الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٣٤﴾
آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے۔
هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ ﴿٣٥﴾
آج (کا دن) وہ دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے۔ (١)
٣٥۔١ محشر میں کافروں کی مختلف حالتیں ہوں گی، ایک وقت وہ ہو گا کہ وہ وہاں بھی جھوٹ بولیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا...
كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ ﴿٣٣﴾
گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں۔ (١)
٣٣۔١ صفر، أصفر (زرد) کی جمع ہے، لیکن عرب میں اس کا استعمال اسود کے معنی میں بھی ہے۔ اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاری اتنی اتنی بڑی ہو گی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مزید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے...
إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ﴿٣٢﴾
یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں۔ (۱)
۳۲۔۱ اس کا ایک اور ترجمہ ہے: جو لکڑی کے بوٹے یعنی بھاری ٹکڑے کے مثل ہیں۔ (بوٹے بمعنی شہتیر کے ٹکڑے، جسے گیلی بھی کہتے ہیں)
لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ ﴿٣١﴾
جو دراصل نہ سایہ دینے والا ہے نہ شعلے سے بچا سکتا ہے۔
٣١-۱ یعنی جہنم کی حرارت سے بچنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔
انطَلِقُوا إِلَىٰ ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ ﴿٣٠﴾
چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف۔ (١)
٣٠۔١ جہنم سے جو دھواں آئے گا، وہ بلند ہو کر تین جہتوں میں پھیل جائے گا، یعنی جس طرح دیوار یا درخت کا سایہ ہوتا ہے، جس میں آدمی راحت اور عافیت محسوس کرتا ہے، یہ دھواں حقیقت میں اس طرح کا سایہ نہیں ہو گا، جس میں...
وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاءً فُرَاتًا ﴿٢٧﴾
اور ہم نے اس میں بلند و بھاری پہاڑ بنا دیئے (١) اور تمہیں سیراب کرنے والا میٹھا پانی پلایا۔
٢٧-۱ رواسي راسية کی جمع۔ ثاوبت، جمے ہوئے پہاڑ، شامخات، بلند۔
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٢٨﴾
اس دن جھوٹ جاننے...
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٢٤﴾
اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا ﴿٢٥﴾
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟
أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ﴿٢٦﴾
زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی۔ (١)
٢٦۔١ یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ ﴿٢٣﴾
پھر ہم نے اندازہ کیا (١) اور ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔
٢٣۔١ یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب کا صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیے۔
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٩﴾
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے۔
أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ ﴿٢٠﴾
کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی (منی) سے پیدا نہیں کیا۔
فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ﴿٢١﴾
پھر ہم نے اسے مضبوظ و محفوظ جگہ میں رکھا۔ (١)
٢١۔١ یعنی رحم مادر میں۔
أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ ﴿١٦﴾
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ ﴿١٧﴾
پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو لائے۔ (١)
١٧۔١ یعنی کفار مکہ اور ان کے ہم مشرب، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی۔
وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ ﴿١٤﴾
اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٥﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ (۱)
۱۵۔۱ یعنی ہلاکت ہے، بعض کہتے ہیں، وَيْلٌ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا...
لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ ﴿١٢﴾
کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟ (١)
١٢۔١ یہ استفہام تعظیم اور تعجب کے لیے ہے یعنی کیسے عظیم دن کے لیے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لیے سخت تعجب انگیز ہو گی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔
وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ ﴿١١﴾
اور جب رسولوں کو وقت مقررہ پر لایا جائے گا۔ (۱)
۱۱۔۱ یعنی فصل و قضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ ﴿٩﴾
اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔
وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ﴿١٠﴾
اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کرکے اڑا دیئے جائیں گے۔ (۱)
۱۰۔۱ یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار ہو جائے گی۔
دعا ایک عبادت ہے اور یہ توحید الوہیت میں سے ہے۔مشرکین مکہ توحید ربوبیت کے تو قائل تھے لیکن توحید الوہیت کے منکر تھے۔ اور اگر توحید الوہیت کو جانتے ہوتے تو یہ نہ کہتےکہ" کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود بنادیا واقعی یہ بہت عجیب بات ہے۔"
واللہ اعلم