضرت عائشہ کو غسل کرتا دیکھیں اور امام بخاری کو نہ غیرت آئے، نہ غصہ اور اس حدیث کو قول رسول سمجھ کر اپنی کتاب میں شامل کرلیں، کیا کوئی مسلمان یہ برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی بیوی ایک پتلا سا پردہ تان کر سارے محلہ کے سامنے نہائے اور شرعی غسل کا طریقہ بتائے۔ (دو اسلام ص...
غلط فہمی
اور سنیے، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھائی ، حضرت عائشہ کے پاس گئے، ان کے بھائی نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرمایا کرتے تھے حضرت عائشہ نے پانی سے بھرا ہوا ایک برتن منگوایا، جس سے آپ نے غسل کیا، اور سر پر بھی پانی ڈالا،...
خلاصہ
انتہائی تاریکی میں دونوں نہاتے تھے، ایسا اندھیرا ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتا تھا، پھر دونوں کے درمیان لگن رکھا ہوتا تھا ، لہٰذا یہ سمجھنا کہ دونوں ایک دوسرے کو برہنہ دیکھتے تھے، بالکل غلط ہے۔
سوم: برق صاحب آپ نے یہ حدیث نقل کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ دونوں برہنہ نہایا کرتے تھے...
غلط فہمی
بخاری کی حدیث ہے:
عن عائشہ قالت کنت اغتسل انا والنبی ﷺ من انا واحد
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے نہاتے تھے۔
... مطلب یہ کہ حضور ازواج کے ہمراہ برہنہ غسل فرمایا کرتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۱۱)
ازالہ
برق صاحب نے تمام حالات کا جائزہ...
غلط فہمی
امام مالک نے بھی یہ احادیث نقل کی ہیں، لیکن حضور کی طرف مباشرت منسوب نہیں کی، صرف بوسے کا ذکر کیا ہے ، بدیگر الفاظ امام مالک بھی یہ سمجھتے تھے کہ مباشرت کی نسبت حضور والا صفات کی طرف مراون تنقیص ہے۔ (دو اسلام ص ۲۱۱)
ازالہ
''مباشرت'' کے معنی پاس اٹھنے، بیٹھنے کے ہیں، اس لحاظ سے بوسہ کچھ...
غلط فہمی
احادیث میں بار بار آتا ہے:
وکان املککم لاربہ (بخاری و مسلم موطا وغیرہ) کہ حضور کو اپنی خواہشات پر کہاں ضبط تھا یہ عجیب قسم کا ضبط ہے کہ بقول بخاری و مسلم آپ نہ روزے میں مباشرت سے رکتے تھے، نہ حیض میں۔ (دو اسلام ص ۲۱۰۔ ۲۱۱)
ازالہ
یہ جملہ دوسری احادیث میں نہیں آیا ہے بلکہ مباشرت در حیض...
خلاصہ
روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس اٹھنا، بیٹھنا اور خواہشات پر قابو رکھنے والے کے لیے پیار کرنا بالکل جائز ہے، اس سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے، نہ روزہ میں کوئی خرابی آتی ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے منہ میں پانی لے کر کلی کرنا، جس طرح منہ میں پانی لینے سے روزہ میں کوئی نقص نہیں آتا، اسی طرح بیوی...
غلط فہمی
مجھے یوں نظر آتا ہے کہ دشمنان اسلام نے حضرت عائشہ اور حضور علیہ السلام کے وقار کو کم کرنے کے لیے یہ احادیث وضع کیں۔ (دو اسلام)
ازالہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گیارہ بیویوں کے تو آپ بھی قائل ہیں (دو اسلام ص۲۰۷) تو کیا یہ گیارہ بیویوں کا افسانہ بھی کسی دشمن اسلام کا شاخسانہ ہے ،...
غلط فہمی
ساری قوم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا پڑی تھی کہ مباشرت کی تلقین کرتی پھریں، آخر حضور علیہ السلام کے حرم میں دس ازواج اور بھی تھیں، ہر صحابی کے گھر میں ایک ایک بیوی تھی خود صحابہ کے منہ میں زبان تھی، پھر کیا وجہ ہے کہ مباشرت کی اکثر احادیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہیں۔...
غلط فہمی
حیا عورت کی فطرت ہے کوئی عورت کسی صورت میں بھی شرمگاہوں (مردانہ ہوں یا زنانہ) کا ذکر نہیں کرتی، آج تک کسی بیوی نے اپنے شوہر سے مباشرت کی التجا نہیں کی اور نہ مرد کے سامنے کبھی عریاں بات کی تو پھر ہم یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ حضرت عائشہ غیر مردوں کو اپنے گھر میں اور وہ بھی روزہ کی حالت میں...
