الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
كَلَّا ۖ بَل لَّا يَخَافُونَ الْآخِرَةَ ﴿٥٣﴾
ہرگز ایسا نہیں (ہو سکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں۔ (١)
٥٣۔١ یعنی ان کے فساد کی وجہ سے ان کا آخرت پر عدم ایمان اور اس کی تکذیب ہے جس نے انہیں بے خوف کر دیا ہے۔
بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ﴿٥٢﴾
بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں۔ (١)
٥٢۔١ یعنی ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ کی طرف سے ایک ایک کتاب مفتوح نازل ہو جس میں لکھا ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا...
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ﴿٤٩﴾
انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔
كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ ﴿٥٠﴾
گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں۔
فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ ﴿٥١﴾
جو شیر سے بھاگے ہوں۔ (۱)
۵۱۔۱ یعنی یہ حق سے نفرت اور اعراض کرنے میں ایسے ہیں جیسے وحشی، خوف...
وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿٤٦﴾
اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔
حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ ﴿٤٧﴾
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔ (١)
٤٧۔١ یقین کے معنی موت کے ہیں، جیسے دوسرے مقام پر ہے۔ ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ (الحجر: ۹۹)
فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ ﴿٤٨﴾...
وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ ﴿٤٥﴾
اور ہم بحث کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحث مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے۔ (١)
٤٥۔١ یعنی کج بحثی اور گمراہی کی حمایت میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔
عَنِ الْمُجْرِمِينَ ﴿٤١﴾
جہنمیوں سے۔
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ ﴿٤٢﴾
تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا۔
قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ ﴿٤٣﴾
وہ جواب دیں گے ہم نمازی نہ تھے۔
وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ ﴿٤٤﴾
نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ (۱)
٤٤۔۱ نماز حقوق اللہ میں سے اور مساکین کو...
فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ ﴿٤٠﴾
کہ وہ بہشتوں میں (بیٹھے ہوئے) سوال کرتے ہوں گے۔ (۱)
٤۰۔۱ فی جنات، اصحاب الیمین سے حال ہے۔ اہل جنت بالاخانوں میں بیٹھے، جہنمیوں سے سوال کریں گے۔
كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ﴿٣٨﴾
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے۔ (١)
٣٨۔١ رہن گروی رکھنے کو کہتے ہیں۔ یعنی ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے، وہ عمل اسے عذاب سے چھڑا لے گا، (اگر نیک ہو گا) یا ہلاک کروا دے گا۔ (اگر برا ہو گا)
نَذِيرًا لِّلْبَشَرِ ﴿٣٦﴾
بنی آدم کو ڈرانے والی۔
لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ ﴿٣٧﴾
(یعنی) اسے (١) جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہئے۔ (٢)
٣٧۔١ یعنی یہ جہنم ڈرانے والی ہے یا نذیر سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں یا قرآن ہے کیوں کہ قرآن بھی اپنے بیان کردہ وعد و وعید...
كَلَّا وَالْقَمَرِ ﴿٣٢﴾
سچ کہتا ہوں (١) قسم ہے چاند کی۔
٣٢۔١ کلا، یہ اہل مکہ کے خیالات کی نفی ہے۔ یعنی جو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم فرشتوں کو مغلوب کر لیں گے ہر گز ایسا نہیں ہو گا۔
وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ﴿٣٣﴾
اور رات کی جب وہ پیچھے ہٹے۔
وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ ﴿٣٤﴾
اور صبح کی کہ جب وہ روشن...
لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ ﴿٢٩﴾
کھال کو جھلسا دیتی ہے۔
عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ﴿٣٠﴾
اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں۔ (١)
٣٠۔١ یعنی جہنم پر بطور دربان ١٩ فرشتے مقرر ہیں۔
لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ ﴿٢٨﴾
نہ وہ باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے۔ (١)
٢٨۔١ ان کے جسموں پر گوشت چھوڑے گی نہ ہڈی۔ یا مطلب ہے جہنمیوں کو زندہ چھوڑے گی نہ مردہ، لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى
إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾
سوائے انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں۔
سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾
میں عنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا۔
وَمَا أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ ﴿٢٧﴾
اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟ (١)
٢٧۔١ دوزخ کے ناموں یا درجات ایک کا نام سَقَرُ بھی ہے۔
فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾
اور کہنے لگا یہ تو صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی کسی سے یہ سیکھ آیا ہے اور وہاں سے نقل کر لایا ہے اور دعویٰ کر دیا کہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾
پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔ (١)
٢٢۔١ یعنی جواب سوچتے وقت چہرے کی سلوٹیں بدلیں، اور منہ بسورا، جیسا کہ عمومًا کسی مشکل بات پر غور کرتے وقت آدمی ایسا کرتا ہے۔
فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾
اسے ہلاکت ہو کیسی (تجویز) سوچی؟
ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾
وہ پھر غارت ہو کس طرح اندازہ کیا۔ (١)
٢٠۔١ یہ اس کے حق میں بد دعائیہ کلمے ہیں، کہ ہلاک ہو، مارا جائے، کیا بات اس نے سوچی ہے؟