الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾
اس نے غور کرکے تجویز کی۔ (١)
١٨۔١ یعنی قرآن اور نبی ﷺ کا پیغام سن کر، اس نے اس امر پر غور کیا کہ میں اس کا کیا جواب دوں؟ اور اپنے جی میں اس نے وہ تیار کیا۔
سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾
عنقریب میں اسے ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا۔ (١)
١٧۔١ یعنی ایسے عذاب میں مبتلا کروں گا جس کا برداشت کرنا نہایت سخت ہو گا، بعض کہتے ہیں، جہنم میں آگ کا پہاڑ ہو گا جس پر اس کو چڑھایا جائے گا۔ ارھاق کے معنی ہیں۔ انسان پر بھاری چیز لاد دینا۔ (فتح القدیر)
كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾
نہیں نہیں، (١) وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ (٢)
١٦۔١ یعنی میں اسے زیادہ نہیں دوں گا۔
١٦۔٢ یہ کلا کی علت ہے۔ عنید اس شخص کو کہتے ہیں جو جاننے کے باوجود حق کی مخالفت کرے اور اس کو رد کرے۔
ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾
پھر بھی اس کی چاہت ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ (۱)
۱۵۔۱یعنی کفر و معصیت کے باوجود، اس کی خواہش ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔
وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا ﴿١٢﴾
اور اسے بہت سا مال دے رکھا ہے۔
وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾
اور حاضر باش فرزند بھی۔ (١)
١٣۔١ اسے اللہ نے اولاد سے نوازا تھا اور وہ ہر وقت اس کے پاس ہی رہتے تھے، گھر میں دولت کی فروانی تھی، اس لیے بیٹوں کو تجارت و کاروبار کے لیے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی...
ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾
مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے۔ (١)
١١۔١ یہ کلمہ وعید و تہدید ہے کہ اسے، جسے میں نے ماں کے پیٹ میں اکیلا پیدا کیا، اس کے پاس مال تھا نہ اولاد، اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ یعنی میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا۔ کہتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کی طرف...
وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ﴿٧﴾
اور اپنے رب کی راہ میں صبر کر۔
فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ ﴿٨﴾
پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔
فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ ﴿٩﴾
تو وہ دن بڑا سخت دن ہو گا۔
عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ ﴿١٠﴾
جو کافروں پر آسان نہ ہو گا۔ (۱)
١٠۔۱ یعنی قیامت...
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ﴿٣﴾
اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ﴿٤﴾
اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ (١)
٤۔١ یعنی قلب و نیت کے ساتھ کپڑے بھی پاک رکھ۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ مشرکین مکہ طہارت کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔
سورة المدثر
(سورۃ مدثر مکی ہے اور اس میں چھپن آیتیں اور دو رکوع ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿١﴾
اے کپڑا اوڑھنے والے۔ (١)
١۔١ سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ...
السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ ۚ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا ﴿١٨﴾
جس دن آسمان پھٹ جائے گا (١) اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کر ہی رہے گا۔ (۲)
۱۸۔١ یہ یوم کی دوسری صفت ہے۔ اس دن ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا۔
۱۸۔۲ یعنی اللہ نے جو بعث بعد الموت، حساب کتاب اور جنت دوزخ کا وعدہ کیا ہوا ہے، یہ یقینا لامحالہ ہو...
فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا ﴿١٧﴾
تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناہ پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ (١)
١٧۔١ شیب، أشیب کی جمع ہے، قیامت والے دن کی ہولناکی سے فی الواقع بچے بوڑھے ہو جائیں گے یا تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے...
فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا ﴿١٦﴾
تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا۔ (١)
١٦۔١ اس میں اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی وہی ہو سکتا ہے۔ جو فرعون کا موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی وجہ سے ہوا۔
إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا ﴿١٥﴾
بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے والا (١) رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔
١٥۔١ جو قیامت والے دن تمہارے اعمال کی گواہی دے گا۔