غلط فہمی
سوال: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسود کو تو مباشرت سے روکا، لیکن خود اس فعل کا ارتکاب کرتی رہیں، یہ کیا؟ ... کیا جواب دوں اس سوال کا، نہ صرف اس فعل کا ارتکاب کرتی رہیں، بلکہ دوسروں کو ترغیب دیتی ہیں... محدثین کی ان نیرنگیوں کو کون سمجھے، ہر طرف اختلاف ہر جگہ تضاد۔ (دو اسلام ص ۲۰۵۔ ۲۰۱)...
غلط فہمی
(حذیفہ) فرماتے ہیں ... روزہ رکھ کر جو شخص بیوی کا تصور باندھے، اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ (دو اسلام ص ۳۰۴۔ ۳۰۵)
ازالہ
برق صاحب یہ بھی کھوٹا سکہ ہے، یہ قول حضرت حذیفہ پر اتہام ہے، امام شوکانی لکھتے ہیں:
قال فی الفتح واسنادہ ضعیف (نیل الاوطار باب تقبیل الصائم)
یعنی حافظ ابن حجر نے فتح الباری...
غلط فہمی
امام بخاری اور مسلم نے تو صرف بوس و کنار اور گھٹنوں سے نیچے استعمال آلت کی اجازت دی تھی، ابوداؤد ایک قدم اور آگے نکل گئے ، کہتے ہیں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ رکھ کر مجھے چومتے تھے اور میری زبان چوستے تھے، ایں گل دیگر شگفت۔ (دو اسلام ص ۲۰۵)
ازالہ
برق صاحب انصاف سے بتائیے...
غلط فہمی
مانا کہ رسول اللہ ضبط نفس کی نعمت سے بہرہ ور تھے لیکن امت میں کتنے ایسے لوگ موجود ہیں جو معانقہ وغیرہ کے بعد جماع سے رک سکیں گے۔ (دو اسلام ص ۲۰۳)
ازالہ
برق صاحب آپ کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ خود بھی اس بات کے قائل ہیں کہ مباشرت سے مراد جماع نہیں ہے، معلوم نہیں پھر اعتراض کی وجہ کیا...
صحیح فہمی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل امت کے لیے واجب التقلید ہے۔ (دو اسلام ص۲۰۳)
تائید
برق صاحب! آپ کا یہ جملہ کتنا مؤمنانہ جملہ ہے، اسی مؤمنانہ جذبہ سے آپ نے اپنی کتاب تصنیف کی ہمارے حسن ظن اور آپ کی اپنی تحریر کے مطابق معاذ اللہ آپ کی تحریر معاندانہ نہیں، اس کی بنا صرف غلط...
غلط فہمی
یہی وہ حدیث ہے جس نے مجھے احادیث سے بدظن کیا اور اس کتاب کی محرک نبی میں نے اس حدیث پر ہر قسم کے آدمیوں سے تبادلہ خیالات کیا، مثلاً علماء، ملاء، پروفیسر، معلم، انگریزی تعلیم یافتہ اور عوام، صحیح المذاق علماء نے کہا، ادب کا تقاضا یہی ہے کہ خاموش رہیے پروفیسر، معلم، اور انگریزی تعلیم...
حضرت مریم کے سلسلہ میں شرمگاہ کی حفاظت کا ذکر کرنے اور اوپر کی آیت میں شوہر کی خیانت کا ذکر کرنے سے کیا بات ظاہر نہیں ہوتی؟ کہ شوہر کی خیانت سے کنایۃً بدکاری مراد ہے، اب فرمائیے کیا ان نبیوں کی بیویاں زنا کار تھیں؟ کیا اس آیت سے ان نبیوں کی توہین نہیں ہوتی (اگرچہ حقیقتاً خیانت سے زنا مراد نہیں...
غلط فہمی
برق صاحب کا پانچواں اعتراض یہ ہے:
پنجم: حضور علیہ السلام کی توہین کا پہلو نکلتا ہے، اگر کوئی غیر مسلم یہ سن پائے کہ حضور علیہ السلام ۵۶ برس کی عمر میں روزہ رکھ کر مباشرت فرمایا کرتے تھے تو وہ ہمارے نبی کے متعلق کیا رائے قائم کرے گا۔ (دو اسلام ص ۲۰۳)
ازالہ
توہین کے پہلو کا جواب اوپر دیا...