الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴿٤١﴾
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہیے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں۔ (۱)
٤۱۔۱ یا جن کو انہوں نے شریک ٹھہرا رکھا ہے، وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے...
أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ ﴿٣٩﴾
یا تم نے ہم سے قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وہ سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو۔ (١)
سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ ﴿٤٠﴾
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات...
إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ ﴿٣٨﴾
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
٣٩۔١ یا ہم نے تم سے پکا عہد کر رکھا ہے، جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہو گا جس کا تم اپنی بابت فیصلہ کرو گے۔
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿٣٦﴾
تمہیں کیا ہو گیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ ﴿٣٧﴾
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب (١) ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
٣٧۔١ جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہو جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لیے وہ کچھ ہو گا جسے تم پسند کرتے ہو؟
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿٣٤﴾
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں۔
أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ﴿٣٥﴾
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناہ گاروں کے کر دیں گے۔ (١)
٣٥۔١ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی ہم مسلمانوں سے...
كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿٣٣﴾
یوں ہی آفت آتی ہے (۱) اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی۔ (٢)
٣٣۔١ یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ (اگر ہماری مشیت...
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ ﴿٣٠﴾
پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے۔
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ ﴿٣١﴾
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے۔
عَسَىٰ رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ ﴿٣٢﴾...
قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴿٢٩﴾
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم تھے۔ (۱)
۲۹۔۱ یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے...
قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ ﴿٢٨﴾
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟ (١)
۲۸۔۱ بعض نے تسبیح سے مراد یہاں ان شاء اللہ کہنا مراد لیا ہے۔
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ﴿٢٧﴾
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔ (١)
٢٧۔١ پھر جب غور کیا تو جان گئے کہ یہ آفت زدہ اور تباہ شدہ باغ ہمارا ہی ہے جسے اللہ نے ہمارے طرز عمل کی پاداش میں ایسا کر دیا ہے اور واقعی یہ ہماری حرماں نصیبی ہے۔ٍ
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ ﴿٢٦﴾
جب انہوں نے باغ دیکھا (١) تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے ہیں۔ (٢)
٢٦۔١ یعنی باغ والی جگہ کو راکھ کا ڈھیر یا اسے تباہ برباد دیکھا۔
٢٦۔٢ یعنی پہلے پہل تو ایک دوسرے کو کہا۔
آنحضرت ﷺ نے تفسیر بھی سکھائی:
سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو جس طرح قرآن کے لفظ بتائے، اسی طرح قرآن کے معنی بھی بتائے ہیں۔ کیونکہ آیت: ’’لِتُبَینَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیہِمْ[1]‘‘(النحل:۴۴) کے حکم میں یہ دونوں باتیں داخل ہیں۔
ابوعبدالرحمن سلمی[2] کا قول ہے کہ...
پس میں نے خدا کی بخشی ہوئی توفیق سے محض یادداشت پر یہ مختصر مقدمہ لکھ دیا ہے۔ واللہ الھادی الی سبیل الرشاد (اور خدا ہی راہِ راست کی طرف راہ دکھانے والا ہے)۔
تنگی کی، اور لائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن اندھا۔ وہ کہے گا اے رب! کیوں اٹھایا تو نے مجھ کو اندھا، اور میں تو تھا دیکھنے والا، فرمائے گا، یوں ہی پہنچی تھی تجھ کو ہماری آیتیں، پھر تو نے ان کو بھلا دیا، اور اسی طرح آج تجھ کو (ہم) بھلائیں گے''۔
اور فرمایا:
قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا یـبَینُ...
قرآن کے فضائل اور اس کے سمجھنے کی ضرورت:
امت کے لئے فہمِ قرآن از بس ضروری ہے کہ ’’ قرآن ہی خدا کی مضبوط رسی ہے۔ وہی ذکر حکیم اور صراط مستقیم ہے۔ اس میں نہ خواہشیں کچھ پیداکرسکتی ہیں نہ زبانیں شک ڈال سکتی ہیں ۔ بار بار دہرانے سے وہ پرانا نہیں ہوتا۔ اس کے عجائبات کبھی ختم ہونے کے نہیں۔ علماء کو...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رب یسر و أعن برحمتک
پروردگار ! آسانی بخش اور اپنی رحمت سے اعانت فرما۔
خطبہ
الحمد للہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ...
بسم اللہ الرحن الرحیم
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ان گنت احسانوں میں سے یہ رسالہ بہت بڑا احسان ہے۔گنتی کے ان چند صفحوں میںعلوم کے خزانے سمیٹ دیئے ہیں اور امت کو بتا دیا ہے کہ کتاب اللہ کو کس طرح سمجھنا چاہیئے، اور کتاب اللہ کی کس طرح تفسیر کرنا چاہیئے۔
مسلمانوں کی ایک بدنصیبی یہ بھی...
(۱) آیاتِ قرآنی کے اعراب لگائے، ان کے تراجم لکھے اور حوالے درج کئے۔
(۲) احادیث کے بھی حوالے لکھے۔
(۳) حضرت امام رحمہ اللہ نےاس رسالے کے بعض مباحث میں اختصار سے کام لیا ہے جب کہ اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تفصیل فرما دی ہے۔ از بس کہ بعض اجمال غلط فہمیوں کے پیدا ہونے کا سبب ہو سکتے ہیں اس لئے اور...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ و سلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
ساتویں صدی ہجری کے نامور مجدد اسلام شیخ اسلام امام احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ (المتوفی ۷۲۸ھ) قدس اللہ روحہ و نور ضریحہ، کے تجدیدی کارناموں میں سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے علمی اور اصلاحی حلقوں کی توجہ قرآن حکیم اور حدیث...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ
اصول تفسیر
تصنیف
شیخ الاسلام احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ رحمہ اللہ
۶۶۱ھ ۔ ۷۲۸ھ
ترجمہ
مولانا عبدالرزاق صاحب ملیح آبادی رحمہ اللہ
تحقیق و تعلیق
مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ...